• 27 اکتوبر, 2020

تمام علوم اس میں پائے جاتے ہیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
… حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مزید فرماتے ہیں کہ ’’قرآن جامع جمیع علوم تو ہے ’’یعنی تمام علوم اس میں پائے جاتے ہیں‘‘ لیکن یہ ضروری نہیں کہ ایک ہی زمانہ میں اس کے تمام علوم ظاہر ہو جائیں بلکہ جیسی جیسی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ویسے ویسے قرآنی علوم کھلتے ہیں اور ہر ایک زمانہ کی مشکلات کے مناسب حال ان مشکلات کو حل کرنے والے روحانی معلم بھیجے جاتے ہیں۔

(شہادۃ القرآن۔ روحانی خزائن جلد6 صفحہ348)

پھر آپؑ خطبہ الہامیہ میں فرماتے ہیں: ’’کہتے ہیں کہ ہم کو مسیح اور مہدی کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ قرآن ہمارے لئے کافی ہے اور ہم سیدھے راستے پر ہیں۔ حالانکہ جانتے ہیں کہ قرآن ایسی کتاب ہے کہ سوائے پاکوں کے اور کسی کی فہم اس تک نہیں پہنچتی۔ اس وجہ سے ایک ایسے مفسر کی حاجت پڑی کہ خدا کے ہاتھ نے اسے پاک کیا ہو اور بینا بنایا ہو‘‘۔

(ترجمہ از خطبہ الہامیہ روحانی خزائن جلدنمبر 16 صفحہ 183-184 مطبوعہ ربوہ)

آج کل جو مسلمانوں کی حالت ہے وہ اس لئے ہے کہ خدا کے برگزیدہ کو (بھیجے ہوئے کو) جوخدا سے علم پا کر آیا، جس نے اس زمانہ میں قرآن کی جوتفسیر تھی وہ ہمارے سامنے پیش کی۔ اس کو ماننے سے انکاری ہیں۔ پس مسلمانوں کی بقا اور اُمّت کا عزت و وقار اسی سے وابستہ ہے کہ آنحضرتﷺ کے عاشق صادق کے کہنے پر عمل کریں اور اس کو مانیں۔ آپؑ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’سچی بات یہی ہے کہ مسیح موعود اور مہدی کا کام یہی ہے کہ وہ لڑائیوں کے سلسلہ کو بند کرے گااور قلم، دعا اور توجہ سے اسلام کا بول بالا کرے گا۔ اور افسوس ہے کہ لوگوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی اس لئے کہ جتنی توجہ دنیا کی طرف ہے، دین کی طرف نہیں۔ دنیا کی آلودگیوں اور ناپاکیوں میں مبتلا ہو کر یہ امید کیونکر کر سکتے ہیں کہ ان پر قرآن کریم کے معارف کھلیں۔ وہاں صاف لکھا ہے لَایَمَسُّہٗ اِلَّا الْمُطَہَّرُوْنَ‘‘۔

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 553 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

یہ بات جہاں عام مسلمانوں کے لئے سوچنے کا مقام ہے وہاں ہمیں جو احمدی مسلمان ہیں اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلانے والی ہے۔ پس اس بابرکت مہینے میں ہر احمدی کو خداتعالیٰ سے یہ دعا بھی کرنی چاہئے کہ ہمارے دلوں کو اس طرح پاک کرے کہ قرآن کریم کی برکات سے ہم اس طرح فیض پانے والے ہوں جس طرح خداتعالیٰ ایک حقیقی مومن سے چاہتا ہے اور جس کی وضاحت اس زمانے میں خداتعالیٰ کے بھیجے ہوئے نے ہمارے سامنے پیش فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے حسن، اس کی تعلیم اور اس کے مقام کے بارہ میں قرآن کریم میں جو بیان فرمایا ہے، بہت جگہ پہ ہے بلکہ سارا قرآن کریم ہی بھرا ہوا ہے۔ اس کی چند مثالیں مَیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ جو قرآن کریم کی خوبصورت تعلیم پر عمل کرنے والے ہوں گے ان کو پھر اس وجہ سے کیا مقام ملتا ہے۔

جو پاک دل ہو کر اس کو سمجھتا ہے اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اس کا بھی بڑا مقام ہے۔ اس بارہ میں ایک روایت میں آتا ہے کہ سہل بن معاذ جہنیؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس شخص نے قرآن پڑھا اور اس پر عمل کیا تو قیامت کے روز اس کے ماں باپ کو دو تاج پہنائے جائیں گے جن کی روشنی سورج کی چمک سے بھی زیادہ ہو گی جو ان کے دنیا کے گھروں میں ہوتی تھی‘‘۔

(سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ ابواب قراء ۃ القرآن باب فی ثواب قراء ۃ القرآن حدیث 1453)

پھر جب اس کے والدین کا یہ درجہ ہے تو خیال کرو کہ اس شخص کا کیا درجہ ہو گا جس نے قرآن پر عمل کیا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ فرمایا ہے کہ ’’جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے‘‘۔

(کشتی ٔ نوح۔ روحانی خزائن جلد19 صفحہ 13)

یہ عزت تبھی ہے جب ہم عمل کر رہے ہوں گے اور پھر اللہ تعالیٰ کے ہاں اس چیز کاجو درجہ ہے وہ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے۔

(خطبہ جمعہ 11؍ ستمبر 2009ء) (الفضل انٹرنیشنل جلد 16شمارہ 40 مورخہ 2 اکتوبر تا 8 اکتوبر 2009ء صفحہ 5 تا صفحہ 8)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 اکتوبر 2020