• 6 اگست, 2021

آؤ اُردو سیکھیں (سبق نمبر 9)

آؤ اُردو سیکھیں
سبق نمبر 9

آج ہم اردو زبان کے بعض ایسے الفاظ پر بحث کریں گے جو زبان میں تسلسل پیدا کرتے ہوئے فقرات کو باہم جوڑ دیتے ہیں۔ ان الفاظ کی وجہ سے تحریر یا گفتگو کا ربط باوجود انکار، تضاد یا اختلافِ رائے کے ٹوٹنے سے بچ جاتا ہے۔ اس سلسلے کا پہلا لفظ ہے

The reason is that/because …. کیونکہ

اردو زبان میں اس لفظ کا استعمال تحریر و تقریر میں اس وقت کیا جاتا ہے جب کسی بات کی وجہ پیش کی جاتی ہے۔ مثلاً میں اسے معاف نہیں کرسکتا کیونکہ اس طرح اس کی اصلاح نہیں ہو پائے گی۔

بعض اوقات اس کا استعمال کسی واقعہ کی سادہ وجہ بیان کرنے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ بعض لوگ کوڈ 19 کا حفاظتی ٹیکہ لگوانے میں سستی کررہے ہیں کیونکہ وہ قطار میں لگ کر انتظار کرنے سے گھبراتے ہیں۔

Since/ because/ therefore چونکہ

یہ لفظ بھی کم و بیش کیونکہ کے معنے ہی دیتا ہے مگر یہ کیونکہ کے برعکس فقرے کے شروع میں آتا ہے۔ جیسے

چونکہ وبا کا خطرہ ٹلا نہیں اس لیے احتیاط بہرحال کرنی چاہیے

Thus/ Hence/ Therefore/ for instance/ so accordinglyچنانچہ

یہ لفظ نتیجہ نکالتے ہوئے استعمال ہوتا۔ اور اس کے استعمال سے پہلے جن حقائق کی بنیاد پر نتیجہ نکالا جاتا ہے ان کی تفصیل بیان کردی جاتی ہے۔

چنانچہ حالات کا جائزہ لینے کے بعد کھیل کو مؤخر کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔

چنانچہ، اسکے لیے آپ جیسے قابل افراد کو آگے آنا ہوگا تاکہ آپ ان چیزوں کا مطالعہ کریں، اور دیگر لوگوں کو بھی ان میں شامل کریں ۔ اور یقیناً آپ انکا حل نکالنے میں کافی مددگار ثابت ہورہے ہیں۔

لہٰذا

یہ لفظ بھی نتیجہ نکالنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تحقیقی اور تنقیدی تحریر میں اس کا استعمال کثرت سے کیا جاتا ہے۔ علمِ فلسفہ و منطق میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا۔

مثلاً

انسان فانی ہے۔زید انسان ہے،لہٰذا زید فانی ہے۔

ان اسباق کو سادہ اور عام فہم رکھا گیا ہے اسلیے تفصیل میں جانے سے اعراض کیا گیا ہے۔ یعنی تفصیل بیان نہیں کی گئی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ والدین کو گھر پہ بچوں کا اردو سکھانے کے لیے کچھ رہنما اصول اور مواد مل سکے

جدید اردو زبان میں بہت سے الفاظ کا استعمال تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔

بہرحال

یہ لفظ بھی کسی معاملے کی سنجیدہ نوعیت بیان کرنے کے بعد قانونِ فطرت کے اصولوں اور عالمگیر سچائیوں کو بیان کرنے کے استعمال ہوتا ہے۔

لوگوں کی کثیر تعداد غیر محتاط ہے۔ بہرحال جنہیں سمجھ ہے ان کو تو وبا کے وقت میں احتیاط کرنا ہوگی۔

کوئی کرے یا نہ کرے ایک احمدی کو تو بہر حال مالی قربانی کرنی ہوگی۔

گو ، گویا، اگرچہ، ہر چند

یہ تمام الفاظ تقریباً ہم معنیٰ ہیں اور ان کو اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب جزوی طور پر اثر انداز ہونے والی بات کا اعتراف کرنا ہو مگر جزوی طور پر اثر نہ ہونے کا اظہار بھی کرنا ہو۔

جیسے

گو یہ شہر ثقافتی لحاظ سے خاصہ متحرک ہے مگر بیروز گاری کی شرح آسمان کو چھو رہی ہے۔

تم نے میری بات گویا سنی ہی نہیں ۔ میں نے تو بہر حال اپنا فرض ادا کردیا تھا۔

ہر چند کا استعمال پرانی ادبی تحریروں اور اشعار میں ہی ملتا ہے۔ سادہ الفاظ میں اس کا مطلب ہے کہ جتنا مرضی، کتنا ہی ۔ کتنی ہی ، چاہے جتنا بھی وغیرہ

کرے سعی ہر چند سارا زمانہ
نہیں دل کی قسمت میں آرام پانا

(نقوش مانی)

یعنی چاہے سارا زمانہ کوشش کرلے میرے دل کی قسمت میں آرام نہیں۔

گرچہ

اس کے عام فہم معنیٰ ہیں در حقیقت، اصل میں ، سچ تو یہ ہے کہ وغیرہ

گرچہ کوئی بھی اندھا نہیں تھا
لکھا دیوار کا پڑھتا نہیں تھا

یعنی شاعر کے نزدیک لوگ اندھے نہیں تھے مگر غفلت کا شکار تھے اور اپنے اعمال کے لازمی نتائج سے لا پرواتھے۔

(عاطف وقاص۔ ٹورنٹو کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 جولائی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 جولائی 2021