• 28 اکتوبر, 2020

تعارف سورۃ الروم (30ویں سورۃ)

تعارف سورۃ الروم (30ویں سورۃ)
(مکی سورۃ، تسمیہ سمیت اس سورۃ کی 61 آیات ہیں)
(ترجمہ از انگریزی ترجمہ قرآن (حضرت ملک غلام فرید صاحب) ایڈیشن 2003ء)

وقت نزول اور سیاق و سباق

یہ سورۃ مکی ہے مگر اس کا معین وقت نزول بتانا مشکل ہے۔ مستند ترین علماء کی رائے میں یہ سورۃ نبوت کے چھٹے یا ساتویں سال میں نازل ہوئی کیونکہ اس سال اہلِ فارس کی فتح اپنے عروج پر تھی، جس کی طرف یہ سورۃ اشارہ کر رہی ہے۔ایرانی فوجیں قسطنطنیہ کے دروازوں پر دستک دے رہی تھیں اور رومیوں کی ذلت اور شکست اپنی انتہا کو چھو رہی تھی۔ سابقہ سورۃ کے اختتام پر بتایا گیاتھا کہ دنیاوی زندگی محض لغو و لھب ہے سوائے اس کے کہ کسی حقیقی مقصد کے تحت گزاری جائے اور وہ مقصد یہ ہے کہ حقیقی اور دائمی زندگی وہ ہے جو ایک روحانی سالک پوری طاقت کے ساتھ خدا کی رضا حاصل کرنے میں گزار دے۔ موجودہ سورۃ کے آغاز میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ مومن نہایت کامیابی کے ساتھ مصائب اور شدائد کا مقابلہ کریں گے اور ان قربانیوں اور تکلیفوں کے بدلے میں خدائی رحم اور عزت و قربت کے دروازے کھولے جائیں گے۔

مضامین کا خلاصہ

اس سورۃ کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کفار کی ظلمت اور طاقت کی سرکوبی اور تذلیل ہوگی اور اسلام کو فتح اور کامرانی نصیب ہوگی۔ یہ سورۃ پورے زور اور یقین سے بیان کرتی ہے کہ پرانا نظام ختم ہونے جا رہاہے اور ایک نیا اور بہتر نظام اس پرانے نظام کے تباہ ہونے سے جنم لے گا۔ اس سورۃ کا آغاز اس پیشگوئی سے ہے کہ رومی، فارسیوں سے حتمی فتح حاصل کریں گے۔ یہ پیشگوئی ایسے وقت میں کی گئی تھی جب ایرانی فتوحات اپنی طاقت کے بل بوتے پر قہر برسا رہی تھیں اور رومی شکست کھا رہے تھے یہاں تک کہ بالکل ہی دب کر رہ گئے تھے۔ یہ انسانی قوت اور بصیرت سے دور کی بات تھی کہ ایسا اندازہ لگائے کہ تین سے نو سال کے عرصہ میں ایرانیوں کا تختہ الٹ دیا جائے اور مغلوب دوبارہ فتح پا جائیں گے۔

یہ پیشگوئی بعینہ اسی طرح غیر معمولی حالات میں پوری ہوئی۔ اس پیشگوئی کی تکمیل ایک دوسری عظیم پیشگوئی پر منتج ہوئی کہ کفار کی طاقت جو اس وقت کمزور اور غریب مسلمانوں کے بالمقابل بہت زیادہ تھی، ان کی جڑیں اکھیڑ پھینکی جائیں گی اور اسلام ہر قدم پر طاقت اور شان و شوکت میں بڑھتا چلا جائے گا۔ پھر اس سورۃ میں خدا کی عظیم طاقتوں کا ذکر ہے جو زمین و آسمان کی پیدائش، اس منظم کائنات کی کامل ترین ساخت اور انسان کی غیر معمولی پیدائش میں جلوہ گرہوئیں۔ یہ سب امور اس نا قابل تردید حقیقت کی طرف لے جاتے ہیں کہ خدا جو ایسی وسیع طاقتوں کا مالک ہے وہ اس امر پر بھی قادر ہے کہ اسلام کو ایک معمولی بیج کی حیثیت سے بڑھا کر ایسا تناور درخت بنا دے جس کے سائے میں جملہ انسانیت سکون حاصل کرے۔ اسلام کی کامیابی یقینی ہے کیونکہ یہ دین فطرت ہے۔ یہ انسانی فطرت سے خوب مطابقت رکھتا ہےاور انسانی ضمیر، دلیل اور عقل سلیم کو بھاتا ہے۔

اسلام کی فتح عرب میں ایک عظیم انقلاب کے برپا ہونے کی صورت میں ظاہر ہوگی۔ اخلاقی طور پر مردہ اور صدیوں سے سوئی ہوئی قوم جاگ اٹھے گی اور آنحضرت ﷺ کے ذریعہ جاری ہونے والے روحانی چشمہ سے سیراب ہو کر روحانیت کے ایسے راہبر بنیں گے کہ اسلام کا پیغام پوری دنیا میں پھیلائیں گے۔ اس سورۃ کے اختتام پر فرمایا گیا ہے کہ اسلام کی مخالفت اس کی ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔ سچائی بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے اور جھوٹ (باطل) ذلیل و رسوا ہوتا ہے۔ یہ اصول ہر نبی کے دور میں کارگر رہا ہے اور آنحضرت ﷺ کے دور میں بھی ایسا ہی ہوگا۔ پھر آپ ﷺ کو تلقین کی گئی ہے کہ نہایت صبر اور حوصلہ سے مخالفین کی ظلم و تعدی اور استہزاء برداشت کریں کیونکہ جلد ہی آپﷺ کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔

٭…٭…٭

(مترجم: وقار احمد بھٹی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 اکتوبر 2020