• 29 ستمبر, 2020

ایفائےعہد

’’آج کل کے معاشرے میں ایک یہ بھی بیماری عام ہے کہ بات کرو تو مکر جاؤ، وعدہ کرو تو اسے پورا کرنے میں ٹال مٹول سے کام لو، جب کوئی عہد کرو تو اس کو توڑنے کے بہانے تلاش کرو کیونکہ دوسری طرف بہتر مفاد نظر آ رہا ہوتا ہے۔ اور یہ باتیں انفرادی طور پر بھی اور جہاں پانچ دس افراد اکٹھے مل کر کام کررہے ہوں، کوئی مشترکہ کاروبار ہو وہاں بھی۔ اور بدقسمتی سے ملک ملک سے بھی جب معاہدے کرتے ہیں تو بدعہدی اور زیادتی کر رہے ہوتے ہیں۔ خاص طور پر جب کسی امیر ملک اور غریب ملک میں کوئی معاہدہ ہو تو بعض دفعہ اپنے مفاد منوانے کی خاطر دباؤ ڈالتے ہیں اور اگر دباؤ میں آنے سے کوئی انکاری ہو تو پھر معاہدوں میں بد عہدیاں شروع ہو جاتی ہیں تو بہرحال یہ ایک ایسی برائی ہے جو شخصی معاہدوں سے لے کر بین الاقوامی معاہدوں تک حاوی ہے، سب تک پھیلی ہوئی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔ فرمایا اگر تم میری محبت چاہتے ہو، یہ چاہتے ہو کہ میں تم سے راضی رہوں، یہ چاہتے ہو کہ میں تمہاری دعاؤں کو سنوں تو تقویٰ اختیا کرو، مجھ سے ڈرو، میری تعلیم پر عمل کرو۔ اور تعلیم میں سے بھی ایک بہت اہم تعلیم اپنے عہد کو پورا کرنا ہے، اپنے وعدوں کا پاس رکھنا ہے۔ تو قرآن کریم نے مختلف پیرایوں میں، مختلف حالات میں عہد کی جو صورتیں ہو سکتی ہیں ان پر روشنی ڈالی ہے۔ فرماتا ہے کہ نیکیاں قائم کرنے کے لئے حقوق اللہ اورحقوق العباد بھی ادا کرو اور ان کو ادا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے کئے گئے عہد کو بھی پورا کرو اور بندوں سے کئے گئے معاہدوں اور وعدوں پر بھی عملدرآمد کرو۔‘‘

(خطبہ جمعہ 27؍ فروری 2004ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 ستمبر 2020