• 14 اگست, 2022

خوبصورت سب لباسوں میں ہے تقویٰ کا لباس

سادہ لفظوں میں کروں گا بات تم سے دوستو
دل پھٹا جاتا ہے میرا آج غم سے دوستو
آئینہ دیکھا ہے کل شب بیٹھ کر تنہائی میں
پیرہن ہی بہہ گیا پھر آنکھ کی دریائی میں
سوچتا ہوں میرے جیسا حال تم سب کا نہ ہو
دنیا داری میں پھنسا ہر سال تم سب کا نہ ہو
کون ہیں ہم کس لئے آئے گھروں کو چھوڑ کر
یاد کرنا ہے ضروری اب سروں کو جوڑ کر
دیکھنا یہ ہے ہمارا کیا یہاں کردار ہے
آئینے میں چہرہ اپنا کرتا کیا اظہار ہے
وقت کا دھارا نہیں رکتا کسی کے واسطے
چاند بھی دن کو نہیں چڑھتا کسی کے واسطے
کرنی پڑتی ہے دعا کے ساتھ ہی تدبیر بھی
تب بدلتی ہے کہیں جا کر کوئی تقدیر بھی
سوچنا ہے کس طرح لانا ہے ہم نے انقلاب
کس طرح ہم نے حقیقت اب بنانا ہے یہ خواب
کس طرح ہونگی ہوائیں یہ برنگ یاسمن
کس طرح ہونگے یہ پتھر آب اور مثل گلاب
باخدا بننا پڑے گا اور دعا کے ہاتھ سے
تقویٰ کی پینی پڑے گی رات دن خالص شراب
تب کہیں جا کر بنیں گے ہم زمانے کے امام
تب ہی پھیلے گا جہاں میں احمدیت کا یہ نام
جا بجا بونیں پڑیں گے پیڑ خوشبو کے یہاں
شبنمی پھولوں سے مہکے گا تبھی سارا جہاں
وقف کر دو راہ مولا میں تم اپنے اب اوقات
دور ہو جائیں گی تم سے راہ کی ساری آفات
پھینک دو اب گندے کپڑے پہن لو اچھا لباس
خوبصورت سب لباسوں میں ہے تقویٰ کا لباس
نور کے تاروں سے روشن ہوں تمہارے آشیاں
چاندنی لے کر تمہاری جگمگائے یہ جہاں

(عبدالجلیل عبادؔ۔ ہیمبرگ جرمنی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 جون 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ