• 7 مارچ, 2021

عمل صالح بڑی ہی نعمت ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
پھر قرب الٰہی کے حصول کے لئے عمومی طور پر اعمال صالحہ بجا لانے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ
’’عمل صالح بڑی ہی نعمت ہے۔ خداوند کریم عمل صالح سے راضی ہو جاتا ہے اور قرب حضرت احدیّت حاصل ہوتا ہے…‘‘ (اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔) ’’… مگر جس طرح شراب کے آخری گھونٹ میں نشہ ہوتا ہے اسی طرح عمل صالح کے برکات اُس کی آخری خیر میں مخفی ہوتے ہیں۔ جو شخص آخر تک پہنچتا ہے اور عمل صالح کو اپنے کمال تک پہنچاتا ہے وہ ان برکات سے متمتع ہو جاتا ہے لیکن جو شخص درمیان سے ہر عمل صالح کو چھوڑ دیتا ہے اور اس کو اپنے کمال مطلوب تک نہیں پہنچاتا، وہ ان برکات سے محروم رہ جاتا ہے۔‘‘

(مکتوبات احمد جلد1 صفحہ600۔ مکتوب بنام میر عباس علی صاحب مکتوب نمبر 45)

فرمایا:
’’میں تو یہ جانتا ہوں کہ مومن پاک کیا جاتا ہے اور اس میں فرشتوں کا رنگ ہو جاتا ہے۔ جیسے جیسے اللہ تعالیٰ کا قرب بڑھتا جاتا ہے وہ خدا تعالیٰ کا کلام سنتا اور اس سے تسلّی پاتا ہے۔ اب تم میں سے ہر ایک اپنے اپنے دل میں سوچ لے کہ کیا یہ مقام اسے حاصل ہے؟ مَیں سچ کہتا ہوں کہ تم صرف پوست اور چھلکے پر قانع ہو گئے ہو حالانکہ یہ کچھ چیز نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ مغز چاہتا ہے۔ پس جیسے میرا یہ کام ہے کہ ان حملوں کو روکا جاوے جو بیرونی طور پر اسلام پر ہوتے ہیں ویسے ہی مسلمانوں میں اسلام کی حقیقت اور روح پیدا کی جاوے۔‘‘

(ملفوظات جلد4 صفحہ565۔ ایڈیشن 1988)

آپ نے فرمایا: ’’انسان کی عزت اسی میں ہے اور یہی سب سے بڑی دولت اور نعمت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قُرب حاصل ہو۔ جب وہ خدا کا مقرّب ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہزاروں برکات اس پر نازل کرتا ہے۔ زمین سے بھی اور آسمان سے بھی اس پر برکات اترتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیخ کنی کے لئے قریش نے کس قدر زور لگایا۔ وہ ایک قوم تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تنِ تنہا۔ مگر دیکھو! کون کامیاب ہوا۔ اور کون نامراد رہے۔

نصرت اور تائید خدا تعالیٰ کے مقرب کا بہت بڑا نشان ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد5 صفحہ106۔ ایڈیشن 1988)

پھر ہمیں قرب حاصل کرنے کے معیار کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ
’’خدا کی لعنت سے بہت خائف رہو کہ وہ قدوس اور غیور ہے۔ بدکار خدا کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ متکبر اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ ظالم اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ خائن اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ اور ہر ایک جو اس کے نام کیلئے غیرت مندنہیں اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ وہ جو دنیا پر کتوں یا چیونٹیوں یا ِ گِدّوں کی طرح گرتے ہیں اور دنیا سے آرام یافتہ ہیں وہ اس کا قرب حاصل نہیں کرسکتے۔ ہر ایک ناپاک آنکھ اس سے دورہے۔ ہر ایک ناپاک دل اس سے بے خبر ہے۔ وہ جو اس کے لئے آگ میں ہے وہ آگ سے نجات دیا جائے گا۔ وہ جو اس کے لئے روتا ہے وہ ہنسے گا۔ وہ جو اس کے لئے دنیا سے توڑتا ہے وہ اس کو ملے گا۔ تم سچے دل سے اور پورے صدق سے اور سرگرمی کے قدم سے خدا کے دوست بنو تا وہ بھی تمہارا دوست بن جائے۔ تم ماتحتوں پر اور اپنی بیویوں پر اور اپنے غریب بھائیوں پر رحم کرو تا آسمان پر تم پر بھی رحم ہو۔ تم سچ مچ اس کے ہو جاؤ تا وہ بھی تمہارا ہوجاوے۔‘‘

(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19 صفحہ13)

پھر خدا تعالیٰ اپنے مقربوں کے لئے کس طرح غیرت کا اظہار فرماتا ہے اور مخالفوں کو کس طرح ختم کرتا ہے، اس بارے میں آپ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو جائے تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ پھر کس طرح غیرت دکھاتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ
’’پس جس وقت توہین اور ایذا کا امر کمال کو پہنچ گیا اور جو ابتلا خدا کے ارادہ میں تھا وہ ہو چکا۔ پس اس وقت خدا تعالیٰ کی غیرت اس کے دوستوں کیلئے جوش مارتی ہے۔ اور خدا ان کی طرف دیکھتا ہے اور ان کومظلوم پاتا ہے اور دیکھتا ہے کہ وہ ظلم کئے گئے اور گالیاں دئیے گئے اور ناحق کافر ٹھہرائے گئے اور ظالموں کے ہاتھوں سے دکھ دئیے گئے۔ پس وہ کھڑا ہوتا ہے تا کہ ان کے لئے اپنی سنت پوری کرے اور اپنی رحمت کو دکھلائے اور اپنے نیک بندوں کی مدد کرے۔ پس ان کے دلوں میں ڈالتا ہے تا کہ پورے طور پر خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں۔ اور صبح شام اس کی جناب میں تضرّع کریں اور اسی طرح اس کی سنت اس کے مقربین کی نسبت جاری ہے۔ پس آخرکار دولت اور مدد ان کے لئے ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ ان کے دشمنوں کو شیروں اور پلنگوں کی غذا کر دیتا ہے …‘‘ (شیروں اور چیتوں کی غذا کردیتا ہے) ’’… اور اسی طرح مخلصوں میں سنت اللہ جاری ہے وہ ضائع نہیں کئے جاتے اور برکت دئیے جاتے ہیں اور حقیر نہیں کئے جاتے اور بزرگ کئے جاتے ہیں۔‘‘

(حجّۃاللّٰہ، روحانی خزائن جلد12 صفحہ198)

اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ بھی خدا تعالیٰ کا یہ سلوک ہم نے دیکھا اور دشمنوں کو اس نے ذلیل و خوار کیا۔ ایک بار نہیں دو بار نہیں، بار بار کئی مرتبہ اور مختلف علاقوں میں، مختلف ملکوں میں دشمنان احمدیت کی ذلت اور رسوائی اور تباہی ہم نے دیکھی۔ پس آج بھی یہ نظارے ہم دیکھتے ہیں۔ میں پھر افراد جماعت کو اور خاص طور پر پاکستان کے احمدیوں کو توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ مخالفین احمدیت کے خلاف خدا تعالیٰ کی لاٹھی چلے گی اور ضرورچلے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ چھوٹے پیمانے پر اس کے نظارے ہم دیکھتے بھی ہیں، دیکھتے رہتے ہیں لیکن اگر وسیع پیمانے پر جلد یہ نظارے دیکھنے ہیں تو پاکستان میں رہنے والے ہر احمدی اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے ہر احمدی کو خدا تعالیٰ سے قرب اور تعلق میں بڑھنے کی ضرورت ہے۔ پس دنیا کو پیچھے دھکیلیں۔ خدا تعالیٰ سے قرب میں بڑھتے چلے جائیں اور اس کے بڑھتے چلے جانے کے لئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے تا یہ نظارے ہم جلد تر دیکھ سکیں۔ عمومی طور پر دنیا کے احمدیوں کو بھی خاص طور پر اس طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے تا کہ دنیا میں شیطان کی حکومت کا جلد خاتمہ ہو اور اللہ تعالیٰ کے مقربین کی حکومت دنیا میں قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان دعاؤں کے کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے اور ان لوگوں میں شامل ہونے کی بھی توفیق عطا فرمائے جو اللہ تعالیٰ کے مقرب ہوتے ہیں۔

(خطبہ جمعہ 2؍ مئی 2014ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 جنوری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 جنوری 2021