• 29 ستمبر, 2020

شکر کی ادائیگی۔ سیرت رسولؐ کی روشنی میں

شکر کی ادائیگی کے دو حصے ہیں۔ ایک اللہ تعالیٰ کے احسانات اور انعامات پر اس خدائے واحد و یگانہ کاشکر ادا کرنا اور دوم دنیوی معاشرہ اور ماحول میں ایک انسان کا اپنے محسن کا شکریہ ادا کرنا۔

آج ان دونوں امور کو آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺکی سیرت اور اخلاق کی روشنی میں دیکھتے ہیں کیونکہ آج اسلامی دنیا میں اس گمشدہ پہلو کوسیرت رسولؐ کی روشنی میں اُجاگر کرنا ضروری ہے۔ مغربی دنیا میں انسانوں کاشکر گزار ہونے کا بہت رواج ہے۔ سب مغربی دنیا میں رہنے والوں کے کانوں میں روزانہ ہی بار بار انگنت دفعہ Thank you یا Thanks کے الفاظ سنائی دیتے ہیں۔ ایک دن میرے صاحبزادے سعید الدین احمد مجھ سے کہہ رہے تھے کہ پاپا! یہاں مغربی دنیا میں Thank you یا احمدیہ دنیا میں جزاکم اللہ کہنے کا اتنا رواج ہے کہ ہر چھوٹی سے چھوٹی بات پر اتنی کثرت سے وہ شکریہ ادا کرتے ہیں کہ بسا اوقات شرم آنے لگتی ہے کہ ہم نے کیا کیا ہے جس کا یہ شکریہ ادا کررہے ہیں مگر ایشیائی دنیا میں اس خلق کا فقدان نظر آتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس گمشدہ خلق کو دوبارہ رواج دیں اور جزاک اللہ کہنے کی عادت اپنائیں۔ آنحضور ﷺ بالعموم ’’جزاکم اللّٰہ خیراً‘‘ کی دعا دیا کرتے تھے یاعرب شکراً جزیلاً کے الفاظ سے شکر ادا کرتے ہیں۔

اس حوالہ سے آنحضور ﷺ کی سیرت بیان کرنے سے قبل قرآن مجید میں بیان شکر کے مضمون کو بیان کرنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان علیہ السلام کو اللہ کا شکر ادا کرنے کے حکم کو حکمت کی بات قرار دیتے ہوئے فرمایا۔

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا لُقۡمٰنَ الۡحِکۡمَۃَ اَنِ اشۡکُرۡ لِلّٰہِ ؕ وَ مَنۡ یَّشۡکُرۡ فَاِنَّمَا یَشۡکُرُ لِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیۡدٌ

(لقمٰن :13)

’’اور یقیناً ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی (یہ کہتے ہوئے) کہ اللہ کا شکر ادا کرے تو وہ محض اپنے نفس کی بھلائی کے لئے ہی شکر ادا کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو یقیناً اللہ غنی ہے (اور) بہت صاحب تعریف ہے۔‘‘

شکر الٰہی

ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ فرماتے ہیں: التَّحَدُّثُ بِنِعْمَۃِ اللّٰہِ شُکرٌ وَتَرْکُھَا کُفر: اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا تذکرہ کرنا شکر ہے اور ان نعمتوں کا تذکرہ چھوڑ دینا ناشکری ہے۔

(مسند احمد، کتاب اول مسند الکوفیین، حدیث النعمان بن بشیر)

حضرت محمدﷺ کو جب کوئی خوشی کی خبر پہنچتی تو آپ ﷺ فوراً خدا کے حضور سجدہ میں گرجاتے اور سجدہ تشکر بجالاتے۔

(سنن ابی داؤد، کتاب الجھاد، باب فی سجود الشکر)

حضرت محمد ﷺ نے ایک بات یہ بھی سکھائی کہ عبادت صرف جہنم کے ڈریا جنت کی طمع سے نہیں ہوتی بلکہ عبادت اپنے رب کی نعمتوں کے شکر پر بھی کی جاتی ہے اور عبادت بندے کی طرف سے دیا جانے والا وہ تحفہ ہے جو وہ اپنے رب کو اسکی نعمتوں کے تحفوں کے بدلہ میں پیش کرتا ہے۔ سو آپ ﷺ راتوں کو خدا کا شکر ادا کرنے کے لئے اتنا لمبا قیام فرماتے کہ آپؐ کے پاؤں متورم ہوجاتے۔ جب حضرت عائشہؓ نے یہ پوچھا کہ آپ ﷺ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں؟ تو آپﷺ نے کیا خوب جواب دیا کہ اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُورًا: کیا میں خدا کا شکرگزار بندہ نہ بنوں۔ (صحیح البخاری، کتاب الجمعۃ) اور جب عملی شکر سے فارغ ہوتے تو زبان سے اور شکر کی توفیق مانگتے ہوئے اپنے رب سے عرض کرتے کہ: اللَّھُمَّ اَعِنِّی عَلَی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبٰدَتِکَ : اے اللہ! مجھے اپنے ذکر اپنے شکر اور خوبصورت عبادت کی توفیق عطا فرما۔

(سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ، باب فی الاستغفار)

نیز فرمایا : جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو کوئی نعمت عطا کرتا ہے اور وہ بندہ اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہے تو یہ تعریف اس نعمت سے افضل ہوتی ہے۔

(صحیح الجامع، حرف المیم، الجزء 2 صفحہ 975)

پھرفرمایا: اِنَّ اَفْضَلَ عِبَادَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ : الْحَمَّادُوْنَ: یقیناً اللہ کے بندوں میں سے قیامت کے دن افضل وہ ہوں گے جو خدا تعالیٰ کی نعمتوں کی تعریف کرنے والے ہوں گے۔

(صحیح الجامع، حرف الالف، الجزء 1 صفحہ 326)

ہم مسلمانوں میں اموال جمع خاطر رکھنےکا بھی رواج ہے اور اللہ تعالیٰ کی دین کو اپنے اوپر ظاہر بھی کرتے اوربعض لوگ ان افضال کو اپنے اوپر ظاہر نہیں ہونے دیتے ۔ ایسے لوگوں کو نصیحت کرتے ہوئے آپؐ نے فرمایا: یقیناً اللہ عزوجل جب اپنے بندوں میں سے کسی کو کوئی نعمت عطا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے کہ اس کا اثر بھی اس پر ظاہر ہو۔

(مسند احمد، کتاب المکیین، حدیث مالک بن نضلۃ)

حضرت محمدﷺ جب کوئی نیا کپڑا زیب تن کرتے تو یہ دعا کرتے اَللّٰھُمَ لَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ کَسَوْتَنِیْہِ اَسْاَلُکَ مِنْ خَیْرِہ وَخَیْرِمَا صُنِعَ لَہُ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِہٖ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَہُ : اے اللہ! ہر قسم کی تعریف تیرے لئے ہے تو نے مجھے یہ کپڑا پہنایا میں تجھ سے اس کی خیر مانگتا ہوں اور جس مقصد کے لئے یہ بنا ہے اس کی بھی خیر مانگتا ہوں اور میں اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور جس مقصد کے لئے یہ بنا ہے اس کے شر سے بھی تیری پناہ میں آتا ہوں۔

(سنن الترمذی، کتاب اللباس عن رسول اللّٰہ، ما یقول اذا لبس ثوباً جدیداً)

حضرت محمد ﷺ رات کو بستر پر جاتے ہوئے دن بھر میں ہونیوالی اللہ کی نعمتوں کا شکر یوں ادا کرتے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی کَفَانِی وَ اَواۤنِی و اَطْعَمَنِی وَ سَقَانِی وَ الَّذِی مَنَّ عَلَیَّ فَاَفْضَلَ وَالَّذِیْ اَعْطَانِی فَاَجْزَلَ الْحَمْدُلِلّٰہِ عَلَی کُلِّ حَالٍ : تمام تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے میری کفایت کی اور مجھے پناہ دی اور مجھے کھلایا اور پلایا اور جس نے مجھ پر اپنا احسان اور فضل کیا اور مجھے عطا کیا اور بہت دیا اور ہر حال میں اللہ ہی کی حمد و ثنا ہے۔

(سنن ابی داود، کتاب الادب، مایقال عند النوم)

بندوں کاشکریہ ادا کرنا

جہاں تک بندوں کاشکریہ ادا کرنے کا تعلق ہے۔ اس سلسلہ میں سیرت رسولؐ ملاحظہ ہو۔

حضرت محمدﷺ فرماتے ہیں: مَنْ لَمْ یَشْکُرِ الْقَلِیْلَ لَمْ یَشْکُرِ الْکَثِیْرَ وَمَنْ لَمْ یَشْکُرِ النَّاسَ لَمْ یَشْکُرِ اللّٰہَ : جو تھوڑے پر شکر نہیں کرتا وہ زیادہ پر بھی شکر نہیں کرتا جو بندوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔

(مسند احمد، کتاب اول مسند الکوفیین، حدیث النعمان بن بشیر)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: مَنْ صَنَعَ اِلَیْکُمْ مَعْرُوفاً فَکَافِئُوہُ: جو شخص تمہارے ساتھ نیکی کا معاملہ کرے تو تم بھی اسے بدلہ دو اگر تمہارے پاس بدلہ دینے کےلئے کچھ نہ ہو تو پھر اس کے حق میں دعا کرتے رہو حتٰی کہ تمہیں یقین ہوجائے کہ تم نے بدلہ چکا دیا۔

(سنن ابی داود، کتاب الزکاۃ ، باب عطیۃ من سئل باللّٰہ)

پھر فرمایا: مَنْ اُبْلِیَ بَلَاءً فَذَکَرَہُ فَقَدْ شَکَرَہُ: جس نے کسی پر کوئی احسان کیا پھر اس دوسرے نے اس کا ذکر کیا تو یہ اس کا شکریہ ادا کرنا ہے وَاِنْ کَتَمَہُ فَقَدْ کَفَرَہُ: اور اگر (دوسرے) نے اسے چھپایا تو یہ اس نے اس کی ناشکری اور ناقدری کی۔

(سنن ابی داؤد، کتاب الادب، فی شکر المعروف)

حضرت محمدﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو روایت میں آتا ہے کہ (چند) انصاری صحابہؓ نبی کریم ﷺ کے لئے کچھ کھجور کے درخت مخصوص رکھتے تھے، سو جب اللہ تعالیٰ نے بنو قریظہ اور بنو نضیر پر فتح عطا فرمائی اور اموال غنیمت آئے تو آپﷺ ان انصار کا بدلہ چکاتے رہے۔

(صحیح بخاری، کتاب المغازی، حدیث بنی نضیر)

سفر طائف سے واپسی پر جب آپﷺ نے سرداران مکہ سے امان مانگی تو سوائے مُطعم بن عدی نے کسی نے حامی نہ بھری ۔جس نے اپنے بیٹوں کو حضورؐ کے پاس بھجوایا کہ حضورؐ کو اپنی حفاظت میں شہر لے آئیں۔ نبی کریم ﷺ نے مطعم بن عدی کا یہ احسان ہمیشہ یاد رکھا۔ وہ بدر سے پہلے وفات پاچکے تھے مگر نبی کریم ﷺ نے بدر کی فتح کے بعد جب ستر کفار مکہ کو قیدی بنایا تو فرمایااگر آج مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور مجھے ان قیدیوں کی رہائی کی سفارش کرتا تو میں اس کی خاطر ان سب کو چھوڑ دیتا۔

(صحیح البخاری، کتاب فرض الخمس، مامن النبی ﷺ علی الاساری من غیر)

حضرت عبداللہ بن ابی ربیعہ مخزومیؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے غزوہ حنین کے موقع پر ان سے تیس یا چالیس ہزار قرض لیا، پھر جب حنین سے واپس آئے تو قرض ادا کیا، اور آپﷺ نے ان سے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیرے اہل و عیال اور مال دولت میں برکت دے۔ قرض کا بدلہ اس کو پورا کا پورا چکانا، اور قرض دینے والے کاشکریہ ادا کرنا ہے۔

(مسند احمد، اول مسند المدنیین رضی اللہ عنھم اجمعین، حدیث عبداللّٰہ بن ابی ربیعۃ)

آپﷺ اپنی بیوی حضرت خدیجہؓ کے احسانات کو ان کی وفات کے بعد بھی نہیں بھولے، ہمیشہ ان کو یاد رکھتے، اور ان کی شکر گزاری کے مواقع ڈھونڈتے اور اس قدر پیار سے ان کا ذکر کرتے کہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ مجھے ان سے حسد ہونے لگتا ایک دفعہ آپ ﷺ نے اس قدر ان کی تعریف فرمائی کہ مجھے غیرت آگئی اور میں نے آپﷺ سے عرض کی کہ آپ کیا اس سرخ گالوں والی کا ذکر کرتے رہتے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ نے آپ کو ان سے بہتر بیویاں عطا کردی ہیں۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا: ہرگز نہیں! ان سے بڑھ کر مجھے بیویاں نہیں ملیں۔ کیونکہ خدیجہ نے مجھے اس وقت قبول کیا جب دوسروں نے میرا انکار کیا۔ اور جب لوگوں نے میرا انکار کیا تو انہوں نے میری تصدیق کی۔ جب لوگوں نے مجھے مال سے محروم کیا تو انہوں نے اپنے مال سے میری مدد کی اور اللہ نے مجھے ان سے اولاد بھی عطا فرمائی۔

(مسند احمد، کتاب باقی مسند الانصار، حدیث السیدۃ عائشۃ)

اپنے تو اپنے دشمنوں کا کوئی ایک ایسا احسان نہیں جس کا آپﷺ نے بدلہ چکایا ہو۔ عبداللہ بن ابی، رئیس المنافقین جس نے ساری زندگی رسول اکرم ﷺ کو تکلیف پہنچانے کے لئے وقف کی ہوئی تھی۔ جب فوت ہوا تو آپ ﷺ اس کی تدفین میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے، جب آپﷺ وہاں پہنچے تو اس کا جثہ قبر میں ڈالا جاچکا تھا، آپ نے اسے نکلوایا، اور اپنے گھٹنوں میں اسے رکھ کر اس کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالا اور اسے اپنی قمیص پہنائی کیونکہ اس منافقوں کے سردار نے ایک دفعہ آپ ﷺ کے چچا حضرت عباسؓ کو ایک قمیص دی تھی۔

(صحیح البخاری، کتاب الجنائز)

یہ تھا وہ بدلہ جس کی نظیر پیش کرنے سے ساری تاریخ عاجز ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس روشن تاریخ اور تابناک سیرت کوہمیشہ ہمیش پہلے سے بڑھ کر زندہ اور روشن رکھنے کی توفیق دے۔ آمین

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 ستمبر 2020