• 25 مئی, 2020

عباداتِ مالی اور فدیہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔

  • خدا تعالیٰ کے اَحکام دو قسموں میں تقسیم ہیں۔ایک عباداتِ مالی، دوسرے عباداتِ بدنی۔عباداتِ مالی تو اُسی کے لئے ہیں جس کے پاس مال ہو اور جن کے پاس نہیں وہ معذور ہیں اور عباداتِ بدنی کو بھی انسان عالم ِجوانی میں ہی ادا کر سکتا ہے ورنہ ساٹھ سال جب گزرے تو طرح طرح کے عوارضات لاحق ہوتے ہیں ۔ نزول الماء وغیرہ شروع ہو کر بینائی میں فرق آجاتا ہے۔ (کسی نے) یہ ٹھیک کہا ہے کہ پیری وصد عیب-اور جو کچھ انسان جوانی میں کر لیتا ہے اس کی برکت بڑھاپے میں بھی ہوتی ہے اور جس نے جوانی میں کچھ نہیں کیا اُسے بڑھاپے میں بھی صدہا رنج برداشت کرنے پڑتے ہیں۔

؎ موئے سفید از اجل آرد پیام

انسان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ حسبِ استطاعت خدا کے فرائض بجا لاوے۔ روزہ کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔

وَاَنْ تَصُوْمُوْ اخَیْرٌ لَّکُمْ

(البقرۃ : 185)

یعنی اگر تم روزہ رکھ بھی لیا کرو تو تمہارے واسطے بڑی خیر ہے۔

(ملفوظات جلد دوم ص562)

  • ایک دفعہ میرے دل میں آیا کہ فدیہ کس لئے مقرر کیا گیا ہے تو معلوم ہوا کہ توفیق کے واسطے ہے۔تاکہ روزہ کی توفیق اس سے حاصل ہو۔خدا تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو توفیق عطا کرتی ہے اور ہر شئے خدا تعالیٰ ہی سے طلب کرنی چاہئے ۔ خد اتعالیٰ تو قادر ِمطلق ہے، وہ اگر چاہے تو ایک مدقوق کو بھی روزہ کی طاقت عطا کر سکتا ہے تو فدیہ سے یہی مقصود ہے کہ وہ طاقت حاصل ہو جائے اور یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوتا ہے۔پس میرے نزدیک خوب ہے کہ (انسان ) دُعا کرے کہ الٰہی یہ تیرا ایک مبارک مہینہ ہے اور مَیں اس سے محروم رہا جاتا ہوں اور کیا معلوم کہ آئندہ سال زندہ رہوں یا نہ۔یا ان فوت شدہ روزوں کو ادا کر سکوں یا نہ اور اس سے توفیق طلب کرے تو مجھے یقین ہے کہ ایسے دل کو خد ا تعالیٰ طاقت بخش دے گا۔

(ملفوظات جلد دوم ص563)

پچھلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ15۔مئی2020ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 مئی 2020