• 27 فروری, 2021

مجدد اعظم

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
’’ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اظہار سچائی کے لئے ایک مجدد اعظم تھے جو گم گشتہ سچائی کو دوبارہ دنیا میں لائے۔ اس فخر میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی بھی نبی شریک نہیں کہ آپؐ نے تمام دنیا کو ایک تاریکی میں پایا اور پھر آپؐ کے ظہور سے وہ تاریکی نور سے بدل گئی۔ جس قوم میں آپؐ ظاہر ہوئے آپؐ فوت نہ ہوئے جب تک کہ اس تمام قوم نے شرک کا چولہ اتار کر توحید کا جامہ نہ پہن لیا۔ اور نہ صرف اس قدر بلکہ وہ لوگ اعلیٰ مراتب ایمان کوپہنچ گئے۔ اور وہ کام صدق اور وفا اور یقین کے اُن سے ظاہر ہوئے کہ جس کی نظیر دنیا کے کسی حصے میں پائی نہیں جاتی۔ یہ کامیابی اور اس قدر کامیابی کسی نبی کو بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نصیب نہیں ہوئی۔ یہی ایک بڑی دلیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ہے کہ آپؐ ایک ایسے زمانہ میں مبعوث اور تشریف فرما ہوئے جب کہ زمانہ نہایت درجہ کی ظلمت میں پڑا ہوا تھا اور طبعاً ایک عظیم الشان مصلح کا خواستگار تھااور پھر آپ نے ایسے وقت میں دنیا سے انتقال فرمایا جب کہ لاکھوں انسان شرک اور بت پرستی کو چھوڑ کر توحید اور راہ راست اختیار کر چکے تھے اور درحقیقت یہ کامل اصلاح آپؐ ہی سے مخصوص تھی کہ آپؐ نے ایک قوم وحشی سیرت اور بہائم خصلت کو انسانی عادات سکھلائے۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ بہائم کو انسان بنایا اور پھر انسانوں سے تعلیم یافتہ انسان بنایا اور پھر تعلیم یافتہ انسانوں سے باخدا انسان بنایا اور روحانیت کی کیفیت ان میں پھونک دی اور سچے خدا کے ساتھ ان کا تعلق پیدا کر دیا‘‘۔

(لیکچرسیالکوٹ۔ روحانی خز ائن جلد 20صفحہ 206۔207)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 فروری 2021