• 29 نومبر, 2021

محترم ڈاکٹرا حتشام الحق صاحب مرحوم

جب میں بہت چھوٹا تھا میرے بچپن کا کچھ حصہ پنجاب اور کراچی میں گزرا۔ لیکن جب میں شعور کی عمر کو پہنچا تو اُس کے بعد میرے بچپن کا زمانہ زیادہ تر محمد آباد اسٹیٹ سندھ میں گزرا۔ خاکسار نے پرائمری تعلیم زیادہ تر وہیں سے حاصل کی۔ وہاں ہمارے پہلے استاد مکرم ماسٹر مولا بخش مرحوم تھے جن کے بڑے صاحبزادے مولانا منیر احمد عارف مبلغ اور استاذ الجامعہ تھے۔ چھوٹے بیٹے مکرم ڈاکٹر محمود احمد طاہر ؔ سیکرٹری امور عامہ جرمنی ہیں مکرم ماسٹر مولا بخش مرحوم بہت نفیس طبع انسان تھے اور گلاب اور چنبیلی کے پھولوں کے دلدادہ تھے۔ مرحوم نے بچپن میں ہمیں آ نحضورﷺ کے حالات ِ زندگی اتنے دلکش پیرائے میں سنائے کہ وہ ہمارےذہنوں میں نقش ہو گئے اور دلوں میں آنحضورﷺ کی محبت کا بیج بویا گیا۔ اللھم اغفر لہ وارفع درجاتہ فی الجنہ۔

آپ کے بعد ہمارے اسکول میں ایک اور استاد متعین ہوئے جن کا اسم گرامی مکرم مولوی غلام حیدر تھا۔ آپ بہت شفیق، دعاگو اور مخلص انسان تھے۔ ہم نے سنا تھا کہ آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا تھا اور یونیورسٹی میں اول پوزیشن حاصل کی تھی۔ لیکن ہم ادب کی وجہ سے اس بارہ میں براہ راست آپ سے استفسار نہیں کر سکے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ آپ ؒ کے پاس احادیث مبارکہ کی کتب اور دیگر دینی کتب، نیز کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور کتب سلسلہ موجود تھیں۔ ایک دفعہ ایک غیر از جماعت عالم دین آپؒ سے حدیث کا علم حاصل کرنے کے لئے محمد آباد اسٹیٹ آیا اور کچھ عرصہ آپؒ سے خصوصی اسباق لیتا رہا۔ آپ ؒ نے اسکول میں ہمیں پہلے سپارہ کا ترجمہ بہت عمدگی سے پڑھایا۔ جب میں جامعہ میں داخل ہوا تو میں نے فارم میں لکھا کہ میں صرف پہلے سپارہ کا ترجمہ جانتا ہوں۔ جب میرا انٹرویو ہوا اور مجھ سے مختلف آیات کا ترجمہ دریافت کیا گیا تو میں نے جو جوابات دیئے اُن کی بناء پر یہ لکھ دیا گیا کہ قریباً سارے قرآن مجید کا ترجمہ مجھے آتا ہے۔ یہ تمام حضرت مولوی غلام حیدر ؒ کی ہی محنت کا کارنامہ تھا کہ آپؒ نے بظاہر تو صرف ایک سپارے کا ترجمہ ہمیں سکھایا تھا۔ لیکن ایسے عمدہ طور پر سکھایا تھا کہ قریباً سارے قرآن مجید کا ترجمہ ہمیں، یا کم از کم خا کسار کو یاد ہو گیا جب میں نے جامعہ احمدیہ میں داخل ہو کر عربی زبان کی تعلیم حاصل کی تو میں حضرت مولوی غلام حیدر کو عربی زبان میں خط لکھا کرتا تھا اور عربی ٍ زبان میں ہی مجھے جواب دیا کرتے تھے۔ بعد میں جب حضرت مصلح موعود ؓ نے وقف ِ جدید کا اعلان کیا تو مولوی صاحب مو صوف نے اپنے آپ کو اس غرض کے لئے پیش کر دیا اور معلم وقف جدید بن کر باندھی ضلع نواب شاہ منتقل ہو گئے۔

اُس زمانہ میں مکرم چوہدری غلام احمد عطاء صاحب اسٹنٹ ایجنٹ تھے۔ آپؒ نے ایم ایس سی اگریکلچر کی تعلیم حاصل کی ہوئی تھی اور ہم نے سنا تھا کہ آپؒ ایم ایس سی کے امتحان میں اوّل آئے تھے۔ لیکن بچپن میں ہم اس بات کی تصدیق نہیں کروا سکے۔ مکرم چوھدری صاحبؒ بہت ہی بارعب، خوش شکل اور شیریں مزاج انسان تھے۔ جماعتی اموال کا آپ کو بے حد درد تھا۔ مجھے یاد ہے کپاس سے لدی ہوئی بیل گاڑیوں کے گزرنے سے کچھ کپاس سڑکوں کے کنارے موجود جھاڑیوں سے چمٹ جایا کرتی تھی۔ مکرم چوہدری عطاء صاحب اپنے ہاتھ سے جھاڑیوں سے چمٹی کپاس کو جمع کیا کرتے تھے۔

ہمارے بچپن میں محمد آباد اسٹیٹ میں بہت سی قابل ِ ذکر شخصیات تھیں لیکن خاکسار اس وقت زیادہ تر مکرم ڈاکٹر احتشام الحق ؒ کا ذکر کرنا چاہتا ہے۔ آپ صرف ہمارے گاؤں محمد آباد اسٹیٹ کے ہی نہیں اِرد گرد کے متعدد دیہات کے بھی روح رواں تھے۔ آپ نے علی گڑھ یو نیورسٹی سے میڈکل کا کوئی کورس کیا ہوا تھا۔ اُس کے بارہ میں آپ نے مندرجہ ذیل دلچسپ واقعہ ہمیں سنایا:۔

کہنے لگے کہ میں کھلنڈا سا طالب علم تھا۔ کھیل کود میں وقت گزار دیا۔ امتحان میں صرف تین دن رہ گئے۔ ایک دن ایک پروفیسر صاحب نے مجھے امتحان کی تیاری کے بارہ میں دریافت کیا تو مَیں نے کہا کہ تیاری تو کوئی نہیں کی۔ امتحان میں صرف تین دن باقی ہیں۔ اب امتحان کی تیاری کرنا تو مشکل ہے۔ یہ سال تو ایسے ہی گزر جائے گا۔ اگلے سال امتحان دوں گا۔ تین دن میں کیا ہوسکتا ہے۔ اس پر پروفیسر صاحب نے کہا۔

Kingdoms can be Conquered in three days

یعنی تین دن میں تو کئی بادشاہتیں فتح کی جا سکتی ہیں۔ پروفیسر صاحب کی اس بات نے مجھے حوصلہ دیا۔ گر میوں کے ایام تھے۔ مَیں نے سوچا کہ علی گڑھ ریلوے اسٹیشن کا ویٹینگ روم سب سے پُر سکون جگہ ہے۔ چنانچہ میں نے وہاں جا کر امتحان کی تیاری شروع کر دی۔ اور بفضلہ تعالیٰ امتحان میں کامیاب ہو گیا۔ خا کسار نے استفسار کیا کہ کیا ریلوے کے ذمہ داران افسران آپ سے پوچھتے نہیں تھے کہ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ علی گڑھ یو نیورسٹی کے طلباء کا اُس زمانہ میں بہت رعب تھا۔ کسی کی مجال نہیں تھی کہ کسی طالب علم سے پوچھے کہ کس کی اجازت سے ویٹینگ روم میں بیٹھے ہوئے ہو؟۔

جیسا کہ مَیں عرض کر چکا ہوں۔ مکرم ڈاکٹر صاحب ہمارے علاقہ کی روح رواں تھے۔ اس زمانہ میں ارد گرد کے بیس تیس میل کے علاقہ میں آپؒ کے سوا کوئی اور ڈاکٹر نہیں تھا۔ لوگ دور دور سے بیل گاڑی پر مریض آپ کے پاس لاتے اور آپ ان کا علاج کرتے۔ بعض اوقات آپ گھوڑے پر سوار ہو کر خود دور دراز کے مریضوں تک پہنچتے اور اُن کا علاج کرتے۔ ایک دفعہ قریباً آدھی رات کو میری آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ڈاکٹر صاحب ایک گھوڑے پر سوار ہیں اور ہمارے میاں جی سے باتیں کر رہے ہیں۔ خاکسار نے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب! آپ کہاں جا رہے ہیں؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ ایک مریض کئی میل دور ہے۔ اس کی خیریت دریافت کرنے جا رہا ہوں مَیں چھوٹا تھا۔ میرے منہ سے نکلا کہ ڈاکٹر صاحب اگر میں آپ کی جگہ ہوتا تو مَیں آدھی رات کے وقت کہیں نہ جاتا۔ ڈاکٹر صاحب یوں گویا ہوئے۔

’’بیٹا !خدا تمہیں کبھی بھی (میڈیکل) ڈاکٹر نہ بنائے۔ وہ بھی کوئی ڈاکٹر ہے کہ مریض مرتا رہے اور ڈاکٹر سویا رہے۔‘‘

یہ تھا ڈاکٹر صاحب کی ہمدردئی خلق کا جذبہ۔ آپ کو اپنے آرام سے زیادہ مریضوں کا فکر رہتا تھا۔ آپ ہر خاندان کے ایک ایک فرد کی طرح تھے۔ محمد آباد اسٹیٹ میں تو کوئی شخص بیمار ہو جاتا تو مکرم ڈاکٹر صاحب دن میں کئی کئی دفعہ اس کی خیریت دریافت کرنے کے لئے اُس کے گھر جاتے۔ اور لمبا عرصہ اُس کے قریب بیٹھے رہتے اور اُسے تسلی دیتے رہتے

گر میوں کے ایام میں گاؤں کے نوجوان چاندنی رات میں مختلف کھیلیں کھیلا کرتے تھے۔ بعض اوقات کھیلتے کھیلتے نوجوان ایکدم بھاگ جاتے اور صرف چند نوجوان میدان میں رہ جاتے۔ اُس وقت پتہ لگتا کہ ڈاکٹر صاحب آ گئے ہیں۔ آپ بظاہر غُصہ سے بولتے کہ اتنی دیر تک یہاں کیا کر رہے ہو ؟ لیکن آپ ایک شفیق انسان تھے اور دل کی گہرائی سے بچوں اور نوجوانوں سے پیار کرتے تھے۔ اگر آپ کسی وجہ سے ڈانٹتے بھی تھے تو کوئی برا نہیں مناتا تھا۔ سب کو پتہ تھا کہ ڈاکٹر صاحب دلی ہمدردی رکھنے والے بزرگ ہیں اور ان کی ڈانٹ بھی شفقت مبنی ہوتی ہے اور آپ ہمیشہ بچوں کی بھلائی چاہتے ہیں۔

مکرم ڈاکٹر احتشام الحق علی گڑھ یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ تھے۔ پاکستان ٹائمز کا مطالعہ کیا کرتے۔ اور کبھی کبھی گاؤں کے دیگر اہل علم اور انگریز دان احباب کے ساتھ کسی انگریزی لفظ پر تبادلہء خیال بھی کیا کرتے تھے۔

حضرت مصلح موعود ؓ کے داماد مکرم میاں عبد الرحیم احمد کے ساتھ آپ کے گہرے برادرانہ تعلقات تھے۔ مکرم میاں عبد الرحیم احمد وکیل الزراعت تھے اور ڈاکٹر صاحب ایک واقفِ زندگی ڈاکٹر ہونے اور محمد آباد اسٹیٹ میں کام کرنے کی وجہ سے مکرم میاں صاحب کے ماتحت تھے۔ لیکن یہ چیز اُن کی باہم محبت میں کبھی بھی مخل نہیں ہوئی۔ ایک دفعہ مکرم میاں عبد الرحیم نے اپنی اچکن مکرم ڈاکٹر صاحب کو تحفتہً پیش کی جسے مکرم ڈاکٹر صاحب نے تبرک سمجھ کر لے لیا۔ ایک دفعہ مکرم میاں صاحب نے محمد آباد اسٹیٹ سندھ جماعتی دورہ پر تشریف لائے تو مکرم ڈاکٹر صاحب نے ایک خاص حلوہ تیار کرا کے مکرم میاں صاحب کی خدمت میں پیش کیا۔

ڈاکٹر صاحب نے ہمیں بتایا کہ ایک دفعہ کسی حکومت کے دور میں ہماری جماعت کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو میں نے ایک خط، اُس وقت کے وزیر اعظم پاکستان کو لکھا اور اُسے کہا کہ خدا تعالیٰ ظالموں کو ہمیشہ سزا دیا کرتا ہے۔ خط لکھ کر پوسٹ کرنے لگا تو مجھے خیال آیا کہ یہ تو امام وقت سے آگے قدم رکھنے والی بات ہے۔ یہ سوچ کر میں نے خط پھاڑ دیا۔ چند دن کے بعد اطلاع آئی کہ وزیر اعظم کو کسی نے قتل کر دیا ہے اگر میں خط پوسٹ کر دیتا تو میری گرفتاری یقینی تھی لیکن آنحضور ﷺ کی حدیث مبارکہ ’’لو لامام جنّہ یُقتلُ اٗو لُقِلتَلُ من ورائہ‘‘ پر عمل کرنے کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے مجھے ایک شدید مشکل میں گرفتار ہونے سے محفوظ رکھا۔

ڈاکٹر صاحب نے ایک واقعہ سنایا جو مجھے آج تک یاد ہے۔ اِس واقعہ میں بھی بھلائی کا ایک سبق موجود ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے جو واقعہ سنایا وہ کچھ یوں ہے :۔

ایک مشہور وکیل صاحب تھے۔ اُن کا ایک نوکر تھا جس کا نام تو نور محمد تھا۔ لیکن اُسے ’’نرواؔ‘‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ ’’نرواؔ‘‘ ان پڑھ تو تھا ہی لیکن اُس کے دل میں علم حاصل کرنے کی شدید خواہش تھی۔ وہ گھر کے کام کاج سے فارغ ہو کر ایک قاعدہ لے کر بیٹھ جاتا اور کسی سے کچھ پوچھ کر یاد کر لیتا۔ اِس طرح ہوتے ہوتے اُس نے پرائمری تک تعلیم مکمل کر لی۔ پھر اس کے دل میں مزید علم حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوئی اور اُس نے مڈل کی کتابیں لے لیں اور فارغ وقت میں پڑھنے لگا۔ ایک دن وہ کسی کتاب کو پڑھنے میں مصروف تھا کہ وکیل صاحب نے اُسے آواز دی۔

ابے اوئے نُروے! ادھر آ۔ نُروےؔ نے کہا جی ابھی آتا ہوں۔ اُس کے بعد پھر کتاب کے مطالعہ میں مصروف ہو گیا۔ کچھ دیر کے بعد وکیل صاحب نے غصہ سے کہا:۔ ابے اوئے نروےؔ ! تونے کون سا وکیل بن جانا ہے۔ اِدھر آ! نُروا « آ گیا اور وکیل صاحب کا کام کر کے آ گیا۔ پھر اُس کے دل میں سوال پیدا ہوا کہ میں کیوں وکیل نہیں بن سکتا؟۔ مجھ میں اور وکیل صاحب میں کیا فرق ہے؟ میں بھی تو اُ نہی کی طرح کا انسان ہوں۔ چنانچہ اُس نے وکیل بننے کا تہیہ کر لیا۔

نروےؔ نے نوکری کے دوران ہی محنت سے، پڑھے لکھے لوگوں سے پوچھ پوچھ کر پہلے مڈل اور پھر میٹرک کا امتحان پاس کر لیا

اُس کے بعد نوکری چھوڑ کر شہر چلا گیا۔ وہاں جا کر پرائیویٹ طور پر امیر لوگوں کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتا اور گزر بسر کرتا اور ساتھ مزید تعلیم حاصل کرنے کی تگ ودو کرتا۔ ہوتے ہوتے اُس نے، ایف اے پھر بی اے کا امتحان بھی پاس کر لیا اور ا،س طرح وکیل بننے میں کامیاب ہو گیا۔

کئی سال بعد اُس نے سوٹ پہنا، ٹائی لگائی اور اُسی وکیل کے پاس چلا گیا جس کے پاس وہ نوکری کرتا تھا۔ وکیل صاحب نے کہا کہ میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔ وہ بولا کہ جناب آپ کا وہی پرانا خادم ’’نرواؔ‘‘ وکیل صاحب نے اُسے گلے لگا لیا اور پیشکش کی کہ میرے پاس قانون کی کتابیں موجود ہیں تم جب چاہو ان سے استفادہ کر سکتے ہو۔

اِس طرح وہ ’’نرواؔ‘‘ نور محمد ایڈو کیٹ بنا اور عزت سے زندگی گزارنے لگا۔ اس واقعہ میں ایک سبق پوشیدہ ہے کہ انسان اگر محنت کرے تو بہر حال ترقی کر کے اپنی زندگی سنوار سکتا ہے۔

محترم ڈاکٹر صاحب کے بچے تعلیم حاصل کر کے بڑے بڑے عہدوں تک پہنچے۔ آپ کا ایک بیٹاسی۔ایس۔پی آفیسر بن کر ریٹائر ہوا۔ آج مکرم ڈاکٹر صاحب کے بچے پاکستان کے علاوہ، انگلینڈ۔، جرمنی، امریکہ اور کینیڈا وغیرہ ممالک میں آباد ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کی نصائح پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔ نیز ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی سعادت عطا فر مائے۔ اللھم آمین۔

(ڈاکٹر محمد جلال شمسؔ انچارج ٹرکش ڈیسک لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 ستمبر 2021

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ