• 27 فروری, 2021

بنیادی مسائل کے جوابات (قسط 7)

بنیادی مسائل کے جوابات
قسط نمبر 7

سوال:۔ایک دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد کہ ’’قرآن کریم میں چور کے ہاتھ کاٹنے اور زانی کو رجم کرنے کا واضح حکم آیا ہے‘‘ کے حوالہ سے تحریر کیا کہ قرآن کریم میں چور کے ہاتھ کاٹنے کا تو ذکر موجود ہے لیکن زانی کو رجم کرنے کا کسی آیت میں ذکر نہیں؟ اس بارہ میں راہنمائی کی درخواست ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 15 اکتوبر 2018ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطاء فرمایا:

جواب:۔ اسلامی سزاؤں کے عموماً دو پہلو ہیں۔ ایک انتہائی سزا اور ایک نسبتاً کم سزا۔ اور ان سزاؤں کا بنیادی مقصد برائی کی روک تھام اور دوسروں کیلئے عبرت کا سامان کرنا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضور ﷺ اور خلفائے راشدین کے عہد مبارک میں ہر قسم کے چور کو ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں دی گئی مثلاً کھانے پینے کی اشیاء کی چوری پر کبھی ہاتھ نہیں کاٹا گیا۔ لیکن اگر کوئی چور کسی عورت کا زیور چھینتے ہوئے اس کے ہاتھ کان زخمی کر دیتا ہے یا اس کے کسی Organ کو ایسا نقصان پہنچا دیتا ہے کہ وہ کسی معذوری کا شکار ہو جاتی ہے تو ایسے چور کو پھر اس کے جرم کے مطابق سزا دی جاتی ہے جس میں ہاتھ کاٹنے کی بھی سزا شامل ہے۔

اسی طرح جو زنا باہمی رضامندی سے ہوا ہو اگر وہ اسلامی طریقۂ شہادت کے ساتھ ثابت ہو جائے تو فریقین کو سو کوڑوں کی سزا کا حکم ہے۔ لیکن جس زنا میں زبردستی کی جائے اور اس میں نہایت وحشیانہ مظالم کا جذبہ پایا جاتا ہو یا کوئی زانی چھوٹے بچوں کو اپنے ظلموں کا نشانہ بناتے ہوئے اس گھناؤنی حرکت کا مرتکب ہوا ہو تو ایسے زانی کی سزا صرف سو کوڑے تو نہیں ہو سکتی۔ ایسے زانی کو پھر قرآن کریم کی سورۃ المائدہ آیت 34 اور سورۃ الاحزاب کی آیت 61 تا 63 میں بیان فرمودہ تعلیم کی رو سے قتل اور سنگساری جیسی انتہائی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔لیکن اس سزا کا فیصلہ کرنے کا اختیار حکومت وقت کودیا گیا ہے اور اس تعلیم کے ذریعہ عمومی طور پر حکومت وقت کیلئے ایک راستہ کھول دیا گیاہے۔

چنانچہ انہیں آیات قرآنیہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اسی قسم کے زانی کیلئے سنگسار کی سزا کے قرآن کریم میں بیان ہونے کا ذکر فرمایا ہے۔

سوال:۔ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکی خدمت اقدس میں پاکستان کے بینکوں میں جمع کرائی جانے والے رقم پر ملنے والے منافع کو اپنے ذاتی استعمال میں لانے کی بابت مسئلہ دریافت کیا ہے۔اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 26 نومبر 2018ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطاء فرمایا:

جواب:۔ پاکستان کے بینک عموماً PLS یعنی نفع نقصان میں شراکت کے طریق کار کے تحت رقوم جمع کرتے ہیں۔اس سسٹم کے تحت جمع کرائی جانے والی رقوم پر ملنے والی زائد رقم سود کے زمرہ میں نہیں آتی۔ اسی طرح حکومتی بینکوں میں جمع کروائی جانے والی رقوم پر ملنے والی زائد رقم بھی سود شمار نہیں ہوتی۔کیونکہ حکومتی بینک اپنے سرمایہ کو رفاہی کاموں پر لگاتے ہیں جس کے نتیجہ میں ملکی باشندوں کی سہولتوں کیلئے مختلف منصوبے بنائے جاتے ہیں، معیشت میں ترقی ہوتی ہے اور افرادِملک کیلئے روز گار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔اس لئے ایسے بینکوں سے ملنے والے منافع کو ذاتی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

جہاں تک سود کا تعلق ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی یہ تعریف فرمائی ہے کہ ایک شخص اپنے فائدہ کیلئے دوسرے کو روپیہ قرض دیتا ہے اور فائدہ مقرر کرتا ہے۔ یہ تعریف جہاں صادق آوے گی وہ سود کہلائے گا۔

اسلام نے جس سود سے منع فرمایا ہے اس میں غرباء کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں قرض دیتے وقت اس پر پہلے سے سود کی ایک رقم معین کر لی جاتی تھی اور غریب اس سود در سود کے بوجھ تلے دبتا چلا جاتا تھا اور یہ قرض اور سود کبھی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔جبکہ موجودہ زمانہ میں اگر کوئی قرض لی ہوئی رقم واپس کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو اور اس کا دیوالیہ نکل جائے تو Bankruptcy کے تحت وہ قرض ختم بھی ہو جاتا ہے۔

اسی لئے اس زمانہ کے حکم و عدل سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ’’اب اس ملک میں اکثر مسائل زیر و زبر ہو گئے ہیں۔ کل تجارتوں میں ایک نہ ایک حصہ سود کا موجود ہے۔ اس لئے اس وقت نئے اجتہاد کی ضرورت ہے۔‘‘ اور حضور علیہ السلام کے اس ارشاد کی روشنی میں جماعت احمدیہ اس بارہ میں مختلف معاملات اور مسائل سامنے آنے پر تحقیق کرتی رہتی ہے۔اور اب بھی اس پر مزید تحقیق ہو رہی ہے۔

سوال:۔ ایک دوست نے ’’فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام‘‘ کے Revised ایڈیشن کے بارہ میں تحریر کیا کہ اس کتاب کے پبلشر فخر الدین ملتانی صاحب نے چونکہ ارتداد اختیار کر لیا تھا اس لئے ان کے نام اور ان کے تحریر کردہ دیپاچہ کو اس ایڈیشن سے حذف کر دینا چاہیے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 26 نومبر 2018ء میں اس کا جماعتی اقداروروایات کے مطابق نہایت خوبصورت درج ذیل جواب عطاء فرمایا:

جواب:۔ مذکورہ کتاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فتاویٰ پر مشتمل ہے او رفخر الدین ملتانی صاحب نے 1935ء میں اسے مرتب کیا تھا۔یہ کتاب جماعتی لیٹریچر میں کافی عرصہ استعمال ہوتی رہی ہے۔ لیکن اس میں کتابت اور حوالہ جات کی بہت زیادہ غلطیاں تھیں۔

چنانچہ کتابت اورحوالہ جات کی غلطیوں کو اس نئے ایڈیشن میں درست کر دیا گیا۔ لیکن چونکہ اس کتاب کے پبلیشر اور مؤلف فخرالدین ملتانی صاحب تھے۔اب اگر ہم ان کے نام اور ان کے تحریر کردہ دیپاچہ کو اس نئے ایڈیشن میں سے حذف کردیں تو یہ درست بات نہیں ہو گی کیونکہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض رفقاء جو حضورؑ کی وفات کے بعد اپنی ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے جماعت سے الگ ہو گئے تھے لیکن انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک میں مختلف کاموں میں جماعت کی خدمت کی توفیق پائی اور ان کے نام تاریخ احمدیت میں شامل ہیں۔ آپ کی اس تجویز کے مطابق تو پھر ہمیں ان سب احباب کے نام اور ان کی خدمت کو بھی تاریخ احمدیت سے نکال دینا چاہیے۔ لیکن یہ بات جماعتی اخلاقیات اور روایات کے خلاف ہے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب جماعت کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فتاویٰ پر مشتمل ’’فقہ المسیح‘‘ کے نام سےبھی ایک کتاب شائع ہو چکی ہے جس میں ’’فتاویٰ مسیح موعود ؑ‘‘ سے بھی زیادہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات اور فتاویٰ شامل کر دیئے گئے ہیں۔

سوال:۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ بنگلہ دیش کے مربیان کی Virtual ملاقات مؤرخہ 08نومبر 2020ء میں ایک مربی صاحب نے حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک الہام ہوا تھا کہ ’’پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیا گیا تھا اب ان کی دلجوئی ہو گی‘‘ اس بارہ میں ہم حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی زبان مبارک سے کچھ سننا چاہتے ہیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس بارہ میں درج ذیل ارشاد فرمایا:

جواب:۔ اب ایک سو تیس سال ہوگئے دلجوئی کرتے کرتے۔اب اہل بنگالہ کوئی کام کریں گے تو پھر دلجوئی ہو گی۔اب کام کریں اور کام کرکے دکھائیں۔اپنے اندر تقویٰ کا معیار بلند کریں۔اپنے اندر خدمت دین کے شوق کا معیار بلند کریں اور پھر اسے عملی جامہ پہنائیں۔ اور ملک میں ایک انقلاب پیدا کرنے کی کوشش کریں۔

جتنی مخالفت ہوتی ہے، مخالفت تو ایک کھاد اور بیج کا کام دے رہی ہے، جماعت کا اتنا ہی تعارف ہو رہا ہے۔ جتنے احمدیوں کو مار پڑتی ہے اتنا ہی تعارف ہو رہا ہے۔ پاکستان میں احمدیوں کو مار پڑ رہی ہے تو اتنا باہر کی دنیا میں جماعت کا تعارف ہو رہا ہے۔ بلکہ اب ملک میں بھی ہو رہا ہے۔ پہلے تو پاکستان میں صرف شہروں میں جماعت کی مخالفت ہوتی تھی اور شہر والوں کو پتہ تھا۔ اب دیہاتوں میں اور چھوٹی چھوٹی جگہوں پہ بھی مخالفت ہوتی ہے۔ہر جگہ پتہ لگ گیا ہے۔ اس تعارف ہونے کی وجہ سے باہر کی دنیا کو بھی پتہ لگ رہا ہے اور اندر بھی بعض نیک فطرت اور سعید فطرت لوگ ہیں، وہاں ان کو احساس پیدا ہو رہا ہے کہ ہم تحقیق کریں کہ جماعت احمدیہ کیا چیز ہے؟اسلام کے بارہ میں ان کے کیا خیالات ہیں؟ اسلام کو یہ کیا سمجھتےہیں؟ آنحضرت ﷺ کا مقام ان کی نظر میں کیا ہے؟خدا تعالیٰ کے کلام کو یہ کس طرح مانتے ہیں؟ جب وہ تحقیق کرتے ہیں تو پھر اس تجسس کی وجہ سےان کو پھر جماعت کے قریب آنے کا موقعہ ملتا ہے۔

تو یہ جو مخالفت ہےیہ تو آپ کیلئے کھاد کا کام دے رہی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ اور جب آپ قربانیاں دیں گے تو اس کے بعد دلجوئی بھی آپ کی کی جائے گی۔ اور اس کیلئے اللہ کے فضل سے آپ نے قربانیاں دی ہیں۔ مسجدوں میں بم بھی پھٹے، ہمارے مربی کی ٹانگ بھی ضائع ہوئی، زخمی بھی ہوئے، شہید بھی ہوئے۔ تو وقتاً فوقتاً ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں ۔ اورمیں اللہ تعالیٰ سے حالات کی بہتری کیلئے دعا بھی کرتا رہتا ہوں۔ فکر بھی رہتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ دلجوئی کا مقام حاصل کرنے کیلئےآپ کو بھی کوشش کرنی پڑے گی۔

اس لئے ہر مربی اور معلم یہ عہد کرےکہ اس نے ڈرتے ڈرتے دن گزر کرنا ہے اور تقویٰ سے رات بسر کرنی ہے۔ اور احمدیت کا پیغام پہنچانے کی جو ذمہ داری اس پہ ڈالی گئی ہے، اس کوایک خاص ولولہ اور جوش سے ملک کے کونے کونے میں پھیلانا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے عملی نمونے دکھانے ہیں۔اپنے اندر قناعت پیدا کرنی ہے۔ جو بھی تھوڑا بہت گزارا ملتا ہےاور جو بھی تھوڑی بہت سہولیات جماعت کی طرف سے ملتی ہیں ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہے۔ اور ان کو بہت سمجھنا ہے۔ اور اپنی قربانی کے معیار کو بلند سے بلند تر کرتے چلے جانا ہے۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں بڑھنا ہے۔ اپنی راتوں کو زندہ کرنا ہے۔ ہر مربی اور معلم کا کام ہے کہ کم از کم ایک گھنٹہ تہجد کی نمازپڑھے۔ اپنے جائزے لیں کہ کیا آپ لوگ ایک گھنٹہ تہجد پڑھتے ہیں؟کیا آپ لوگ رات کو اٹھ کے ایک گھنٹہ نفل میں اللہ تعالیٰ کے حضور رو رو کے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لئے آسانیاں پیدا کرے اور جماعت کی ترقی کے سامان پیدا فرمائے؟

پھر قرآن کریم پہ تدبر اور غور کرنے کی عادت ڈالیں۔ صرف چند ایک بنے بنائے مضمون ہیں، ان کو پڑھنے سے آپ کو کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ اپنے علم کو بڑھائیں اور وسیع تر کرنے کی کوشش کریں۔ یہی چیز ہے جو آپ کیلئے آگے ان شاء اللہ کام بھی آئے گی اور آپ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسرے علماء سے بحث کرنے کے بھی قابل ہوں گے اور عوام الناس کو بھی بتانے کے قابل ہوں گے۔

ظاہری فقہ اور حدیث اورقرآن کی بعض تفسیریں تو بعض غیراحمدی علماء نے آپ سے زیادہ پڑھی ہوں گی اور وہ پڑھ کے اس کو بیان بھی کر سکتے ہیں لیکن آپ نے وہ حقیقت بیان کرنی ہے جو اس زمانہ کے حکم ا ور عدل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں بتائیں اور سمجھائیں ہیں۔ اوروہی فقہ ہے جو ہم نے جاری کرنا ہے۔ وہی قرآن کریم کی تفسیر ہے، وہی حدیث کی تشریح ہے جو ہم نے دنیا کو بتانی ہے۔ اور اس کیلئے آپ کو محنت کرنی پڑے گی، اپنے علم میں اضافہ کرنا پڑے گا اور پھر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی ہو گی۔ اپنے علم میں اضافہ کیلئے بھی اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔اپنی روحانی ترقی کیلئے بھی اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔ اور اس ملک میں جماعت احمدیہ کے پیغام کو پہنچانے کیلئے بھی اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔اور مخالفت کے دُور ہونے کیلئے بھی اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔اپنے ملک کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کیلئے بھی اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔ تو بہت ساری دعائیں ہیں جوانسان نے کرنی ہوتی ہیں، وہ آپ کریں۔ ایک جوش اور جذبے اور تڑپ سے یہ دعائیں کریں گے تو پھر دیکھیں کہ کس طرح ایک انقلاب آپ بنگلہ دیش میں لے آتے ہیں۔ اور پھر جب آپ پہ تھوڑی بہت سختیاں بھی آئیں گی تو پھر اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ ان لوگوں نے سختیاں برداشت کیں ہیں اب ان کی دلجوئی بھی کرو۔ تب یہ دلجوئی ہو گی۔

سوال:۔ اسی ملاقات میں ایک اور مربی صاحب نے حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ میرے علاقہ میں لوگ خود کو مسلمان تو کہتے ہیںلیکن اسلام کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ان لوگوں کو کس طرح تبلیغ کی جائے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس سوال کا درج ذیل الفاظ میں جواب عطاء فرمایا۔حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

جواب:۔ان کو بتائیں کہ تم لوگ مسلمان ہو۔ قطع نظر اس کے کہ تم جماعت احمدیہ کے پیغام کو قبول کرتے ہو یا نہیں کرتےلیکن تم اپنے آپ کومسلمان کہلاتے ہوتو اللہ اور رسول کا یہ حکم ہے کہ جو قرآن کریم اللہ تعالیٰ نے اتارا ہےوہ تمہیں پڑھنا آنا چاہیئے۔تمہیں پانچ وقت نماز پڑھنی آنی چاہیئے۔ ارکان اسلام ہیں ان پہ یقین ہونا چاہیئےاور ان پہ عمل بھی ہونا چاہیئے۔ تو ان کو آپ سمجھائیں کہ دیکھو! تم مسلمان کہلاتے ہوتو اللہ کے رسول پہ تمہارا ایمان کامل اس وقت ہوتا ہے جب تم اس کی سنت پہ عمل کرو۔ پھر جو شریعت اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی صورت میں اتاری ہےتم اسے پڑھنا سیکھو۔اور اگر تمہیں ضرورت ہے کہ تمہیں قرآن کریم پڑھنا نہیں آتا اور تم نے سیکھنا ہے تو ہم تمہیں قرآن کریم پڑھانے کیلئے حاضر ہیں۔ اور پھر اللہ اور رسول کی باتیں انہیں بتائیں۔ قرآن کریم انہیں پڑھائیں۔ اور انہیں یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ تم احمدی ہو جاؤ کہ نہ ہو۔ جب وہ اس طرح اسلام کی تعلیم کے بارہ میں جانیں گےتو پھر وہ خود اگلا قدم اٹھائیں گے۔ وہ آپ سے پوچھیں گے کہ اچھا بھئی! ہمارے مولوی تو ہمیں کچھ نہیں پڑھاتے تھے۔ تم لوگ ہمیں یہ پڑھا رہے ہو۔تم کون ہو؟ پھر آگے بات چلتی ہے۔پھر تبلیغ کے رستے بھی کھل جائیں گے۔ دوسرا یہ کہ ان کیلئے دعا بھی کریں۔مسلم امہ کیلئے دعا بھی کریں۔یہی تو زمانہ تھا جس زمانہ میں اسلام کا صرف نام ہونا تھا ۔؎

رہا دین باقی نہ اسلام باقی
فقط رہ گیا اسلام کا نام باقی

تبھی تو مسیح موعود علیہ السلام نے آنا تھا۔ تبھی تو اس مہدی اور مسیح نے آنا تھا جس نے لوگوں کو دوبارہ پھر خدا تعالیٰ کے قریب کرنا تھا۔ اور ان کو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ دلانی تھی۔ تو یہ چیزیں لوگ بھول گئے ہیں۔تبھی تو مسیح موعود ؑآئے تھے۔ اور یہی مسیح موعودؑ کا زمانہ تھا۔ یہی مسیح موعود ؑکا کام ہے۔ یہی مسیح موعودؑکے ماننے والوں کا کام ہے۔ اور یہی ان لوگوں کا کام ہے جنہوں نے تفقہ فی الدین کر کے اپنے آپ کو دین کی خدمت کیلئے، وقف کرنے کیلئے، تبلیغ کرنے کیلئے، تربیت کرنے کیلئے پیش کیا ہے۔ وہ آپ لوگ ہیں۔ پس یہ باتیں پہنچائیں اور پیغام پہنچائیں۔ ان کو سمجھائیں کہ اصل دین کیا ہے۔ تو یہ تو آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے عین مطابق مسیح موعودؑکے آنے کے زمانہ کی علامت ہے کہ لوگ نام کے مسلمان ہیںاور اسلام کو بالکل بھول چکے ہیں۔ ان کو کچھ پتہ ہی نہیں۔ صرف لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ تو کہہ دیتے ہیں لیکن پتہ نہیں کہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ کا مطلب کیا ہے؟ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ تو کہہ دیتے ہیں لیکن یہ پتہ نہیں کہ محمد رسول الله کا اسوہ کیا ہے؟ تو ہم نے یہ چیزیں لوگوں کو بتانی ہیں۔ اس کیلئے کوشش کرنی ہو گی۔ ان کو بتانا ہو گا۔ پہلے ان کو اسلام کے بارہ میں بتائیں۔ پھر احمدیت کے بارہ میں خود بخود ان کو پتہ لگ جائے گا۔

یہ تو اللہ تعالیٰ کی اور اللہ کے رسول کی بات پوری ہو رہی ہے کہ ان کو دین کا نہیں پتہ اور اسلام کا صرف نام رہ گیا ہے۔ ٹائٹل رہ گیا ہے۔ اور جو مولوی کہتا ہے اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ توڑ پھوڑ کر دو۔ احمدیوں کاسر پھاڑ دو۔ احمدیوں کی ٹانگیں توڑ دو ۔ احمدیوں کو قتل کر دو۔ احمدیوں کو شہید کر دو۔ احمدیوں کی مسجدیں گرا دو۔ احمدیوں کی جائیدادوں کو نقصان پہنچا دو۔ بس یہی باتیں رہ گئیں ہیں ناں ان کے پاس! اور کیا رہ گیا ہے؟ اسی چیز سے ہم نے ان کو پیار اور محبت سے سمجھانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ پیار سے ، محبت سے کام کرو گے تو یہ تمہارے بہترین دوست بن جائیں گے۔ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ فرمایا ہے۔ کہ تمہارے گہرے دوست بن جائیں گے، جگری یار بن جائیں گے۔

سوال:۔ ایک اور مربی صاحب نے اس ملاقات میں حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ حضور کو اسیرِراہ مولیٰ ہونے کا موقعہ ملا ہے۔ اس اسیری کے متعلق اگر حضور کچھ فرمائیں تو نوازش ہو گی؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس کے جواب میں فرمایا:

جواب:۔ کیا فرماؤں؟ مجھے تو اسیر راہ مولیٰ کے طور پر پتہ ہی نہیں لگا کہ میری اسیری کے دن کس طرح گزر گئے؟ اللہ کے فضلوں کو ہی دیکھتا رہا۔ گرمی کے دن تھے، اللہ تعالیٰ گرمی کو ٹھنڈ میں بدل دیتا تھا۔ بڑے آرام سے جیل میں بیٹھے رہتے تھے۔ اور سلاخوں کے پیچھے رہتے تھے۔کوئی فکرو فاقہ نہیں تھا۔ دل میں یہ خیال تھا کہ جو دفع مجھ پہ لگی ہوئی ہے اس کی سزا یا عمر قید ہے یا پھانسی ہے۔ان دونوں میں سے کچھ تو مجھے ملنا ہے۔ اس لئے میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے ہی مانگو اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی کوشش کرو۔ باقی جماعت کی خاطراگر سزا ملنی ہے تو یہ تو بڑی برکت کی بات ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اللہ تعالیٰ نے دسویں، گیارھویں، بارھویں دن مجھے جیل سے باہر نکال دیا۔تو اس سے زیادہ میں کیا کہوں۔ میں نے کوئی بڑا تیر مارا؟ میں نےتو وہاں کچھ بھی نہیں کیا۔

سوال:۔ مؤرخہ 08 نومبر2020ء کی اسی ملاقات کے آخر پر محترم امیر صاحب بنگلہ دیش نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کے نمائندہ ہونے کی حیثیت سے حضور بنگلہ دیش کیلئے کوئی ایسی دعا کر دیں جس سے ہماری کایا پلٹ جائے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسکراتے ہوئے فرمایا:

جواب:۔ساری دنیا کیلئے کیوں نہ کروں؟ صرف بنگلہ دیش کیلئے کیوں کروں؟ مجھے محدود کیوں کر رہے ہیں؟ میں تو ساری دنیا کیلئے دعا کرتا ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک وقت رکھا ہوتا ہے۔جب وہ وقت آئے گا تو انشاء اللہ تعالیٰ کایا بھی پلٹ جائے گی۔ آنحضرتﷺ کو کسی نے کہا کہ میرے لئے دعا کریں کہ میرا فلاں کام ہو جائے۔ آپؐ نے فرمایا کہ اچھا میں دعا کروں گا۔ پھر آپ ﷺ نے اسے واپس بلایا اور اسے فرمایا کہ تم بھی دعا کرو اور اپنی دعاؤں سے میری دعا کی مدد کرو۔ تو یہ آپ لوگوں کا بھی کام ہے کہ جس طرح میں نے ابھی کہا ہے کہ راتوں کو اٹھیں۔ ہر مربی اور معلم جو ہےوہ لازمی قرار دے کہ اس نے تہجد پڑھنی ہے اور بے نفس ہو کے کام کرنا ہے۔ خدا تعالیٰ کا حق بھی ادا کرنا ہے اور اس کے بندوں کے حق بھی ادا کرنے ہیں۔ اپنی خدمت دین کو اک فضل الہٰی سمجھنا ہے اور اس کیلئے کسی Reward کی اور کسی تعریف کی امید نہیں رکھنی چاہیئے۔ اگر اس طرح کام کریں گےتو اللہ تعالیٰ اپنے فضلوں کی بے شمار بارش برسائے گا ۔اور بڑی جلدی برسائے گا ان شاء اللہ تعالیٰ آپ دیکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس کی توفیق عطاء فرمائے اور آپ لوگوں کو اپنے اپنے میدان میں کامیاب فرمائے۔ آمین۔

(مرتبہ:۔ ظہیر احمد خان۔انچارج شعبہ ریکارڈ دفتر پی ایس لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 فروری 2021