• بدھ 1 اپریل 2020   (8 شعبان 1441)

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ مورخہ 13مارچ 2020ء بمقام مسجد مبارک کا خلاصہ

آنحضرت ﷺ کے عشق ومحبت میں ڈوبے اخلاص و وفا کے پیکر بدری صحابی حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ کی سیرتِ مبارکہ کا تذکرہ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی شہید کو چلتا ہوا دیکھنے کی خواہش رکھتا ہو وہ طلحٰہ ؓبن عبیداللہ کو دیکھ لے طلحٰہ ؓاور زبیرؓ جنت میں میرے دو ہمسائے ہوں گے

رسول اللہ ﷺ نے اُحد کے دن حضرت طلحٰہ ؓ کا نام طلحة الخیر رکھا۔ غزوہ تبوک اور غزوہ ذی قرد کے موقع پر طلحة الفیاض رکھا اور غزوہ حنین کے روز طلحۃ الجود رکھا

سائب بن یزید سے مروی ہے کہ میں سفر و حضر میں حضرت طلحٰہ بن عبید اللہ ؓکے ہمراہ رہا مگر مجھے عام طور پر روپے اور کپڑے اور کھانے پر طلحٰہ ؓسے زیادہ سخی کوئی نہیں نظر آیا

خلاصہ خطبہ جمعہ

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے آجکل پھیلنے والی بیماری کرونا وائرس کی احتیاطی تدابیر بیان کرتے ہوئے فرمایا ’’جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں ذکر کیا تھا کہ آج کل کرونا وائرس کی جو وباء پھیلی ہوئی ہے ،اس کے لئے احتیاطی تدابیر کرتے رہیں اور مسجدوں میں بھی جب آئیں تو احتیاط کر کے آئیں ،بخار وغیرہ ہلکا سا ہو تکلیف ہو جسم کی تو ایسی جگہوں پہ نہ جائیں جہاں پبلک جگہیں ہیں اور خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں اور دعاؤں کی طرف بہت توجہ دیں۔ اللہ تعالیٰ دنیا کو آفات سے بچائے‘‘

سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنےمورخہ 13 مارچ 2020ء کو مسجد مبارک ، اسلام آباد ٹلفورڈ یوکے میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو کہ مختلف زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اےانٹر نیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا ۔ حضور انور نے فرمایا: آج جن بدری صحابی کا ذکر ہو گا ان کا نام ہے حضرت طلحٰہ بن عبیداللہؓ۔ان کا تعلق قبیلہ بنو تیم بن مرة سے تھا۔ ان کے والد کا نام عبیداللہ بن عثمان اور والدہ کا نام صعبة تھا ۔ حضرت طلحٰہ ؓ کی کنیت ابومحمد تھی۔ آنحضور ﷺ نے ان کو بحرین کا حاکم مقرر فرمایا، یہ تاوفات بحرین کے حاکم رہے۔ ان کی وفات 14ہجری میں حضرت عمر ؓکے دورِ خلافت میں ہوئی۔ ساتویں پشت میں حضرت طلحٰہ ؓ کا نسب نامہ مرةبن کعب پر جا کر آنحضرتﷺ سے مل جاتا ہے اور چوتھی پشت پر حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ۔ ان کے والد عبید اللہ نے اسلام کا زمانہ نہیں پایا لیکن والدہ نے لمبی زندگی پائی اور آنحضرت ﷺ پر ایمان لا کر صحابیہ ہونے کا شرف پایا۔ ہجرت سے قبل یہ اسلام لے آئی تھیں۔ حضرت طلحٰہ ؓبن عبیداللہ غزوہ بدر میں شامل نہیں ہوئے مگر رسول اللہ ﷺ نے انہیں مال غنیمت میں سے حصہ دیا تھا۔ان کی جنگ بدر میں شریک نہ ہونے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش کے قافلے کی شام سے روانگی کا اندازہ فرمایا تو آپ ﷺنے اپنی روانگی سے دس روز پہلے حضرت طلحٰہ ؓبن عبیداللہ اور حضرت سعید بن زیدؓ کو قافلے کی خبررسانی کے لئے بھیجا دونوں روانہ ہو کر حوراء پہنچے تو وہاں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ قافلہ ان کے پاس سے گزرا۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ کو حضرت طلحٰہ ؓاور حضرت سعیدؓ کے واپس آنے سے پہلے ہی یہ خبر معلوم ہو گئی۔ آپؐ نے اپنے صحابہؓ کو بلایا اور قریش کے قافلے کے قصد سے روانہ ہوئے ۔حضرت طلحٰہ ؓبن عبید اللہ اور حضرت سعید بن زیدؓ مدینہ کے ارادہ سے روانہ ہوئے کہ رسول اللہ ﷺ کو قافلے کی خبر دیں۔ ان دونوں کو آپؐ کی غزوہ بدر کے لئے روانگی کا علم نہیں تھا۔ وہ مدینہ اس دن پہنچے جس دن رسول اللہ ﷺنے بدر میں قریش کے لشکر سے جنگ کی۔ وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے مدینہ سے روانہ ہوئے اور آپؐ کی بدر سے واپسی پر تربان میں ملے۔

حضور انور نے فرمایا: حضرت طلحٰہ ؓغزوہ احد اور باقی دیگر غزوات میں شریک ہوئے۔صلح حدیبیہ کے موقع پر بھی موجود تھے۔ یہ ان10اشخاص میں سے ہیں جن کو رسول اللہ ﷺ نے ان کی زندگی میں ہی جنت کی بشارت دے دی تھی۔ ان 8 لوگوں میں سے تھے جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور ان 5 لوگوں میں سے تھے جنہوں نے حضرت ابوبکر ؓکے ذریعہ سے اسلام قبول کیا تھا۔ یہ حضرت عمؓر کی قائم کردہ شوریٰ کمیٹی کے 6 ممبران میں سے ایک تھے۔ یہ وہ احباب تھے جن سے رسول اللہ ﷺ وفات کے وقت راضی تھے۔ یزید بن رومان روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عثمانؓ اور حضرت طلحٰہ بن عبید اللہ ؓدونوں حضرت زبیر بن عوام ؓکے پیچھے نکلے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ؐ نے ان دونوں کے سامنے اسلام کا پیغام پیش کیا۔اس پردونوں یعنی حضرت عثمانؓ اور حضرت طلحٰہ ؓایمان لے آئے اور آپؐ کی تصدیق کی۔ حضرت طلحٰہ ؓبن عبیداللہ بیان کرتے ہیں کہ بصریٰ جو ملک شام کا ایک عظیم شہر ہے آنحضرت ﷺ اپنے چچا کے ہمراہ تجارتی سفر کے دوران اس شہر میں قیام فرما ہوئے تھے تو کہتے ہیں مَیں بصریٰ کے بازار میں موجود تھا کہ ایک راہب اپنے صومعة یعنی یہودیوں کی عبادت گاہ میں یہ کہہ رہا تھا کہ قافلے والوں سے پوچھو کہ ان میں کوئی شخص اہل حرم میں سے بھی ہے، میں نے کہا ہاں میں ہوں۔ اس نے پوچھا کیا احمد ظاہر ہو گیا ہے؟ تو حضرت طلحٰہ ؓ نے کہا کہ کون احمد؟ اس نے کہا عبداللہ بن عبدالمطلب کا بیٹا۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں وہ ظاہر ہو گا اور وہ آخری نبی ہو گا ان کے ظاہر ہونے کی جگہ حرم ہے اور ان کی ہجرت گاہ کھجور کے باغ اور پتھریلی اور شور اور کلر والی زمین کی طرف ہو گی۔ تم انہیں چھوڑ نہ دینا۔ حضرت طلحٰہ ؓ کہتے ہیں کہ اس نے جو کچھ کہا وہ میرے دل میں بیٹھ گیا ، میں تیزی کے ساتھ روانہ ہوا اور مکہ آ گیا۔ دریافت کیا کہ کوئی نئی بات ہوئی ہے۔ لوگوں نے کہا کہ ہاں محمد بن عبداللہ امین مکہ والے آپ کو امین کہا کرتے تھے امین نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور ابن ابی قحافہ نے ان کی پیروی کی ہے۔ کہتے ہیں مَیں روانہ ہوا اور حضرت ابوبکرؓ کے پاس آیا اور پوچھا کہ کیا تم نے ان صاحب کی پیروی کی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں تم بھی ان کے پاس چلو اور ان کی پیروی کرو کیونکہ وہ حق کی طرف بلاتے ہیں۔حضرت ابوبکرؓ حضرت طلحٰہ کو ساتھ لے کر نکلے اور رسول اللہ ﷺکے پاس ان کو حاضر کیا۔ حضرت طلحٰہ ؓنے اسلام قبول کیا اور جو کچھ راہب نے کہا تھا اس کی رسول اللہ ﷺکو خبر دی۔ رسول اللہ ﷺ اس سے خوش ہوئے۔

حضور انور نے فرمایا: جب حضرت طلحٰہ ؓنے مدینہ ہجرت کی تو وہ حضرت اسد بن ضرارة کے مکان پر ٹھہرے۔ حضرت طلحٰہ ؓ کی بعض مالی قربانیوں کی بناء پر آنحضرت ﷺ نے انہیں فیاض قرار دیا تھا۔ موسیٰ بن طلحٰہ ؓ اپنے والد طلحٰہ ؓسے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اُحد کے دن حضرت طلحٰہ ؓ کا نام طلحة الخیر رکھا۔ غزوہ تبوک اور غزوہ ذی قرد کے موقع پر طلحة الفیاض رکھا اور غزوہ حنین کے روز طلحٰۃ الجود رکھا ۔ سائب بن یزید سے مروی ہے کہ مَیں سفر و حضر میں حضرت طلحٰہ بن عبید اللہ ؓکے ہمراہ رہا مگر مجھے عام طور پر روپے اور کپڑے اور کھانے پر طلحٰہ ؓسے زیادہ سخی کوئی نہیں نظر آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن اپنے صحابہؓ کی ایک جماعت سے موت پر بیعت لی، جب بظاہر مسلمانوں کی پسپائی ہوئی تھی تو وہ ثابت قدم رہے اور وہ اپنی جان پر کھیل کر آپؐ کا دفاع کرنے لگے یہاں تک کہ ان میں سے کچھ شہید ہو گئے۔ بیعت کرنے والے لوگوں میں حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ ، حضرت طلحٰہ،ؓ حضرت سعد ؓ،حضرت سہل بن حنیفؓ اور حضرت ابو دجانہؓ شامل تھے۔ اُحد کے دن مالک بن ظہیر نے رسول اللہ ﷺ کو تیر مارا تو حضرت طلحٰہ ؓنے رسول اللہ ﷺ کے چہرے کو اپنے ہاتھ سے بچایا۔ اس روز حضرت طلحٰہ ؓکے سر میں ایک مشرک نے دو دفعہ چوٹ پہنچائی۔ ایک مرتبہ جب کہ وہ اس کی طرف آ رہے تھے دوسری دفعہ جبکہ وہ اس سے رخ پھیر رہے تھے۔ اس سے کافی خون بہا۔ سیرة الحلبیہ میں ہے کہ قیس بن ابوحاذمہ کہتے ہیں کہ مَیں نے اُحد کے دن حضرت طلحٰہ ؓبن عبیداللہ کے ہاتھ کا حال دیکھا جو رسول اللہ ﷺ کو تیروں سے بچاتےہوئے شل ہو گیا تھا۔ ایک قول ہے کہ اس میں نیزہ لگا تھا اور اس سے اتنا خون بہا کہ کمزوری سے بیہوش ہو گئے۔ حضرت ابوبکرؓ نے ان پر پانی کے چھینٹے ڈالے یہاں تک کہ ان کو ہوش آیا۔ ہوش آنے پر انہوں نے فوراً پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کا کیا حال ہے۔ حضرت ابوبکر ؓنے ان سے کہا وہ خیریت سے ہیں اور انہوں نے ہی مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے۔ حضرت طلحٰہ ؓنے کہا کہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کی ہیں ہر مصیبت آپؐ کے بعد چھوٹی ہے۔
حضرت زبیرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اُحد کے دن دو زرہیں پہنے ہوئے تھے ،آپؐ نے چٹان پر چڑھنا چاہا مگر زرہوں کے وزن کی وجہ سے اور سر اور چہرے پر چوٹ سے خون بہنے کی وجہ سے آپؐ پہ زخم ہوئے تھے۔ خون بہنے کی وجہ سے کمزوری ہو گئی تھی آپؐ کو،چڑھ نہ سکے چٹان پہ۔ آپؐ نے حضرت طلحٰہ ؓ کو نیچے بٹھایا اور اُن کے اوپر پیر رکھ کر چٹان پر چڑھے۔ حضرت زبیرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ طلحٰہ ؓنے اپنے اوپر جنت واجب کر لی۔

حضور انور نے فرمایا: غزوہ اُحد کے دن جب خالد بن ولید نے مسلمانوں پر اچانک حملہ کیااور مسلمانوں میں انتشار پھیل گیا تو حضرت مصلح موعود ؓ نے اس کا نقشہ کھینچتے ہوئے جو تفصیل بیان فرمائی ہے وہ حضرت طلحٰہ ؓ کی ثابت قدمی اور قربانی کے معیارکا ایک عجیب نظارہ پیش کرتی ہے ،فرماتے ہیں کہ چند صحابہؓ دوڑ کر رسول اللہ ﷺ کے گرد جمع ہو گئے جن کی تعداد زیادہ سے زیادہ 30 تھی۔ کفار نے شدت کے ساتھ اس مقام پر حملہ کیا جہاں رسول کریم ﷺ کھڑے تھے ۔ یکے بعد دیگرے صحابہؓ آپؐ کی حفاظت کرتے ہوئے مارے جانے لگے۔ علاوہ شمشیر زنوں کے تیر انداز اونچے ٹیلوں پر کھڑے ہو کر رسول کریم ﷺ کی طرف بے تحاشا تیر مارتے تھے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ دشمن اس وقت بے تحاشا تیر مارتے تھے اس وقت طلحٰہ ؓجو قریش میں سے تھے اور مکہ کے مہاجرین میں شامل تھے یہ دیکھتے ہوئے کہ دشمن سب کے سب تیر رسول اللہ ﷺ کے منہ کی طرف پھینک رہا ہے اپنا ہاتھ رسول اللہ ﷺ کے منہ کے آگے کھڑا کر دیا۔ تیر کے بعد تیر جو نشانے پر گرتا تھا وہ طلحٰہ ؓکے ہاتھ پر گرتا تھا مگر جانباز اور وفا دار صحابی اپنے ہاتھ کو کوئی حرکت نہیں دیتا تھا۔ اس طرح تیر پڑتے گئے اور طلحٰہ ؓکا ہاتھ زخموں کی شدت کی وجہ سے بالکل بے کام ہو گیا اور صرف ایک ہی ہاتھ ان کا باقی رہ گیا۔ اُحد کی جنگ کے بعد کسی شخص نے طلحٰہ ؓسے پوچھا کہ جب تیر آپ کے ہاتھ پر گرتے تھے تو کیا آپ کو دَرد نہیں ہوتی تھی اور کیا آپ کے منہ سے اُف نہیں نکلتی تھی۔ طلحٰہ ؓ نے جواب دیا دَرد بھی ہوتی تھی اور اُف بھی نکلنا چاہتی تھی لیکن میں اُف کرتا نہیں تھا تا ایسا نہ ہو کہ اُف کرتے وقت میرا ہاتھ ہل جائے اور تیر رسول اللہ ﷺ کے منہ پر آ گرے۔

حضور انور نے فرمایا: غزوہ حمراء الاسد کے موقع پر تعاقب میں روانہ ہوتے ہوئے آنحضرت ﷺ کو حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓملے۔ آپؐ نے ان سے فرمایا: طلحٰہ! تمہارے ہتھیار کہاں ہیں؟ حضرت طلحٰہ ؓنے عرض کیا کہ قریب ہی ہیں یہ کہہ کر وہ جلدی سے گئے اور اپنے ہتھیار اُٹھا لائے حالانکہ اس وقت طلحٰہ ؓکے صرف سینے پر ہی9 زخم تھے اُحد کی جنگ کے۔ اُن کے جسم پر کل ملا کر70 سے اوپر زخم تھے۔ حضرت طلحٰہ ؓبیان کرتے ہیں کہ میں اپنے زخموں کی نسبت آنحضرت ﷺ کے زخموں کے متعلق زیادہ فکر مند تھا۔

غزوہ تبوک کے موقع پر آنحضرت ﷺ کو خبر ملی کہ بعض منافقین سویلم یہودی کے گھر جمع ہو رہے ہیں، اس کا گھر جاسوم مقام کے قریب تھا۔ وہ لوگوں کوغزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جانے سے روک رہا تھا ۔رسول اللہ ﷺنے حضرت طلحٰہ ؓ کو بعض اصحاب کی معیت میں اس کی طرف روانہ کیا اور حکم دیا کہ سویلم کے گھر کو آگ لگا دی جائے۔ حضرت طلحٰہ ؓنے ایسا ہی کیا ۔حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ میرے دونوں کانوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ طلحٰہ ؓ اور زبیرؓ جنت میں میرے دو ہمسائے ہوں گے۔ حضرت سعید بن جبیرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت سعدؓ، حضرت عبدالرحمنؓ اور حضرت سعید بن زیدؓ کا مقام ایسا تھا کہ میدانِ جنگ میں رسول اللہ ﷺ کے آگے آگے لڑتے تھے اور نماز میں آپ کے پیچھے کھڑے ہوتے تھے۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی شہید کو چلتا ہوا دیکھنے کی خواہش رکھتا ہو وہ طلحٰہ ؓبن عبیداللہ کو دیکھ لے۔

حضور انور نے فرمایا:حضرت طلحٰہ ؓبن عبیداللہ سے روایت ہے کہ اصحاب رسول ﷺ کہتے تھے کہ ایک اعرابی حضور ﷺ کی خدمت میں یہ پوچھتا ہوا حاضر ہوا کہ مَنْ قَضٰی نَحْبَہٗ۔ یعنی وہ جس نے اپنی منت کو پورا کر دیا سے کون مراد ہے۔ اعرابی نے جب آپ سے پوچھا تو آپ نے کچھ جواب نہ دیا۔ کہتے ہیں کہ پھر میں مسجد کے دروازے سے سامنے آیا یعنی حضرت طلحٰہ ؓ۔مَیں نے اس وقت سبز لباس پہنا ہوا تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا۔ حضرت طلحٰہ ؓ کو دیکھا تو فرمایا کہ وہ سائل کہاں ہے جو پوچھتا تھا کہ مَنْ قَضٰی نَحْبَہٗ سے کون مراد ہے۔ اعرابی نے کہا یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں۔ حضرت طلحٰہ ؓ کہتے ہیں آپؐ نے میری طرف اشارہ کیا اور فرمایا دیکھو یہ مَنْ قَضٰی نَحْبَہٗ کا مصداق ہے۔

حضور انور نے فرمایا: قیس بن ابو حازم سے مروی ہے کہ مروان بن حکم نے جنگِ جمل کے دن حضرت طلحٰہ ؓکے گھٹنے میں تیر مارا تو رگ میں سے خون بہنے لگا۔ جب اسے ہاتھ سے پکڑتے تھے تو خون رک جاتا اور جب چھوڑ دیتے تو بہنے لگتا۔ حضرت طلحٰہ ؓنے کہا اللہ کی قسم اب تک ہمارے پاس ان لوگوں کے تیر نہیں آئے۔ پھر کہا کہ زخم کو چھوڑ دو کیونکہ یہ تیر اللہ نے بھیجا ہے۔ حضرت طلحٰہ ؓبن عبیداللہ جنگِ جمل کے دن 10 جمادی الثانی 36 ہجری میں شہید کئے گئے تھے۔ شہادت کے وقت ان کی عمر 64 سال تھی، ایک روایت کے مطابق 62 سال عمر تھی۔علی بن زید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت طلحٰہ ؓ کو خواب میں دیکھا جو فرماتے ہیں کہ میری قبر دوسری جگہ ہٹا دو مجھے پانی بہت تکلیف دیتا ہے۔ اسی طرح پھر وہ دوبارہ انہیں خواب میں دیکھا غرض متواتر تین بار دیکھا تو وہ شخص حضرت ابن عباس ؓکے پاس آیا اور ان سے اپنی خواب بیان کی۔ لوگوں نے جا کر انہیں دیکھا تو ان کا وہ حصہ جو زمین سے ملا ہوا تھا پانی کی تری سے سبز ہو گیا تھا ۔ پس لوگوں نے حضرت طلحٰہ ؓ کو اس قبر سے نکال کر دوسری جگہ دفن کر دیا۔ راوی کہتے تھے کہ گویا مَیں اب بھی اس کافور کو دیکھ رہا ہوں جو ان کی دونوں آنکھوں میں لگا ہوا تھا۔ اس میں بالکل تغیّرنہ آیا تھا۔ صرف ان کے بالوں میں کچھ فرق آ گیا تھا کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹ گئے تھے لوگوں نے حضرت ابوبکرة ؓکے گھر میں سے ایک گھر دس ہزار درہم پر خریدا اور اس میں حضرت طلحٰہ ؓ کو دفن کر دیا۔

حضور انور نے فرمایا: حضرت طلحٰہ ؓ کی شہادت کی تفصیل انشاء اللہ آئندہ بیان کروں گا۔ اب جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں ذکر کیا تھا کہ آج کل کرونا وائرس کی جو وباء پھیلی ہوئی ہے ،اس کے لئے احتیاطی تدابیر کرتے رہیں اور مسجدوں میں بھی جب آئیں تو احتیاط کر کے آئیں، بخار وغیرہ ہلکا سا ہو تکلیف ہو جسم کی تو ایسی جگہوں پہ نہ جائیں جہاں پبلک جگہیں ہیں اور خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں اور دعاؤں کی طرف بہت توجہ دیں۔ اللہ تعالیٰ دنیا کو آفات سے بچائے۔


پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 مارچ 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 مارچ 2020

مقبول ترین