• 27 اکتوبر, 2020

حضرت مرزا امیرالدين صاحب رضی اللہ عنہ

حضرت مرزا امیرالدين صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام

آج خاکسار اپنی پڑدادی جان محترمہ امّ سلمیٰ صاحبہ کے والدمحترم حضرت مرزا امیرالدين صاحب رضی اللہ عنہ کی سيرت کے چند واقعات ان کی وفات کے 88 سال کے بعد پہلی بار احباب جماعت کی خدمت ميں پيش کرنے کی توفيق پا رہاہے ۔

اس سلسلے ميں خاکسار نے خودتحقیق کر کے کچھ معلومات اکٹھی کی ہیں۔ خاکسار پہلی دفعہ کچھ لکھنے کی توفیق پا رہا ہے امید ہے کہ قارئین الفاظ یا جملوں کی غلطی سے صرف نظر فرمائیں گے ۔

خاکسار ان تمام بزرگان کا تہہ دل سے شکر گذار ہے جنہوں نےميرے ساتھ تعاون کيا اور اپنا قیمتی وقت دیا۔ اللہ تعالی ان تمام افراد کو جزائے خيرعطا کرے۔ آمين ثم آمين۔ خاکسار کو بھی دعاؤں ميں ياد رکھيں۔

حضرت مرزا امیرالدين صاحب رضی اللہ عنہ کی پيدائش 1862ء ميں ہوئی ۔ آپ کا تعلق مغل چغتائی قوم سے تھا۔ آپ کے آباؤاجداد مغلیہ دور ميں بہت بڑے عہدوں پر فائز تھے جو دہلی سے آ کر گجرات شہرميں رہائش پذير ہوئے۔ آپ کا تعلق گجرات کے گاؤں ديونا سے تھا ۔آپ کا قد لمبا اور رنگ سفيد تھا۔ صورت نورانی ،داڑھی چھوٹی تھی۔ سر پر پگڑی رکھتے تھے۔ تہہ بند پہننا پسند کرتے تھے۔ اللہ تعالی نے ان کی آواز ميں بڑا اثر رکھا تھا۔ لوگوں ميں بھی ان کا بڑا احترام تھا۔ آپ کے آ جانے پر لوگ احترام سے کھڑے ہو جايا کرتے تھے۔ لوگ اور گھر والے آپ کو مياں جی کے نام سے بلايا کرتے تھے۔

آپ نے 16 فروری 1892 کو حضرت مسیح موعود عليہ السلام کی بيعت کا شرف حاصل کيا جس کا ذکر تاريخ احمديت جلد اول صفحہ نمبر 359 ، نمبر257 پر موجود ہے۔ اس میں آپ کا نام اس طرح لکھا ہے : ’’امیر الدین ولد میاں امام الدین ٹھیکیدار ساکن گجرات‘‘۔ بيعت کرنے کے لئے آپ نے گجرات سے قاديان کا پيدل سفر اختيار کيا ۔ بيعت کرنے سے قبل بھی آپ تعلق باللہ رکھتے تھے اور مسجد سے ایک گہرا لگاؤ اور عشق تھا ۔ جسےقبول احمدیت نے چار چاند لگا دیئے ۔

احمدیت قبول کرنے سے قبل آپ جس مسجد ميں نماز کی ادائیگی کے لئے جايا کرتے تھے وہاں کے لوگوں نے اعتراض کرنا شروع کر ديا کہ اب تم يہاں نماز نہيں پڑھ سکتے کيونکہ تم مرزائی ہو گئے ہو ۔ جس پر آپ نے فرمايا يہ خدا کا گھر ہے تم لوگ مجھے نماز پڑھنے سے نہيں روک سکتے اور کہا کہ چاہو تو مجھے نماز پڑھتے ديکھ لو کہ ميری نماز وہی ہے جو تمہاری ہے۔ چونکہ احمديت قبول کرنے سے قبل لوگوں کے دلوں ميں ان کا عزّت و احترام تھا تو انھوں نے آپ کو نماز پڑھنے کی اجازت دے دی۔

پيشے کے اعتبار سے آپ ٹھیکیدار تھے۔ تعميرات کا کام زيادہ کرتے تھے۔ آپ کی نواسی مرحومہ امۃ الحئ صاحبہ بنت امّ سلمیٰ صاحبہ نے خاکسار سے بارہا دفعہ بيان فرمايا کہ وزيرآباد کا پہلا پل بھی آپ کی زير نگرانی تعمیر ہوا ۔ آپ Military Contractor اور General supplier بھی تھے ۔

آپ مزید فرماتی ہیں کہ حضرت شیخ الہٰی بخش صاحب اور شیخ رحیم بخش صاحب رضی اللہ عنھم آف گجرات (جن کا تعلق میرے ننھیال سے تھا) نے میرے پڑ دادا جان حضرت ملک عطااللہ صاحب رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ اپنے رشتہ کے لئے اپنی بہن فاطمہ بی بی کو مرزا امير الدين کے گھر بھیجو۔وہ احمديت کا شیدائی ہے۔ اس طرح حضرت ملک عطاء اللہ صاحب کا رشتہ امّ سلمیٰ صاحبہ سے طے پایا۔

عبادات میں شغف اور ہمدردی خلق

آپ عبادت کی غرض سے رات 12 يا ايک بجے اٹھ جايا کرتے تھے اور مسجد کا رخ کرتے، تہجد پڑھتے اور صبح کی نماز تک وہاں رہتے اور پھر سير کے لئے نکل جاتے۔

آپ بہت سخی اور رحم دل تھے۔ بڑوں کی عزّت اور احترام پر زور ديا کرتے تھے اور فرمايا کرتے تھے کہ بڑوں کی عزّت کرو توہين نہ کرو۔ غلط بات کو سخت ناپسند کرتے۔ کوئی بات غلط دیکھتے تو کڑک کر بولتے۔ ديانتدار اس قدر کہ اگر ذرا سا شک پڑ جاتا تو اس چيز کو ہاتھ سے پرے کر دیتے۔
آپ نے خاندان ميں مالی طور پر کمزور رشتے داروں کی بڑھ چڑھ کر امداد کی۔ بزرگوں کی صحبت ميں بیٹھنے کا شوق تھا۔ علم کے ساتھ بے حد لگاؤ تھا۔ حضرت مسیح موعود عليہ السلام کی ساری کتب اپنے پاس رکھتے اور خاندان کے افراد کواور اپنے حلقہ احباب کو جن ميں فوجی، سويلين، ٹھيکيدار اور بزنس مين شامل تھے پڑھنے کے لئے ديتے۔

خالد احمديت حضرت ملک عبدالرحمٰن خادم صاحب (امير جماعت گجرات) نے آپ کے جماعت سے عشق کا ذکر کرتے ہوئے ميرے دادا جان مرحوم محترم ملک بشارت ربّانی صاحب سے فرمايا: بشارت تمہارے نانا کی تمہیں ايک بات بتاؤں۔پھر فرمايا: جلالپورجٹاں گجرات ميں بڑے مناظرے آريوں ہندؤوں کے ساتھ ہوتے تھے۔ وہاں مخالفت ميں اینٹیں اور پتھر بھی چلتے تھے۔ ايک بار ميں نے وہاں جانا تھا ۔جمعہ کی نماز ميں ميں نے اعلان کيا کہ احباب دعا کريں ميں مناظرےکے ليے جا رہا ہوں ۔ جاتے ہوئے مجھے راستے ميں محسوس ہوا کہ چھڑی کے سہارے کوئی پیچھے پیچھے آرہا ہے۔ مڑ کر ديکھا تو تمہارے نانا تھے جن کی عمر اس وقت 70 برس کے قريب تھی۔ ميں نے پوچھا بابا جی کوئی کام ہے کہنے لگے نہيں ۔ اور کہا عبدالرحمٰن ميرا دل چاہتا ہے کہ ميں بھی اینٹیں روڑے کھاؤں۔ مجھے بھی وہاں جانا ہے۔ ميں نے کہا آپ واپس جائيں ميں جو کھانے جا رہا ہوں آپ کی طرف سے بھی کھا لوں گا۔ اتنا عشق تمہارے نانا کو جماعت سے تھا۔

خدا سے محبت کے انداز کا ایک عجیب واقعہ

ميرے دادا جان مرحوم نے فرمايا کہ اللہ تعالی آپکی بہت دعائيں سنا کرتا تھا۔ ايک دفعہ آپ کے چھوٹے بھائی کا بيٹا بيمار ہو گيا اکيس روز گزر گئے۔ بخار اتر نہیں رہا تھا ۔ايک روز ان کا بھائی پريشان حالت ميں آپ کے پاس آيا اور درخواست کی کہ دعا کريں بچہ کی حالت زیادہ خراب ہو رہی ہے ايسا نہ ہو کہ اسے کچھ ہو جائے ۔ دعا کريں کہ يہ وقت گذر جائے۔ آپ نے کوئی بات نہيں کی۔ گھر کے اندر آ ئے وضو کیا اور پھر جائے نماز پر ايک پاؤں پر کھڑے ہو گئے اور دعا مانگنی شروع کر دی اور پیار کے انداز میں کہا کہ اے اللہ ! ميں سجدے ميں اس وقت جاؤں گا جب يہ آواز آئے گی کہ قدير (بھائی کا بيٹا) ٹھيک ہو گيا ہے۔ اور اسی طرح کھڑے رہے ۔گھر والے گھبرا گئے کہ يہ خود بھی اتنے کمزور ہيں گر نہ جائیں ۔ تھوڑی دير کے بعد چھوٹا بھائی آيا اور اس نے بتايا کہ قدير اب ٹھيک ہے پھر آپ نے پاؤں نيچے لگايا اور سجدے ميں گر گئے۔

یہ آپ کا خدا سے محبت اور ناز کا ایک خاص اپنا الگ انداز ہے ۔ بعض اوقات انسان اپنے پیارے خدا سے پیار میں بڑھنے کے لئے نخرے بھی کرتا ہے جیسا کہ ایک سچا دوست دوسرے دوست سے ناز کا تعلق رکھتا ہے ۔ چنانچہ حضرت پیر سراج الحق نعمانیؓ صاحب بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ انہوں نے حضرت مسیح موعودؑسے نماز میں لذت اور شوق پیدا کرنے کے متعلق سوال کیا۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا:
’’کبھی مکتب میں پڑھے ہو۔ عرض کیا جی ہاں پڑھا ہوں۔ فرمایا کبھی استاد نے کان پکڑائے ہیں۔ عرض کیاہاں پکڑائے ہیں۔ فرمایا : پھر کیا حال ہوا۔ عرض کیا کہ میں پہلے تو برداشت کرتارہا اور جب تھک گیا اور ہاتھ پیردُکھ گئے اور درد ہو گیا اور پسینہ پسینہ ہو گیا تو رو پڑا اور آنسو جاری ہو گئے۔ فرمایا پھر کیا ہوا عرض کیا پھر استاد کو رحم آگیا اور کان چھڑا دیئے اور خطا معاف کر دی پھر پیار کیا اور کہا جا ؤپڑھو۔ فرمایا یہی حالت نماز میں پیدا کرو۔ جس قدر دیر لگے اتنی دیر نماز میں لگاؤ اور اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ زیادہ پڑھو اور اس قدر پڑھو کہ ہاتھ پیر اور بدن دکھ جاوےتو کچھ اپنی جان پر رحم آوے گا اور کچھ تھکان ہو گا اور پھر خدا تعالیٰ کے رحم پر نظر ہو گی۔ اس کے بعد خدا بھی رجوع برحمت ہو گا اور دریائے رحمت الہٰی جوش مارے گا پھر حضور اور خشوع و خضوع اور لذت اور ذوق و شوق پیدا ہو جائے گا۔

(تذکرۃ المہدی، ص150)

ميرے دادا جان مرحوم مزید فرماتے تھے کہ آپ کو تعبيرالرؤيا ميں بھی خاص ملکہ حا صل تھا ۔ اللہ تعالی کا خاص فضل تھا۔ ايک لڑکی آپ کے محلے ميں رہتی تھی۔ وہ اپنے شوہر کی طرف سے پريشان رہتی تھی۔اس کا شوہر نہ اس کو بساتا تھا نہ چھوڑتا تھا۔ ايک روز اس کی ماں آپ کے پاس آئی اور ايک خواب سنائی جو کہ لڑکی نے ديکھی تھی۔ آپ نے فرمايا مبارک ہو گھر جاؤ تمہارا داماد تمہاری بيٹی کو لينے آيا ہے۔ وہ گھر گئی تو ديکھا داماد آيا ہوا تھا اور وہ اس کی بيٹی کو ساتھ لے گيا۔

ايک دفعہ ايک شخص حضرت مرزا امیرالدين صاحب کو راستے ميں ملا اور کہا کہ ميں نے خواب ميں ديکھا ہے کہ چودھويں کا چاند نکل آیا ہے انھوں نے فرمايا: جاؤ جاؤ قاديان ۔ چودھويں کا چاند نکل آيا ہے ۔ ميں جا کر بیعت کر آیا ہوں۔

آپ کی نواسی مرحومہ امۃ الحئ صاحبہ نے خاکسار کو بتايا کہ حضرت مرزا امیرالدين صاحب اپنے نواسےکرنل ملک اعجاز ربّانی صاحب مرحوم کو بچپن ميں کہا کرتے تھے: ميرا جج بادشاہ ۔اللہ تجھے جج بنائے۔ بعد ميں محترم اعجاز رباّنی صاحب فوج ميں کرنل کے عہدے تک پہنچے اور ريٹائرمنٹ کے بعد واپڈا ميں کام کرتے رہے اور دونوں جگہ آپ کے پاس مقدمات آيا کرتے تھے ۔

آپ نے دو شادياں کيں۔ پہلی بيوی سے آپ کے دو بيٹے ڈاکٹر محمد حاذق صاحب اور جناب مرزا محمد صادق صاحب تھے۔ ڈاکٹر محمد حاذق ڈاکٹر برائے حيوانات کی حیثيت سے مہاراجہ کشمير کی ملازمت کرتے تھے۔ جناب مرزا محمد صادق صاحب فوج ميں اکاؤنٹنٹ تھے۔

پہلی بيوی کی وفات کے بعد آپ نے ريشم بی بی صاحبہ سے شادی کی۔ آپ کے بطن سے تين بیٹے سیٹھ عبداللہ صاحب، مرزا عنایت اللہ صاحب
مرزا رحمت اللہ صاحب اور تين بیٹیاں امّ سلمیٰ صاحبہ، سعادت صاحبہ اور مبارکہ صاحبہ تھیں۔

آپ کی وفات يکم مارچ 1932 ميں ہوئی۔ آپ خدا تعالی کے فضل سے موصی تھے۔ آپ کا جنازہ قاديان لے جايا گيا اور بہشتی مقبرہ ميں تدفين ہوئی۔

اللہ تعالی آپ کی روح پر ہزاروں برکتيں و رحمتيں نازل فرمائے اور آپ کی نيکيوں کو آپ کی نسلوں ميں ہميشہ جاری فرمائے (آمين ثم آمين)۔

(مرسلہ:مبارز احمد ربّانی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 اکتوبر 2020