• 29 ستمبر, 2020

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے
ذاتی تجربات کی روشنی میں

(قسط اول)

نوٹ:آج سے ایک بہت ہی اہم مضمون ’’تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے‘‘ بالاقساط شروع کیا جارہا ہے جو ہر بدھ کو آیا کرے گا۔ یہ مائدہ ہمارے ایک دوست مکرم مولانا سید شمشاد احمد ناصر آف امریکہ نے قارئین کے لئے تیار کیا ہے۔ اس مضمون سے نیٹ پر اخبار الفضل کی اہمیت بھی اجاگر ہوگی۔

مکرم مولانا موصوف نے اس مضمون کی کچھ اقساط حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو بھجوا کر جہاں دُعا کی درخواست کی وہاں رہنمائی بھی چاہی۔ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جواباً مولانا موصوف کو تحریر فرمایا کہ:
’’ماشاء اللہ بڑی محنت سے اچھا مضمون لکھا ہے۔ اس کی باقی اقساط بھی تیار کریں اور پھر اگر آپ اسے اخبار میں شائع کروانا چاہتے ہیں تو بے شک کرائیں۔‘‘

(ادارہ)

قرآن کریم کی سورۃ التکویر میں آخری زمانے کی علامات بیان کی گئی ہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ اس سورۃ کی آیت نمبر 10 کی تفسیر ’’وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ اس کے ایک معانی یہ ہیں کہ صحیفے پھیلائے جائیں گے۔ یہ پیشگوئی اس طرح پوری ہوئی کہ کتابوں اور اخبارات کی اشاعت کے لئے مطابع نکل آئے ہیں ۔پھر ریل گاڑیاں ایجاد ہوچکی ہیں جن سے شائع شدہ اخباریں اور کتابیں سارے جہاں میں پھیل جاتی ہیں۔

(سورۃ التکویر تفسیر کبیر جلد ہشتم نیا ایڈیشن صفحہ 224 نظارت اشاعت قادیان)

یہ ایک حقیقت ہے کہ جوں جوں انسان سائنسی ایجادات میں ترقی کررہا ہے اسی قدر پیغام حق کو دنیا کے مختلف قوموں، ملکوں اور انسانوں تک پہنچانا آسان سے آسان ہوتا چلا جارہا ہے۔ اور یہ سب کچھ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کے لئے مقدر تھا۔ اب ہمارا کام ہے کہ اس سے کس قدر فائدہ اٹھاتے ہیں۔

میں ایک بالکل اناڑی قسم کا آدمی ہوں۔ مجھے جرنلزم سے کچھ بھی واقفیت نہیں ہے لیکن اس شعبہ میں دلچسپی ضرور ہے اور اس دلچسپی کی کئی وجوہات ہیں۔

ابھی خاکسار جامعہ میں ہی تھا۔ وہاں روزنامہ الفضل آتا تھا اور ایک سٹینڈ پر لائبریری کے بالکل سامنے برآمدے میں اسے لگا دیا جاتا تھا۔ طالب علم فرصت کے لمحات میں اس سٹینڈ پر جا کر مطالعہ الفضل کرتے تھے اور اس میں اکثر جامعہ احمدیہ کے طلباء کے مضامین شائع ہوتے تھے۔ خاکسار تو ابھی ابتدائی کلاس میں تھا مگر صرف ’’جامعہ احمدیہ ربوہ‘‘ کا نام پڑھ کر دل میں جوش اٹھتا تھا کہ میں بھی تو جامعہ کا طالب علم ہوں پھر کیوں مضمون نہیں لکھتا۔ لیکن علم کی کمی ہمیشہ آڑے رہتی۔

جامعہ کی آخری کلاس غالباً درجہ رابعہ کے ایک طالب علم مکرم ملک رفیق صاحب مرحوم ہوتے تھے اُن کے مضامین اکثر شائع ہوتے تھے۔ جہلم کے رہنے والے تھے۔ اور پھر مکرم مولانا دوست محمد صاحب شاہدکے بھی۔ مکرم مولانا دوست محمد صاحب شاہد مرحوم و مغفورتوفرمایا کرتےتھے کہ آپ تو سلطان القلم کے سپاہی ہیں، کوشش کریں۔ بس ان الفاظ نے ہمت اور ڈھارس بندھائی۔ مکرم ملک رفیق صاحب سے ایک دن یونہی سرسری بات ہوئی کہ آپ کے مضامین کثرت سے شائع ہوتے ہیں۔آپ کیسے لکھتے ہیں؟انہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کی کتب کے انڈیکس (ملفوظات، روحانی خزائن) دونوں کی طرف راہنمائی کی کہ جو مضمون لکھنا ہو تفسیر صغیر میں کافی عناوین ہیں اور حضرت مسیح موعود ؑکی کتب کے انڈیکس دیکھ لیں۔ آپ کو مطلوبہ حوالے مل جائیں گے۔

الحمدللہ کہ یہ نسخہ بہت کارگر ثابت ہوا۔ شروع شروع میں الفضل میں اور پھر خالد، مصباح اور تشحیذ الاذہان میں بھی مضامین چھپتے رہے۔ اور ان رسائل میں مضامین چھپنے سے ڈھارس بندھی اور ہمت اور حوصلہ افزائی بھی ہوئی۔

پاکستان میں تو پریس کے ساتھ رابطہ رکھنے کی نہ ضرورت پیش آئی اور نہ ہی مواقع میسر آئےاور نہ ہی اس کا کوئی خاص تجربہ تھا۔

گھانا مغربی افریقہ میں

جب خاکسار کی ڈیوٹی گھانا میں لگی اور مئی 1978ء میں خاکسار گھانا آیا تو وہاں کے امیر محترم مولانا عبدالوہاب بن آدم صاحب کے ساتھ کچھ عرصہ ہیڈکوارٹر اکرا میں کام کرنے کا موقع ملا۔ خاکسار انہیں مشاہدہ کرتا کہ وہ کیسے کام کرتے ہیں۔ اُن کے ایک کام پریس، میڈیا، اخبارات، ریڈیو اور TV کے ساتھ رابطے کو مشاہدہ کیا۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعتی کارروائی کی اہم موقع کی خبر اخبار کے علاوہ TV اور ریڈیو پر بھی آتی تھی۔

یہ ایک خاص بات تھی جس کا خاکسار کی طبیعت پر اثر تھا۔ جب میری تقرری انہوں نے کوفوریڈوا (Koforidua) ایسٹرن ریجن میں کردی خاکسار نے بھی وہاں پہنچ کر اس سے بہت فائدہ اٹھایا۔

کوفوریڈوا ایسٹرن ریجن کا ہیڈکوارٹر تھا یہاں اپنا مشن اور مسجد بھی نہ تھی بلکہ کرایہ کا گھر تھا جس میں مبلغ کی رہائش، پانچوں نمازیں، جمعہ اور مربی سلسلہ کا آفس نیز ریجن کے عہدے داروں کا کام کرنے کا ایک مشترکہ دفتر تھا۔

یہاں کے جنرل سیکرٹری صاحب سے خاکسار نے اس بات کا ذکر کیا کہ ہم جو کام کریں اس کی اشاعت اخبار میں آنی چاہیئے اور کہا کہ یہاں کتنے اخبارات شائع ہوتے ہیں ان کے نام بھی دیں۔ وہاں سے صرف ایک لوکل اخبار ہی شائع ہوتا تھا۔خاکسار نے اس کے ایڈیٹر کا نام پوچھا اور انہیں دفتر جا کر ملا۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ چنانچہ اس ملاقات کا بہت فائدہ ہوا۔ اس وقت بذریعہ فون کام نہیں ہوتا تھا بلکہ دفتر جا کر ملنا پڑتا تھا اور میرے خیال میں اب بھی یہی ذریعہ مؤثر ہے۔ میرے نزدیک فون پر تو وہ نہ ملتے ہیں اور مصروفیت کے عذر سے آپ کو کہہ دیں گے کہ مشکل ہے۔مگر آپ چلے جائیں۔ ملاقات ہو ہی جاتی ہے۔ میں نے اکثر اس بات کو آزمایا ہے۔ کوفوریڈوا کے چند واقعات اس وقت ذہن میں ہیں مثلاً:
ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ایسٹرن ریجنل منسٹر نے اپنے پیلس میں گھانا کے یوم آزادی کا دن منانا تھا۔ شہر کی بڑی بڑی اہم شخصیات کو مدعو کیا ہوا تھا یہ شام کا وقت تھا، خاکسار کو بھی بلایا ہوا تھا۔ خاکسار سب سے مل رہا تھا تو اس وقت خاکسار ریجنل منسٹر سے بھی ملا۔ اس سے مصافحہ ہو ہی رہا تھا تو اچانک اخبار کا فوٹو گرافر وہاں آگیا اور اس نے منسٹر صاحب اور خاکسار سے کہا کہ آپ اکٹھے کھڑے ہوجائیں تاکہ میں ایک فوٹو لے لوں۔ منسٹر صاحب کے ہاتھ میں شراب کا کپ تھا۔ جب فوٹو گرافر فوٹو لینے لگا تو منسٹر نے اسے کہا۔

Stop! Let me hide my cup Ahmadiyya does not like it.

یہ ایک واقعہ ہے جس کا نقش ذہن پر ابھی تک ہےکہ ابھی تصویر نہ لو میرے ہاتھ میں تو شراب کا کپ ہے اور میں اسے پہلے چھپا لوں کیوں کہ احمدی اسے ناپسند کرتے ہیں۔

وہاں پر کوفوریڈوا میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ کے مواقع اکثر میسر آتے تھے اور بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ بہت مواقع ملتے تھے۔ ان میں اکثر مواقع کی خبریں اخبارات میں شائع بھی ہوتیں۔ لیکن اس وقت اتنا شعور نہ تھا کہ ان کی کاپی بھی بنا کر رکھنی ہے۔ تبشیر کو تو بھجواتا تھا لیکن اپنے پاس کوئی اخبار کا تراشہ محفوظ نہیں ہے۔

وہاں پر جو خبریں شائع ہوتیں ان میں سے ایک تو یہ یاد ہے کہ ایک دفعہ خاکسار ریجنل جنرل سیکرٹری کے ساتھ وہاں کی کورٹ(عدلیہ) کے ہائی جج اور پھرفیڈرل جج کو ملنے گیا انہیں قرآن کریم کا تحفہ دیا۔ اس کی خبر مع تصویر شائع ہوئی تھی۔

پھر ایک موقع پر ہم نے وہاں کے قیدیوں کو تبلیغ کا پروگرام بنایا۔ قیدخانہ کے سپرنٹنڈ نٹ اور وہاں حفاظت پر متعین عملہ کے ساتھ تصاویر اور خبر اخبار میں شائع ہوئی تھی۔ کیونکہ قیدیوں کے لئے ہم نے جماعت کی طرف سے قرآن کریم تحفہ دیئے تھےجو گھانا میں ہی شائع ہوئے تھے۔

اسی طرح ریجن میں مسجد کے سنگ بنیاد کی خبر وغیرہ شائع ہونے کے بارے میں خبر بنا کر دی تو انہوں نے شائع کی ۔یہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب بھی خبر دی گئی خدا تعالیٰ کے فضل سے اخبار نے شائع کی۔ ریڈیو اور TVپر وہاں کوئی خبر نہیں آئی۔

سیرالیون میں

اس کے بعد خاکسار کا تبادلہ سیرالیون ہوا اور یہ 1982ء کی بات ہے۔ وہاں بھی اخبار کے ساتھ رابطہ مشکل تھا۔ خاکسار کی تعیناتی مگبورکا شہر میں ہوئی تھی۔ ایک تو یہاں سے کوئی اخبار نہیں نکلتا تھا دوسرے رابطہ کرنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ خاکسار جماعتی خبروں کو البتہ خود شائع کرتا اور جماعتوں میں دے دیتا تھا۔

مثلاً میرے حلقہ میں مگبورکا، مکینی، کبالہ، ماٹاٹوکا، ییلے، مکالی، منگبی، صفادو کا علاقہ تھا۔

کبالہ میں بھی ہمارا سیکنڈری سکول تھا۔ منگبی میں بھی، منگبی میں نصرت جہاں کے تحت مکرم محمد دین صاحب ٹیچرہوتے تھے اور مکرم ڈاکٹر ساجد احمد صاحب ہسپتال کے انچارج۔ کبالہ میں مکرم مبشرپال صاحب پرنسپل تھے ۔

خاکسار نے اپنے علاقہ میں جو کام کیا ہوتا اور جس جس نے کیا ہوتا تھا، مکرم محمد دین صاحب اور مکرم ڈاکٹر ساجد صاحب اور مکرم مبشرپال صاحب سے بیٹھ کر انہیں DICTATE کراتا۔ پھر ان کے سکولوں میں سے ہر ماہ وہ بلٹن شائع کرتے اور جماعت کے سب افراد کو پہنچاتے۔ جن میں لوکل جماعتی خبروں کے علاوہ الفضل سے آمدہ خبریں بھی شامل ہوتی تھیں۔

غالباً 1984ء یا 1985ء کے شروع میں ہم نے مکینی میں سکول قائم کیا اور اس کے پرنسپل مکرم مبارک طاہر صاحب تھے۔ مکرم مبارک طاہر صاحب نے بھی اس سلسلہ میں کافی مدد کی۔ اللہ تعالیٰ سب کو جزا دے۔ آمین

خاکسار 1987ء میں جب امریکہ آیا۔ تو مکرم مولانا عطاء اللہ صاحب کلیم سے ملاقات ہوئی۔ آپ نے اپنے گھر کھانے پر بلایا۔ اور پھر اخبارات کی کچھ فائلیں دکھائیں کہ گھانا میں اور امریکہ میں کام کے دوران انہوں نے جو کام کیااس کی خبریں وہاں کے اخبارات میں شائع ہوتی تھیں ۔ خاکسار اس کام سے بےحد متاثر ہوا۔ ایک CLIPپر انہوں نے بتایا کہ جب گھانا میںمیری یہ تصویر اخبار میں شائع ہوئی تو انہوں نے اپنی رپورٹ کے ساتھ وہ تصویر حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی خدمت میں ربوہ میں بھیجی تو کہنے لگے کہ حضورؒ نے میرے والد صاحب کودفتر بلایا اور وہ تصویر دکھائی کہ دیکھو کلیم صاحب خدا تعالیٰ کے فضل سے کس قدر اچھا کام کر رہے ہیں اب ان کی تصاویر وہاں کے بشپ کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔ اس بات نے بھی مجھے بہت متاثر کیا اور خاکسار نے سوچا کہ میں بھی ان شاءاللہ امریکہ میں پریس کے ساتھ رابطہ کروں گا اور جماعتی خبریں دیا کروں گا۔ اور اس کی کاپی بھی محفوظ رکھوں گا۔

امریکہ میں پریس سے رابطہ

اب یہاں سے اس عزم کا آغاز ہوااور خدا تعالیٰ کے فضل سے گذشتہ 34سالوں میں پریس کے ساتھ رابطے کی میرے پاس 98فیصد کلپس موجود ہیں۔ ہر ایک کی کاپی اپنی ماہانہ رپورٹس کے ساتھ حضرت خلیفۃالمسیح کی خدمت میں وکالت تبشیرلندن اورایک کاپی ہیڈکوارٹر میں بھیجتا ہوں۔

ان اخبارات میں سے کچھ کے بارے میں یہاں ذکر کرنا مناسب خیال کروں گا۔ اس سے قبل یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ پریس میں رابطہ کرنے سے قبل اس کام میں آپ کی ذاتی دلچسپی ہونا ضروری ہے۔جب تک آپ خود دلچسپی نہ لیں گے یہ کام نہیں ہوگا۔ ویسے تو ہر کام جس کو آپ احسن رنگ میں کرنا چاہتے ہیں اس کے لئے دلچسپی کا ہونا ضروری ہے۔ لیکن پریس اور میڈیا سے رابطے کرنے میں یہ ازبس ضروری ہے۔

پھر یہ بھی ہے کہ جس شہر میں آپ رہتے ہیں وہاں کے اخبارات کے نام ، ایڈیٹرز اور ان کا فون، فیکس نمبرز بھی آپ کے پاس ہونے ضروری ہیں۔ اب تو گوگل کریں تو آپ کو سب کچھ پتہ چل جائے گا۔

ایک اور بات یہ بھی ضروری ہے کہ اُن سے دفتر میں جا کر ملیں۔ دو ایک دفعہ انکارہو گا مصروفیت کا کہا جائےگا مگر آپ بھی اُن کا پیچھا نہ چھوڑیں جب تک ملاقات نہ ہوجائے۔ کیونکہ ملاقات کا بہت اچھا اثر ہوتا ہے۔

گذشتہ رمضان کا ذکر ہے کہ یہاںاورمکہ کےنیشنل سیکرٹری امور خارجہ صاحب نے رمضان میں پریس ریلیز نکالا۔ میرے علاقہ ڈیٹرائیٹ کے ایک اہم ریڈیو سٹیشن نے وہ دیکھ لیا اور فوری نیشنل سیکرٹری سے رابطہ کیا کہ ہمیں ڈیٹرائیٹ میں بتائیں کہ آپ کا نمائندہ کون ہے؟انہوں نے فوراً مجھے اُن کا نمبر دیا۔ میں نے کال کی۔ وہ خاتون تھیں اور ہیڈ تھیں اپنے ڈیپارٹمنٹ کی خبروں کے۔کہنے لگیں کہ میں فون پر فلاں وقت آپ سے بات کروں گی اور انٹرویو لوں گی۔ اور یہ سب وہ ای میل کے ذریعہ کہہ رہی تھیں۔ میں نے انہیں ای میل کی کہ میں آپ کے ریڈیو سٹیشن پر آکرانٹرویودینا چاہتا ہوں۔ کہنے لگیں کہ نہیں!فون پر ٹھیک ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں میں آنا چاہتا ہوں۔اس پروہ دوبارہ کہنے لگیں کہ آپ دور سے آئیں گے اور ہم بھی بہت مصروف ہیں۔ میں نے کہا کوئی نہیں آپ اس کی فکر نہ کریں۔ آنا تو میں نے ہے اور آپ کا وقت اتنا ہی لگے گا جتنا آپ فون پر صرف کریں گی۔

خیر!3، 4 ای میلوں کے بعد وہ مان گئیں۔خاکسار نے اپنے ساتھ تین کتب قرآن شریف، لائف آف محمدﷺاور حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے امن کے بارے میں خطبات کا مجموعہ لیا اورعین وقت مقررہ پر اُن کے سٹیشن چلا گیا۔ خاکسار نے اندر کارڈ بھجوایا۔ تو وہ خود مجھے Welcome کرنے اور لینے آئیں۔ انٹرویو ختم ہواجو کہ انہوں نے شام کی خبروں میں دیا۔ اس کے بعد وہ خود ہی کہنے لگیں کہ چلو میں تمہیں اپنے سٹیشن کا وزٹ کراتی ہوں۔ چنانچہ وہ ہر ایک کمرے میں لے کر گئیں اور سارا کام دکھایا۔ انہوں نے لائبریری بھی دکھائی۔ میں نے جھٹ سے جو کتب ساتھ لے کر گیا تھا انہیں لائبریری کے لئے تحفۃً دے دیںجس پر انہوں نے بہت شکریہ ادا کیا۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے ان سے اب تک روابط ہیں۔ یہ صرف جا کر ملنے سے بات بنتی ہے۔ پھر ایک اور ضروری بات یہ ہے کہ جب آپ پریس، ریڈیو، اخبارات اور ٹی وی والوں سے ملیں تو اُن کو اپنا تعارف جماعت کے حوالہ سے کرائیں۔ اپنا بزنس کارڈ دیں اور بتائیں کہ آپ کو جب بھی اسلام کے بارے میں کوئی بات کہنی یا پوچھنی ہو تو مجھے کال کریں۔ پھر خواہ آپ کے پاس خبر ہو یا نہ ہو، اُن سے مسلسل رابطہ رکھیں۔ یہاں تک کہ جوں ہی کوئی بات ہو اُن کے ذہن میں سب سے پہلے آپ آئیں اور اُن کے میز پر آپ کا کارڈ پڑا ہو۔ بے شک کبھی کبھی ان سے فون کر کے انہیں آپ لنچ یا ڈنر پر بھی لے جائیں۔ ان سب باتوں کا بہت اچھا اثر پڑتا ہے۔

جیسا کہ خاکسار نے بتایا ہے کہ امریکہ آکر مکرم مولانا عطاء اللہ صاحب کلیم سے ملاقات پر جب اُن کے جماعتی خبروں کی تفصیل کے کلپس دیکھے تواس نے بھی مجھے متاثر کیا۔ یہاں امریکہ میں میرا سب سے پہلا سٹیشن ڈیٹن تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ڈیٹن میں کام کا آغاز کیا اور پریس سے رابطہ کرنے کی مہم چلائی۔یہاں پر مکرم عبدالشکور صاحب جو ہمارے امریکن بھائی ہیں، انہوں نے بھی اس سلسلہ میں مدد کی۔ فجزاہ اللہ احسن الجزاء۔

جو مجھے یاد پڑتا ہے کہ ہماری سب سے پہلی خبریا اعلان جو ڈیلی ڈیٹن نیوز، اخبار کے صفحہ4-A پر 9؍جولائی 1988ء کو شائع ہوئی وہ Islamic عنوان کے تحت تھی۔اس میں ہم نے یہ لکھا تھاکہ جماعت احمدیہ ڈیٹن حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ مرزا طاہر احمدصاحب کے خطبہ جمعہ کی ایک آڈیو کیسٹ Play کرے گی جس میں جماعت احمدیہ کے عالمگیر روحانی پیشوا نے پاکستان کے ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کو مباہلہ کی دعوت دی ہےاور بعد میں سوال و جواب ہوں گے جو سید شمشاد احمد ناصر مڈویسٹ ریجن کے مشنری دیں گے۔ میرے Clipping کے فولڈر میں یہی پہلی خبر لگی ہوئی ہے۔

اس کے بعد 27؍ اگست ہفتہ 1988ء کے اخبار صفحہ-C 7 پر اس عنوان سے خبر لگی ہے کہ ‘›Zia›s Death seen as sign from Allah›› جس میں جماعت احمدیہ ڈیٹن کے لیڈرز کی طرف سے یہ سٹیٹمنٹ ایشو کی گئی ہے کہ ضیاء کو جماعت احمدیہ عالمگیر کے روحانی پیشوا نے مباہلہ کی دعوت دی تھی جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے نشان دکھایا ہے۔

ڈیٹن ڈیلی نیوز کے علاوہ پٹس برگ کے اخبار New Pittsburgh Courier نے بھی 14؍ستمبر1988ء کو اپنے اخبار میں یہ ہیڈلائن کے ساتھ خبر دی کہ Muslim Sect believes special prayer caused Zia›s plane crash.

اس اخبار نے خاکسار کا انٹرویو لیا تھا جس میں اس نے انٹرویو کے حصے شائع کئے۔

اس کے علاوہ ڈیٹن کا ایک اور اخبار جس کا نام The New Dayton Defender ہے نے اپنی 29؍ستمبر تا 13؍اکتوبر 1988ء کی اشاعت میں ایک مضمون دیا جس کا عنوان یہ تھا: Present Day Pharaoh Perishes Great is Mirza Tahir Ahmad

اس مضمون میں جماعت کے بارے میں مختصراً تعارف اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کا بیان اور حضورؒ کی تصویر شامل اشاعت ہے۔

خاکسار نے جب اس اخبار کی کٹنگ اپنی رپورٹ کے ساتھ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی خدمت میں ارسال کی تو حضور نے اس اخبار کی مزید کاپیاں مجھ سے منگوائیں۔

ان خبروں کے علاوہ یہاں کے اخبارات اور TVمیں ہماری دیگر لوکل مقامی خبریں بھی شائع ہوتی رہیں۔

مثلاً ایک خبر یہ کہ Prophet Muhammad›s Birthday Celebrated at Ahmadiyya Mosque۔ یہ خبر ڈیٹن ڈیفنڈر کی 21؍نومبر تا 8؍دسمبر کی اشاعت میں ہے۔ جس میں ناموں کے ساتھ پروگرام کی تفصیل بھی درج ہے۔

اس کے علاوہ رمضان، عید الفطر، عید الاضحیہ، خلافت ڈے کی خبریں بھی شامل اشاعت ہیں۔

خاکسار نے ڈیٹن کے علاوہ بھی اپنی دیگر جماعتوں کا پریس اور میڈیا سے رابطہ رکھا۔ مثلاً کولمبس اوہایو کے اخبار دی کولمبس ڈسپیچ کی 15؍اکتوبر 1988ء کی اشاعت صفحہ 9-A پر خاکسار کی تصویر کے ساتھ انہوں نے یہ خبر دی کہ

Moslem Sect Looks to Boost Its Rank

اس خبر کے رپورٹر Debra Mason ہیں۔ اس خبر میں خاکسار کا جماعت کے بارے میں انٹرویو ہے۔

ڈیٹن ڈیفنڈر کی 2؍فروری تا 16؍فروری 1989ء کی اشاعت میں خاکسار کا ایک مضمون ’’عالمگیر جماعت احمدیہ‘‘ کے عنوان پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی تصویر کے ساتھ شائع ہوا ہے۔

1989ء کا سال جماعت احمدیہ کی صد سالہ جوبلی کا سال تھا ۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعتی مساعی اور صدسالہ جوبلی کی خبریں بھی اخبارات اور TVکی زینت بنیں۔

چنانچہ اس علاقہ کے ایک اور شہر Murfreesboro کے اخبار دی ڈیلی نیوز جرنل کے صفحہ 6پر 17؍مارچ 1989ء کی اشاعت میں جماعت کے بارے میں تعارف اور سارے سال پر محیط پروگرامز کے بارے میں مختصر معلومات نیز جماعت کی ترقی کا نقشہ دیا گیا ہے۔

صد سالہ جوبلی کے حوالہ سے ہماری خبریں بھی یہاں کے سب سے بڑے اخبار ڈیٹن ڈیلی نیوز نے دل کھول کر دیں۔ یہ یہاں کا سب سے بڑا اخبار ہے۔ مثلاً اس نے آدھے صفحہ سے زائد پر خاکسار کی تصویر مسجد فضل ڈیٹن کی تصویر جب کہ خاکسار ہاتھ میں قرآن کریم پکڑےہوئے مسجد سے نکلتے ہوئے دی۔ مسجد کے باہر پیشانی پر کلمہ لاالٰہ الّا اللہ محمدرسول اللہ اور مسجد کا نام مسجد فضل عمر لکھا ہوا صاف نظر آرہا ہے۔ بدبخت سلمان رشدی بھی خبروں میں آرہا تھا اس کے متعلق بھی اس اشاعت میں خاکسار کا انٹرویو ہے۔

اسی اخبار نے اپنے 15؍مارچ 1989ء کی اشاعت میں خاکسار کا انٹرویو شائع کیا جس میں اسلام کے بارے میں تعارف تھا۔ اس نے مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے کی خاکسار کی تصویر بھی اشاعت میں شامل کی۔

اسی طرح 20؍مارچ 1989ء کی اشاعت میں ڈیٹن ڈیلی نیوز صفحہ 3-Aپر خاکسار کی تصویر کے ساتھ یہ بڑی ہیڈ لائن کے ساتھ خبر دی:۔

Ahmadiyya Muslim To Celebrate Centenary

یہ خبر اور انٹرویو ڈیوڈ کیپل نے لیا اور خبر دی۔

انہی خبروں کو اخبار نے 19؍اپریل 1989ء کی اشاعت 23-11پر دہرایا اور پورے صفحہ کی خبر دی۔

جماعت کی صدسالہ جوبلی کی تقریبات کا اہم حصہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کا جوبلی کے موقع پر پیغام بھی تھا چنانچہ نیو ڈیٹن ڈیفینڈر کی 27؍اپریل کی اشاعت صفحہ 6 پر حضورؒ کا مکمل پیغام حضور کی 3تصاویر کے ساتھ شائع ہوا۔

اسی طرح اس اخبار کی ایک اشاعت میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ گیمبین ویسٹ افریقہ کے ہیڈ آف دی سٹیٹ His Excellency Daood Jawara کے ساتھ تصویر اور خبر کی سرخی یہ ہے۔

Service To Humanity – Keynote of Ahmadiyya Muslim Centenary

ڈیٹن ڈیفینڈر کی 24؍مئی کی اشاعت میں صفحہ 12 پر سہ سرخی کے ساتھ یہ خبر شائع ہوئی ہے:۔

OHIO GOVERNOR PRESENTED WITH THE HOLY QURAN

گورنر اور لیفٹیننٹ گورنر دونوں نے ڈیٹن کا دورہ کیا۔ جب خاکسار کو اس کی اطلاع ملی تو خاکسار نے سیاسی عمائد ین سے رابطہ کیا۔ اور کہا کہ اس موقعہ پر خاکسار کو 3-4 منٹ بولنے کا موقع دیا جائے۔ انہوں نے خاکسار کی بات مان لی۔ اور گورنر اور نائب گورنر کی تقریر کے فوراً بعد مجھے موقع دیا گیا۔ خاکسار نے گورنر اور سیاسی عمائدین کے اس موقعہ پر شکریہ ادا کیا۔ اور دونوں کو قرآن کریم مع انگلش ترجمہ کے پیش کیا۔ خاکسار کے ساتھ ڈیٹن جماعت کے ایک مخلص برادر بشیر احمد صاحب بھی ہیں۔ ہر دو کی قرآن دیتے ہوئے تصاویر بھی اس اخبار نے شائع کیں۔ خاکسار نے جماعت کے تعارف کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کے بارے میں بھی اپنی تقریر میں بتایا۔

اس کے بعد گورنر کی طرف سے خاکسار کو قرآن کریم دینے پر شکریہ کا خط بھی موصول ہوا۔

19؍مئی 1990ء کو ڈیٹن ڈیلی نیوز کی اشاعت میں ہماری ’’ریجنل خلافت ڈے‘‘ کی خبر شائع ہوئی۔ اور اخبار نے سب سے اوپر سورہ نور کی آیت استخلاف کا ترجمہ لکھا پھر ریجنل خلافت ڈے کے بارے میں لکھا کہ احمدی مسلم ڈیٹرائیٹ، کلیولینڈ، پٹس برگ، کولمبس اور ایتھنز اوہایو کے احمدی احباب خلافت ڈے کے لئے جمع ہورہے ہیں۔ اور خاکسار کا بیان شائع کیا۔

نیوز سن-سپرنگ فیلڈ نے اپنی اشاعت 24؍جون 1990ء میں ہمارے جلسہ سالانہ کی خبر دی۔ جو ڈیٹرائیٹ کی ایک یونیورسٹی میں ہونا تھا۔

اسی طرح جلسہ سالانہ کی خبر ڈیٹن ڈیلی نیوز نے بھی 23؍جون 1990ء 5-C کی اشاعت میں دی۔ یہی خبر علاقہ کے ایک اور شہر XENIA کے اخبار ڈیلی گزٹ نے اپنی اشاعت 27؍جون 1990ء صفحہ 5 پر دی۔

یہاں ڈیٹن کے ساتھ ایک اور شہر FAIRBORN ہے یہاں کے اخبار ڈیلی ہیرلڈ نے 27؍جون 1990ء کے اخبار میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ اور خاکسار کی تصویر کے ساتھ آدھے صفحہ سے زائد پر یہ جلسہ کی خبر دی۔ اس میں زیادہ تر جماعت کے بارے میں اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کے بارے میں تفصیل کے ساتھ معلومات دی گئی تھیں اور جلسہ سالانہ کے بارے میں خاکسار نے جو مقصد تھا وہ بیان کیا تھا۔

ڈیٹن میں قیام کے دوران جو کہ 1987ء دسمبر سے 1992ء تک کا عرصہ ہے، میں خاص طور پر جماعتی خبروں کے علاوہ جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے اہم اور تاریخی پروگرامز ہوئے جن میں جماعت کا صد سالہ جوبلی پروگرام اول نمبر پر تھا۔ پھر حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کا جنرل ضیاء کو مباہلہ کےچیلنج کے نتیجہ میں جنرل ضیاء کی ہلاکت اور دیگر سالانہ تقریبات ہیں جن میں سیرت النبیؐ کا جلسہ، خلافت ڈے، رمضان اور عید وغیرہ شامل رہے۔

اس کے علاوہ ان سالوں میں ایک اور اہم بات گلف میں جنگ بھی تھی۔ خاکسار ان دنوں میں بھی یہاں ڈیٹن میں ہی مقیم تھا۔ خاکسار کو گلف میں جنگ کی وجہ سے جماعت کا مؤقف کھول کر وضاحت کے ساتھ بیان کرنے کی توفیق ملی نہ صرف ڈیٹن میں بلکہ اردگرد کے تمام شہروں میں۔ اور تمام اخبارات سے رابطہ کرنے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت کامیابی ہوئی۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ہمیں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی راہنمائی میں ہر چیز مل رہی تھی اور وضاحت کے ساتھ مل رہی تھی۔ حضور ؒ کے خطبات ہی اصل میں سب کچھ سمیٹے ہوتے تھے اس کے علاوہ بھی حضور کی ہدایات مل رہی تھیں۔ اس جنگ کا سب سے بڑا فائدہ تو اسرائیل کو ہونا تھا۔ ڈیٹن ڈیلی نیوز کے 25؍اگست 1990ء کی ایک خبر شائع ہوتی ہے جس میں خاکسار کا ایک انٹرویو ہے اس کی ہیڈ لائن یہ ہے:

Western Role in Mideast Crisis Violates ‘›Koran’’ Muslim Says.

اس خبر کے سٹاف رائٹر کا نام Edwina Blackwell Clark ہے۔ خاکسار کے انٹرویو میں (4/1صفحہ کی پھیلی ہوئی خبر ہے) انہوں نے لکھا کہ جماعت احمدیہ کے لیڈرز ظفر (برادر مظفر نائب امیر مراد ہیں) اور مشنری مڈویسٹ ریجن سید شمشاد احمد ناصر نے بتایا ہے کہ عراق پر کویت کا حملہ درست نہیں تھا۔ ویسٹرن ممالک اور امریکہ کا بیچ میں کودنے سے پہلے مسلمانوں کو چاہیئے تھا کہ آپس میں مل کر اس مسئلہ کا حل نکالتے۔ جو کہ نہیں کیا گیا اور یہ واضح طور پر قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف ہے۔ یہ مسئلہ مسلمانوں کا ہے اور انہیں خود اس کا حل نکالنا چاہیئے۔

ڈیٹرائیٹ کے اخبار The Detroit News نے اپنی 11؍ستمبر 1990ء کی اشاعت میں صفحہ 6 ، ڈیٹرائیٹ نیوز سٹاف رائٹر Don Tschirhast نے لکھا ۔ جماعت احمدیہ کے روحانی عالمگیر پیشوا حضرت مرزا طاہر احمد نے کہا ہے کہ عراق کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر کویت پر کیا گیا قبضہ ختم کرے اور اپنے اختلافات کو ثالثوں کے سپرد کرے جو کہ دوسرے مسلمان ممالک ہوں (یعنی قرآنی حکم کے مطابق اپنا معاملہ دوسرے مسلمان ممالک کے سپرد کرے جو ثالثی کا کام کریں) سٹاف رائٹر نے لکھا کہ ڈیٹن کے ریجنل مشنری شمشاد احمد ناصر نے کہا ہے کہ ان اختلافات کا حل اسلامی تعلیمات میں پہلے سے ہے۔ اُن پر عمل کرنے سے یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے اور اس وقت یہ مسئلہ صرف عرب دنیا ہی کا نہیں بلکہ اس کی لپیٹ میں ساری دنیا آسکتی ہے۔ اس وقت غیر مسلم دنیا سے مدد مانگنا مسئلہ کو اور زیادہ خراب کر دے گا اور یہ اسلامی تعلیمات کےبھی خلاف ہے۔ احمد نے جو کہ لندن میں رہتے ہیں(مراد حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ ہیں) اور 125 ممالک میں رہنے والے کروڑوں احمدیوں کے لیڈر ہیں انہوں نے بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ عراق فوری طور پر کویت کو خالی کرے۔ اور دیگر مسلم ممالک ثالثی کا کردار ادا کریں جو کہ عین اسلامی تعلیمات قرآن کریم کے مطابق ہے۔ اسی طرح آپ نے کہا کہ مغربی طاقتیں خوراک اور ادویات بھی عراق میں پہنچانے میں مدد کریں۔ آپ نے یہ فرمایا کہ یہ بہت بدقسمتی ہے کہ ایک مسلم عرب ملک نے دوسرے عرب مسلم ملک پر قبضہ کرلیا ہے۔

اسی طرح کلیولینڈ میں ہماری پرانی جماعت ہے جس کے صدر مکرم ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ صاحب تھے اور اس وقت وہ نائب امیر امریکہ کے طور پر بھی خدمات بجا لارہے ہیں اُن کی جماعت کا خاکسار نے دورہ کیا۔ وہاں کے اخبار Bedford Times Register نے 13؍ستمبر کی اشاعت صفحہ 5 پر یہ خبر تھی: ۔A World Muslim Leader Suggests Solution to the Persian Gulf Crisis

اس میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی طرف سے ہدایات پر مشتمل پریس ریلیز کو شائع کیا گیا جس میں حضور نے قرآن کریم کی سورۃ الحجرات کی آیات 10-11سے اس مسئلہ کا حل مسلمان ممالک کو بتایا اور راہنمائی فرمائی اور اس کے ساتھ درج ذیل نقاط بھی بیان فرمائے کہ:

(1)عراق فوری طور پر کویت کا قبضہ ختم کرے۔
(2)عراق دوسرے مسلمان ممالک کی ثالثی کو تسلیم کرے۔
(3)عراق اور کویت میں جتنے بھی غیر ملکی پھنسے ہوئے ہیں اُن کو جانے کی اجازت دے۔
(4)اگر یہ بات نہ بھی مانے پھر بھی ادویات اور خوراک کا عراق میں جانا بند نہ کیا جائے۔
(5)اسی طرح سعودی عرب سے تمام غیر ملکی افواج کا انخلاء ہونا چاہیئے سوائے مسلم ممالک کی فوج کے۔
(6)عدل و انصاف سے پورا پورا کام لیا جائے۔ دشمن اور دوست سب کے ساتھ انصاف سے کام لیا جانا چاہیئے۔

مرزا طاہر احمد نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کا ویسٹ بنک پر ظالمانہ قبضہ بھی ایسا ہی ہے جیسا عراق کا کویت پر۔ کسی کو بھی ہوسٹیج نہیں بنانا چاہئے یہ ظالمانہ فعل ہے۔ اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

اسی طرح فیئر بورن ڈیلی ہیرلڈ اپنی 15؍ستمبر 1990ء صفحہ 6 پر یہ خبر دیتا ہے کہ Muslim Leader Suggest Solution to Gulf Crisis

اخبار لکھتا ہے کہ ڈیٹن کے مبلغ شمشاد احمد ناصر جو کہ اس ہمارے اخبار کے لئے بہت زیادہ وزٹ کرتا ہے(خاکسار ان کے دفتر میں خبریں اور پریس ریلیز دینے کے لئےبار بار جاتا تھا) چاہتے ہیں کہ ہمارے امریکن قارئین کو یہ پتہ لگے کہ جماعت احمدیہ کے روحانی لیڈرمرزا طاہر احمد نے کہا ہے کہ گلف کرائسس ہم سب کے لئے ایک بہت پریشان کن مسئلہ ہے۔ کیونکہ دو مدینہ کے مقدس مقامات پر اُن فوجیوں کا قبضہ ہورہا ہے جس سے ان مقدس مقامات کے احترام و تقدیس کو بڑا چیلنج ہے۔

حضرت مرزا نے کہا کہ تمام مسلمان ممالک آپس میں اتحاد کریں اور اپنے مسائل کا حل خود نکالیں اسلامی تعلیمات کے مطابق۔ چنانچہ اخبار نے پوری پریس ریلیز شائع کی ہے۔

اسی طرح علاقہ کے ایک اور اخبار Troy Dailyکی 26؍ستمبر 1990ء کی اشاعت صفحہ 5 پر Julie Shaw سٹاف رائٹر نے خاکسار کا ایک انٹرویو مع تصویرکے شائع کیا۔ یہ قریباً 4/1 صفحہ پر محیط ہے۔ اور اس انٹرویو کا عنوان یہ ہے :

Solution?

اس میں خاکسار نے حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی ہدایت کو بیان کیا ہے۔

اس کے ساتھ پھر کلیولینڈ کے اخبار 20؍ستمبر 1990ء بیڈفورڈ ٹائمز رجسٹر میں بھی ان باتوں کو بار بار دہرایا گیا تاکہ ہر علاقہ کے امریکن عوام کو پتہ چلے کہ جماعت احمدیہ کےروحانی پیشوا کا گلف کرائسس کے بارے میں کیا مؤقف ہے اور جنگ کے جو بادل چھا رہے تھے انہیں کس طرح ٹالا جائے۔

اسی طرح فیئر بورن ڈیلی ہیرلڈ کی اشاعت 20؍ستمبر 1990ء پر خاکسار کا ایک خط شائع ہوا ہے جس میں ان امور کو دہرایا گیا ہے تاکہ جماعت کی آواز گلف کرائسس کے بارے میں ہر جگہ پہنچ جائے۔

کلیولینڈ کے ایک اور بڑے اخبار‘‘دی پلین ڈیلر’’نے 19؍ستمبر 1990ء کی اشاعت میں صفحہ 14Aپر یہ خبر دی:۔

Small Sect Calls for Iraq Pull Out

اس اخبار نے خاکسار کے حوالہ سے گلف کرائسس کے مسئلہ کا حل لکھا اور حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت اسلامی تعلیم کے بارے میں بیان کی۔

اسی اخبار نے اپنی 12؍ستمبر 1990ء کی اشاعت میں مکرم ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ صاحب کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے: Peace For Believer

مکرم ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ صاحب نے اپنے اس مضمون میں سب کو قرآنی تعلیمات کے مطابق موجودہ مسائل کے حل کی طرف توجہ دلائی ہے۔

(باقی آئندہ بدھ ان شاء اللہ)

(مولانا سید شمشاد احمد ناصر ۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 ستمبر 2020