• 5 جون, 2020

رمضان کا مبارک مہینہ

تبرکات

حضرت مرزا بشیر احمدؓ

اس سال میں نے شروع رمضان سے ہی ارادہ کیا تھا کہ اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو اپنے نفس کی اصلاح اور دوستوں کے فائدہ کی خاطر رمضان کی برکات کے متعلق ایک مضمون لکھ کر ’’الفضل‘‘ میں شائع کروں گا۔ اور اس کے لئے میں نے چند نوٹ قلم برداشتہ طور پر لکھ لئے تھے کہ پھر بیماری نے ایسا گھیرا کہ اب تک اس کے پنجہ سے نجات حاصل نہیں ہوئی۔ گو شکر ہے کہ اس شدید حملہ سے جو گذشتہ چند ایام میں درد گردہ اور قولنج کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اور جس نے مجھے چند دن تک انتہائی تکلیف میں مبتلا رکھا۔ اب صحت کی صورت پیدا ہوچکی ہے۔

اب رمضان کے اختتام کی وجہ سے مفصل مضمون شائع کرنے کا موقع تو نہیں رہا لیکن ثواب کی خاطر سے میں نے مناسب سمجھا ہے کہ اپنے نوٹوں کو ہی مناسب صورت دے کر شائع کردوں تااگر خدا چاہے تو وہ اس سال میری روزوں سے محرومی کا کفارہ ہوجائے۔ اور شائد اس آخری وقت میں ہی ان کی وجہ سے کسی دوست کو خاص دعا اور خاص عمل کی توفیق مل جائے جو جماعت کے روحانی اموال میں اضافہ کا باعث ہو۔وانّماالاعمال بالنّیّات ولکل امریٔ مانویٰ وماتوفیقی الّا باللّٰہ۔

گو اسلام میں ہر عمل جو خدا کی رضا کی خاطر کیا جائے عبادت کا رنگ رکھتا ہے خواہ بظاہر وہ ایک بالکل ہی دنیوی فعل ہو۔ مگر روزہ ان چار خاص عبادتوں میں سے ایک ہے جواسلام میں گویا انسانی اعمال کے لئے بطور ستون کے قرار دی گئی ہیں۔ اور ان چار عبادتوں (نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ) میں سے ہر عبادت اپنی ایک خاص غرض وغایت رکھتی ہے۔ خواہ وہ حقوق اللہ سے متعلق ہو یا حقوق العباد سے۔ اور ان میں صیام یعنی روزہ کو یہ مزید خصوصیت حاصل ہے کہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں سے یکساں تعلق رکھتا ہے۔ اور دونوں باغوں کی ایک سی آبپاشی کرتا ہے۔

روزہ کو ایک خصوصیت یہ بھی حاصل ہے کہ اس کے اندر خدائے حکیم نے اسلام کی جملہ بنیادی عبادتوں کو ایک خاص حکیمانہ انداز میں جمع کردیا ہے۔ مثلاً صوم کے علاوہ جو رمضان کا اصل مقصود ہے روزہ میںتراویح اور مخصوص قیام اللیل کے ذریعہ نماز کے عنصر کو نمایاں طور پر شامل کردیا گیا ہے۔ اسی طرح صدقۃالفطراور عام صدقات کی کثرت کے ذریعہ زکوٰۃ کے عنصر کو بڑھا دیا گیا ہے۔ اور پھر اعتکاف کے ذریعہ گویا حج کی روح کا خمیر لے لیا گیا ہے کیونکہ حج اور اعتکاف میں ایک گہری مناسبت ہے جو کسی غور کرنے والے پر مخفی نہیں رہ سکتی۔

روزہ کوشہادت کے عمل سے بھی بہت مشابہت ہے کیونکہ جس طرح ایک شہید خدا کے سامنے اپنی زندگی کا ہدیہ پیش کرتا ہے۔ اسی طرح ایک سچا روزہ دار خدا کی خاطر نہ صرف اپنی انفرادی زندگی کو بلکہ اپنی نسل کے سوتوں کو بھی کاٹتے ہوئے خدا کے سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔ کہ اے خدا میں تیرے لئے اپنی ظاہری زندگی کے سہاروں (طعام وشراب) اور اپنے نسلی بقا (ملامستِ ازواج) سے کنارہ کش ہوتا ہوں اور یہی شہادت کی روح ہے۔
قرآن شریف میں روزہ کے فضائل اور اغراض ومقاصد بہت تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ ان میں سے بعض یہ ہیں۔

(الف) سب سے پہلے خود رمضان کا نام ہے جو اسلام کا جاری کردہ ہے کیونکہ اسلام سے قبل رمضان کے مہینہ کا نام ناتق ہوا کرتا تھا جسے بدل کر رمضان کردیا گیا۔ اور چونکہ لفظ رمضان کے معنے گرم ہونے اور تپنے یا شدت پیاس سے جلنے کے ہیں! اس لئے اس انتخاب میں یہ اشارہ ہے کہ یہ عبادت مسلمانوں کے دلوں میں خدا کی محبت کی گرمی پیدا کرنے کے لئے مقرر کی گئی ہے یا یہ کہ روزہ مسلمانوں کے دلوں میں خدا کے قرب کی پیاس کو تیز کرتا ہے۔ وغیرذالک

(ب) اس کے بعد صوم اور صیام کا لفظ ہے جو اسلام نے روزہ کی عبادت کے لئے اختیار کیا ہے اس کے معنی کسی چیز سے رُکے رہنے یا پیچھے ہٹنے یا کھانے پینے سے پرہیز کرنے کے ہیں۔ اس میں ضبطِ نفس اور محرمات سے اجتناب کی غرض کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی روزہ انسان کے اندر ضبطِ نفس کا مادّہ پیدا کرتا ہے اور بدیوں سے رُکنے کی طاقت کو بڑھاتا ہے۔ اسی لئے حدیث میں شہر رمضان کا دوسرا نام شہر صبر بھی آتا ہے۔

(ج) اوپر کے دوالفاظ کے اجمالی اشارہ کے علاوہ قرآن شریف نے صراحتاًبھی روزہ کی بعض خاص اغراض بیان فرمائی ہیں۔ مثلاً فرماتا ہے لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ یعنی روزہ کی عبادت اس لئے فرض کی گئی ہے کہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو اور تقویٰ کے لفظ میں یہ اشارہ ہے کہ ایک طرف تو تمہیں ہر بات میں خدا کو اپنے ساتھ ڈھال کی طرح چمٹائے رکھنے کی عادت ہوجائے، دوسرے تم لوگوں کے خلاف ظلم ودست درازی سے مجتنب رہ سکوکہ یہی تقویٰ کے دومرکزی مقاصد ہیں۔

(د) ایک غرض روزہ کی قرآن شریف یہ بیان کرتاہے کہ اِنِّی قَرِیبٌ یعنی اس ذریعہ سے انسان خدا کا قرب حاصل کرتا ہے۔ یا زیادہ صحیح طور پر یوں کہنا چاہئے کہ روزوں کے نتیجہ میں خدا اپنے بندے کے زیادہ قریب ہوجاتا ہے۔ اور یہی انسان کی زندگی کا اولین مقصد ہے۔

(ھ) پانچویں بات قرآن شریف یہ فرماتا ہے کہ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَادَعَانِ یعنی خدا فرماتا ہے میں روزہ رکھنے والوں کی دعاؤں کو قبول کرتا ہوں۔ یعنی گو آگے پیچھے بھی میں اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا اور قبول کرتا ہوں لیکن روزہ میں میری اس رحمت کا دروازہ بہت زیادہ وسیع ہوجاتا ہے اور اگر اس کے یہ معنی کئے جائیں کہ روزہ میں انسان کی ساری ہی دعائیں قبول ہوجاتی ہیں تو پھر بھی یہ غلط نہیں ہوگا۔ کیونکہ حدیث میں صراحت سے آتا ہے کہ ایک مومن کی دعا تین طرح قبولیت کو پہنچتی ہے۔

اوّل یا تو خدا اسے اسی صورت میں کہ جس صورت میں وہ مانگی جاتی ہے قبول کرلیتا ہے۔دوسرے یا اگر اس کا اِسی صورت میں قبول کرنا خدا کی کسی سنت یا مصلحت کے خلاف ہوتا ہے یا خود دعا کرنے والے کے حقیقی مقاصد کے خلاف ہوتا ہے۔ تو پھر خدا اس کے عوض میں دعا کرنے والے سے کسی مناسب حال بدی اور شر کو ٹال دیتا ہے اورتیسرے یا آخرت میں اس دعا کا بہتر ثمرہ پیدا کرکے بندے کی تلافی کردیتا ہے۔ اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ دراصل کوئی سچی دعا کبھی ضائع نہیں جاتی۔

پس روزہ کو دعاؤں کی قبولیت سے خاص تعلق ہے۔ اور اسی لئے اہل اللہ کا طریق رہا ہے کہ جب کوئی خاص دعا کرنی ہو تو اس دن روزہ رکھ کر دعا کرتے ہیں۔اور یہ ایک بہت آزمایا ہوا طریق ہے۔

حدیث نے روزہ کے برکات اور فوائد میں دو نہایت لطیف باتیں بیان کی ہیں

اوّل: حدیث میں آتا ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ دوسری عبادتوں کی جزائیں تو اور اور مقرر ہیں مگر روزہ کی جزا خود میں ہوں۔ یہ وہی لطیف مفہوم ہے جو قرآنی الفاظ انی قریب میں بیان ہوا ہے۔ یعنی جب بندہ روزہ رکھ کر اپنے آپ کو خدا کے لئے مٹاتا ہے تو ہمارا رحیم وکریم خدا اس کے بدلہ میں خود اپنے آپ کو اس کے سامنے پیش کردیتا ہے۔ کہ اے میرے لئے مِٹنے والے تیرے عمل کا بدلہ یہی ہے کہ تو خود مجھی کو پالے۔ اسی قسم کے الفاظ حدیث میں شہید ہونے والے شخص کے متعلق بھی آتے ہیں۔ کیونکہ شہادت کو روزہ سے گہری مشابہت ہے۔

دوم: دوسری بات حدیث میں یہ بیان ہوئی ہے کہ خدا نے قیامت کے دِن کے لئے جنت میں داخل ہونے کے واسطے مختلف دروازے مقرر کررکھے ہیں۔ کوئی دروازہ نماز کے لئے ہے اور کوئی زکوٰۃ کے لئے ہے۔ اور کوئی حج کے لئے وغیرہ ذالک۔ اور روزہ کے واسطے جو دروازہ مقرر کیا گیا ہے اس کا نام ریّان ہے۔اب ریّان کے معنی عربی زبان میں پیاسے کے مقابل کے ہیں۔ یعنی وہ شخص جو پانی سے سیراب شدہ ہو۔ اور اس میں اشارہ یہ ہے کہ جب ایک انسان خدا کی خاطر اپنی انفرادی اور نسلی زندگی کی تاروں کو کاٹنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ یعنی نہ کھاتا پیتا ہے۔ اور نہ بیوی کے پاس جاتا ہے۔ تو خدا اسے فرماتا ہے کہ اے میرے بندے تو نے میرے لئے اپنی ظاہری زندگی کے سہاروں کو کاٹ دیا۔ اب تیری جزا اس کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ میں تجھے حقیقی اور دائمی زندگی کے پانی سے اتنا سیراب کروں کہ تم مجسم سیرابی ہوجائے۔ یہی وہ لطیف مفہوم ہے جو ریّان کے لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ ہمارے خدا کے قانون جزا وسزا میں عجیب تناسب اور توازن چلتا ہے۔ وہ جس چیز کو لیتا ہے۔ اس کے بدلہ میں اسی نوع کی چیز ہزاروں درجہ بڑھا چڑھا کر دیتا ہے۔ یہی وہ عظیم الشان فلسفہ ہے جس کے مطابق شہید ہونے والے شخص کے متعلق خدا فرماتا ہے اور کس شان اور غیرت کے ساتھ فرماتا ہے کہ جو شخص میرے رستہ میں جان دے اسے کبھی مرنے والا مت کہو کیونکہ اَحْیَآءٌ عِنْدَرَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ وہ زندہ ہیں۔ اور خدا سے زندگی کا مزید رزق حاصل کرتے ہوئے ابدی ترقی پاتے جائیں گے۔

حدیث میں روزہ کی ایک اور فضیلت بھی بیان ہوئی ہے۔ اور وہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں کہ رمضان میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔ اس میں جہاں یہ اشارہ ہے کہ روزہ کی وجہ سے نیکیاں ترقی کرتی اور بدیاں مٹتی ہیں، وہاں یہ بھی اشارہ ہے کہ رمضان میں خدا کے عفو کا دروازہ بہت وسیع ہوجاتا ہے۔ اور جب عفو کا دروازہ وسیع ہوا تو اس کے نتیجہ میں لازماً جنت کا دروازہ کھلے گا اور جہنم کا بند ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث میں آتا ہے کہ جب حضرت عائشہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پوچھا کہ یارسول اللہ اگر میں لیلۃ القدر کو پاؤں تو کیا دعا کروں تو اس پر آپؐ نے فرمایا یہ دعا کرو کہ اللَّھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی یعنی اے میرے خدا تیری ایک صفت گناہ اور بدی کے نشانوں کو مٹانا بھی ہے اور یہ صفت تجھے بہت محبوب ہے پس ایسا کر کہ اول تو مجھ سے کوئی بدی ہوہی نہیں۔ اور اگر کبھی ہوجائے تو پھر اپنے فضل ورحم سے اس کے نام ونشان کو ایسا مٹادے کہ گویا وہ ہوئی ہی نہیں یعنی میں بھی اسے بھول جاؤں لوگ بھی بھول جائیں۔ تیرے فرشتے بھی بھول جائیں اور توخود بھی بھول جائے۔ خد اکو نعوذ باللہ نسیان نہیں مگر جس چیز کا وہ نام ونشان مٹادے اور اس کے ذکر کو محو کردے اسے وہ گویا بھلا دیتا ہے۔ اسی لئے خدا کی عفو کی صفت اس کے تکفیر اور مغفرت کی صفات سے بالا ہے۔

روزہ کی حقیقت پر اس دعا کے الفاظ سے بھی بہت روشنی پڑتی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے افطاری کے وقت پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ یعنی اَللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ یعنی اے خدا اگر میں کھانے پینے سے رُکا تھا تو تیرے لئے اور اب کھانے پینے لگا ہوں تو تیرے دیئے ہوئے رزق پر بعینہٖ وہی مفہوم ہے جو مشہور قرآنی آیت قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ میں بیان کیا گیا ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سنت سے ثابت ہے کہ آپ رمضان میں روزہ کی مخصوص عبادت کے علاوہ مندرجہ ذیل زائد اور نفلی اعمال کی طرف بہت توجہ فرماتے تھے۔

(الف) نماز تہجد اور قیام اللیل جو گویا صیام کی بھی زینت ہے اور جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو انتہائی شغف تھا۔

(ب) تلاوتِ قرآن کریم جِس کے متعلق حدیثوں میں اشارہ آتا ہے کہ رمضان میں دو دفعہ ختم کرنا زیادہ پسندیدہ ہے۔

(ج) صدقہ وخیرات۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ رمضان میں آپؐ اس کثرت سے صدقہ وخیرات فرماتے تھے کہ جیسے ایک زور سے چلنے والی آندھی ہو جو کِسی روک کو خیال میں نہ لائے۔

(د) آپ نے روزہ کی روح کی طرف اشارہ کرنے کے لئے یہ بھی فرمایا ہے کہ جو شخص بظاہر کھانے پینے سے تورک جاتا ہے مگر جھوٹ اور خیانت اور گالی گلوچ اور دنگا فساد اور بیہودہ گوئی وغیرہ سے نہیںرکتا تو وہ مفت میں بھوکا مرتا ہے کیونکہ اس کا کوئی روزہ نہیں۔
رمضان کی ایک خاص عبادت اعتکاف ہے جو آخری عشرہ میں کسی جامع مسجد میں ادا کی جاتی ہے۔ یہ ایک نفلی عبادت ہے جس میں انسان گویا خدا کی خاطر دنیا سے کامل انقطاع اختیار کرتا ہے۔ دراصل اعتکاف روزہ کا معراج ہے اور اس میں انسانی فطرت کے اس جذبہ کی تسکین کا سامان مہیا کیا گیا ہے جو کئی لوگوں کے اندر رہبانیت کی صورت میں پایا جاتا ہے۔ اسلام نے اپنی کامل حکمت سے رہبانیت کو تو جائز نہیں رکھا مگر انسانی فطرت کے اس میلان کو کہ میں ظاہری طور پر بھی کلیتا خد اکا ہوجاؤں۔ اعتکاف کی اجازت دے کر پورا کردیا ہے۔ اعتکاف میں انسان اپنے شہادت کے عمل کو کمال تک پہنچاتا ہے۔ اور اسے رمضان کے آخری عشرہ میں رکھنے میں یہ حکمت ہے کہ تا گویا زبان حال سے انسان سے یہ کہلوایا جائے کہ میں خدا کے لئے روزہ رکھنے سے تھکتا نہیں بلکہ جوں جوں دن گذرتے جاتے ہیں میری خدا تک پہنچنے کی پیاس ترقی کرتی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ رمضان کے آخری ایام میں میں یوں ہوجاتا ہوں کہ گویا میرا سب کچھ خد اکے لئے ہوگیا ہے۔ اور سچی بات یہ ہے کہ عید کی شیرینی بھی ایسے ہی لوگوں کے لئے ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب آخری عشرہ آتا تھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم أَحْیَاءَ اللَّیْلَ وَ أَ یْقَظَ أَھْلَہُ، وَجَدَّ، وَشَدَّ الْمِئزَرَ
رمضان کے آخری عشرہ کے کمالات میں سے ایک لیلۃ القدر بھی ہے۔ جس میں خد اکا ہاتھ رحمت کی بارش برسانے کے لئے زمین کے قریب تر ہوجاتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکثر فرمایا کرتے تھے کہ لیلتہ القدر کو آخری عشرہ کی وتر راتوں میں تلاش کرنا چاہئے۔ اوروترمیں سے زیادہ میلان ستائیسویں رات کی طرف پایا جاتا ہے لیکن اس بارے میں حصر نہیں کرنا چاہئے کیونکہ حصرمیں علاوہ غلطی کے امکان کے انسان عمل کادائرہ محدود ہوجاتا ہے۔ خد اکا منشاء یہ ہے کہ روح کو اس کے آقاکی تلاش کے لئے زیادہ سے زیادہ چوکس وہوشیار رکھا جائے۔ قرآن شریف نے لیلۃ القدر کی شان میں کیا خوب الفاظ بیان فرمائے ہیں کہ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ یعنی اگر کسی شخص کو حقیقی لیلۃ القدر مل جائے تو وہ اس کے عمر بھر کے عمل سے بہترہے۔ الف شھر کا عرصہ سالوں میں قریباًساڑھے تراسی سال بنتا ہے اور یہ لمبی انسانی عمر کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی خدا فرماتا ہے کہ لیلۃ القدر کا میسّر آجانا بسا اوقات زندگی بھر کے عام اعمال سے بہتر ہوجاتا ہے۔ اور زندگی بھی وہ جو عام اوسط زندگیوں سے لمبی ہو۔

روزوں کے متعلق ایک خاص بات یہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جس طرح نماز میں خدا نے فرض نماز کے ساتھ سنت نماز مقرر فرمائی ہے جو گویا فرض نماز کے واسطے بطور محافظ اور پہریدار کے ہے یا یوں سمجھنا چاہئے کہ فرض نماز اندر کا مغز ہے اور سنتیں اس کے گرد کا چھلکاہیں۔ جو اُسے محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہیں۔ اسی طرح رمضان کے فرض روزوں کے دونوں جانب یعنی رمضان سے قبل شعبان کے مہینہ میں اور رمضان کے بعد شوال کے مہینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر نفلی روزوں کی تحریک فرمائی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ مثلاً ظہر کی نماز میں جو دن کے مصروف ترین حصہ میں آتی ہے اسلام نے اس کے آگے پیچھے سنتیں مقرر فرمادی ہیں۔ دراصل انسانی فطرت کا قاعدہ ہے کہ وہ کسی کام میں توجہ کے جمانے میں کچھ وقت لیتا ہے۔ اور جب توجہ کے اختتام کا وقت آتا ہے تو پھر بسااوقات اس کے اختتام سے قبل ہی اس کی توجہ اکھڑنی شروع ہوجاتی ہے۔ اس لئے آگے پیچھے نفلی روزے رکھ کر درمیانی فرض روزوں کو محفوظ کر دیا گیا ہے اور یہی سنت نماز کا فلسفہ ہے۔ پس دوستوں کو اس کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔

روزوں کے مسائل معروف ومعلوم ہیں۔ اس لئے ان کے متعلق کچھ کہنے کی ضرور ت نہیں مگر ایک دو باتیں ایسی ہیں جو غالباً ابھی تک عموماً اتنی محسوس و مشہود نہیں ہوئیں جتنی ہونی چاہئیں۔

(الف)آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارہ میں سخت تاکید فرمائی ہے کہ سحری میں دیر اور افطاری میں جلدی کرنی چاہئے۔ اس میں یہ بھاری حکمت ہے کہ تاجو وقت روزہ کا خدا ئی حکم کے ماتحت مقرر ہے وہ دوسرے وقت کے ساتھ مخلوظ نہ ہونے پائے۔ اگر ایک شخص سورج غروب ہوجانے کے معاً بعد روزہ نہیں کھولتا تو وہ اپنے عمل کو مشکوک کردیتا ہے۔ اور گویا زبان حال سے یہ کہتا ہے کہ کچھ وقت تو میں خدا کی خاطر کھانے پینے سے رُکا رہا اور کچھ وقت اپنی مرضی سے رُکتا ہوں۔ اور یہ نظریہ عمل صالح کے لئے سمِ قاتل ہے۔ یہی صورت سحری میں دیر نہ کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ سحری میں زیادہ سے زیادہ دیر کرو۔ اور افطاری میں زیادہ سے زیادہ جلدی کرو تاکہ تمہارا کھانے پینے سے رُکنا کلیتاً اس وقت کے مطابق ہوجائے جو خدا کا مقرر کردہ ہے۔ اور کوئی فالتو وقت اپنی طرف سے زیادہ کرکے اپنے عمل کو مشکوک نہ کرو۔

(ب) شاید اکثر لوگ اس بات سے واقف نہیں کہ جس طرح باوجود اس کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ سورۂ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مجبوری سے نماز کی پہلی رکعت میںقیام کے اند رشامل نہیں ہوسکتا بلکہ رکوع میں آکر شامل ہوتا ہے تو باوجود اس کے اس کی رکعت ہوجائے گی۔ اسی طرح حدیث میں صراحت آتی ہے کہ اگر سحری کھاتے کھاتے دیر ہوجائے اور مؤذن اذان کہہ دے اور تمہارے ہاتھ میں کھانے پینے کا برتن ہو تو اذان کی وجہ سے رُکو نہیں بلکہ تم ہاتھ کے برتن سے کھاپی سکتے ہو۔ یہ گویا اللہ میاں کا صدقہ ہے۔ اور خدا کے صدقہ کو ردّ کرنا شکرگزاری کا فعل نہیں سمجھا جاسکتا۔ مگر اس بارے میں احتیاط ضروری ہے اور انسان کو باغی اور عادی نہیں بننا چاہئے۔

بالآخر میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ چونکہ دعاؤں پر زور دینا رمضان کی بھاری خصوصیات میں سے ہے اور قرآن شریف نے سچے روزہ داروں کے لئے قبولیت دعا کا خاص وعدہ فرمایا ہے۔اس لئے دوستوں کو اس ماہ میں دعاؤں پر بہت زور دینا چاہئے اور بہترین دعائیں اسلام اور احمدیت کی ترقی کی دعائیں ہیں۔ جن میں گویا ہمارا سب کچھ آجاتا ہے۔ اس کے علاوہ امام جماعت کے لئے بھی خاص دعائیں ضروری ہیں مگر دوسری انفرادی دعاؤں کو بھی بھلانا نہیں چاہئے کیونکہ جماعتیں افراد سے بنتی ہیں اور افراد کی ترقی قومی ترقی کا پہلا زینہ ہے۔ اور اپنی دعاؤں میں اپنے زندوں کے ساتھ اپنے مُردوں کو بھی یاد رکھو کہ ہمارے محسن آقا نے ارشاد فرمایا ہے کہ اذکروا موتاکم بالخیر اور دعا سے بہتر خیر اور کیا ہوسکتی ہے؟

(مطبوعہ الفضل17 ستمبر1944ء)
(مرسلہ:مرزا دانیال احمد)


پچھلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ15۔مئی2020ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 مئی 2020