• 28 جنوری, 2023

This Week with Huzoor (12؍اگست 2022ء)

This Week with Huzoor
12؍اگست 2022ء

موٴرخہ 6تا12؍اگست2022ء حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جلسہ سالانہ انگلستان 2022ء میں مصروف رہے اسی دوران اسلام آباد میں دنیا بھر کے احمدی وکلاء ایسوسی ایشن کے نمائندگان کی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک میٹنگ بھی ہوئی۔

جلسہ سالانہ یوکے

تین مبارک ایام، پانچ روح پرور خطابات اور ایک ایمان افروز عالمی بیعت… ہم سب نے حضور انور کی عظیم ذمہ داریوں کا مشاہدہ کیا جو آپ کی جلسہ سالانہ یوکے پر تھیں۔ لیکن عوام الناس کی نظروں سے اوجھل حضور انور کا شیڈول جلسہ کے تینوں دنوں کے بعد بھی مصروف رہا۔ یہ ہماری جلسہ سالانہ یوکے 2022ء کی بابت خصوصی رپورٹ ہے۔

جلسہ کا پہلا روز

ہزاروں احمدی احباب جمعہ کے روز حدیقۃالمہدی تشریف لائے۔ تا کہ وہ اپنے پیارے آقا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکی صحبت سے مستفیض ہو سکیں۔ جب حضور اسٹیج پر تشریف لے آئے تو حاضرین میں خاموشی چھا گئی اور وہ آپ کے مبارک کلمات سننے کے لیے بے تاب تھے۔ خطبہ کے دوران حضور انور نے جلسہ کے تمام کارکنان اور شاملین کوان کی ذمہ داریوں کی طرف یاد دہانی کروائی۔ اسی روز بوقت سہ پہر حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز پرچم کشائی کی تقریب کیلئے رونق افروز ہوئے۔ دعا کے بعد جب حضور جلسہ گاہ کی طرف بڑھےتو فضا نعرہ تکبیرسےگونج اٹھی جبکہ احباب اپنے آقاکے انتظار میں تھے۔ افتتاحی اجلاس میں حضور انور نے تمام احمدیوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمیں حضرت مسیح موعود ؑ کو ماننے کی توفیق ملی ہےحضور انور نے فرمایا ’’ہم ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے اس فساد کے زمانے میں مسیح موعود ؑ کو مانا اور یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمایا۔ ہم نے ان لوگوں میں شامل ہونے کا عہد کیا ہے جو اس آسمانی پانی سےفیض حاصل کرناچاہتے ہیں۔‘‘

جلسہ کا دوسرا روز

اگلے روز حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز لجنہ اماء اللہ کے اجلاس میں رونق افروز ہوئے۔ جونہی حضور زنانہ جلسہ گاہ میں تشریف لائےتو وہاں موجود خواتین نے والہانہ نعروں سے اپنے آقا کا استقبال کیا۔ تلاوت قرآن کریم اور نظم کے بعد حضور انور نےلجنہ سے خطاب فرمایا۔ جس میں حضور نے عدیم المثال مسلمان خواتین کی مثالیں پیش فرمائیں۔ جن کے ذریعہ سے ایک حقیقی مومنہ کی تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔ حضور انور نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا حوالہ پیش فرمایا۔ ’’کوئی بھی ایسا کام نہیں جو عورت نہیں کر سکتی۔ وہ تبلیغ بھی کر سکتی ہے، وہ پڑھا بھی سکتی ہے، وہ لڑائی میں شامل ہو سکتی ہے اور اگر مال اور جان کی قربانی کا سوال ہو تو وہ ان کی قربانی بھی کر سکتی ہے اور بعض کام وہ مردوں سے بھی لے سکتی ہے۔ مرد بعض دفعہ کمزوری دکھا جاتے ہیں۔ اس وقت جو غیرت عورت دکھاتی ہےوہ کوئی اور نہیں دکھا سکتا۔‘‘

… اسی اجلاس کے آخر پر حضور انور نے مستورات کے تیار کردہ ترانے سنے۔ سہ پہر کے وقت حضور انور ایدہ اللہ دوبارہ مردانہ جلسہ گاہ میں رونق افروز ہوئے۔ جہاں آپ نے احباب سے ایک اور خطاب فرمایا۔ حضور انور ایدہ للہ نے دوران سال جماعت پر افضال الٰہیہ کا ذکر فرمایا۔ ’’اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال دنیا بھر میں پاکستان کے علاوہ جو نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں ان کی تعداد 355 ہے۔ نئی جماعتوں کے علاوہ855 مقامات پر پہلی دفعہ جماعت کا پودا لگا۔ نئی جماعتوں کے قیام میں کانگو کنشاسا سر فہرست ہے جہاں اس سال 40 نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔ پھر اس کے بعد دوسرے نمبر پر تنزانیا ہے جہاں اس سال 36 نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔ تیسرے نمبر پر سیرالیون ہے جہاں اس سال 31 نئی جماعتیں بنیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال بیعتوں کی تعداد 176836 ہے گزشتہ سال کی نسبت اللہ تعالیٰ کے فضل سے 51615 کا اضافہ ہے۔ 109 ممالک سے 160 سے زائد اقوام احمدیت میں داخل ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ جو کامیابیاں عطا فرما رہا ہے یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ ہمیں بھی لہو لگا کر اس میں شامل ہونے کی کچھ نہ کچھ ضرور کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہماری ذرا سی کوشش میں برکت ڈالے گاکیونکہ اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود ؑ سے یہ وعدہ ہے۔ پس ہم میں سے وہ خوش قسمت ہیں جو اپنے عملوں کےذریعہ سے، تبلیغ کے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود ؑ کے اس مشن کو پورا کرنے کی کو شش کریں گے اور دنیا میں پھر اسلام غالب ہو گا اور اسلام کا بول بالا ہو گا اور آج جو دنیا اسلام کو تحقیر کی نظر سے دیکھتی ہے دوبارہ حضرت محمدﷺ کے نغمے گائے گی، آپ کی مدح کرے گی اور آپ کے پیچھے چلنے میں فخر محسوس کرے گی۔ اللہ کرے کہ ہم اپنی زندگیوں میں یہ سب دیکھنے والے ہوں۔‘‘

جلسہ کا تیسرا دن

دوسرے دن کے اختتام کے ساتھ ہی احمدی مسلمانوں نے شدت سے اگلے دن کا انتظار شروع کر دیا۔ کیونکہ تین سال کے بعد ایک دفعہ پھر انہیں بیعت کی تقریب میں شرکت کا موقع ملنا تھا۔

حضور انور ایدہ اللہ نے بیعت کے الفاظ دوہرائے اور تمام احمدیوں نے اپنے امام کے پیچھے یکجاہو کر ان الفاظ کو دوہرایا اور تجدید بیعت کا شرف حاصل کیا۔ ایک جھنڈے تلے متحد، احمدی مسلمانوں نے تجدید بیعت کی تو تمام جلسہ گاہ آنسوؤں اور جذبات سے پُر تھی۔ چند ہی گھنٹوں میں جلسہ سالانہ برطانیہ کا اختتام ہونے والا تھا۔ احمدی مسلمانوں نے اپنے جذبات کو قابو میں کیا تو ایک دفعہ پھر حضور جلسہ گاہ میں تشریف لائے۔ حضور انور نے حاضرین کو حقیقی اسلام احمدیت کی تبلیغ کی ذمہ داری کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا۔ ’’پس ہمارا کام ہے کہ اس خوبصورت تعلیم کے حسن کودنیا کو بتاتے چلے جائیں۔ نیک فطرت لوگوں کو اسلام کی خوبصورت تعلیم سے آگاہ کریں اور مخالفین اور بے جا اعتراض کرنے والوں کے منہ بند کریں۔‘‘

ان الفاظ اور دعا کے ساتھ جس میں دنیا بھر سے لاکھوں شامل ہوئے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے السلام علیکم فرمایا اور یوں ایک اور جلسہ سالانہ برطانیہ اختتام پذیر ہوا۔

احمدی وکلاء ایسوسی ایشن کے نمائندگان کی
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ میٹنگ

جب حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ کی طرف لوٹے تو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا نہایت مصروف شیڈول جاری رہا۔ ایک نشست جو جلسہ سے اگلے دنوں میں ہوئی وہ احمدیہ مسلم وکلاء کی ایسوسی ایشن کے نمائندگان کے ساتھ تھی۔ جو مختلف ممالک سے اسلام آباد تشریف لائے تھے۔ تلاوت قرآن کریم اور مختصر تعارف کے بعد ہر ملک کے نمائندے کو موقع ملا کہ وہ اپنے ملک میں جاری سرگرمیوں کے بارہ میں ایک مختصر رپورٹ دے۔

کینیڈا کے نمائندہ نے اپنی رپورٹ میں عرض کیا: ’’ہمارا ہد ف یہ ہے کہ ہم انسانیت کی خدمت پسماندہ افراد کو قانونی مدد دے کر کریں۔ اس سے خاص طور پر کینیڈا کے قدیمی نسل کے باشندے لوگ استفادہ کریں گے۔ وہ کس طرح استفادہ کریں گے؟پیارے حضور 2017ء – 2018ء میں کینیڈا کی کل آبادی میں سے صرف چار فیصد کینیڈا کے قدیمی نسل کے باشندے لوگ تھے جبکہ 28 فیصد قیدی انہیں مقامی قوم کے افراد تھے۔ ان میں بے روزگاری کی شرح بھی پورے کینیڈا میں سب سے بڑی ہے۔ اسی طرح ان کی تعلیم بھی کم ہے اور انہیں بہت discrimination کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وکلاء ایسوسی ایشن یہ تجویز کرتی ہے کہ انہیں criminal اور civil law کے معاملات میں قانونی مدد فراہم کی جائے۔ وکلاء ایسوسی ایشن (ان شاءاللّٰہ) ایسے دوسری تنظیموں کے ساتھ کام کرے گی۔ جو پہلے سے منظور شدہ ہیں اور قانونی مدد فراہم کر رہی ہیں۔ اسی طرح ہم یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ ایسے دوسرے پروگرامز کی مالی امداد کی جائے جو عدالتی طور پر منظور شدہ ہیں اور ان لوگوں کی مدد کرتے ہیں جو قید کاٹ کر جیل سے نکل چکے ہوں تا کہ وہ اپنی اصلاح کر سکیں، اپنی کمیونٹی کا حصہ بن سکیں اور دوبارہ کسی جرم میں ملوث نہ ہوں۔

نمائندہ گھانا: السلام علیکم۔

حضورانور ایدہ اللہ نے فرمایا: وعلیکم السلام

نمائندہ گھانا: گھانا میں موجود جیلوں میں کل 9500 قیدیوں کی جگہ ہے لیکن اس وقت وہاں 14000 افراد قید ہیں۔ یہ ایک حقیقی Humanitarian crises ہے۔ حکومت اور عدلیہ نے اکٹھے ہو کر جیلوں میں موبائل عدالتیں بنائی ہیں تاکہ ان میں بھیڑ کو کم کیا جا سکے اور اس پروگرام کا نام ہے انصاف سب کے لیے۔ جماعت کے وکلاء کی ایسوسی ایشن نے اپنی خدمت اس پروگرام کے لیے پیش کی ہیں اور ہم بطور وکلاء جیل میں رہنے والے لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں کیونکہ ان میں سے زیادہ تر لوگ قانونی خدمات حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ گھانا کے آئین کے آرٹیکل 4/14میں لکھا ہےکہ تمام قیدیوں کو ایک معقول وقت کے اندر اندر ان کا کیس عدالت میں پیش ہونا چاہیے۔ تو ان پروگرام کے ساتھ ان قیدیوں کو آزادی ملے گی اور جیلوں میں بھیڑ کم ہو گی۔

حضور ایدہ اللہ نے فرمایا: اس آئین کے آرٹیکل کی پیروی نہیں ہوتی۔

نمائندہ گھانا: جی نہیں ہوتی اور یہ ان قیدیوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

حضور ایدہ اللہ نے فرمایا: انسانی حقوق کاغذپر ہیں۔ لیکن ان پر عمل نہیں کیا جا رہا۔

نمائندہ گھانا: ان حقوق کو ادا نہیں کیا جا رہا اور اس لئے ہم مدد کرنا چاہتے ہیں تا کہ ہم آئین کے مطابق ان کی مدد کر سکیں۔

نمائندہ جرمنی: چونکہ ہمارے بہت سے احمدی قانون پڑھ رہے ہیں تو اس لئے ہمارا پہلا goal یہ ہے کہ ان کو NGO کے کاموں میں لگا یا جائے۔ ان سے تمام لوگوں کو فائدہ ہو گا۔ جن کو بنیادی انسانی حقوق نہیں مل رہے۔ خاص طور پر وہ جو کہ جرمنی کے باہر رہنے والے ہیں اور جرمنی میں ایسے رہنے والے جو کہ اسلام کے خلاف نفرت کی وجہ سے جن کو تکلیف دی جاتی ہے۔

میٹنگ کے اختتام پر کچھ وکلاء کو حضور انور سے بذریعہ سوالات رہنمائی حاصل کرنے کی تو فیق ملی۔

سوال: حضور ہمیں اس حوالے سے رہنمائی چاہیے کہ ہم کس طرح احمدی وکلاء ایسوسی ایشن کے ذریعہ احمدی وکلاء کو انسانی حقوق کوقائم کرنے کیلئے اپنی خدمات پیش کرنے کیلئے متوجہ کر سکتے ہیں؟

حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا: ’’یہ کام تو میں نے آپ کو دیا ہے۔ آپ کو دیکھنا پڑے گا کہ کس طرح شاملین کی تعداد کو بڑھانا ہے۔ آپ اپنے لوگوں کو، اپنے کلچر کو جانتے ہیں، اپنے لوگوں کی ذہنیت کو جانتے ہیں۔ تو میں نے Jonathan صاحب کو کچھ رہنمائی دی ہے آپ ان سے پوچھ سکتے ہیں۔ لیکن رپورٹ توآپ کو پیش کرنی چاہئے، یعنی آپ بتائیں کہ کس طرح آپ یہ کریں گے۔ اگر وہ حقیقی احمدی ہیں اور وہ احمدیت کی حقیقت کو جانتے ہیں اور انسانیت کی خدمت کی اہمیت کو جانتے ہیں اور جماعت کی خدمت کو جانتے ہیں تو ان کو تو اپنے آپ کوخود پیش کرنا چاہیے کہ وہ ایسوسی ایشن میں شامل ہوں۔‘‘

سوال: افریقہ سے آنے والے ایک سائل نے عرض کیا: ہمیں بطور احمدی مسلمان سیاست میں اور انصاف کی بالا دستی کے لئے کام کرنے کو کہا گیا ہے۔ لیکن ہمارے ممالک میں جو لوگ بھی ان پیشوں میں ہوتے ہیں وہ کرپٹ ہوتے ہیں اور جو لوگ ان میں شامل ہوتے ہیں وہ بھی کرپٹ ہوجاتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ ایک احمدی کس طرح ان میں شامل ہو اور اپنے اخلاق کو بھی قائم رکھے؟

حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا: ’’صرف یہ دو شعبے کرپٹ نہیں ہیں بلکہ پوری دنیا کرپٹ ہے۔ پوری سوسائٹی کرپٹ ہے۔ میں آپ کو بتاتا آرہا ہوں کہ کس طرح احمدیوں کو ان کی تربیت کرنی چاہیے۔ ایک احمدی کا کیا کام ہے۔ آپ ان کو بتائیں کہ سچائی اور انصاف ہی اصل بات ہے۔ ان دو باتوں کا صحیح رنگ میں قیام ہر ایک کے لئے ضروری ہے، بشمول سیاست دان، وکلاء اور ہر ایک آدمی جس کے پاس کوئی بھی ذمہ داری ہے۔ تو ہمارا کام لوگوں کو نصیحت کرتے چلے جانا ہے۔ پھر یہ بھی کہ اپنا نمونہ دکھائیں۔ جب اپنا نمونہ دکھائیں گے۔ تو لوگوں کو پتہ چلے گا کہ ہماری سوسائیٹی میں ایسے بھی لوگ ہیں جو کہ سچے ہیں اور جو کوشش کرتے ہیں کہ انصاف کا قیام ہو۔‘‘

سوال: جب میں خطبات میں حضرت خالد بن ولیدؓ کے بارے میں روایات سنتا ہوں جو کہ حضور اپنے خطابات میں بیان فرما رہے ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ ہم کس طرح حضور کے سلطان نصیر بن سکتے ہیں؟

حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا: ’’اگر آپ ان خطابات کو صحیح رنگ میں سنیں گے تو آپ کو وہیں جواب بھی مل جائے گا کہ کس طرح آپ خلافت احمدیہ اور جماعت احمدیہ کے سلطانِ نصیر بن سکتے ہیں اور اس کے علاوہ میں Jonathan صاحب کو کچھ ہدایت وقتاً فوقتاً دیتا رہتا ہوں۔ آپ ان سے یہ لے سکتے ہیں۔‘‘

(ٹرانسکرپشن و کمپوزنگ۔ ابو اثمار اٹھوال)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 نومبر 2022

اگلا پڑھیں

دنیا سے بے رغبت اور بےنیاز ہو جاؤ