• 7 مارچ, 2021

وہی قوم ترقی کرتی ہے جن کے لیڈروں کے اپنے نمونے اعلیٰ ہوں

’’صرف یہی نہیں کہ خود ہی مسجد میں آنا ہے بلکہ اپنی اولادوں کو بھی مسجد میں لانا ہے اور ان کا بھی مسجد سے تعلق پیدا کرنا ہے۔ ان کو بھی ایک خدا کی عبادت کی طرف توجہ پیدا کروانی ہے۔ ان کی بھی اس نہج پہ تربیت کرنی ہے کہ ان کو بھی احساس ہو کہ ان کا اوڑھنا بچھونا نمازوں میں ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں ہے۔ اس معاشرے میں جہاں وہ رہ رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان کی تربیت کرنی ہو گی، ان کو برے بھلے کی تمیز سکھانی ہو گی۔ اگر اپنے گھر سے ہی نیکیوں کو پھیلانے اور نمازوں کو قائم کرنے کی کوشش کریں گے تو پھر تو کامیابی ہوگی۔ اگر نہیں کریں گے تو اس کا باہر بھی کوئی اثر نہیں ہو گا۔ کوئی دعوت الی اللہ بھی کارگر نہیں ہو گی۔ اگر ہر عہدیدار خواہ وہ جماعتی عہدیدار ہو یا ذیلی تنظیموں انصار، خدام یا لجنہ کے عہدیدار ہوں۔ ان نیکیوں اور عبادتوں کو اپنے گھروں میں رائج نہیں کریں گے تو باہر بھی کوئی آپ کی بات نہیں سنے گا۔ انقلاب لانے والے پہلے اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں۔ وہی قوم ترقی کرتی ہے جن کے لیڈروں کے اپنے نمونے اعلیٰ ہوں، جن کے عہدیدار خود مثالیں قائم کرنے والے بنیں۔ پس یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے جماعت کے ہر فرد پر، ہر بچے پر، ہر بڑے پر، ہر عہدیدار پر کہ اللہ تعالیٰ کے انعام کی قدر کرتے ہوئے پاک نمونے دکھائیں۔ عبادتوں کے معیار قائم رکھیں تاکہ سب سے بڑی نعمت جو خلافت کی نعمت ہے وہ آپ میں ہمیشہ قائم رہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ یکم اکتوبر 2004ءبحوالہ alislam.org)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 جنوری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 جنوری 2021