• 1 فروری, 2023

مکرم شیخ تنویر احمد مرحوم کا ذکرِ خیر

غالباً مئی 2017ء کے آخری عشرے کی بات ہے خاکسار مکرم محمد قاسم صاحب کے ساتھ اپنی وقف کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے ابھی تازہ تازہ گیمبیا وارد ہوا تھا کہ ایک روز ادائیگی نماز فجر کے بعد خاکسار اور برادر قاسم کو اپنی ذاتی کار میں عظیم بحر اٹلانٹک کی سیر کرانے ایک صاحب ہمیں صبح سویرے، خراماں خراماں ساحل سمندر کی طرف لے چلے۔ راستے بھر ہلکی پھلکی باتیں ہوتی رہیں۔ گیمبیا میں رہن سہن کیسا ہے؟ لوگوں کی خوراک اور رسم و رواج کیا ہیں؟ احباب جماعت کا ذکر خیر اور اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے ہمیں اس طرح تعارف کرایا کہ بہت کچھ بتا کے بھی بہت باتیں تشنہ چھوڑ دیں۔ گاڑی کا یہ سفرکم از کم خاکسار کے آئندہ 5 سالوں میں بہت کام آیا۔

1988ء میں خاکسار آخری دفعہ کراچی سمندر کی سیر کے لیے گیا تھا۔ اس کے بعد آج دوبارہ سمندر کا نظارہ کرنے کا موقع ملا۔ ایک پرشور کنارہ کہ لہریں کنارے سے بے کراں ہونے کے لیے بار بار ساحل سے سر پٹخ رہی تھیں۔ اس نیلی صبح کا منظر نہ صرف میرے ذہن میں بلکہ میرے کیمرہ میں اب تک محفوظ ہے۔ ڈھیروں باتوں اور ساحل سمندر کی بھیگی ریت پہ ہم تینوں دھوپ کے تیز ہونے تک محظوظ ہوتے رہے۔ ساتھ میں ان صاحب کی ہلکی پھلکی مزیدار گفتگو بھی چلتی رہی۔ گیمبیا میں وارد ہونے سے لے کر دوبارہ آنے کی باتیں چلتی رہیں۔

گیمبیا میں دیگر احبابِ جماعت کے ساتھ ایک دلکش مسکراہٹ جس نے ہمارا استقبال کیا تھا وہ مکرم شیخ تنویر صاحب کی تھی۔ذکر انہی کا ہو رہا ہے۔ ایک کھلا کھلا چہرہ، روشن آنکھیں، روشن دماغ اور سب سے بڑھ کے ایک پیارا سا دل لیے شیخ صاحب تب سے لےکر اپنی پاکستان واپسی تک خاکسار کے ایک بہت پیارے دوست رہے۔

خاکسار پہلی دفعہ گھر سے باہر وہ بھی اتنی دور آیا تھا اس لیے جلد ہی ہوم سکنس (Home Sickness) کا شکار ہو گیا۔ دیگر احباب کے ساتھ شیخ صاحب نے اپنی بذلہ سنجی، شگفتگی اور خبر گیری کے ساتھ خاکسار کی پوری طرح دلجوئی کی۔

اپنے گھر سے کھانا کھلانا ہو یااپنے ساتھ باہر ہوٹلنگ کے لیے لے جانا ہو یاشاپنگ کے لیے۔ الغرض محترم شیخ صاحب نے خاکسار کا پورا پورا خیال رکھا۔ کئی مرتبہ اپنے ساتھ افطاریوں پر لے گئے۔ کئی دفعہ خاکسار کو شیخ صاحب کے گھر مزیدار ضیافتیں اڑانے کا موقعہ بھی ملا۔ اور یہ التفات کا سلسلہ آخر دم تک جاری رہا۔

اگرچہ خاکسار سالن وغیرہ تو بنا لیتا تھا لیکن آٹا گوندھنا اور روٹی بنانا ایک مشکل مرحلہ ثابت ہوا۔ لیکن یہاں بھی تنویر صاحب اپنی شگفتہ طبیعت کے ساتھ مدد کو آ پہنچتے۔ یہاں تک کہ خاکسار اس معاملے میں بھی کافی طاق ہو گیا۔ جب خاکسار کے رہنے کے لیے علیحدہ رہائش کا بند و بست ہو گیا تو اکثر تنویر صاحب چھٹی والے دن آ جاتے اور ہم دونوں مل کے کچھ نہ کچھ کھانا بناتے۔ شیخ صاحب اپنی بیچلر لائف کے واقعات سناتے اور ہم خوب محظوظ ہوتے۔

ہر سال عیدین پہ خاکسار اور شیخ صاحب کی فیمیلیز ایک دوسرے کے ہاں آتے اور خصوصا ًشیخ صاحب کی اہلیہ کے ہاتھ کے مزے مزے کے کھانوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ دونوں خاندانوں کے بچے بھی ایک دوسرے سے مل کے بہت خوش ہوتے اور خوب ہلا گلا کرتے۔

شیخ صاحب اگرچہ بہت زیرک، سمجھدار اور ہوشیار شخص تھے۔ معاملہ فہمی، ذہانت اور معقولیت ان کے وصف تھے۔ اس کے باوجود ان میں کہیں ایک چھوٹا سا شرارتی بچہ چھپا ہوا تھا۔ بارش میں بھیگنا اور نہانا، بچوں کے ساتھ کھیلنا یا بچوں کی طرح کھیلنا اور کئی طرح کی شرارتیں آج بھی دل پہ منقش ہیں۔

جلسہ سالانہ کے موقعہ پر ہر سال اپنے اسکول میں تصویری نمائش کی بھر پور تیاری اور پھر تصویری نمائش کا انعقاد ان کی جلسہ سالانہ کی خاص پیشکش ہوتی تھی۔ اس تیاری میں شیخ صاحب نہ صرف خود حصہ لیتے بلکہ ان کی اہلیہ بھی ان کا پورا پورا ساتھ دیتی تھیں۔ بیت السّلام گیمبیا میں کوئی پروگرام ہو اور اس کی تیاری میں شیخ صاحب شامل نہ ہوں یہ ممکن ہی نہ تھا۔ کیونکہ ان کا گھر احاطہ بیت السلام میں تھا اس لیے وقف نو، اطفال، خدام، انصار اللہ، لجنہ اور جماعتی اجتماعات کی تیاری میں اور پھر پروگرام کی کامیابی میں پورا پورا حصہ لیتے۔

الغرض مکرم شیخ صاحب کی یاد کے ساتھ ہی ایک روشن اور ہنستا مسکراتا چہرہ ایک دم آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ لیکن افسوس کہ معلوم نہ تھا کہ اس مسکراہٹ کے پیچھے جانے کتنے غم اور دکھ لیے ایک اور ہی شیخ تنویر ہے۔ اچانک پتہ چلا کہ ذہنی دباؤ کے باعث شیخ صاحب ہسپتال میں داخل ہیں۔ خاکسار بھی ان کی عیادت کے لیے حاضر ہوا۔ اپنی حالت کی وجہ سے ان کے مزاج کی پل میں تولہ پل میں ماشہ ہونے والی کیفیت تھی۔ان کے ساتھ بیٹھنے کا بھی موقعہ ملا اور ان کے ساتھ گیمبیا میں گزرے ہوئے ماہ و سال کی حسین یادوں کو دہرانے کا بھی موقعہ ملا۔

گیمبیا میں ان کا علاج جاری رہا لیکن آخر یہ فیصلہ ہوا کہ حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایت کےتحت ان کے مزید علاج کے لیے شیخ صاحب کو پاکستان بھجوایا جائے۔پاکستان آکر ان کا علاج جاری رہا۔

پھر ایک دن یہ اندوہناک خبر سننے کو ملی کہ شیخ صاحب سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ہیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ

؎دم واپسی اسے کیا ہوا، نہ وہ روشنی نہ وہ تازگی
وہ ستارہ کیسے بکھر گیا، وہ تو آپ اپنی مثال تھا

شیخ صاحب مرحوم کو بطور وقفِ زندگی ٹیچر2012ء سے 2022ء تک مسرور سینئر سیکنڈری اسکول، گیمبیا میں خدمت کا موقعہ ملا۔آپ ایم اے انگلش تھے اور سکول میں انگلش اور اسلامیات کے مضامین پڑھاتے تھے۔ان مضامین پر آپ نے کتب کا مسودہ بھی تحریر کیا تھا۔ تدریس کے ساتھ ساتھ بطور وائس پرنسپل اسکول میں خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ا سکول کی تمام نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کے اور ذوق و شوق سے حصّہ لیتے۔اسکول میں آپ ایک ہر دلعزیز استاد تھے۔ پرنسپل، اساتذہ، سٹاف اور طلبہ میں بے حد مقبول تھے۔ حق مغفرت کرےعجیب آزاد مرد تھا

یاروں کا یار تھا شیخ تنویر
موسم بہار تھا شیخ تنویر
نام کی طرح آنکھوں کا نور تھا
اور دلوں کا قرار تھا شیخ تنویر
جب گزر گیا تو ہمیں یاد آیا پھر
اک ٹھنڈی پھوار تھا شیخ تنویر
شافعہ، حارث اور مبرور پھول ہیں
اور ان کا نگہدار تھا شیخ تنویر
سینے میں چھپا لئے سارے غم
غیرت مند خوددار تھا شیخ تنویر
عامر بھی ہے حکایت کدہ اس کا
اس کا بھی غمخوار تھا شیخ تنویر

(عامر ندیم۔ گیمبیا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 جنوری 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی