• 5 جون, 2020

یتیم کی کفالت کی ذمہ داری

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے ایمان افروز خطبہ جمعہ فرمودہ 26فروری 2010ء میں کفالت یتامیٰ کے موضوع پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔

جس میں احمدی یتیم بچے اور بچیوں کی تربیت اور نگہداشت و مالی معاونت کی طرف تمام احباب جماعت کو عموماً و مخیر حضرات کو خصوصاً یتامیٰ فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی تحریک فرمائی ہے۔

حضور انور نے فرمایا :۔
’’یتیم جو بعض لحاظ سے بعض اوقات احساسِ کمتری کا شکار ہو کر اپنی صلاحیتیں ضائع کر دیتے ہیں ان کی ایسے رنگ میں تربیت ہو کہ وہ انہیں بہترین شہری بنا دے۔ معاشرہ کا بہترین فرد بنا دے۔ پس نہ زیادہ سختیاں اچھی ہیں، نہ ضرورت سے زیادہ نرمی۔ بلکہ نیک نیتی کے ساتھ اپنے بچوں کی طرح ان کی تربیت کرنا ضروری ہے۔ اور جس طرح ماں باپ کے سائے تلے رہنے والے بچے کا حق ہے اسی طرح ایک یتیم کا بھی حق ہے۔‘‘

حضور انور کے اس بابرکت ارشاد کی روشنی میں تمام احباب کی خدمت میں عموماً و مخیر حضرات کی خدمت میں خصوصاً مؤدبانہ عرض ہے کہ ارشاد خداوندی فاستبقوا الخیرات کی روح کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کارخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

اللہ تعالیٰ تمام احباب کے اموال ونفوس میں غیرمعمولی برکت ڈالے اور معاشرے کے اس قابل رحم طبقے کی زیادہ سے زیادہ معالی معاونت کر کے ان کی دعاؤں کے مستحق بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

(سیکرٹری کمیٹی کفالت یکصد یتامیٰ)

پچھلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ15۔مئی2020ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 مئی 2020