• 27 اکتوبر, 2020

اچھے کپڑے پہننا

’’صاف ستھرا رہنے یا اچھے کپڑے پہننے سے ہرگز یہ مراد نہیں ہے اور یہ خیال دل میں نہیں آنا چاہئے کہ اپنے سے مالی لحاظ سے کم تر کسی شخص کے ساتھ نہ بیٹھوں۔ اگر یہ صورت ہو گی تو پھر تکبر ہے۔ ورنہ اچھے کپڑے پہننا اور صاف ستھرا رہنا، اچھے جوتے پہننا یہ تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا اظہار ہے۔ اور اگر تکبر ہو گا تو تب فرمایا کہ ایسے شخص کے لئے پھرجنت کے دروازے بند ہیں۔ اس لئے مومن اور دنیا دار میں یہی فرق ہے کہ وہ صاف ستھرا رہتا ہے، اچھے کپڑے پہنتا ہے اچھے جوتے پہنتا ہے اپنے گھر کو سجا کر رکھتا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو خوبصورتی پسند ہے یعنی اس کا یہ ظاہری خوبصورتی کا اظہار بھی اللہ تعالیٰ کی خاطر ہے، اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہے اور کیونکہ مومن کا یہ اظہار اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہے۔ اس لئے غریب آدمی کے ساتھ مالی لحاظ سے اپنے سے کم بھائی کے ساتھ بیٹھنا اٹھنا اس کا پاس لحاظ رکھنا یہ بھی اس کے لئے ایسا ہی ہے جیسا کسی مالدار شخص کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اس کا پاس لحاظ کرنا ہے۔

یہ ہے اسلامی تعلیم کہ تم خداتعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کا اپنے ظاہری رکھ رکھاؤ سے اظہار بھی کرو لیکن اس کی دی ہوئی تعلیم کے مطابق ان غریبوں کا بھی خیال رکھو تاکہ ان کا ایک بھائی کی حیثیت سے حق پورا ادا ہو۔‘‘

(خطبہ جمعہ 23؍ اپریل 2004ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 اکتوبر 2020