• 29 ستمبر, 2020

’’سیف کا کام قلم سے ہے دکھایا ہم نے‘‘

تبرکات

از: حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ

دوستوں کو علمی اور تحقیقی مضامین لکھنے کی دعوت

عنوان میں درج شدہ مصرع حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک لطیف نظم کا حصہ ہے جس کے شروع میں یہ شعر آتا ہے کہ :

ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے
کوئی دیں دینِ محمدؐ سا نہ پایا ہم نے

اس مصرع کا مطلب اور مقصد یہ ہے کہ گو اسلام نے مسلمانوں پر جہاد فرض کیا ہے اور مومنوں کو حکم دیا ہے کہ ان میں سے ایک طبقہ لازماً دین کی خدمت اور دین کے رستہ میں جدوجہد کے لئے وقف رہنا چاہئے۔ مگر مختلف قسم کے حالات کے ماتحت دین کی خدمت مختلف رنگ اختیار کر سکتی ہے۔ بعض حالات میں جب کہ کوئی دشمن اسلام کو مٹانے کی غرض سے جبر اور تشدد کا رستہ اختیار کر کے مسلمانوں کے خلاف تلوار اٹھائے تو اس وقت اپنے دفاع کے لئے (نہ کہ مخالفوں کو جبراً مسلمان بنانے کے لئے کیونکہ لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ (البقرہ:257) تلوار کا جواب تلوار سے دینا ہو گا۔ اور اگر دشمن کا حملہ دلائل اور عقلی اور نقلی اعتراضوں کے رنگ میں ہو تو اس وقت اسلام کا جہاد بھی اسی میدان کے اندر محدود ہو جائے گا۔ اور اگر کسی وقت مسلمانوں کی اپنی بد اعمالی اسلام کو بدنام کرنے کا باعث بن رہی ہو تو اس وقت سب سے مقدم جہاد مسلمانوں کی تربیت اور ان کی اخلاقی اور روحانی اصلاح سے تعلق رکھے گا وغیرہ وغیرہ۔ چنانچہ ایک موقع پر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک وقت تلوار کے جہاد سے وقتی طور پر فارغ ہوئے تو آپ نے میدانِ کارزار سے مدینہ کی طرف لوٹتے ہوئے فرمایا:

رَجَعْنَا مِنَ الْجِھَادِ الْاَصْغَرِِ اِلَی الْجِھَادِ الْاَکْبَرِِ۔

(صحیح بخاری کتاب الجہاد)

یعنی اب ہم چھوٹے جہاد سے فارغ ہو کر بڑے جہاد یعنی اپنے نفسوں کے ساتھ جہاد کرنے کی طرف لوٹ رہے ہیں۔

اسی اصولی تعلیم کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ نے وہ مصرع ارشاد فرمایا ہے جو اس مختصر سے نوٹ کے عنوان کی زینت ہے۔ اور آپ کا منشاء یہ ہے کہ یہ زمانہ اپنے وقتی تقاضوں اور پیش آمدہ حالات اور مخالفوں کے رویہ کے مطابق تلوار کے جہاد کا زمانہ نہیں ہے بلکہ قلم کے جہاد کا زمانہ ہے۔ جب کہ مخالفین اسلام کی طرف سے اسلام کے خلاف معاندانہ لٹریچر کے ذریعہ بے پناہ حملے کئے جارہے ہیں۔ ایسے وقت میں اصل جہاد قلم کا جہاد ہے تاکہ قلم کے ذریعہ غیر مسلموں کے اعتراضوں کا ایسا دندان شکن جواب دیا جائے کہ ان کے قلموں اور ان کی زبانوں کی گولہ باری پر موت وارد ہو جائے۔ اور یہی رستہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدائی منشاء کے ماتحت اختیار کیا۔ چنانچہ آپ کی اس عدیم المثال خدمت کا اعتراف مخالفوں تک نے ایسے شاندار رنگ میں کیا ہے کہ اس تعریف سے ملک کی مخالفانہ فضا تک گونجنے لگ گئی۔ مثال کے طور پر امرتسر کے مشہور اخبار ’’وکیل’’ کے غیر احمدی ایڈیٹر نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر لکھا :
’’مرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ پر ان سے ظہور میں آیا قبولِ عام کی سند حاصل کر چکا ہے۔ اس لٹریچر کی قدرو عظمت آج جب کہ وہ اپنا کام پورا کر چکا ہے ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے۔ اس مدافعت نے نہ صرف عیسائیت کے اس ابتدائی اثر کے پرخچے اڑا دئے جو سلطنت کے سایہ میں ہونے کی وجہ سے حقیقت میں اس کی جان تھا۔ بلکہ خود عیسائیت کا طلسم دھواں ہو کر اڑنے لگا۔ اس کے علاوہ آریہ سماج کی زہریلی کچلیاں توڑنے میں بھی مرزا صاحب نے اسلام کی بہت خاص خدمت سر انجام دی ہے۔ ان کی آریہ سماج کے مقابل تحریروں سے اس دعویٰ پر نہایت صاف روشنی پڑتی ہے کہ آئندہ ہماری مدافعت کا سلسلہ خواہ کسی درجہ تک وسیع ہو جائے ناممکن ہے کہ یہ تحریریں نظر انداز کی جا سکیں۔‘‘

پھر دہلی کے غیر احمدی اخبار ’’کرزن گزٹ‘‘ نے اپنے اخبار میں لکھا کہ :
’’ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے آریہ اور بڑے سے بڑے پادری کو یہ مجال نہ تھی کہ وہ مرحوم مرزا صاحب کے مقابلہ پر زبان کھول سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر چہ مرحوم پنجابی تھا مگر اس کے قلم میں اس قدر قوت تھی کہ آج سارے پنجاب بلکہ بلندیٔ ہند میں بھی اس قوت کا کوئی لکھنے والا نہیں۔‘‘

پس اس نوٹ کے عنوان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو شاندار مصرع درج ہے وہ کسی ناواجب فخر و افتخار کی پیداوار نہیں بلکہ ایک زبردست حقیقت ہے جو تلوار سے زیادہ کاٹنے والی اور دلوں کی گہرائیوں میں گھر کرنے والی ہے۔ اور اس سے اس اعتراض کا جواب بھی ہو جاتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے نعوذباللہ تلوار کے جہاد کو منسوخ کر دیا ہے۔ عزیزو اور دوستو سوچو اور سمجھو کہ حضرت مرزا صاحب جو اسلام کی خدمت اور دین کے احیاء کے لئے مبعوث ہوئے تھے وہ کس طرح کسی اسلامی تعلیم کو منسوخ کر سکتے تھے۔ پس اگر تلوار کے جہاد کو کسی نے وقتی طور پر معلق کیا ہے (منسوخی کا تو سوال ہی نہیں) تو وہ زمانہ کے حالات نے کیا ہے۔ اور اسلام کی اس اصولی تعلیم نے کیا ہے جو آج سے چودہ سو سال پہلے نازل ہو چکی ہے جس میں جہاد کا تو بہرحال اور بہر صورت حکم ہے مگر اس کی نوعیت کو زمانہ کے حالات اور وقت کے تقاضوں اور مخالفوں کے رویہ پر چھوڑا گیا ہے۔ اور پھر کیا حضرت مرزا صاحب کے شاندار اور عدیم المثال قلمی جہاد نے تلوار کے جہاد کی کوئی ضرورت باقی چھوڑی ہے؟ خدائی احکام ہمیشہ بنی نوع انسان کی ضرورت پر مبنی ہوا کرتے ہیں۔ کیونکہ خدا حکیم ہے اور حکیم ہستی کے احکام ہمیشہ حکمت پر مبنی ہوتے ہیں۔ اگر مخالفوں کی طرف سے اسلام کے خلاف قلم اور زبان کے ذریعہ حملہ ہو تو اس کا طبعی ردّ اور فطری جواب جو دلوں میں حقیقی اطمینان پیدا کر سکتا ہے وہ صرف قلم اور زبان کے ذریعہ ہی ہو سکتا ہے اور اسی کی طرف حضرت مسیح موعود نے اپنے اس لطیف مصرع میں اشارہ فرمایاہے جو اس مضمون میں زیبِ عنوان ہے۔

مگر اس جگہ مجھے جہاد کا فلسفہ بیان کرنا مطلوب نہیں ہے بلکہ اپنی ایک رؤیا کی بناء پر جماعت کے نوجوانوں کو اسلام اور احمدیت کی قلمی خدمت کی طرف توجہ دلانا اصل مقصد ہے۔ چند دن ہوئے میں نے ایک عجیب رؤیا دیکھا جس سے میں ڈرا بھی اور خوش بھی ہوا۔ میں نے دیکھا کہ کسی نے مجھے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک لمبا سا خط لا کر دیا ہے۔ یہ خط میرے نام ہے۔ میں نے خط پڑھنے سے پہلے اس کے آخری حصہ کو اٹھا کر دیکھا تو خط کے نیچے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کے دستخط تھے۔ اور خط کے آخر میں اس قسم کا مضمون تھا کہ اگر آپ نے احمدی نوجوانوں کو اسلام اور احمدیت کی خدمت کے لئے مضامین لکھنے اور تصانیف کرنے کی ترغیب نہ دی اور اس کا طریقہ نہ سمجھایا تو اس معاملہ میں مَیں اور عبداللہ اور والدہ عبداللہ آپ پر خوش نہیں ہوں گے اَوْکَمَا کَانَ۔ میں اس خواب سے خوش تو اس لئے ہوا کہ تصنیف کے میدان میں میری حقیر سی خدمت عالم بالا میں قدر کے قابل سمجھی گئی۔ اور ڈرا اس لئے کہ جماعت کے نوجوانوں کو فنِ تصنیف کی ترغیب دینے اور اس کا طریقہ سمجھانے کی ذمہ داری ایسی نازک اور ایسی وسیع ہے کہ میں شاید اپنی موجودہ عمر اور موجودہ صحت میں اسے کما حقہٗ اد ا نہ کر سکوں۔ اور عبداللہ اور عبداللہ کی والدہ سے میں یہ سمجھا ہوں کہ عبداللہ سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہیں جو اس زمانہ میں سب سے بڑے عبداللہ (یعنی اللہ کے بندے) ہیں اور عبداللہ کی والدہ سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی) ہیں جن کی مقدس تعلیم اور مبارک اسوہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وجود باجو دپیدا ہوا۔ اور خداکرے (اور اے کاش کہ ایسا ہی ہو) کہ قیامت کے دن ان دونوں کی روح اس عاجز سے خوش ہو۔ وَ ذَالِکَ ظَنِّیْ بِاللّٰہِ و اَرْجُوْ مِنْہُ خَیْراً۔

بہر حال اس رؤیا کی بناء پر یہ نوٹ الفضل میں بھجوا رہا ہوں تا احمدی نوجوانوں کو فنِ تحریر اور مضمون نویسی کی طرف توجہ پیدا ہو۔ اور وہ قلم کے میدان میں سلطان القلم (یہ حضرت مسیح موعودؑ کا الہامی نام ہے) کے انصار بن کر دین کی نمایاں خدمت انجام دے سکیں۔ بے شک زبان بھی تبلیغ ہدایت اور اشاعتِ علم کا ایک بہت عمدہ ذریعہ ہے۔ مگر جو مقام قلم کو حاصل ہے وہ زبان کو ہرگز حاصل نہیں۔ اسی لئے قرآن مجید نے اپنی ابتدائی وحی میں قلم کے ذریعہ اشاعتِ علم کا نمایاں طور پر ذکر فرمایا ہے۔ جیسا کہ فرمایا:

اِقْرَاْ وَ رَبُّکَ الْاَکْرَمُ o الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ o

(العلق:5-4)

یعنی اے رسول لوگوں تک ہمارا نام اور ہمارا پیغام پہنچا۔ کیونکہ تیرا رب تمام بزرگیوں کا مالک ہے۔ ہاں وہی آسمانی آقا جس نے قلم کے ذریعہ علم کی اشاعت کا سامان پیدا کیا ہے۔

پس قلم علم کی اشاعت اور حق کی تبلیغ کا سب سے بڑا اور سب سے اہم اور سب سے مؤثر ترین ذریعہ ہے۔ اور زبان کے مقابلہ پر قلم کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ اس کا حلقہ نہایت وسیع اور اس کا نتیجہ بہت لمبا بلکہ عملاً دائمی ہوتا ہے۔ زبان کی بات عام طور پر منہ سے نکل کر ہوا میں گم ہو جاتی ہے سوائے اس کے کہ اسے قلم کے ذریعہ محفوظ کر لیا جائے۔ مگر قلم دنیا بھر کی وسعت اور ہمیشگی کا پیغام لے کر آتی ہے اور پریس کی ایجاد نے تو قلم کو وہ عالمگیر پھیلاؤ اور وہ دوام عطا کر دیا ہے جس کی اس زمانہ میں کوئی نظیر نہیں کیونکہ قلم کا لکھا ہوا گویا پتھر کی لکیر ہوتا ہے جسے کوئی چیز مٹا نہیں سکتی۔ اور قلم کو یہ مزید خصوصیت بھی حاصل ہے کہ اسے اپنے منبع کی نسبت کے لحاظ سے کامل یقین کا مرتبہ میسر ہوتا ہے۔ ہمیں بعض اوقات کسی شخص کی طرف سے کوئی بات زبانی طور پر پہنچی ہے مگراس کے سننے والوں کی روایت میں اختلاف ہو جاتا ہے۔ مگر جب کسی شخص کے قلم سے کوئی بات نکلے تو پھر اس بات کے منبع اور ماخذ کے متعلق کسی قسم کا شبہ نہیں رہتا۔ بہرحال اس زمانہ میں جب کہ اسلام کے دشمن اسلام کی تعلیم اور حضرت سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات کے خلاف ہزاروں لاکھوں رسالے اور کتابیں شائع کر رہے ہیں۔ قلم سے بڑھ کر اسلام کی مدافعت اور اسلام کے پرامن مگر جارحانہ علمی اور روحانی حملوں سے زیادہ طاقتور کوئی اور ظاہری ذریعہ نہیں۔

پس اے عزیزو اور اے دوستو! اپنے فرض کو پہچانو اور سلطان القلم کی جماعت میں ہو کر اسلام کی قلمی خدمت میں وہ جوہر دکھاؤ کہ اسلاف کی تلواریں تمہاری قلموں پر فخر کریں۔ تمہارے سینوں میں اب بھی سعد بن ابی وقاص اور خالد بن ولید اور عمرو بن عاص اور دیگر صحابہ کرام اور قاسم اور قتیبہ اور طارق اور دوسرے فدایانِ اسلام کی روحیں باہر آنے کے لئے تڑپ رہی ہیں۔ انہیں رستہ دو کہ جس طرح وہ قرونِ اولیٰ میں تلوار کے دھنی بنے اور ایک عالم کی آنکھوں کو اپنے کارناموں سے خیرہ کیا۔ اسی طرح وہ تمہارے اندر سے ہو کر (کیونکہ خدا اب بھی انہی قدرتوں کا مالک ہے) قلم کے جوہر دکھائیں اور دنیا کی کایا پلٹ دیں۔ چند ماہ کی بات ہے کہ مجھے کسی عزیز نے کہا اور میں شرم سے کٹ گیا کہ کچھ عرصہ سے ہماری جماعت میں اس قسم کی علمی اور تحقیقاتی تصانیف شائع نہیں ہو رہی ہیں جو چند سال پہلے شائع ہوا کرتی تھیں۔ یہ اعتراض تو درحقیقت درست نہیں کیونکہ اس عرصہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ کی طرف سے تفسیرِ صغیر اور تفسیرِ کبیر کے ذریعہ بیش بہا علمی اور عرفانی جواہر پارے منظرِ عام پر آئے ہیں اور بعض دوسرے اصحاب نے بھی بعض اچھی اچھی کتابیں لکھی ہیں۔ مگر اس میں شبہ نہیں کہ جس تیز رفتاری سے قلمی خدمت میں ترقی ہونی چاہئے تھی اور جس رنگ میں بعض نئے میدانوں میں تحقیقی مضامین لکھنے کی ضرورت تھی اس میں کسی قدر کمی ہے۔ اور یہ بھی ایک حد تک درست ہے کہ بعض نوجوانوں کا میلان تحقیقی اور علمی مضامین میں لکھنے کی بجائے نوک جھونک والے سطحی اور وقتی مقالوں کی طرف زیادہ ہورہا ہے۔ یہ میلان ایک ترقی کرنے والی قوم کے لئے بہت نقصان دہ ہے اور ضرورت یہ ہے کہ بہت جلد کانٹا بدل کر جماعت کی قلموں کو صحیح رستہ پر ڈالنے کی کوشش کی جائے۔ قرآن فرماتا ہے کہ

جَادِلْھُمْ بِالَّتِی ھِیَ اَحْسَنْ

(النحل:126)

یعنی مخالفوںکے ساتھ دینی جہاد کرنے میں بہترین اور پختہ ترین اور مؤثر ترین دلائل اختیار کرواور یونہی سطحی باتوں میں الجھ کر اپنی ہنسی نہ اڑاؤ۔

تحقیقی مضمون لکھنے کے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ پہلے ایک موضوع کی جو کسی حقیقی حاضرالوقت ضرورت کے مطابق ہو چن کر اسے اپنے ذہن میں مستحضر رکھا جائے اور اس پر کچھ وقت تک غور کیا جائے۔ پھر قرآن اور حدیث اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور دوسرے بنیادی لٹریچر کا مطالعہ کر کے اس مضمون کے نوٹ لئے جائیں اور انہیں ترتیب وار مرتب کیا جائے۔ پھر جو امکانی اعتراضات اس مضمون کے متعلق دوسروں کی طرف سے ہوئے ہوں یا ہوسکتے ہوں انہیں ذہن میں رکھ کر ان کا جواب سوچا جائے۔ پھر ایک عمومی خاکہ اس امر کے متعلق اپنے دماغ میں قائم کیا جائے کہ اس مضمون کو کس طرح شروع کرنا ہے اور کس طرح چلانا اور کس طرح ختم کرنا ہے۔ آغاز اس طرح ہونا چاہئے کہ مضمون پڑھنے والا اس کی نوعیت اور اہمیت کو محسوس کر کے اس کے لئے ذہنی طور پر تیار اور چوکس ہو جائے اور اختتام اس رنگ میں سوچاجائے کہ گویا چند تیر ہیں جو آخری ضرب کے طور پر پڑھنے والے کے دل میں پیوست کرنے مقصود ہیں۔ اس کے بعد نوٹ سامنے رکھ کر دعا کرتے ہوئے مضمون شروع کیا جائے۔ اور ہر ضروری اقتباس کے اختتام پر بریکٹوں کے اندر معین حوالہ درج کیاجائے تا اگر مضمون پڑھنے والا اس بارے میں مزید تحقیق کرنا چاہے تو از خود تحقیق کر کے تسلی کر سکے۔ مضمون ختم کرنے کے بعد نظر ثانی بہت ضروری ہے اور نظرِ ثانی کے لئے بہترین طریق یہ ہے کہ اپنے مضمون کو علیحدگی میں اونچی آواز سے پڑھا جائے تاکہ آنکھوں کی فطری حس کے علاوہ کان بھی اپنی قدرتی موسیقی کو کام میں لاکر اصلاح میں مدد دے سکیں۔ میں نے بارہا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوا س رنگ میں اپنی تحریرات کو پڑھتے دیکھا اور سنا ہے۔ اور آپ اپنے مضامین کی نظر ثانی بھی ضرور فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ آپ کے مسوّدات کی عبارت کئی جگہ سے کٹی ہوئی اور بدلی ہوئی نظر آتی تھی اور ایسا نہیں ہوتا تھا کہ بس جو لکھا گیا سو لکھا گیا۔ بلکہ آپ اس غرض سے اور نیز صحت کی غرض سے اپنی کتب کی کاپیاں اور پروف تک بھی خود ملاحظہ فرماتے تھے۔

مضمون شروع کرنے سے پہلے نیت درست کر نے اور خدمتِ دین کے جذبہ کو اپنے دل میں جگہ دینے اور دعا کرنے کا میں نے یہ عظیم الشان فائدہ دیکھا ہے کہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ غیر معمولی رنگ میں نصرت فرماتا ہے۔ مثال کے طور پر کہتا ہوں کہ ایک دفعہ جب میں نے اپنے ایک مضمون کی پہلی سطر ہی لکھی تھی تو یکلخت مجھ پر کشفی حالت طاری ہو گئی اور میں نے دیکھا کہ صفحہ کے آخری حصہ میں جو اس وقت خالی تھا ایک خاص عبارت لکھی ہوئی درج ہے اور مجھے توجہ دلائی گئی کہ اپنے اس مضمون کو اس عبارت کے مضمون کی طرف کھینچ لا۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا جس کی وجہ سے مضمون میں ایک نیا اور دلکش رنگ پیدا ہو گیا۔ بعض اوقات ایسا ہوا کہ میں نے مضمون کا ایک ڈھانچہ سوچ کر نوٹ کیا مگربعض حصوں میں مضمون لکھتے لکھتے میرا قلم خود بخود ایک نئے رستہ پر پڑگیا اور بالکل نئی باتیں ذہن میں آ گئیں۔ چنانچہ جو ڈھانچہ میں شروع میں سوچا کرتاہوں عموماً اس کا نصف یا اس سے کچھ کم حصہ مضمون لکھتے ہوئے بہتر صورت میں بدل جایا کرتا ہے۔ یہ سب دعا اور حسنِ نیت اور اللہ کے فضل کا ثمرہ ہے ورنہ من آنم کہ من دانم۔ بایں ہمہ شروع کی تیاری بہت ضروری ہے کیونکہ یہ تیاری بھی نصرتِ الٰہی کی جاذب ہوا کرتی ہے۔

یہ سوال کہ علمی اور حقیقی تصانیف کے لئے کن مضمونوں کو چنا جائے، ایک بہت اہم سوال ہے مگر باوجود اس کے وہ کچھ مشکل بھی نہیں۔ ہمارے سامنے ہمارے آسمانی آقا کی سنت موجود ہے جس کا ہر فعل حکمت پر مبنی ہوتاہے اور وقت کی حقیقی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ دراصل اگر کوئی کام وقت کی ضرورت کے مطابق نہ ہو تو وہ ایک کھوکھلے فلسفہ اور دماغی کھلونے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا اور خدا کی ذات اس قسم کے لایعنی فلسفہ سے بالا ہے۔ اگر خدا چاہتا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتدائے آفرینش میں ہی پیدا کر سکتا تھا مگر اس نے ایسا نہیں کیا کیونکہ ابھی بنی نوع انسان اپنے دماغی قویٰ اور ماحول کے تمدن کے لحاظ سے کسی دائمی اور عالمگیر شریعت کے حامل بننے کے اہل نہیں تھے۔ پس اس نے فلسفہ کو چھوڑ کر حکمت کا رستہ اختیار کیا اور یہی رستہ ہمارے لئے بھی کھلا ہے۔

پس مضمون کے انتخاب کے متعلق میرا یہ مشورہ ہے کہ صرف ان مضمونوں کو چنا جائے جو حکیمانہ طریق پر وقت کی کسی اہم ضرورت کو پورا کرنے والے ہوں اور دنیا ان مضمونوں کے لئے پیاسی ہو۔ اور اس تعلق میں یہ خیال روک نہیں بننا چاہئے کہ کسی مضمون پر کچھ عرصہ پہلے لکھا جا چکا ہے۔ کیونکہ زمانہ کے حالات بدلتے رہتے ہیں اور نہ صرف نئے نئے مسائل بلکہ پرانے مسائل کے نئے نئے پہلو بھی پیدا ہوتے اور سامنے آتے رہتے ہیں۔ کئی مضامین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں لکھے گئے اور نہایت تسلی بخش صورت میں لکھے گئے اور انہوں نے دنیا کی پیاس بجھائی مگر آج ان مسائل کے نئے نئے پہلو پیدا ہو چکے ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔ ان پر سوچنا اور ان کے متعلق قرآن و حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لٹریچر اور دیگر بنیادی لٹریچر سے اصولی روشنی حاصل کر کے زمانہ کے نئے مسائل کو حل کر نا یا پرانے مسائل کی نئی گتھیوں کو سلجھانا جماعت کے خادمِ دین علماء کا کام ہے۔ اقوامِ عالم کی روحیں دلوںکو منور کرنے والی نئی روشنی کے لئے تڑپ رہی ہیں۔ صدیوں کے تعصّب کی وجہ سے وہ اسلام کے نام سے تو ابھی تک بیشتر صورت میں متنفر ہیں مگر اسلام کی حقیقت کو اپنانے کے لئے بے چین بھی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ نبوت سے معمور کلام جو آج سے پچپن سال پہلے کہا گیا آفتاب ِعالمتاب کی طرح افقِ مشرق سے بلند ہو کر مغرب کے مرغزاروں میں بزبانِ حال گونج رہا ہے کہ:

؎آرہا ہے اس طرف احرارِ یورپ کا مزاج
نبض پھر چلنے لگی مُردوں کی ناگہ زندہ وار

(درثمین اردو)

یہی حال احمدیت کا ہے کہ جماعت احمدیہ کو برا بھلا کہتے ہوئے بلکہ ہر قسم کے فتوے لگاتے ہوئے بھی غیر احمدی دنیا جماعت احمدیہ کے خیالات اور نظریات کو مسلسل اپناتی چلی جاتی ہے۔ یہ سب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قلم کا کرشمہ ہے جس کے پیچھے خدا کی عظیم الشان نصرت اور روح القدس کی زبردست تائید کام کر رہی ہے۔ پس اے عزیزو اور دوستو آگے آؤ اور اپنے قلموں کو اسلام کی تائید میں حرکت دو کہ اس سے بڑھ کر تمہارے لئے آج کوئی برکت نہیں۔ اس وقت بہت سے اچھوتے اور نیم اچھوتے مضمون تمہاری قلموں کی جنبش کا انتظار کررہے ہیں اور ساغرِ حسن صرف ایک انگلی کے اشارے پر چھلکنے کے لئے تیار ہے اور تمہارے لئے صرف سنت کا اجر ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے کہ :

؎بمفت ایں اجرِ نصرت را دہندت اے اخی ورنہ
قضاءِ آسمان است ایں بہر حالت شود پیدا

اس وقت جو مضمون زیادہ توجہ طلب نظر آتے ہیں وہ میرے خیال میں یہ ہیں :
(1) بین الاقوامی تعلقات کے متعلق اسلامی تعلیم (2) بین الاقوامی مصالحت کی شرائط (3) ملکی اور قومی معاہدات (4) مذہبی رواداری (5) دوسری قوموں کے مذہبی پیشواؤں کے متعلق اسلامی احکام (6) یہ مضمون کہ اسلامی تعلیم کے مطابق ہر قوم میں رسول آئے ہیں (7) اسلام اور دیگر شرائع کی باہمی نسبت اور ان کا مقابلہ (8) یہودیت اور اسرائیلیت کے متعلق اسلامی پیشگوئیاں (9) مسیح ناصری کے حقیقی اور مزعومہ معجزات (10) وفات مسیح ازروئے انجیل و تاریخ (11) اشتراکیت اور سرمایہ داری اور نظام اسلامی کا مقابلہ (12) وحی و الہام کی حقیقت اور اس کا اجراء (13) ختم نبوت کی حقیقت (14) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عدیم المثال مقام اور آپ ؐ کا افضل الرسل ہونا (15) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات (16) مسیح کے نزولِ ثانی کا وعدہ (17) مسیح موعودؑکے نزول کی حقیقت (18) حضرت مسیح موعودؑ کے لٹریچر کی اہمیت اور یہ کہ دوسرے مسلمانوں نے بلکہ دوسری قوموں نے اسے کس طرح غیر شعوری طور پر اپنایا ہے اوراپنا رہے ہیں (19) اسلام میں روحانیت (20) اسلام کی اخلاقی تعلیم (21) اسلام میں جہاد کی حقیقت (22) ضبطِ تولید کا مسئلہ (23) اسلامی پردہ کی حقیقت اور یہ کہ کس طرح پردہ کے باوجود عورتیں ترقی کر سکتی اور قومی زندگی میں حصہ لے سکتی ہیں (24) تعدد ازدواج اور یہ کہ یہ تعلیم خاص انفرادی اور قومی ضروریات کے لئے ہے اور اس کی خاص شرائط ہیں (25) خلافت کی حقیقت اور اس کی ضرورت اور اہمیت (26) اسلام کا اقتصادی نظام اور سود اور بیمہ وغیرہ کے مسائل (27) اسلام کا تعزیری نظام وغیرہ وغیرہ۔

ان میں سے اکثر عنوان بظاہر سادہ نظر آتے ہیں مگر تحقیق یعنی ریسرچ کرنے والوں کے لئے ان میں ایسی طویل اور پیچ دار وادیاں موجود ہیں کہ ان میں صحیح طور پر گھومنے والا دنیا کے لئے ایک بہت دلکش اور نیا عالم پیدا کر سکتا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ:

؎بیادرِ ذیلِ مستاں تابہ بینی عالمے دیگر
بہشتے دیگرو ابلیس دیگر آدمے دیگر

پس اے احمدی نوجوانو! آؤاور اس چمنستان کی وادیوں میں گھوم کر دنیا کو نئے علوم سے شناسا کرو۔ آؤ اور اسلام کی نشأۃِ ثانیہ کی تعمیر میں حصہ لے کر اقوامِ عالم کو علم و عرفان کے وہ خزانے عطا کرو کہ حجاز اور بغداد اور قرطبہ اور قدس اور مصر کی یادگاریں زندہ ہو جائیں۔ تا دنیا تم پر فخر کرے اور آسمان تم پر رحمت کی بارشیں برسائے اور آنے والی نسلیں تمہاری یاد سے امنگ اور ولولہ حاصل کریں۔ اے کاش کہ ایسا ہی ہو۔وَاٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

(محررہ 18دسمبر 1958ء)

(روزنامہ الفضل ربوہ 26 دسمبر 1958ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 ستمبر 2020