• 17 اپریل, 2024

آداب معاشرت (تعزیت کے آداب) (قسط 16)

آداب معاشرت
تعزیت کے آداب
قسط 16

جب کسی کی موت کی خبر سنیں تو اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ کے الفاظ کہیں۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ ہم اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ تعزیت کے لئے مرحوم کے رشتہ داروں کے پاس جانا چاہئے اور انہیں تسلی دینی چاہئے اور صبر کی تلقین کرنی چاہئے۔ رسول کریمﷺکی مثالیں دے کر انہیں دلاسہ دینا چاہئے۔ میّت کے پاس جب بیٹھے ہوں بجز خیر کے کلمات کے دوسری باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ تعزیت کے لئے جائیں تو وہاں فضول باتیں نہ کریں اور نہ ہی کوئی ایسی حرکت یا بات کریں جس سے مرحوم کے اعزّہ کو یہ خیال گزرے کہ یہ لوگ ہمارے دکھ میں شریک ہونے نہیں آئے بلکہ محض رسماً آئے ہیں۔

جزع فزع کرنا اسلام میں منع ہے۔ تعزیت کے وقت چھاتی کوٹنا، سر کے بال کھول کر رونااور چلانا، گریبان پھاڑنا اور بے صبری کے کلمات کہنا سب جاہلیت کی رسمیں ہیں۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ ماتم پرسی کرنے والے ہمسائے اور رشتہ دار صبر کرنے کی تلقین کرنے کی بجائے مرحوم کے اعزّہ کے ساتھ مل کر رونے پیٹنے میں شریک ہو جاتے ہیں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ ان باتوں سے اللہ تعالیٰ اوراس کا رسولؐ ناراض ہوجاتے ہیں اور انسان کا ایمان اور ثواب ضائع ہوجاتا ہے۔ آنحضرتﷺنوحہ اور ماتم کو ناپسند فرماتے تھے۔غم ایک قدرتی احساس ہے جوکسی کی تکلیف اور دکھ کو دیکھ کر انسان کے اندر پیدا ہو جاتا ہے۔ غم کی وجہ سے انسان کا دل بوجھل ہوجاتا ہے اور آنسو بہنے لگتے ہیں۔ آنسو بہانے سے عذاب نازل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اس غم سے منع کرتاہےجس سے انسان کے حواس ختم ہو جائیں اور اس کی عقل ماری جائے اور کام کرنے کی قوت مفلوج ہو جائے۔

حضور اکرم ﷺ ماں سے بڑھ کر شفیق و رحیم تھے۔ آپ کی آنکھیں کسی کی تکلیف دیکھ کر بے ساختہ آنسو بہانے لگتیں۔اسلام ہمدردی کا مذہب ہے۔ جب کسی بھائی یا ہمسائے کے گھر ماتم ہو جائے تو برادرانہ ہمدردی کی راہ سے کھانا تیار کر کے اس کے گھر بھجوایا جائے۔تعزیت کے لئے جائیں تو موت فوت کے متعلق بدعات اور رسومات سے قطعی پرہیز کریں۔ مجلس فاتحہ خوانی، قل خوانی جو وفات کے تیسرے دن کی جاتی ہے، میں شامل نہ ہوں۔ یہ سراسر بدعات ہیں۔ رسول کریم ﷺ آپ کے خلفاء راشدینؓ اور صحابہ کرام ؓ کے زمانے میں ان کی کوئی سند نہیں ملتی۔

آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے۔ کُلَّ بِدعَةٍ ضَلالَةٌ ہر بدعت گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔ بدعت کے بے پناہ داغوں نے آج لوگوں کو گمراہی کے راستوں کی طرف دھکیل دیا ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ میّت کو صرف دعا اور صدقہ پہنچتا ہے۔تعزیت کیلئے جائیں تو عورتوں کو چاہئے کہ وہ جنازہ کے ساتھ نہ جائیں۔ حضرت امّ عطیہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ آپؐ نےہمیں جنازوں کے پیچھے جانے سے منع کیا۔ مگر اس باب میں ایسا تشدد نہیں کیا گیا۔

(بخاری و مسلم)

جنازہ کے ساتھ نوحہ اور ماتم کرتے ہوئے جانا ایک نہایت نازیبا حرکت ہے۔ اسلام نے اس سے روکا ہے۔ حضورؐ نے تو اس جنازہ کے ساتھ صحابہؓ کو جانے سے منع کر دیا جس پر کوئی عورت نوحہ کر رہی ہو۔ جنازہ جب جائے تو تعظیماً کھڑے ہو جانا چاہئے۔آنحضور ﷺ جب جنازہ جاتا تو کھڑے ہو جاتے تھے۔ بخاری میں روایت ہے کہ آپ ؐنے صحابہؓ سے فرمایا کہ جنازہ جاتا ہو تو اس کے ساتھ جاؤ۔ ورنہ کم از کم کھڑے ہو جاؤ اور اس وقت تک کھڑے رہوکہ جنازہ سامنے سے نکل جائے۔

(حنیف محمود کے قلم سے)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 مارچ 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ