• 20 ستمبر, 2020

عبادت سےمراددل کی صفائی ہے

’’اصل بات یہ ہے کہ انسان کی پیدائش کی علت غائی یہی عبادت ہے (یعنی بنیادی مقصد یہی عبادت ہے)۔ جیسے دوسری جگہ فرمایا ماَ خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنَ (الذّاریٰت :۵۷) یعنی عبادت اصل میں اس کو کہتے ہیں کہ انسان ہر قسم کی قساوت کجی کو دور کرکے دل کی زمین کو ایسا صاف بنا دے جیسے زمیندار زمین کو صاف کرتا ہے۔ (یعنی دل کی سختی اور کجی کو دور کرکے دل کی زمین کو ایسا صاف بنا دے جیسے زمیندار زمین کو صاف کرتا ہے)۔ عرب کہتے ہیں کہ مَوْرٌ مُعَبَّدٌ جیسے سرمہ کو باریک کرکے آنکھ میں ڈالنے کے قابل بنا لیتے ہیں۔ اسی طرح جب دل کی زمین میں کوئی کنکر پتھر ناہمواری نہ رہے اور ایسا صاف ہو گویا روح ہی روح ہو، اس کا نام عبادت ہے۔ چنانچہ اگر یہ درستی اور صفائی آئینہ کی کی جاوے تو اس میں شکل نظر آ جاتی ہے۔ اور اگر زمین کی کی جاوے تو اس میں انواع و اقسام کے پھل پیدا ہو جاتے ہیں۔ پس انسان جو عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اگر دل صاف کرے اور اس میں کسی قسم کی کجی اور ناہمواری کے کنکر پتھر نہ رہنے دے تو اس میں خدا نظر آئے گا۔‘‘

(ملفوظات جلد اول صفحہ ۳۴۷۔ الحکم ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 ستمبر 2020