• 23 اکتوبر, 2020

قرآن کریم کی حکیمانہ ترتیب

تبرکات
(قسط نمبر 1)
(حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ)

قرآ ن مجید کی سورہ عَبَسَ وَ تَوَلّٰی میں اللہ تعالیٰ قیامت کا ہولناک نقشہ پیش کرتے ہوا فرماتا ہے:۔

یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْہِO وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِO وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِO لِکُلِّ امْرِیئٍ مِّنْھُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِO

(عبس:38۔35)

جس دن بھاگے گا انسان اپنے بھائی سے اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے۔ اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں سے۔ کیونکہ ہر شخص کو ان میں سے اس دن اپنی اپنی پڑی ہو گی۔

قرآن مجید خداتعالیٰ کا کلام ہے اور خداتعالیٰ کا کوئی کام حکمت اور اس کا کوئی کلام ترتیب سے خالی نہیں ہوتا۔ اس لئے ان آیات میں رشتہ داروں کی جو ترتیب بیان کی گئی ہے وہ کیا ہے؟ یہ ایک سوال ہے جو پڑھنے والے کے دل میں پیدا ہوتا ہے اور جواب لئے بغیر نہیں ٹلتا کہ پہلے بھائی، پھر ماں، پھر باپ پھر بیوی اور پھر بیٹوں کے ذکر میں کیا حکمت کیا نکتہ اور کیا ترتیب ہے؟کیونکہ نہ یہاں بعید سے قریب تک کا بیان ہے کہ پہلے دور کے رشتہ دار بیان ہوں اور پھر قریب کے۔ کیونکہ والدین رشتہ میں زیادہ قریب ہوتے ہیں بہ نسبت بیوی کے۔ اور نہ یہاں قریب سے بعید کی طرف اسلوبِ کلام اختیار کیا گیا ہے کہ پہلے قریبی پھر دور کے رشتہ داروں کا ذکر ہو۔ کیونکہ بھائی دور ہے بہ نسبت ماں کے۔ حالانکہ اس کا ذکر پہلے ہے اور بیوی دور ہے بہ نسبت بیٹوں کے مگر اس کا ذکر ان سے پہلے ہے۔ اس لئے یہ دونوں طریق تو یہاں مدنظر معلوم نہیں ہوتے بلکہ یہاں پر کوئی اور ہی ترتیب پیشِ نظر ہے۔ اور وہ میرے نزدیک یَفِرُّ الْمَرْءُ سے واضح ہو رہی ہے۔ کیونکہ یَفِرُّ کے معنے ہیں کسی کی طرف بھاگ کر اور دوڑ کر جانا۔ پس اس لفظ نے اس سوال کو یوں حل کر دیا کہ ان آیات میں انسان کی پیدائش کی ابتداء اور پھر تدریجی ترقی کی طرف اشارہ نہیں کہ پہلے یہ باپ کے صلب میں ہوتا ہے اور پھر ماں کے رحم میں پرورش پانے لگتا ہے۔ بلکہ یَفِرُّ الْمَرْءُ یعنی جب انسان بھاگ دوڑ کر کسی کی طرف جا سکتا ہے اس عمر سے اُس کے کاموں کو ترتیب وار بیان کیا گیا ہے۔

مثلاً یہ جب چار پانچ سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو اس وقت اس کی ماں اس کے کام خودبخود کرتی ہے۔ اسے ماں کے پاس بھاگ بھاگ کر کوئی فرمائش نہیں کرنی پڑتی۔ نہ یہ چار پانچ سال کی عمر میں ماں سے کہتا ہے کہ مجھے کپڑے بنوا دو نہ اس کا مطالبہ بستر اور چارپائی کا ہوتا ہے۔ نہ کھانا پکانے کے متعلق اسے کچھ کہنا پڑتا ہے۔ بلکہ اس عمر میں اس کے سب کام اس کی والدہ خودبخود کر دیتی ہے۔ اس لئے اسے بھاگ دوڑ کر والدہ کی طرف جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ہاں اس عمر میں کھیلنے، دل بہلانے اور بچپن کی فطرت کے مطابق ہر وقت کسی نہ کسی کام میں مشغول رہنے کے لئے یہ اپنے بھائی بہنوں کی طرف ضرور دوڑ دوڑ کر جاتا ہے۔ اگر اس کا بھائی یا بہن دوسرے کمرہ میں ہوں تو یہ دوڑ کر وہاں پہنچ جاتا ہے اور سارا دن ان سے کھیلتا پھرتا ہے۔ اور اگر وہ اس سے چھپنا بھی چاہیں تو یہ دوڑ بھاگ کر ان کو جا پکڑتا ہے۔

غرض یہ چار پانچ سال کی عمر میں کھیلنے کے لئے اپنے ہم عمر بھائیوں بہنوں کے پیچھے بھاگا بھاگا پھرتا ہے۔ اس کی ماں کھانے پینے، کپڑے بدلنے، منہ دھونے دھلانے کے لئے اپنی طرف اسے بلاتی رہتی ہے بلکہ بعض دفعہ اسے پکڑ کر اپنے پاس لے جاتی ہے۔ مگر یہ دوڑ کر پھر بھائی بہنوں میں کھیلنے کے لئے آ ملتا ہے۔ پس سب سے پہلا تعلق جو ایک بچے کو چل کر جانے کے لحاظ سے ہوتا ہے وہ اسے اپنے بھائی بہنوں سے ہوتا ہے۔ بالخصوص بھائیوں سے۔ کیونکہ بہنیں تو گھروں میں رہتی ہیں۔ اس لئے یہ اپنے بھائیوں کے ساتھ بازاروں، گلیوں اور باغوں میں گھومتا پھرتا ہے۔ اس کے بعد جب یہ تیرہ چودہ سال کا ہوتا ہے تو اس کی ضروریات سب کی سب ایسی نہیں ہوتیں کہ اس کی ماں بغیر اس کے بتانے یا مانگنے کے خودبخود ان کا خیال رکھے۔ بلکہ یہ خود ماں سے کہتا ہے مثلاً یہ ساتویں یا آٹھویں میں پڑھتا ہے تو مہینہ ختم ہونے پر فیس کی رقم باپ سے مانگتا ہوا شرماتا ہے۔ مگر ماں سے بے تکلفی سے مانگ لیتا ہے۔ اب خواہ وہ خود دے یا خاوند سے لے کر دے۔ اسی طرح بازار جانے لگتا ہے تو پیسے ماں سے ہی مانگتا ہے اور اب چونکہ اسے لباس کے عمدہ ہونے کا خیال ہوتا ہے اس لئے اچھے کپڑے، اچھی ٹوپی، عمدہ بوٹ سب کچھ ماں سے طلب کرتا ہے اور بعض بعض اخراجات باپ سے چھپانا چاہتا ہے۔ مگر ماں سے ضرور مانگ لیتا ہے۔

پس دوڑنے بھاگنے، آنے جانے کے لحاظ سے اب اس کا دائرہ عمل اس کی ماں تک محدود ہوتا ہے۔ وہی اس کے سب ناز نخرے اُٹھاتی ہے۔ اس کے بعد پھر جب زیادہ بڑا ہوتا ہے اور کالج میں داخل ہوتا اور یونیورسٹی کی ڈگریاں لینے لگتا ہے تو ماہواری فیسوں، داخلہ کی سالانہ رقموں، کتابوں کی قیمتوں اور ٹیوشن کے خرچوں کے لئے بجائے ماں کے باپ کے پاس جاتا ہے۔ اسی سے خط و کتابت کرتا ہے اور اسی کی طرف تعلیم و ملازمت کے لئے مشوروں کے لئے دوڑا جاتا ہے۔ پھر جب یہ تعلیم سے فارغ ہو کر خود برسرروزگار ہو کر باپ کی امداد سے مستغنی ہو جاتا ہے اور کسی نیک سیرت سلیقہ مند عورت سے شادی کر لیتا ہے تو اب اس کی بھاگ دوڑ بیوی کی طرف شروع ہوتی ہے۔ غرض اب اس کی جولان گاہ اور میدانِ عمل سب کچھ اس کی بیوی ہے۔ اور گو اب بھی یہ اپنے ماں باپ کے پاس جاتا ہے مگر کھڑے کھڑے گیا بے شوقی سے بیٹھا اور جلدی اپنے گھر آ گیا اور اب وہ بیوی کے ناز اٹھانے اور نخرے برداشت کرتا ہے کہ مجبور ہو کر اس کی ماں بھی پکار اُٹھتی ہے کہ بیٹا تو نے ہمیں چھوڑ دیا۔ اب تو تو اپنی بیوی کا غلام بن گیا ہے یہ سنتا ہے اور ہنس کر ٹال دیتا ہے پھر اس کے ایک دو سال بعد نئی دلہن کے چاؤ کچھ سرد پڑنے لگتے ہیں اور خدا اسے صاحبِ اولاد کر دیتا ہے تو اس کی تگ و دو بچوں کے لئے ہو جاتی ہے۔ کبھی ان کی فیسوں کا فکر ہے کبھی وہ بیمار ہیں تو ان کی دوا لا رہا ہے کبھی ان کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کے منصوبے سوچتا رہتا ہے۔ جب وہ چھوٹے ہوتے ہیں تو یہ دفتر سے فارغ ہوا اور گھر پہنچ کر بڑے کو پیچھے اور چھوٹے کو آگے بٹھا کر سائیکل پر سوار ہو کر باغوں اور میدانوں کی سیر کراتا پھرتا ہے۔ غرض اب ساری عمر بچوں کے لئے دن رات ایک کر دیتا ہے اس لئے خداتعالیٰ قرآن مجید میں ایک نبی کی نصیحت نقل کر کے انسان کو توجہ دلاتا ہے کہ دیکھو

فَفِرُّوْا اِلَی اللّٰہِ (الذاریات:51) لوگو! خدا کی طرف بھاگا کرو یعنی اے انسان! تیری اصل بھاگ دوڑ اللہ کی طرف ہونی چاہئے مگر افسوس کہ تو اس کو چھوڑ کر بلکہ اسے ناراض کر کے اس کے احکام کی خلاف ورزی کر کے انسانوں کی طرف بھاگتا ہے۔ دیکھ تُو تو بچپن سے میرا باغی ہے کہ ابھی تو تین چار سال کا تھا کہ کھیلنے کے لئے ہر وقت بھائی بہنوں کی طرف بھاگتا پھرتا تھا پھر بارہ تیرہ سال کا ہو کر اپنی ضرورتوں کے لئے ماں کے پیچھے پیچھے پھرتا تھا اور پھر جوان ہو کر اپنے حوائج کے لئے بار بار باپ سے ملنے جاتا تھا۔ اور پھر شادی کی سلک میں منسلک ہو کر اپنی بیوی کی طرف راغب ہو کر دیوانہ وار اس کے پیچھے لگا رہتا تھا اور پھر صاحبِ اولاد ہو کر اولاد کے پیچھے پیچھے مارا مارا پھرتا رہا۔ اور اسی حالت میں بوڑھا ہو کر مرنے کے قریب ہو گیا مگر افسوس! تجھ پر وہ زمانہ نہ آیا کہ تو کبھی میری طرف بھی بھاگتا اور تیری دوڑ میری طرف بھی ہوتی۔ لیکن یاد رکھ کہ تیرے یہی رشتہ دار جن سے تو اس قدر محبت اور تعلق رکھتا ہے اور جن کی خاطر تو اپنے خالق و اپنے مالک اور اپنے رازق کو بھول چکا ہے اور جن کی طرف تو دنیا میں ہر وقت دوڑ دوڑ کر جاتا ہے قیامت کے دن کے عذاب کے ڈر کے مارے ہاں دوزخ کی جھلس دینے والی بلکہ بالکل بھسم کر دینے والی آگ کے شعلوں کے خوف سے ان سب کو ہاں اپنے بھائی، اپنی ماں، اپنے باپ، اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں غرض سب کو چھوڑ کر بھاگتا پھرے گا۔ وہ تجھے اپنی مدد کے لئے پکاریں گے مگر تو نفسی نفسی کہتا ہوا ان سے دور دور بھاگے گا۔ اسی طرح تیرے یہ عزیز اور قریبی رشتہ دار بلکہ تیرے نورِ چشم اور جگر کے ٹکڑے جن کی خاطر تو خدا کو اپنی خاطر میں نہیں لایا کرتا۔ تجھ سے دور دور بھاگیں گے اور تو اگر انہیں اپنی مدد کے لئے بلائے گا تو وہ بھی نفسی نفسی کہتے ہوئے تجھے چھوڑ کر فَفِرُّوْا ہوں گے۔ اور تو ابدی افسوس و حسرت اور سرمدی عذاب میں پڑا رہے گا کوئی تیری بات تک نہ پوچھے گا۔

غرض اس ہولناک دن میں نہ وہ تیری مدد کریں گے اور نہ تو ان کی مدد کرے گا۔ نہ وہ تیرے پاس پھٹکیں گے اور نہ تو ان کے قریب جائے گا۔ اس لئے اے عاقبت نااندیش انسان! ابھی سے ہوشیار ہو جا اور عاقبت اندیشی اختیار کر اور ابھی سے خدا کی طرف راغب ہو اور اپنے حقیقی مالک کی طرف متوجہ ہو۔ ہاں اپنے خالق مالک اور رازق کی طرف مائل ہو اور اس فنا ہو جانے والے عالم میں اس سے مراسم غلامانہ ہاں آداب بندگانہ اور تعلقات مخلصانہ قائم کر تاکہ اس باقی رہنے والے عالم میں یہ تعلقات تیرے کام آئیں اور تو ہمیشہ کے لئے ابدی خوشی اور نہ ختم ہونے والی آسائش کو حاصل کر سکے۔ اور اس دن تیرا آقا عَلٰی رَؤُسِ الْاَشْھَادِ تجھے مخاطب کر کے فرمائے۔

یٰۤاَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ O ارْجِعِیْۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃًO فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْO وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْO(الفجر:31۔28)

اے نفس مطمئنہ! لوٹ آ اپنے رب کی طرف تو خدا سے خوش خدا تجھ سے خوش۔ پس داخل ہو جا میرے بندوں میں اور داخل ہو جا میری جنت میں۔

(روزنامہ الفضل قادیان 30ستمبر 1936)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 اکتوبر 2020