• 29 فروری, 2024

شام حسیں کا ماحول

بس گیا دل میں جو اک ماہ جبیں کا ماحول
اب ہمیں راس نہیں آتا کہیں کا ماحول

لوگ بے چارے ہیں ابہام کی دلدل کے اسیر
ہمیں اللہ نے بخشا ہے یقیں کا ماحول

ہو جہاں حُسن و ضیا صدق و صفا کا پیکر
بولنے لگتا ہے اُس پردہ نشیں کا ماحول

کوئی سرگرم محافل نہ روابط باقی
کھا لیا ٹی وی نے سب شامِ حسیں کا ماحول

دل کے ہاتھوں ہوئے مجبور تو ضد ٹوٹے گی
پھر تو اقرار میں بدلے گا ‘‘نہیں’’ کا ماحول

درو دیوار سے آتی ہے وفا کی خوشبو
یوں مکانوں کو بدلتا ہے مکیں کا ماحول

ابر رحمت میں تموج سا ہؤا ہے پیدا
آسماں گیر ہوا جب بھی زمیں کا ماحول

(امۃ الباری ناصر۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 مارچ 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ