• 30 نومبر, 2021

ترانہ

ہم روز یونہی کرتے رہیں اُس کی منادی
جس نے ہمیں اسلام کی پہچان کرا دی
مسرور ہے ہادی مرا، مسرور ہے ہادی
دنیا کے ہر اک ملک میں لہرائے گا پرچم
اُس پاک صفت، پاک نفس نے ہے دعا دی
مسرور ہے ہادی مرا، مسرور ہے ہادی
دنیا کے کہے سے کبھی پیچھے نہ ہٹیں گے
ہر ظلم و ستم سہنے کے ہم لوگ ہیں عادی
مسرور ہے ہادی مرا، مسرور ہے ہادی
یہ مال، یہ دولت یہیں رہ جائیں گے اک دن
لے جائے گی جب اپنی طرف موت کی وادی
مسرور ہے ہادی مرا، مسرور ہے ہادی
جاں اس پہ فدا کر دیں، وہ کر دے جو اشارہ
دل شاد ہیں وہ جن کا بھی مسرور ہے ہادی
مسرور ہے ہادی مرا، مسرور ہے ہادی
جب علم کی روشن ہوئی مشعل مرے دل میں
تعلیم محبت کی ہے، نفرت تو بُھلا دی
مسرور ہے ہادی مرا، مسرور ہے ہادی
عاشق ہیں خلافت کے، غلامانِ نبی ہیں
احمد! یہ دل و جاں ہے اطاعت میں لُٹا دی
مسرور ہے ہادی مرا، مسرور ہے ہادی

(مبارک احمد سیّد)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 اکتوبر 2021

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ