• 23 اکتوبر, 2020

آدمی تُم بھلا سا لگتے ہو

آج کُچھ دلرُبا سا لگتے ہو
سچ کہوں پارسا سا لگتے ہو
ایک مدّت کے بعد آئے ہو
آشنا، آشنا سا لگتے ہو
اک فسانہ لکھا ہے چہرے پہ
شعر اک ان کہا سا لگتے ہو
ایسا دلکش کلام کرتے ہو
نغمۂ جاں فزا سا لگتے ہو
جیسے گلشن کا پھول ہو کوئی
خوشنُما خوشنما سا لگتے ہو
تم سے ملنے میں اتنی دیر ہوئی
لمحہ صبر آزما سا لگتے ہو
دیکھ پایا تمہیں جو غصّے میں
آتشِ زلزلہ سا لگتے ہو
جان حق پر نثار کرتے ہو
اُس گھڑی کربلا سا لگتے ہو
نرم ہو دل کے یوں تو ہیرا ہو
اور تراشا ہوا سا لگتے ہو
جانے کیوں آج تُم ذرا چُپ ہو
کُچھ ہُوئے سانحہ سا لگتے ہو
بدگُمانی نہیں کوئی طارق
آدمی تُم بھلا سا لگتے ہو

(ڈاکٹر طارق انور باجوہ۔ لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 اکتوبر 2020