• 6 اگست, 2021

دنیا کا مہنگا ترین ٹریفک جام

مارچ 2021ء کے اختتام پر ایسا غیر متوقع واقعہ رونما ہوا جس نے بین البراعظم عالمی تجارت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ اس کا ذمہ دار صرف ایک مال بردارجہاز اور اس پر سورا پچیس افراد کا عملہ تھا۔

Ever given نامی بحری جہاز جس کا تعلق میگا کنٹینر کی نئی کلاس سے تھا ملائیشیا کی بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا جس کی منزل پورٹ آف ریٹرڈم (نیدر لینڈ) تھی۔اس مال بردار جہاز کی لمبائی کم و بیش ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کے برابر ہے جو کہ چار سو میٹر ہے۔یہ مال بردار بحری جہاز کتنا بڑا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ اس میں 20124 کنٹینر لے جانے کی صلاحیت ہے۔ان جہازوں کا موزوں ترین اور مختصر ترین راستہ نہر سوئیز سے ہو کر گزرتا ہے جو مصر میں ہے۔یہ کینال 1869 میں تجارتی راہداری کے طور پر استعمال ہونا شروع ہوئی۔اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہوتا ہے کہ یہ نہ صرف ایشیاء اور یورپ کے درمیان مختصر ترین تجارتی راستہ ہے بلکہ چین اور دیگر ایشیائی ممالک سے یورپ تک سامان پہنچانے کے لیے موزوں ترین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوئیز کینال کو عالمی سطح پر بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ پوری دنیا کے تجارتی جہازوں کا بارہ فیصد گزر اسی راستہ سے ہوتا ہے۔ روزانہ اوسطاً اکاون جہاز سوئیز کینال سے گزر تے ہیں جن پر لدے سامان جن میں تیل، گیس، اشیاء خوردونوش سمیت ہر قسم کے تجارتی مال کا تخمینہ نو بلین ڈالر ہے۔ یہ نہر مصر کی جغرافیائی اہمیت کے ساتھ مصر کا زر مبادلہ کمانے کا بھی بہت بڑا ذریعہ ہے۔ گزشتہ سال یہاں سے گزرنے والے جہازوں سے پانچ بلین ڈالر فیس کی مد میں وصول کیے گئے۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر ماضی میں سوئیز کینال پر قبضہ کے لیے جنگیں بھی لڑی گئیں۔

اگر یہ نہر نہ ہو تو یہاں سے گزرنے والے جہازوں کوتین ہزار آٹھ سو کلومیڑ والا لمباراستہ اختیار کرنا پڑے گا اور دس دن اضافی اس فاصلہ کو طے کرنے میں درکار ہوں گے۔ اس کا مطلب ہے ایندھن اور عملہ پر زیادہ خرچ کے ساتھ دیر سے پہنچنا۔ یہی وجہ ہے کہ سوئیز کینال گلوبل شپنگ انڈسٹری کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔اس نہر کی طویل بندش عالمی بحران پیدا کر سکتی ہے۔ اس حادثہ سے پہلے سوئیز کینال ماضی میں دو بار بند ہوئی ہے۔ لیکن اس بار نہر کی بندش نے عالمی تجارت کو بہت بڑے نقصان سے دو چار کیا۔ کیونکہ ماضی کے مقابلہ میں اس راستہ سے تجارتی ہجوم بہت بڑھ چکا ہے۔

ایور گیون بیس ہزار کنٹینر لاد کر اپنی منزل کی جانب روان تھا، سب کچھ معمول کے مطابق تھا جہاز سوئیز کینال پر پہنچا جہاں SCA سوئیز کینال اتھارٹی جو کہ اس ٹریفک کو کنٹرول کرنے کی ذمہ دار ہے انہوں نے اپنے دو آفیشل ایور گیون جہاز پر بھیجے۔ (ہر جہاز کے ساتھ اس اتھارٹی کے آفیشل جہاز پر سوار ہو کر نہر سے گزرنے تک جہاز میں رہ کر نگرانی کرتے ہیں) 23 مارچ کی صبح 7:30 بجے جب جہاز کینال میں گزر رہا تھا کہ ریت کے طوفان نے آلیا۔ طوفان اتنا شدید تھا کہ حد نگاہ صفر ہو کر رہ گئی۔تیز ہوا کے تھپیڑوں نے جہاز کو ایک طرف دھکیلنا شروع کیا۔ جہاز کو متوازن اور سیدھا رکھنے کی تمام تر کوششیں ناکام ہو گئیں۔ جہاز نہر میں جس جگہ موجود تھا یہاں سے نہر بہت تنگ ہے یہی وجہ ہے کہ اس گزر گاہ کا یہ حصہ بہت خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ یہاں نہر کی چوڑائی صرف دو سو میٹر ہے اور چار سو میٹر لمبا جہاز اس میں آڑھاہ ترچھا نہر کے کناروں میں اس طرح پھنس گیا کہ اطراف سے کوئی چھوٹی سی کشتی گزرنے کی جگہ بھی نہ بچی اور نہر سوئیز کا پورا سسٹم صرف ایک جہاز کی بدولت آن کی آن میں تباہ ہو کر رہ گیا۔

حکومت مصر نہر کو چوڑا کرنے کی کوششیں کافی عرصہ سے کر رہی تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جہازوں کے ہجوم میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا اور اب حالات یہ ہو چکے ہیں کہ نہر سوئیز میں سے ان بڑے جہازوں کا گزرنا محال ہوتا جا رہا تھا۔یہی وجہ تھی کہ 2012ء سے 2018ء کے درمیان حکومت مصر نے آٹھ بلین ڈالر کی خطیر رقم نہرسوئیز میں مختلف جگہوں پر اضافی چینل بنانے پر خرچ کی جس کا مقصد تھا کہ اگر کسی جگہ پر جہاز نہر میں پھنس جائے تو دیگر جہازوں کے لیے متبادل گزر گاہ موجود ہو۔ لیکن بد قسمتی سے ایور گیون جہاں پھنسا وہاں کوئی متبادل چینل ابھی نہیں بنی تھی صرف ایک ہی تنگ راستہ تھا۔یہ ایسی ہی صورتحال تھی جیسے پوری ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ دوسو فٹ چوڑی نہر میں لٹا دی گئی ہو۔نتیجہ نو بلین ڈالرمالیت کا روزانہ کی بنیاد پر گزرنے والا تجارتی سامان منجمد ہو کر رہ گیا۔ یعنی اس ٹریفک جام کے ہر گھنٹے کی مالیت چار سو ملین ڈالر (قریبا باسٹھ ارب روپے) تھی۔ اس طرح یہ دنیا کا اب تک کا سب سے مہنگا ٹریفک جام ثابت ہوا۔ اس حادثہ کے فوراً بعد پندرہ مزید مال بردار جہاز جو ایور گیون کے پیچھے تھے وہ بھی بندھ کر رہ گئے ان کے لیے پیچھے مڑنا ناممکن تھا۔ ہر گزرتے لمحے جہازوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ نہر کی بندش کے محض کچھ دنوں کے اندر اس گزرگاہ کے باہر انتظار کرنے والے جہازوں کی تعداد تین سو تک جا پہنچی۔ اکیسویں صدی کا بد ترین ٹریفک جام چل رہا تھا جو بد سے بد تر ہوتا جا رہا تھا۔

نئے آنے والے جہازوں کے لیے بہت مشکل صورتحال تھی کہ وہ یہیں پر لنگر انداز ہو کر راستہ کھلنے کا انتظار کریں یا ماضی میں استعمال ہونے والے لمبے اور مہنگے راستہ پر جہازوں کو ڈال دیں جس پر انہیں اندازاً چھبیس ہزار ڈالر روزانہ کی بنیاد پرایندھن و عملہ کی دیگر اضافی ضروریات کا خرچ برداشت کرنا پڑتا۔

نہر سوئیز سے روزانہ ایک سو چھے جہاز گزارنے کی سکت ہے لیکن نہر کی بندش سے قطار میں لگے جہازوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔اس کے ساتھ ہی پورے یورپ اور ایشیاء کے درمیان اشیائے خورد و نوش اور تیل کی سپلائی میں تعطل کے باعث ان کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ اس ٹریف جام کے باعث یورپ اور ایشیاء میں کارگو کنٹینر کی فراہمی میں بہت بڑے پیمانے پر تعطل پیدا ہو گیا۔

جہاز کو نہر کے اطراف سے آزاد کرنے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہو رہی تھی۔جہازکے نیچے سے ریت چوسنے والی مشینری کو استعمال کرنے کے ساتھ کرینوں سے بھی جہاز کے نیچے سے ریت ہٹائی گئی مگر ہر طریقہ بے سود ثابت ہوا۔ Tug Boat (ایسی چھوٹی مگر طاقتور کشتیاں جوبڑے جہازوں کو کھینچتی ہیں) کے بیڑے کی مدد سے جہاز کو کھینچنے کی کوشش بھی سود مند ثابت نہ ہوئی۔

مدو جزر سمندر کے پانی کے اتار چڑھاؤ میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ مدکا دورانیہ بارہ گھنٹے پچیس تک رہتا ہے جس کے بعد چھے گھنٹے تک پانی اترتا ہے جو کہ جزر کا دورانیہ ہے۔مدو جزر کے اس دورانیہ کو مدنظر رکھتے ہوئے کارکن جہاز کو کناروں کے سے پرے دھکیلنے کا کام کرتے جب سمندرمد کی کیفیت میں ہوتا تھا۔سرتوڑ کوششیں آخر کار کامیاب ہوئیں اور سوموار 29مارچ 2021 کو جہاز نہر کے کناروں سے ہٹا لیا گیا اور ٹریفک معمول کے مطابق بحال کر دی گئی۔ لیکن اس کے باوجود ٹریفک کے بہاؤ میں جو تعطل پیدا ہوا تھا اس کو معمول پر آنے میں کافی وقت لگا کیونکہ سینکڑوں جہاز اپنی باری کے انتظار میں کینال کے باہر اکھٹے ہو چکے تھے۔

(ترجمہ و تلخیص مدثر ظفر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 جون 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 جون 2021