• 23 اکتوبر, 2020

جو شخص دنیا کے لالچ میں پھنسا ہوا ہے

’’جو شخص دنیا کے لالچ میں پھنسا ہوا ہے اور آخرت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے‘‘۔

(کشتی نوح۔ روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ ۱۸)

پھر آپؑ نے فرمایا ’’وہ جو دنیا پر کتوں یا چیونٹیوں یا گدوں کی طرح گرتے ہیں اور دنیا سے آرام یافتہ ہیں وہ اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتے۔‘‘

(کشتی نوح۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۱۳)

پھرفرمایا ’’دنیا کے کام نہ تو کبھی کسی نے پورے کئے اور نہ کرے گا۔ دنیا دار لوگ نہیں سمجھتے کہ ہم کیوں دنیا میں آئے اور کیوں جائیں گے کون سمجھا وے جب کہ خداتعالیٰ نے سمجھایا ہو، دنیا کے کام کرنا گناہ نہیں۔ مومن وہ ہے جو درحقیقت دین کو مقدم سمجھے اور جس طرح اس ناچیز اور پلید دنیا کی کامیابیوں کے لئے دن رات سوچتا یہاں تک کہ پلنگ پر لیٹے لیٹے فکر کرتا ہے اور اس کی ناکامی پر سخت رنج اٹھاتا ہے ایسا ہی دین کی غمخواری میں بھی مشغول رہے۔ دنیا سے دل لگانا بڑا دھوکہ ہے موت کا ذرہ اعتبار نہیں‘‘۔

(مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر چہارم مکتوب نمبر ۹ صفحہ ۷۲، ۷۳)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 اکتوبر 2020