• 1 اکتوبر, 2020

منافق کی علامات

یاد رکھو کہ منافق وہی نہیں ہے جو ایفائے عہد نہیں کرتا، زبان سے اخلاص ظاہر کرتا ہے مگر دل میں اس کے کفر ہے بلکہ وہ بھی منافق ہے جس کی فطرت میں دورنگی ہے اگرچہ وہ اس کے اختیار میں نہ ہو۔ صحابہ کرام کو دیکھو کہ صحابہ کرام کو اس دورنگی کا بہت خطرہ رہتا تھا، ایک دفعہ حضرت ابوہریرہؓ رو رہے تھے تو حضرت ابو بکر ؓ نے پوچھا کہ کیوں روتے ہو کہا کہ اس لئے روتا ہوں کہ مجھ میں نفاق کے آثار معلوم ہوتے ہیں۔ جب میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتا ہوں تو اس وقت دل نرم اور اس کی حالت بدلی ہوئی معلوم ہوتی ہے مگر جب ان سے جدا ہوتا ہوں تو وہ حالت نہیں رہتی۔ ابو بکرؓ نے فرمایا کہ یہ حالت تو میری بھی ہے پھر دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کل ماجرا بیان کیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم منافق نہیں ہو، انسان کے دل میں قبض اور بسط ہوتی رہتی ہے یعنی تنگی بھی آتی ہے مختلف حالتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ جو حالت تمہاری میرے پاس ہوتی ہے اگر وہ ہمیشہ رہے تو فرشتے تم سے مصافحہ کریں۔ تو اب دیکھو صحابہ کرام اس نفاق اور دورنگی سے کس طرح ڈرتے تھے۔جب انسان جرأت اور دلیری سے زبان کھولتا ہے تووہ بھی منافق ہوتا ہے۔ دین کی ہتک ہوتی سنے اور وہاں کی مجلس نہ چھوڑے یا ان کو جواب نہ دے تب بھی منافق ہوتا ہے۔ اگر مومن میں غیرت اور استقامت نہ ہو تب بھی منافق ہوتا ہے، جب تک انسان ہر حال میں خدا کو یاد نہ کرے تب تک نفاق سے خالی نہ ہو گا اور یہ حالت تم کوبذریعہ دعا حاصل ہو گی، ہمیشہ دعا کرو کہ خداتعالیٰ اس سے بچاوے جو انسان داخل سلسلہ ہو کر پھر بھی دورنگی اختیار کرتاہے تو وہ اس سلسلے سے دور رہتا ہے اس لئے خداتعالیٰ نے منافقوں کی جگہ اسفل السافلین رکھی ہے کیونکہ ان میں دورنگی ہوتی ہے اور کافروں میں یک رنگی ہوتی ہے۔

(ملفوظات جلد سوم صفحہ۴۵۵، ۴۵۶ البدر ۱۶ نومبر ۱۹۰۳ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 ستمبر 2020