• 20 ستمبر, 2020

فوٹوگرافی کا شوق جو باعثِ سعادت بن گیا

(معروف فوٹو گرافر سلیمان احمد طاہر صاحب کی یادداشتیں)

خاکسارکےتایا جان محترم چوہدری سلطان احمد طاہر صاحب کے بڑے فرزند اور سلسلہ کے دیرینہ خادم محترم مولانا نسیم سیفی صاحب سابق ایڈیٹر الفضل کے بھانجے اور داماد محترمی سلیمان احمد طاہر صاحب آف کراچی فوٹو گرافی میں مہارت اور شوق کی وجہ سے معروف ہیں۔ آپ کا یہ شوق آپ کے لئے با عث سعادت بھی بنا اور آپ کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی بے پنا ہ شفقتوں کا مورد بنا تا رہا۔ آپ نے 22جولائی 2020ء کو اپنی یادوں کو جنبش دی اور خاکسارکوکئی صوتی پیغامات بھیج ڈالے۔ پیغامات کیا تھے وہ شفقت و محبت اور سعادتوں کی کہانی تھی۔ خاکسار کان کو سنتا گیا اور الفاظ کے قالب میں ڈھا لتا گیا۔ چند فقرے آپ نے اپنے تعارف میں بھی کہہ ڈالے کہ میں نے اپنی ابتدائی تعلیم اور گریجویشن ربوہ سے ہی میں کی تھی سوائے نویں دسویں کے دو سال سرگودھا میں تعلیم پائی۔ 1963ء سے 1967ء تک تعلیم الاسلام کالج ربوہ سے F.Sc اور B.Sc کرنے کے بعد1967ء تا 1969ء میں کراچی یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا۔ کچھ عرصہ طارق روڈ کراچی میں واقع ایک امریکن کمپنی کے دفتر میں ملازمت کی پھر 1974ءسے DHA کراچی میں پراپرٹی کا بزنس شروع کردیااورابتک اسی بزنس سے وابستہ ہیں۔

فوٹو گرافی کے شوق کےمحرک غالبا ًآپ کے بزرگ ماموں اور سسر محترم مولانا نسیم سیفی صاحب بنے جو خود بھی فوٹو گرافی کے شوقین تھے۔ اور انہوں نے 1970ء میں مکرم سلیمان طاہر صاحب کو ان کی شادی پر کیمر ہ کا تحفہ دیا جو وہ نائیجیریا سے لائے تھے۔ یہ پہلا کیمر ہ تھا جو سلیمان طاہر صاحب کے استعمال میں آیا اور اس سے ایک عرصہ تک آپ فوٹو گرافی کرتے رہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے 1978ء میں کسر صلیب کانفرنس لندن میں شرکت فرمائی تھی۔ اس کا نفرنس میں شرکت کرنے کے لئے جماعت کراچی کے 35افراد انگلستان گئےتو مکرم سلیمان طاہر صاحب بھی ان میں شامل تھے۔ اس کانفرنس کے موقع پر بھی آپ نے اسی کیمرے سے تصاویر بنائیں اور پھر یورپ کی سیر بھی کی۔ 1978ء میں ہی آپ کے ایک دوست نےلندن سے آپ کو ایک بہت اعلیٰ معیار کا کیمر ہ بھیجا جس سے آپ کو فوٹو گرافی کا شوق اپنی انتہا تک لے گیا اور پھر آپ نے مختلف نوعیت کے کیمروں کو جمع کرنے کا شوق بھی پورا کیا۔ یہاں تک کہ ایک وقت میں آپ کے پاس 560 کی تعداد میں نادر و نایاب کیمرے جمع ہوگئے۔پاکستانی میڈیا میں بھی آپ کے اس شوق کا چرچا ہوا۔ چنا نچہ پی ٹی وی کے پروگرام ’’یہ عالم شوق کا‘‘ میں آپ کا انٹرویو کیمروں کی نمائش کے ساتھ نشر ہوا۔ روز نامہ ڈان اور Women’s Own میگزین میں بھی آپ کے انٹرویو شائع ہوئے۔ ایم ٹی اے پرآپ کے فوٹو گرافی کے متعدد پروگرامز نشر ہوچکے ہیں۔

فوٹو گرافی کے 150سال پورے ہونے پر 1989ءمیں امریکن قونصل خانہ کراچی نے آپ کے کیمروں کی تین روز کی نمائش کا انعقاد بھی کیا جس کو سر کردہ سرکاری عہد ے داروں نے بھی وزٹ کیا۔قذافی سٹیڈیم لاہور میں فلڈ لائٹس لگانے کا کا م فلپس Phillipsکمپنی نے 1996ءمیں مکمل کیا تو رات کے دلکش مناظر کی فضائی تصاویر لینے کے لئے فلپس کمپنی نے آپ کی خدمات حاصل کیں اور آپ نے رات کے وقت فلڈ لائٹس میں قذافی سٹیڈیم کی خوبصورت فضائی فوٹو گرافی کی۔ فلپس کمپنی کو بہتر ین لائٹنگ پر ایوارڈ بھی ملاتھا۔ آپ فوٹو گرافی سوسائٹی آف کراچی کے سینئرممبر بھی ہیں اور اس سوسائٹی کی طرف سے آپ کو آپ کی بعض شاہکار تصاویر پر انعامات بھی دئیےجاچکےہیں۔

آپ بیان کرتے ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ جب کراچی تشریف لاتے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے جماعت کی طرف سے ہرتقریب میں باقاعدہ فوٹو گرافی کرنے کی سعادت حاصل ہوتی۔میں اگرچہ پراپرٹی کا بزنس کرتا تھا لیکن فوٹو گرافی میرا شوق تھا اور اس شوق کو میں نے بطور پیشہ بھی اپنائے رکھا اور میں نے فوٹو سٹوڈیو بنا رکھا تھا۔حضرت صاحب کی آمد پر جماعت کی طرف سے فوٹو گرافی کرنے کی ڈیوٹی لگتی جو میرے لئےباعث اعزاز ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ جب مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعد پہلی با ر کراچی تشریف لائےتوآپ دورہ یورپ اور مسجد بشارت سپین کے افتتا ح کے بعدکراچی تشریف لائےتھے۔ کراچی آکر حضور انورؒ نے مجھے ایک کا م سونپا۔ آپ نے اپنی ایک تصویر مجھے دی جو جرمنی میں ایک پروفیشنل فوٹو گرافر نے کھینچی تھی ۔اس نے حضورؒ سے درخواست کی تھی کہ میں آپ کی پوٹریٹ بنانا چاہتا ہوں۔ حضرت صاحبؒ نے مجھے اس تصویر کے بارے میں پورا واقعہ سنایا کہ جرمنی میں اس فوٹو گرافر نے جماعت سے رابطہ کرکے وقت لیا۔ میں آرام کرکے اٹھا تو مجھے بتایا گیا کہ فوٹو گرافر منتظر ہے۔ چنانچہ میں فوراً ہی اس کے سامنے تصویر کے لئے بیٹھ گیا۔ بیک گراؤنڈ میں ایک پردہ پھولوں والا تھا، اس کے سامنے تصویر ہوئی۔ چونکہ حضرت صاحبؒ نیند سے اٹھ کر گئے تھے اس لئے نیند کی وجہ سے آنکھوں کے سرخی مائل اثرات موجود تھے۔ حضرت صاحبؒ نے مجھے فرمایا کہ اس تصویر میں آنکھوں کی سرخی کو کم کرنا ہے اور بیک گراؤنڈ میں جو پردہ ہے،اسےپلین بیک گراؤنڈ میں تبدیل کردیں۔ چنانچہ حضرت صاحبؒ کے ارشاد اور خواہش کے مطابق میں نےاس تصویر کے مختلف پر نٹس لئے اور بیک گراؤنڈ بھی پلین کیا اور آنکھوں کی رنگت بھی بہتر کردی۔ اس زمانہ میں کمپیوٹر یا فوٹو شاپ وغیر ہ نہیں تھی اس لئے یہ تما م کا م بار با ر فوٹو پرنٹ لینے کے ذریعہ مہارت کے ساتھ کرناپڑا۔ اس کام پر حضرت صاحبؒ نے مجھے بہت شاباش دی۔یوں مجھے آپ کی یہ خدمت کرنے کی تو فیق ملی۔ پاکستان میں خدمت کا یہ موقع پانے کے بعد قیام لندن میں بہت مواقع ملے جوکہ باعث سعادت بن گئے

1984ء میں آپ کو حضرت صاحبؒ کے ارشاد و مشورہ پر اپنی والد ہ محترمہ امۃالحفیظ شوکت صاحبہ کے علاج کی غرض سے لندن جانا پڑا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ 30اپریل 1984ءکو لندن پہنچے تھے اور آپ اپنی والدہ کیساتھ تقریباًایک ماہ بعد مئی کے آخر میں لندن پہنچے۔ جماعت اور احباب جماعت کیلئے یہ وقت بہت ہی جذبات سے پُر تھا کیونکہ خلیفۃ المسیح ہجرت فرما کر لندن مقیم ہوئے تھے آرڈیننس 1984ء کے بعد خلیفہ وقت کے لئے پاکستان میں رہ کر جماعتی کام اور قیادت کرنا ممکن نہ تھا۔ اس لئےاللہ تعالیٰ آپ کو معجزانہ طور پر پاکستان سے انگلستان لےگیا۔ اس خدائی مدد اور معجزے کا اقرارہر منصف مزاج انسان کرتا ہے ۔

1984ءمیں جب والدہ صاحبہ کو علاج کی غرض سے لندن لے کر گیا تو اگلے ہی روز میری اور والدہ صاحبہ کی حضرت صاحبؒ کے ساتھ تفصیلی ملاقات ہوئی اورحضورؒ نے مجھ سے میرے پیشہ اور ذاتی مشاغل کے بارہ میں تفیصلی بات کی۔ مجھے چونکہ علاج کے لئے کم ازکم چھ ماہ وہاں ٹھہر نا تھا اوراکثر ڈاکٹر کے پاس تو تقریباً دوہفتےکے بعدہی جانا ہوتا تھا اس کے علاوہ تو ہماری کوئی مصروفیت نہ تھی اس لئے میرا زیادہ وقت مسجد فضل اور محمود ہال میں ہی گذرتا۔ اس وجہ سے مجھے حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ کا بہت قرب حاصل کرنے کی سعادت ملی۔ تقریباً روزانہ نمازوں پر آتے جاتے ملاقات ہوتی اور اس کے علاوہ علیحدہ بھی حضرت صاحبؒ سے ملاقاتیں معمول تھا۔ 1984ءکا زمانہ میری فوٹو گرافی کے شوق کےعروج کا زمانہ تھا۔ مجھے نادر اور قیمتی کیمرے اکٹھے کرنے کا شوق تھا اور میں اپنے کئی پرو فیشنل کیمر ے اپنے ساتھ لیکر لندن گیا تھا۔ میر ی یہ خوش قسمتی کہ مجھے لندن جا نے کا موقع حضرت صاحب ؒکی موجو دگی میں ملا اور حسن اتفاق کہئے یا میری خوش قسمتی کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒکوبھی فوٹو گرافی کا بہت شوق تھا۔ میں فوٹو گرافی پر اکثر مطالعہ بھی کر تا تھا اورنت نئے زاویوں کو سمجھنے، سیکھنے اور انکے تجربے کرنے کا موقع ملتا تھا۔ اس لئے حضرت صاحبؒ سے ملاقاتوں میں ایک مشترکہ موضوع فوٹو گرافی ہوا کرتا تھا۔ حضرت صاحب کے پاس بھی کئی کیمرے تھے آپ ملاقات میں و ہ بھی ساتھ رکھتے اور ان پر اور فوٹو گرافی اور جدید طریقوں کے حوالہ سے خوب گفتگو ہوا کرتی تھی۔

اخیر جولائی 1984ء میں پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کی طرف سے مجھے پیغام ملا کہ حضرت صاحب کی پوٹریٹ بنوانی ہےکیونکہ دنیا بھر میں مشن ہاوسز کی طرف سے مطالبے آرہےہیں۔ اور بعض دیگر اداروں مثلاً اخبارات وغیرہ کوبھی تصویر دینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس لئے آپ کسی ماہر پیشہ ور فوٹو گرافر کا انتظام کریں تا حضور کی تصویر بنوائی جا سکے۔ چونکہ جماعتی حالات پاکستا ن میں خراب تھے اور یہاں بھی کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ بہر حال رہتا تھا اس لئے حفاظتی نکتہ نگاہ مد نظر رکھتے ہوئے مجھے منا سب فوٹو گرافر کی تلاش کی ڈیوٹی تفویض کی گئی۔

اس ہدایت کےبعد میں نے چند فوٹو گر افر ز کی فہرست بنائی۔ پھر میں ایک فوٹو گرافر کے دفترگیا جو کہ برطانوی شاہی خاندان کی فوٹو گرافی بھی کر چکا تھا۔ اس سے طریق کا ر اور ریٹس وغیر ہ پوچھےاس نے کہا کہ جن کی تصویر بنانی ہے انہیں میر ے سٹوڈیو آنا ہوگا۔ یہ بات میں نے پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کو بتا ئی تو انہوں نے کہا یہ تو منا سب نہیں۔ تصویر تو یہاں محمود ہال میں ہی بنائی جائے گی۔ نیز اس نے اپنےمعاوضہ کےلئے تین ہزار پاونڈ سے زائد رقم بتائی تھی اس قدر رقم پر حضورؒ نے کسی صورت راضی نہیں ہونا تھا۔ تب یہ بات کی گئی کہ کیوں نہ ہم ہی حضور ؒ کی فوٹو گرافی کریں۔ چنا نچہ میں اپنے کیمرے لیکر آگیا۔ ایک احمدی ڈاکٹر داود خان صاحب بھی اپنے کیمرے لائے اور ایک ہند و فوٹو گر افر تھا وہ بھی شامل ہوگیا۔ ہم نے محمو د ہال میں ایک سٹوڈیو سیٹ کیا۔ اور ہم نے حضرت صاحب کی تصاویربنانےکی سعادت حاصل کی۔یہ میری خوش قسمتی ہے کہ جب تصاویر کے چناؤ کا وقت آیا تو حضور ؒنے میری کھینچی ہوئی تصویر کا انتخاب فرمایا اورپھر وہی تصویر تما م مشن ہاوسز کو بھجوائی گئی جومیرے لئے باعث اعزاز اور باعث دعابنی۔یہ تصویر سرخ بیک گراونڈ والی تھی جوایک عرصہ تک جماعتی طور پر دی جاتی رہی۔ حضرت صاحب سے ملاقاتوں کے دوران میں نےحضور ؒکی بعض دیگر پوز کے ساتھ بھی تصاویر کھینچی تھیں جن کو حضورؒ نے پسند فرمایا اور یہ تصاویر حضور ؒعموماًاپنے پیاروں کو تحفہ میں دیا کرتے تھے۔

1984ءکے دنوں کی ہی بات ہے پاکستان میں ایک مسجد کو کسی نے آگ لگادی اور پھر الزام لگادیا گیا کہ یہ احمد یوں نے کیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد حضرت صاحب نے مجھے بلایا اور استفسار فرمایا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ رات کو تصاویر کھینچی جائیں تصویر آبھی جائے اور کسی کو تصویر کشی کا علم نہ ہوسکے۔ میں نے حضور انور ؒکی ہدایت پر کا م کیا اور تجربہ کرکے انفراریڈلائٹ میں بلیک اینڈ وائٹ تصاویرکھینچیں اور حضرت صاحب کو دکھائیں کہ اس میں جس کی تصویر کھینچی گئی ہے اس کو علم نہیں اور پہچان بھی ہوجاتی ہے۔ بہر حال حضرت صاحب نے اس تجربے پر خوشی کااظہار فرمایا۔ تا ہم یہ میرے علم میں نہیں کہ اس ٹیکنالوجی کے ساتھ جماعتی طور پر فائدہ اٹھایا گیا تھا یا نہیں لیکن حضرت صاحب کی خواہش کے مطابق مجھے کا م کرنے کی توفیق ملی۔

حضور رحمہ اللہ کی جو تصویر جماعتی طور پر بھجوانے کے لئے منتخب کی گئی تھی اس کی سینکڑوں کاپیاں مجھ سے بنوائی گئیں کیونکہ یہ دنیا بھر میں بھیجی جاتی تھیں اور ان کی ہر وقت ضرورت رہتی تھی۔ حضورؒ اپنے پیاروں اوراحباب جماعت کو بھی بھجوایا کرتے تھے۔ اس تصویر کی طلب بہت زیادہ تھی اوراگلے سال 1985ءکے جلسہ سالانہ پر لوگ یہ تصویر مانگتےتھے تو حضور انور ؒکی اجازت اور منظوری سے جلسہ کے موقع پر میں نے حضور ؒکی تصاویر مناسب سی قیمت پر تا کہ اس سے لاگت وغیر ہ نکل آئے دستیاب کر دی تھیں۔ دراصل ہجرت کے بعد کی عجب کیفیت تھی ایک طرف پاکستان سے جدائی تھی دوسری طرف جماعت عالمگیر یت کے سفر تیزی سے طے کر رہی تھی۔ابھی ایم ٹی اے کا اجرا نہیں ہواتھا اور لوگ حضرت صاحب کی تصویر کاحصول اظہار محبت سےکرتے تھے۔ ملاقات احباب اورجلسہ پروفود کی آمد پربھی لوگ حضورؒ سے تصویر طلب کرتے اور بعض لوگ دستخطوں والی تصویر کا مطالبہ کرتے تو تصاویر کی حضور ؒکو بھی ضرورت رہتی تھی۔ چنانچہ پرائیویٹ سیکرٹری نسیم مہدی صاحب نے کہا کہ حضور ؒکو تصاویر چاہئیں۔ میں نے پچاس سے زائد تصاویر 7×5کی پرنٹ کرکے دے دیں۔ مجھے کہاگیا کہ اس کا کتنا بل ہے۔ میں نے کہا میں حضرت صاحب کو دی گئی تصاویر کے پیسے کیسے لے سکتا ہوں۔ انہوں نے کہا یہ حضورؒ پسند نہیں کریں گے۔ میں نے کہا ایسا نہیں ہوسکتا۔ تب انہوں نےتجویز کیا کہ آپ خو د حضور ؒکو لکھ دیں۔ چنانچہ میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں لکھا کہ حضور میر ی خواہش ہے کہ جس قدر آپ کو تصاویر کی ضرورت ہومجھے اجازت دیں کہ وہ تصاویر میں آپ کو اپنی طرف سے مہیا کیا کروں۔ حضور انورؒ نے ازراہ شفقت میری درخواست قبول کرلی اوراسی طرح ہوتا رہا۔ اس کے بعد میں کراچی آگیا۔ پھر مجھے PSسے خط بذریعہ جماعت کراچی آجایا کرتا تھا کہ اس قدر تصاویر بھیج دیں میں اس تعداد میں تصاویر پرنٹ کروا کر بھیج دیتا تھا۔

ایک دفعہ اسی قسم کا خط لند ن سے آیا لیکن کسی وجہ سے وہ میرے تک نہ پہنچ سکا اوریوں تصاویر کی ضرورت پوری نہ ہوسکی۔ تب لند ن سے مجھےخط ملا کہ آپ حضور ؒکی تصویر کا نیگیٹوبھجوا دیں ہم یہاں سے حسب ضرورت تصاویر پرنٹ کروا لیا کریں گے۔ اسی خط میں آگے یہ بھی لکھا تھا کہ قبل ازیں آپ کو اس قدر تصاویر بھجوانے کا لکھا تھا۔ مجھے اس پر بہت افسوس ہوا کہ مجھے تو خط ملا ہی نہیں ہے۔ تب میں نے پرائیویٹ سیکرٹر ی صاحب کو لکھا کہ میں نیگیٹو نہیں دوں گا کیونکہ 1985ءکے جلسہ سالانہ پرآیا تھا اور تصاویر کھینچنے کی اجازت لی تھی تو مجھے مشر وط اجازت دی گئی تھی کہ تصاویر کھینچیں لیکن فلم جماعت کی ملکیت ہوگی۔ میں نے حسب ہدایت ایک دو فلمیں وہاں جمع کروادی تھیں لیکن ان کا مجھے کبھی علم نہیں ہوا کہ وہ کہاں گئیں غالباً وہ کہیں ضائع ہوگئیں۔ اس لئے نیگیٹو کے گم جانے کا اندیشہ ہے لہذا میری طرف سے پھر درخواست کردیں کہ جس طرح شفقت کرتے ہوئے مجھے پہلے یہ موقع خدمت دیا گیا تھا اس کو ہی جاری رکھا جائے۔ میں تا حیات جس قدر تصاویر کی طلب ہوگی بھجواتا رہوںگا۔ ان شاءاللہ

میرے اس خط کے جواب میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنے ہاتھ سے مجھے محبت اور شفقتوں بھرا خط لکھا۔ ایک ایسا خط جس کو پڑھ کرمیں وفورجذبات سے روتا ہوں کہ اتنی بڑی ہستی مجھ نا چیز سے پیا ر کرتے ہوئے میرا شکریہ ادا کر رہی ہے۔ میں جب بھی و ہ خط پڑھتا ہوں تو رونے لگتا ہوں اور اپنی قسمت پر نا ز بھی کرتا ہوں۔ یہ 12اگست 1985ءکا محررہ خط ہے جو حضور نے اپنے ہاتھ سے مجھے انگریزی زبا ن میں لکھا تھا اور فرمایا کہ میں نے تو تصویر کا نیگیٹیوصرف اس لئے مانگا تھا کہ آپ مسلسل مجھے ہر سائز کی تصاویر بلا معاوضہ بھیج رہے ہیں اور ان کی لاگت بڑھتی جارہی ہے اور یہ آپ پر مالی بوجھ ہوگا اوریہ بات میرے دل پر بوجھل بنتی جارہی ہے۔ لیکن آپ کے محبت بھر ے اور پر عزم خط نے مجھے مستغنی کر دیا ہے۔ اس لئے آپ جس طرح سے خوش ہوں ویسا ہی کیجئے۔ حضورؒ نے اس کے ساتھ مجھے ڈھیروں دعائیں بھی دیں اور میری ذرہ نوازی بھی کی۔

حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ کی شفقتوں اور محبتوں کا اس قدر مجھ پر ورودہوا کہ بیان سے باہر ہے۔ جلسہ سالانہ قادیان 1991ءسے پہلے کی بات ہے۔ مجھے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کی طرف سے فلموں کے تین بند رول بھجوائے گئے۔ اور ان کے بارے میں حضرت صاحب کا ارشاد ملا کر یہ انکے کیمرے کی کھینچی ہوئی تصاویر ہیں جس میں حضورؒ کے اہل خانہ کی بھی تصاویر ہیں اس لئے آپ خود اپنی نگرانی میں انکو پراسس کروا کے پرنٹ کروائیں اور اس بات کی نگرانی کریں کہ کوئی تصویر ضائع نہ ہواور پرنٹ کروا کر حضور ؒکو بھجوا دیں۔ یہ میرے لئے بہت ہی اعزاز کی با ت تھی کہ مجھ پر اس قدر عنایت اور اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ کا م لندن میں بھی ہوسکتا تھا لیکن ہزاروں میل دور یہ کا م اس عا جز نا چیز کے ذمہ حضرت صاحب نے لگایا۔ میں نے حسب ہدایت حضور انورؒ انکو اپنی نگرانی میں پرنٹ کروایا۔ اور انکو مع نیگیٹو زسیل بند کر وا کر جماعت کے ذریعہ لند ن بھجوا دیا۔

مجھے صدسالہ جلسہ سالانہ قادیا ن کے یاد گا ر اور تاریخی موقع پر قادیان جانے اور جلسہ کے تینوں دن حضرت صاحب کی تصاویر کھینچنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ میں اس موقع پر بڑے اعلیٰ اور قیمتی 5 کیمرے اپنے ہمراہ لے گیا تھا۔ سینکڑوں تصاویر بنائیں۔ ان میں بعض تصاویر نے اتنی شہر ت حاصل کی کہ جماعت نے ان میں سے کئی تصاویر 6،5 فٹ کے سائز کے پرنٹ بھی بنوائے۔ میں نے خود بھی بڑے بڑے سائز کی وہ تصاویر بنائی تھیں۔ اسی طرح اگست 1984ء میں میری کھینچی ہوئی تصویر 6×4فٹ یعنی قد آدم سائز کی تصویر پرنٹ کرکے لنڈن میں جماعتی استعمال میں رکھی گئی تھی۔ اسلام آبادٹلفورڈ میں ایک عر صہ تک وہ لگی رہی۔ یوں الحمد للہ میر ا فوٹو گرافی کا شوق میرے لئے باعث سعادت بنا اور مجھے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کا قرب اور آپ کی شففقوں اور محبتوں کے ساتھ آپ کی ڈھیروں دعائیں ملیں جومیرے لئے سرمایہ زیست ہیں۔

1985ء کے جلسہ سالانہ کے بعد لندن سے کوئی دوست آرہےتھے تو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے انکے ہاتھ مجھے Nikon کا ایک بہت مہنگا 105ملی میٹرمائکرولنیزجو اس وقت کوئی ایک ہزار پاونڈمالیت کا ہوگا ، اس زمانہ میں یہ بہت بڑی رقم تھی اور یہ بہت مہنگا لنیز شمار ہوتاہے مجھے تحفہ کے طور پر بھیجا اور اس کے علاوہ اکثر حضور ؒمیرے بچوں کے لئے چاکلیٹس کا تحفہ بھی بھجوایا کرتے تھے۔ یہ آپ کی بہت بڑی عنایت تھی کہ آپ مجھے یاد کرکے میرے بچوں کے لئےچاکلیٹس بھیجتے تھے۔ اس عنایت کو یا د کرتے ہوئے میں اپنی خوش بختی پر نا ز کرتا ہوں کہ میں نے تھوڑی سی خدمت کا موقع پایا اور مجھ نا چیزپر اس قدر شفقتیں اور عنایات آپ نے فرمائیں۔

1984ء کے قیام لند ن کے دوران میں ڈیجٹیل فوٹو گرافی کے بارہ میں مطالعہ کاموقع ملا۔ میں میگزین خرید کر پڑھا کرتا تھا۔ ایک میگزین میں ڈیجٹیل فوٹو گرافی میں جو نئی چیز یں سامنے آئیں اور فوٹو گرافی میں ان کا استعمال شروع ہوا کہ کس طرح آپ فوٹو ز کو ایڈٹ کرکے بالکل ایک نئی فوٹو بنا سکتے ہیں۔ اس بارے میں تفصیل بیان کی گئی تھی۔ فوٹو گرافی میں ایڈٹینگ جس کو اب فوٹو شاپ کہا جاتا ہے اس کے ذریعہ بعض تصاویر جو بنائی گئی تھیں وہ بھی میگزین کا حصہ تھیں۔ چنانچہ ایک ملاقات میں حضورؒ کے ساتھ ڈیجٹیل فوٹو گرافی کے حوالہ سے تفصیلی گفتگو ہوئی اورمیں نے حضور ؒکو وہ میگزین اور تصاویر بھی دکھائیں۔ حضورؒ نے ان معلومات اور جد ید ٹیکنالوجی پر جہاں خوشی کا اظہار کیا کہ اتنی ترقی ہورہی ہے وہاں آپ نے فرمایا کہ یہ ایڈٹینگ ٹیکنالوجی (فوٹو شاپ )بہت خطر ناک بھی ہے اوراس کے بھیانک نتائج بھی نکل سکتے ہیں۔ چنانچہ فوٹو شاپ آج دنیا میں کئی فسادات برپا کرنے کا بھی باعث بن رہی ہے اور آئے دن اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کے ذریعہ سکینڈل بنا کر میڈیا پر دکھا ئے جاتے ہیں۔

میری چونکہ حضرت صاحب کے ساتھ 1984میں قیام لند ن کے دوران بہت ملاقاتیں ہوئیں اور بعض لمبی لمبی ملاقاتیں بھی تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک ملاقات کا دورانیہ ایک گھنٹہ اٹھاون منٹ تھا۔ یہ نماز ظہر سے پہلے ملاقات ہوئی تھی میں جب ملاقات کرکے باہر نکلاتو مرحوم محمد عیسیٰ صاحب مربی سلسلہ جو وہاں پی ایس آفس میں تھے وہ محبت سے کہنے لگے کہ تم نے تو آج لوٹ لیا۔یعنی حضرت صاحب کی شفقتیں اور محبتیں لوٹ لیں۔اور ساتھ کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ اتنی لمبی ملاقات کبھی حضرت صاحب نے ڈاکٹر عبد السلام صاحب سے بھی کی ہو۔یہ ملاقات بھی میر ے لئے باعث افتخارتھی کہ حضرت صاحب کے ساتھ اس قدر وقت محبتیں اور شفقتیں سمیٹنے میں گذرا۔

1985ءکے جلسہ سالانہ برطانیہ کا ماحول بہت جذباتی تھا۔ مجھے بھی اس میں نہ صر ف شرکت بلکہ فوٹو گرافی کا اعزاز بھی ملا۔ خاص طور پر حضورؒ کے ساتھ جو مختلف گروپ فوٹوز مربیان و دیگر وفود کےہوئے۔ ان سب کی فوٹو گرافی میں نے کی۔ اس سے میر ا تعارف مختلف بزرگان ، مربیان اور احباب جماعت سے ہوگیا اور ان کے مجھے خطوط اور ٹیلی فونز بھی آتے رہے۔ یہ میرے لئے ایک اضافی برکت تھی جو حضرت صاحب کی فوٹو گرافی کرنے کے نتیجہ میں مجھے حاصل ہوئی۔

1985ء کے جلسہ سالانہ کے بعد جب احباب حضرت صاحب سے ملاقات کے لئے نا م لکھوا رہے تھے تو میں نے بھی نا م لکھو ا دیا۔ اور پھر میں اپنے عزیز وں سے ملنے لند ن سے200 میل دورچلا گیا۔ واپس آکر میں نے پچاس کے قریب تصاویر حضرت صاحب کے لئے پرنٹ کروائی تھیں وہ میں ابّا جان (چوہدری سلطان احمد طاہر صاحب) کو دے آیا کہ آپ رقعہ لکھ کر حضرت صاحب کی خدمت میںپیش کردیں۔ مجھے ملاقات حضور انور کے بارہ میں اطلاع نہیں ہوسکی تھی اس لئے میں تصاویر والد محتر م کو دیکر پاکستان واپس آگیا۔ ابّاجان نے رقعہ کے ساتھ حضرت صاحب کو تصاویر پیش کر دیں۔ حضرت صاحب کی شفقت دیکھیں تصاویر کا شکریہ ادا فرمایا اورساتھ فرمایا کہ عزیزم سلیمان طاہر کو ملاقات کا وقت تو دے دیا تھا لیکن غالباًانہیں اس کی بروقت اطلاع نہیں مل سکی۔ اس لئے ملاقات کے بغیر ان کی واپسی ہوئی ہے۔ تو حضرت صاحب کو یہ احساس تھا کہ ملاقات کا وقت تو میں نے دے دیا تھا لیکن غالباً اطلاع نہیں ہو سکی۔

1991ء میں صدسالہ جلسہ سالانہ قادیا ن میں شمولیت کے لئے میں اپنی فیملی کے ہمراہ 25دسمبر 1991ء کو رات دیر سے قادیا ن پہنچا۔ حضورؒ سے میر ا پہلا سامنا 26دسمبر کی فجر کی نماز کے بعد مسجد اقصیٰ میں ہوا تھا۔ میں اپنا کیمرہ گلے میں لٹکائے شدید سرد موسم میں چترالی ٹوپی اور جیکٹ پہنے مسجد میں جلد ہی پہنچ گیا۔ اور محراب کے سامنے والے پلر کے ساتھ جا کر بیٹھ گیا حضرت صاحب تشریف لائے اورسید ھے محراب میں گئے اور نماز پڑھائی۔ آتے ہوئے حضور ؒکی نگا ہ میری طرف نہیں پڑی تھی۔ نماز ختم ہوئی تو میں پلر کے پاس ہی کھڑا تھا حضورؒ جب رخ موڑ کر لوگوں کی طرف بیٹھےاوراحباب پر نظر دوڑائی تو نگاہ کرم اس ناچیز پر بھی پڑی۔ مسجد اقصیٰ ، تاریخی جلسہ سالانہ کا پہلا دن ہے لوگو ں کا ہجوم ہے حضرت صاحب نے میری طرف دیکھتے ہی فرمایا ’’سلیمان کب آئے‘‘ یہ میرے لئے بہت بڑی سعادت تھی۔ میں نے بتایا کہ حضور ویز الیٹ آیا تھا اور پھر ہم کل رات تا خیر سے قادیا ن پہنچے ہیں۔میرے گلے میں لٹکے ہوئے کیمرے کی طرف دیکھ کر حضورؒ نے فرمایا کہ یہ کونسا کیمرہ ہے؟ میں نے عرض کی کہ یہ Nikonکا F-4S ہے اور یہ بہت اچھا کیمرہ ہے۔ پھر حضرت صاحب نے فرمایا کہ آپ نے جو مجھے کیمرہ کے بارہ میں لکھا تھا وہ میں نے لے لیا تھا۔ اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو جذباتی ہوجاتا ہوں کہ ایسے تاریخی موقع پر نماز کے فوراً بعد آپ کی نگاہ کرم اس غلا م پر پڑی اور آقا کی اس قد ر ذرہ نوازی کہ میرے بارہ میں پوچھا اور پھر تفصیل بھی پوچھی۔ میرے سے گفتگوکے بعد کئی احباب نے حضورؒ سے شرف مصافحہ بھی حاصل کیا اور حضور ؒکو اس وقت ملنے والوں میں فیصل آبا د کا ایک معذور نوجوان بھی تھا جو غالباً پولیو کی وجہ سے بے ساکھی کے سہارے چل کرحضورؒ سے ملا۔ حضورؒ اس کو بڑی محبت سے ملے اور مجھے فرمایاکہ اس کی تصویر کھینچیں۔ میں نے عرض کی کہ کھینچ لی ہے فرمایا اور کھینچیں۔ تو یہ حضور ؒکی بے نظیرشفقت دیکھی اس معذور نوجوان کے لئے جو مشکلات میں حضور ؒکو پاکستان سے ملنے آیا اور پھر اس نے حضرت صاحب کی محبتوں کا مشاہدہ بھی کیا۔ میر ے پاس الفاظ نہیں اس شففقت کے اظہار کے لئے جو حضورؒ نے اس نوجوان کے ساتھ فرمائی اور اس کی اتنی دل جوئی فرمائی کہ اور تصاویر کھینچنے کا ارشاد فرمایا۔

1992ء میں آخری بار انگلستان گیا اور حضرت صاحب سے ملاقات ہوئی جس میں آپ کی خدمت میں میں نےجلسہ سالانہ قادیان 1991ء کی تصاویر بھی پیش کیں۔ یہ حضورؒ سے میر ی آخری ملاقات تھی اوراسی ملاقات میں حضورؒ سے قادیان جلسہ کے دوران دعا کرتے ہوئے کی ایک تصویر (جس میں آپ کا اللہ کے حضور تضرع نمایاں نظر آرہا تھا) کی اجاز ت مانگی کہ لوگ یہ تصویر مجھ سے مانگتے ہیں کیا اس تصویر کو پرنٹ کر کے انہیں دے سکتا ہوں حضورؒ نے ازراہ ِشفقت اجازت مرحمت فرمائی۔

میں سمجھتاہوں کہ مجھے بہت معمولی خدمت کا موقع ملاہے۔ لیکن اس کے بالمقابل حضرت صاحب کی بے انتہا شفقت، محبت اور ذرہ نوازی سے حصہ پایا جوکہ میرے لئے سرمایہ زیست ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر آن دامن خلافت سے وابستہ رکھے اور ہمیشہ ہمیں برکات خلافت سے مستفیض فرماتا رہے۔ آمین۔

(تحریر:محمد محمود طاہر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 ستمبر 2020