• 8 مارچ, 2021

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ خلوت

نبوت اور خلوت

انبیاء علیہم السلام کی بے لوث فطرت اور پاکیزہ سرشت نمودونمائش کی خواہش سے مبرّا ہوتی ہے۔ وہ اہل دُنیا اور ان کی مدح و ثنا کو محض بے حقیقت سمجھتے ہیں۔ ان کی نگاہ اسی ذات پر ہوتی ہےجو ذرّہ ذرّہ کی عالم اور جس کی تعریف ، حقیقی تعریف ہوتی ہے۔ سو وہ فنا کے سمندر میں غوطہ زن ہوتے ہیں ۔ نفسانیت کو ہٹا کر، انانیّت کو کچل کر صرف آستانہ ٔالوہیت پر ناصیہ فرسا ہو جاتے ہیں۔تب رحمتِ خداوندی جوش مارتی ہے اور اُن کے دامن کو اپنےافضال سے بھر دیتی ہے۔ بلکہ آسمانی خزانوں کی چابی اُن کو دی جاتی ہے ۔جس پر وہ کھولتے ہیں۔ اُس کے لئے آسمانی دروازے کھولے جاتے ہیں اور جس پر وہ بند کرتےہیں ،وہ شقاوت سے حصہ پاتا ہے۔ اسی لئے فرمایا ۔

و قد غوّصتُ فی بحر الفناء
فعُدتُ و فی یدی ابھی اللّالی

انبیاء کرام کی سوانح حیات پر ایک نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ انتہائی طورپر خلوت پسند ہوتے ہیں۔ دُنیا کی شہرت و عزت کو عار خیال کرتے ہیں۔ وہ دُنیا کی طرف منہ نہیں کرتے ،جب تک کہ قدرت کا زبردست ہاتھ مجبور کر کے اُن کو باہر نہیں لاتا۔ بیشک وہ بنی نوع انسان کے سب سے بڑے ہمدرد اور خیر خواہ ہوتے ہیں۔ مگر چونکہ اُنہیں اس خیر خواہی پر کوئی صِلہ مطلوب نہیں ہوتا اس لئے عزلت نشینی کی مضطرِبانہ دُعاؤں اور خالقِ کُل سے کامل وابستگی کی خاطر وہ زاویہ نشین ہو جاتے ہیں اور اسی طریق پر کارفرما رہتے ہیں ۔ تا وقتیکہ اُنہیں ندائے آسمانی ’’قُمْ فَاَنْذِرْ‘‘ کا ارشاد نہیں فرماتی۔ گویا خلوت اور نبوت کا نہایت گہرا تعلق ہوتا ہے۔ غرض ہر نبی کا یہی مقولہ ہوتا ہے۔ ؎

ابتدا سے گوشۂ خلوت رہا مجھ کو پسند
شہرتوں سے مجھ کو تھی نفرت ہر اک عظمت سے عار

خلوت کی زندگی پر تبصرہ کی اہمیت

انسانی زندگی کے دو بڑے پہلو ہوتے ہیں۔ اول وہ جس میں انسان عام دُنیا کی نظروں کے سامنے ہوتا ہے اوردُنیا کی تعریف و مذمت کا نشانہ بنتا ہے ۔ دوم جب اُس کے اعمال کے دیکھنے والوں کا دائرہ نہایت محدود ہوجاتا ہے ۔ بلکہ بعض اوقات تو انسانوں میں سے کوئی بھی اس کے ساتھ نہیں ہوتا ۔ صرف ’’خدا دیکھتا ہے‘‘ کا زبردست یقین اُس کے کاموں پر حکمرانی کرتا ہے۔ اوّل الذکر پہلو جلوت اور مؤخرالذکر حصہ کو خلوت سے موسوم کیا جاتا ہے ۔

ظاہر ہے کہ ہرشخص اپنی جلوت کو پاکیزہ اور جلی بنانے یا کم از کم پاکیزہ دِکھانے کی کوشش کرے گا اور کرتا ہے تااُسے لوگوں کی نظر میں وقار اور عزت حاصل ہو۔بسا اوقات بڑے بڑے بدقماش انسان بھی اپنے آپ کو فرشتہ سیرت ظاہر کرتے ہیں۔

؏ اے بسا ابلیس آدم روئے ہست

مگر بہت کم ہیں جو اپنی اصلاح کی فکر کرتے ہیں اور دل پاک بناکر خلوت کی زندگی کو بھی مطہر بناتے ہیں۔ علماءِ بدکردار کے حق میں ایک بزرگ فرما گئے ہیں۔ ؎

واعظاں کیں جلوہ بر محراب و ممبر میکنند
چوں بخلوت می روندآں کاردیگر می کنند

اصل نیک وہی ہےجس کا دل بھی پاک ہو اور خلوت و جلوت میں ہر وقت پاکیزگی اس کا شیوہ ہو۔ ’’سَرِیْرَتُہٗ خَیْرٌ مِّنْ عَلَانِیَتِہٖ‘‘ کا نمونہ ہو۔انسان ظاہر داری کی خاطر بہت حد تک بلندآہنگ دعاوی کے لئے اخلاق و اعمال میں بھی تصنّع اور بناوٹ اختیار کر لیتا ہے۔ مگر خلوت کی زندگی ایسی ہے جو انسان کے ظاہر کی گواہ اوراُس کے قلبی اعتقادات کی شاہد ہوتی ہے۔ پس خلوت کی زندگی پر غور کرنا نہایت اہم اور ضروری پہلو ہے۔

خلوت نبوی اور تاریخ

ہادیانِ مذاہب میں سے سراپا حمد یعنی حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ذات ستووہ صفات ہے۔جن کی زندگی کے نمایاں کارناموں بلکہ آپ کی ہر حرکت و عمل سے صفحاتِ تاریخ مزیّن ہیں۔ دُشمن اور دوست آپ کے افعال کے شاہد ہیں اور اپنے اور بیگانے آپؐ کے ثناخواں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ امتیازی صفت اور بھی روشن ہو جاتی ہے جبکہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کی خلوت کا بھی بیشتر علم تاریخی طور پر موجود ہے۔مَیں نے جہاں تک غور کیا ہے اس باب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یگانہ پایا ہے۔ دُنیا میں بہت سے ایسے مذاہب ہیں جن کے بانیوں کا تا حال نام و پتہ بھی متعین نہیں ا ور اہمیت کے لحاظ سے تو کسی بھی بانیٔ مذہب کو بانیٔ اسلام سے مساوات حاصل نہیں۔پس اسلام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخی شخصیت پر بجا فخرحاصل ہے اور اس کا اہم ترین پہلو آپ کی خلوت کا تذکرہ ہے۔

خلوت نبویؐ کابہترین معیار

انسان کے کام خواہ کتنے ہی نہاں در نہاں اور سات پَردوں میں کیوں نہ ہوں مگر ایک علیمِ کُل ہستی موجود ہے۔ جس کے سامنے کوئی راز نہیں۔ اس لئے انسان کے مخفی اعمال کے جانچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کا اُس سے معاملہ اور سلوک بہترین گواہ ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ناپاک دل نصرتِ الہٰی کے مَورد نہیں بن سکتے۔ بلکہ اُن کی موت ذِلت اور حسرت کی موت ہوتی ہے اوراُن کے مقاصد کبھی پورے نہیں ہوتےاور اُنہیں کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ اس کھلی شہادت ِ آسمانی کے لحاظ سے جب دیکھا جاتا ہے تو معاندین کو بھی عظمتِ نبوی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑا ہے۔ مشہور ہندو لالہ شام لال جی ایڈیٹر اخبار ’’گورو گھنٹال‘‘ نے بھی اپنی کتاب ’’مذہبی دُنیا کے نَو ریفارمر‘‘ میں اعتراف کیا ہے۔

’’محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنی زندگی میں ہی وہ کامیابی حاصل ہوئی جس کی مثال اس وقت دُنیا میں ملنی مشکل ہے۔‘‘

(صفحہ 172)

جس کے بالفاظ دیگر یہ معنے ہیں کہ جس قدر تائید ایزدی حضور علیہ السلام کے شاملِ حال ہوئی، وہ کسی دوسرے نبی کو حاصل نہیں ہوسکی اور یہ امر حضورؐ کی پوشیدہ زندگی کو نہایت روشن کردیتا ہے اور آپ کو پاکبازوں اور مزکّی نفوس کی صف میں سب سے اول نمبر پر لا کھڑا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آسمانی نداء نے با ٓوازِ بلند اعلان کردیا۔ ’’پاک محمدؐ مصطفے ٰنبیوں کاسردار‘‘

آنحضرت ﷺ کی خلوت کی اقسام

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خلوت مختلف حصوں پر منقسم ہے۔ (1) وہ زمانہ حیات جو حضور کی گھریلو زندگی سے موسوم ہے ،وہ بھی خلوت کی زندگی ہے۔ (2) وہ اوقات جن میں حضور بعض حوائج کے پورا کرنے کے لئے لوگوں سے علیحدگی اختیار فرماتے تھے۔ (3) عموماً رات کی تاریک گھڑیوں میں حضور کی عابدانہ مصروفیتیں۔ (4) انسانی آبادی سے دُور تِیرہ و تاریک غاروں میں حضور کی خلوت اور تنہائی کے اوقات۔

پہلی خلوت

اوّلُ الذِّکر خلوت کا بیان دیگر عنوانات کے ضمن میں آچکا ہو گا اور اس کی تفصیل کے لئے یہ جگہ ناکافی ہے ۔مختصر یوں سمجھئے کہ ہم آپ کو اس زندگی میں نہایت سادہ اور خوش خُلق معاون اور بہترین خاوند کی حیثیت میں پاتے ہیں اور آپ اپنی بیویوں کے کام کاج میں اُن کا ہاتھ بٹاتے تھے اور اپنی ضروریات کو خود پورا فرماتے۔ حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں۔ کَانَ بَشَرًا مِّنَ الْبَشَرِ یَفْلِیْ ثَوْبَہٗ وَ یَحْلُبُ شَاتَہٗ وَ یَخْدُمُ نَفْسَہٗ (شمائل ترمذی ص24) کہ اندرون خانہ حضورؐ کو کپڑے درست کرنے اور بکریاں دوہنے اور دیگر کاموں کے کرنے سے حجاب نہ تھا ۔ خود حضورؐ نے ارشاد فرمایا۔ خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہٖ وَ اَنَا خَیْرُکُمْ لِاَھْلِیْ (ترمذی جلد2 ص229) اے لوگو ! تم میں سے نیک وہی ہے جو اپنے گھر والوں سے نیک سلوک کرتا ہے اور مَیں تم میں سے اپنے اہل سے زیادہ اچھا سلوک کرنے والا ہوں ۔

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے حضور ؐکے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؓ نے نہایت جامع جواب دیا یعنی کَانَ خُلُقُہٗ الْقُرْآن کہ حضورؐ کے خصائل واطوار قرآن مجید کی عملی تصویر تھے۔ یہی پاکیزہ طریق تھا جس نے حضور علیہ السلام پر ایمان لانے والوں میں سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا جیسی محرم راز کوتیار کیا اور دیگر اقارب کو دین حق میں داخل ہونے کی توفیق حاصل ہوئی۔ آنحضرت ﷺ کے متعلق مسز اینی بسینٹ نے کیا خوب کہا۔

’’ اس حالت کا تصور کیجئے جبکہ صرف اُن کی بیوی ہی اُن پر ایمان لائیں ہیں ۔ اس کے بعد نہایت قریبی رشتہ دار اُن پر ایمان لائے ہیں۔ اس بات سے محمدؐ کی نسبت کچُھ کچُھ پتا لگتا ہے ۔ ایک ایسے مجمع میں سے پَیرو حاصل کر لینا آسان امر ہے۔ جو آپ کو نہیں جانتا جو آپؐ کوصرف پلیٹ فارم پر دیکھتا ہے ۔جو آپؐ کی صرف لکھی لکھائی تقریریں سنتا ہے۔ یا آپؐ کو بعض سوالات کا جواب دینے کی حالت میں دیکھتا ہے لیکن اپنی بیوی اپنی بیٹی اوراپنے داماد اور دیگر قریبی رشتہ داروں کی نظر میں نبی بننا یہ فی الحقیقت نبی بننا ہے اور یہ ایک ایسی فتح ہے جو حضرت مسیحؑ کو بھی نصیب نہ ہوئی۔

(رسالہ نظام المشائخ دہلی جلد14 نمبر4 -5)

غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گھر کی زندگی نہایت پاکیزہ اور مطّہر تھی جس کے لئے قولی و عملی شہادت موجودہے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جوحضورؐسےپندرہ برس بڑی تھیں،آپؐ کی پہلی زندگی کے کمال پاکیزہ ہونے کی گواہی دی ہے۔

إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الكَلَّ وَ تَكْسِبُ المَعْدُومَ وَتَقْرِئ الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَی نَوَائِبِ الحَقِّ۔

(صحیح بخاری، کتاب الوحی باب کیف کان بدءُ الوحی الی رسول اللہ ﷺ)

دوسری خلوت

ذکر خدا آنحضرت ﷺ کی غذا روحانی تھی ۔ ہر لمحہ ہر ساعت آپؐ یادِ خدا میں مشغول ہوتے تھے۔ آپؐ کی رفیق زندگی حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کَانَ یَذْکُرُ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ حَالٍ کہ حضور ؐہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد رکھتے تھے۔ آپؐ کی بےشمار دُعائیں جو آپؐ نے مختلف اوقات میں بارگاہِ ایزدی میں کیں۔ آپؐ کے قلبی جذبات کی شاہد ہیں۔ آپؐ نے بارہا خلوت کی مبارک گھڑیوں میں اپنے خالق کو مخاطب کیا اور عرض معروض کی۔ وہ پاک الفاظ آج بھی انسانی بدن کے رونگٹے کھڑے کر دیتے ہیں۔ جنگِ بدرکے شروع ہونے سے پہلے حضور ؐنے جبینِ نیاز کو خاک پر رکھ کر عرض کیا۔ اَللّٰھُمَّ اِنْ اَھْلَکْتَ ھٰذِہٖ الْعِصَابَۃَ فَلَنْ تُعْبَدْ فِی الْاَرْض اَبَدًا اے خدا ! اگر آج تُو نے اس گروہِ مومنین کو تباہ کروا دیا۔ تو کون دُنیا میں تیری عبادت کرے گا۔ ایک دوسرے موقع پر فرمایا اَللّٰہُمَّ أَنْتَ رَبِّی لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِی وَأَنَا عَبْدُکَ وَأَنَا عَلَی عَہْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ أَ بُوءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَاعْتَرَفْتُ بِذَ نُو بِی إِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ اے خدا ! تُو ہی میرا رب ہے۔ تیرے سوا کوئی قابل عبادت نہیں ۔تُو نے مجھے پیدا کیا اور مَیں تیرا بندہ ہوں اور اپنی طاقت کے مطابق تیرے عہد اور وعدہ پر قائم ہوں ۔اپنےکاموں کے خراب پہلو سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ تیرے احسانوں کا معترف اور اپنی کوتاہیوں کا اقراری ہوں ۔تیرے سوا کوئی پَردہ پوش نہیں۔

ہمچو قسم کی مختلف دُعائیں ہیں ۔جن سے حضور علیہ السلام کی خشیت و تضرّع کا اندازہ ہوسکتا ہے ۔حضور جب قضائے حاجت کے لے تشریف لے جاتے تو دُعا پڑھتے اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَآئثِ اے خدا ! مَیں ہر مادی و روحانی گند سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ جب حضورؐ تھوڑی دیر کے لئےبسترِ استراحت پر جاتے تو وضو کرتے اور فرماتے بِاسْمِكَ رَبِّي بِكَ وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهٗ فَإِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهٖ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ اے میرے ربّ! تیرے نام سے مَیں سوتا ہوں اور تیرے حکم سے بیدار ہوں گا۔اگرتو میرے نفس کو روک رکھے۔ تو اس پر رحم کراور اگر اُسے بھیجے تو نیکوکاربندوں کی طرح اس کی حفاظت فرما ۔

پھراس قسم خلوت میں میاں بیوی کے تعلقات کا وقت لوگوں کے لئے عام طور پر نفسانی جوشوں کے غلبہ کا وقت ہوتا ہے اور بہت ہیں جو نفس امّارہ سے مغلوب ہوکر خدا بلکہ دُنیا کی شرم و حیا سے بھی غافل ہوجاتے ہیں ۔مگر وہ مقدّسین کا سردار جس نے فرمایا تھا قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃِ (بخاری) یادِ خدا سے میری آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ اس خلوت کے موقع پر بھی دُعا کرتا ہے اور دوسروں کواس کے پڑھنے کی تلقین فرماتا ہے اَللّٰهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا اے خدا ! ہم (میاں بیوی) کو شیطان اور گندے خیالات سے بچا اور ہمارے بچہ کو بھی شیطانی اثرات سے محفوظ رکھ ۔

پس نبی کریم ﷺ کی خلوت کا یہ پہلو بھی نہایت نمایاں اور واضح ہے۔

آنحضرت ﷺ کی رات

سیّدالانبیاء کی شبانہ عبادت کے متعلق بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ مگر اس کے لئے الگ عنوان مقرر ہے۔ قرآن مجید میں جسے دُشمنان اسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خود ساختہ کلام قرار دیتے ہیں۔ (نعوذباللہ منہ) ارشاد ہوتا ہے إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِىَ أَشَدُّ وَطْأً وَأَقْوَمُ قِيْلاً (المزّمل) رات کی بیداری اور ریاضاتِ شاقہ نفس کشی کا بہترین ذریعہ ہیں اور اس طریق سے کلام میں تاثیر پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے تم رات کا بیشتر حصہ عبادت الٰہی میں گزارا کرو۔ خود حدیثِ صحیح میں افضل العبادت کے متعلق نبی پاکؐ نے فرمایا اَلصَّلٰوۃُ وَالنَّاسُ نِیَامٌ کہ بہترین عبادت یہ ہے کہ انسان اس وقت نماز پڑھے جبکہ اہلِ دُنیا خوابِ غفلت میں ہوتے ہیں۔

ان ارشادات سے عیاں ہے کہ حضور علیہ السلام کی رات کیسی ہوگی مختصر طور پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے لفظوں میں یوں پڑھ لیجئے۔ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی حَتّٰی تَوَرَّمَ قَدْمَاہٗ قَالَ فَقِیْلَ لَہٗ تَفْعَل ھٰذَا رَقّہ جَاءکَ اَنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ قَدْ غَفَرَ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَ مَا تَأَخَّرَقَالَ أَفَلَا اَکُوْنُ عَبْداً شَکُوْراً۔ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر نمازیں پڑھتے تھے کہ حضور کے پاؤں پر وَرم آ جاتا تھا۔عرض کیا جاتاکہ جب ذات باری نے آپ کو معصوم بنایا ہے تو پھر اس قدر عبادت کی کیا ضرورت ہے ۔آپؐ نے فرمایا ۔کیا مَیں اپنے آقا کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟

غاروں والی خلوت

بانیٔ اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اپنی قوم کی نظروں میں جو عزت و توقیر حاصل تھی اُسے دیکھتے ہوئےآنحضرتﷺ کی خلوت پسندی نہایت قابل ِ تعریف جوہر بن جاتی ہے۔ ایک راندۂِ خلق انسان اگر زاویہ نشین ہو جائے تو اور بات ہے لیکن جسے خاص و عام سر آنکھوں پر بٹھاتے ہو ں ۔اُس کااس طرح تنہائی اختیار کرنا یقیناً جذبۂ للہیت کا زبردست ثبوت ہے۔ سرور ِکائنات کے وجود باجود نےدو مشہورغاروں کو زینت بخشی ہے۔ زمانہ نبوت سے قبل کی زندگی میں جس کی پاکیزگی کے متعلق فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ (یونس: 17) میں کھلے طور پر چیلنج کیا گیا ہے۔ حضور ؐنے کوہ ِنور کے غار ِحرا کی تاریک جگہ میں بہت عرصہ کنج خلوت اختیار کیا۔ بخاری شریف میں لکھا ہے۔

حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلاَءُ فَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍفَيَتَحَنَّثُ فِيهِ وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ ذَوَات الْعَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَنْزعَ إِلٰی أَهْلِهٖ وَيَتَزَوَّدُ لِذَالِكَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلٰی خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا حَتّٰی جَاءَ هٗ الْحَقُّ۔

(صحیح بخاری جلد 1 ص 3)

آنحضرت کو خلوت پر بہت پسند تھی ۔آپؐ غارِ حرا میں کئی کئی راتوں تک بغرض عبادت اختیار فرماتے اور اس عرصہ کے لئے کھانا گھر سے لے جاتے ۔ جب وہ کھانا ختم ہوجاتا ۔واپس آکر پھر توشہ لے جاتے۔ آپؐ اسی طرح کیا کرتے یہاں تک کہ آپؐ پر حق کھل گیا اور وحی لے کر فرشتہ آپؐ کے پاس حاضر ہو گیا

ایک غیر مسلم مصنف پرکاش دیوجی لکھتے ہیں۔

’’محمدؐ صاحب کا دل اپنے ملک کو تاریکی اور جہالت میں ڈوبا ہوا دیکھ کر بے انتہا کُڑھتا اور دُکھتا تھا۔ وہ بت پرستی کودیکھ کر بہت گھبراتے تھے ۔ عورتوں کا حالِ زار اور معصوم لڑکیوں کو زندہ دَرگور ہوتے ہوئے دیکھ کر اُن کا جِگر پاش پاش ہوتا تھا مگر کچھ کر نہ سکتے تھے۔ ایسے ایسے واقعات سے گھبرا کر وہ اکثر تنہائی میں رہتے اور اُن کے دفیعہ کی تدبیریں سوچتے رہتے تھے ۔اُن کا معمول تھا کہ ہر سال رمضان کا مہینہ غار ِحرا میں رہ کر خدا کی یاد میں بسر کرتے اور جو کوئی بھولا بھٹکا مسافر ادھر جا نکلتا اُس کی رہنمائی اوردستگیری کرتے ۔خدا سے ہمیشہ یہ دُعا مانگتے کہ کسی طرح اُن کا ملک چاہِ جہالت سے نکلے۔اور خدا کی بارگاہ میں سربسجود روتے ۔آخر کار جوئندہ یابندہ الہام الہٰی کا چشمہ اُن کے دل میں پھوٹا اور نورِ خداوندی کا چمکارا چمکا ۔

(سوانح عمری حضرت محمد ؐ صاحب ص 28)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی واقعۂ ایمان پرور کا بدیں الفاظ ذکر فرمایا ہے ۔ ؎

اندراں وقتیکہ دُنیا پُر ز شرک و کفر بُود
ہیچ کس را خوں نہ شد دل جز دلِ آں شہریار
کس چہ میداند کر ازاں نالہ ہا باشد خبر
کاں شفیعے کرد از بہر جہاں در کنجِ غار
من نمیدانم چہ دَردے بود و اندوہ و غمے
کاندراں غارے در آوردش حزین و دِلفگار
نے ز تاریکی توحّش نے ز تنہائی ہراس
نے ز مُردن غم نہ خوفِ کژدم و نے بیمِ مار

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےنوعِ انسان کا بہترین خیر خواہ ہونے کے لئے یہ واقعہ زبردست دلیل ہے۔خود باری تعالیٰ فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ کہ تُو ان کے کفر و شرک کے غم میں اپنی جان کو ہلکان کر رہا ہے۔ نسل ِانسان کا سب سے بڑا غمخوار غارِ حرا میں ظلمت و بُت پرستی کے خلاف آہ و پُکار بلند کرتا ہے۔ اس حقیقی گریہ وبُکا کی عرش تک رسائی ہو جاتی ہے اور اُسے گوہر ِ مقصودحاصل ہو جاتا ہے۔ آپؐ غارِ حرا سے آتے ہیں۔ مگر خدا تعالیٰ کا ضیاء فگن کلام آپؐ کے ساتھ ہوتا ہے۔ ؎

وہ غار ِحرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخۂ کیمیا ساتھ لایا

اس منور کلام نے عالم کو بقعۂ نور بنادیا اور ہر سعید فطرت انسان کے لئے گو ناگوں روحانی دلچسپیوں کا موقع فراہم کردیا ۔

اس جگہ یہ ذکر کرنا بے جا نہ ہوگا کہ آسمانی نوشتوں میں قدیم سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کوفاران کے پہاڑ سے قرار دیا گیا ہے۔ لکھا ہے۔

’’خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے اُن پر طلوع ہوا ۔فاران ہی کے پہاڑ سے جلوہ گر ہوا۔ دس ہزار قدّوسیوں کے ساتھ آیا۔‘‘

(استثناء 2/33)

اُوپر کی آیت میں آنحضرتﷺ کی جلوہ گری کو الٰہی تجلّی قرار دیا ہے۔ جس سے آنحضرتﷺ کی کمال پاکیزہ زندگی پر دلالت کرانا مقصود ہے۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ سرور کائنات روز اول سے ہی شیطانی تصّرف سے پاک تھے ۔ غارِ حرا میں آپ کے سامنے طبیعت ملکیہ کی مناسبت کی وجہ سے فرشتہ ہی آیا۔ شیطان کو گمراہ کرنے کے لئے سامنے آنے کی بھی جرأت نہ ہوئی۔ مگر مسیح ؑجیسا اُولوالعزم نبی چالیس روز تک متواتر شیطان کا تختۂ مشق بنا رہا۔ لوقا کی انجیل میں لکھا ہے۔

’’یسوع روح القدس سے بھرا ہوا یردؔن سے لوٹا اور چالیس دن تک روح کی ہدایت سے بیابان میں پھرتا رہا اور ابلیس اُسے آزماتا رہا ……… جب ابلیس تمام آزمائشیں کر چکا تو کچھ عرصے کے لئے اُس سے جدا ہوا۔‘‘

(باب 4 آیت 1-12 )

اس اقتباس سے حضرت مسیحؑ کی قوت قدسیہ عیسائی مسلمات کی رُو سے ظاہر ہے کہ غار ِحرا کا خلوت پسند نہ صرف خود شیطانی وساوس سے تا ابدمحفوظ قرار پایا بلکہ آپ کے متّبعین کو بھی شیطان کش طاقت دی جاتی ہے۔ ؎

اگر خواہی نجات از مستیِٔ نفس
بیادر ذیلِ مستانِ محمدؐ

غارِ حرا کی خلوت کے اثرات نہ مٹ سکنے والے ہیں۔ دُنیا ان گہرے نقوش کو ناپید نہیں کرسکی اور نہ کر سکتی ہے ۔مگر اس کے علاوہ ایک دوسرے غارِ ثور کو بھی حضور علیہ السلام کی قدم بوسی کا فخر حاصل ہے۔آنحضرت ﷺ نے جب مشیّت ایزدی کے ماتحت اپنے وطن مالوف سے ہجرت فرمائی تو آپؐ کو کئی دنوں تک غار ِثور میں پناہ گزین ہونا پڑا۔ دُشمن چاروں طرف سے غار کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔ خون کے پیاسے درندوں کی مانند یورش کرتے آرہے ہیں ۔آپ کا جانباز رفیق سیدنا ابوبکر ؓ آنحضرتﷺ کی جان کو خطرہ میں پا کر گھبرا جاتا ہے۔ مگر وہ ثبات و استقلال کا پہاڑ نہایت یقین اور اطمینان سے فرماتا ہے لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا (توبہ: 41) مت غم کرو ۔اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ دُشمن ناکام و نامراد واپس ہو جاتے ہیں اور حضور ؐ اپنے آئندہ بننے والے وطن کی طرف باامن وامان روانہ ہو جاتے ہیں۔

یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ نبوت کے مکی و مدنی دَور کی ابتداء غاروں کی خلوت سے ہی ہوئی ہے اورحضور کی روحانی و دُنیاوی ترقیات کا آغاز بھی اسی خلوت سے لازم نظر آتا ہے جس میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ حضور کی خلوت نہایت پاکیزہ اور عظیم الشان طور پر نتیجہ خیز تھی۔

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَ عَلیٰ اٰ لِہٖ وَ بَارِکْ وَسَلِّمْ

(ماخوذ از الفضل 31 مئی 1929ء)

٭…٭…٭

(تبرکات: مولانا ابو العطاء جالندھری مرحوم)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 جنوری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 جنوری 2021