• 27 اکتوبر, 2020

صاحبان علم کی کہکشاں

دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایاّم تو
صاحبان علم کی کہکشاں

پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ خاکسار کے لئے سیکھنے کے جو مواقع تھے وہ کم ہی لوگوں کو میسر آتے ہیں۔ بچپن قادیان میں گزرا محلہ میں متعدد صحابہ کرامؓ موجود تھے جن کی بزرگی اور شفقت کی یاد آج بھی خوشی کی لہر پیدا کر دیتی ہے ۔حضرت مولوی شیر علی صاحبؓ جیسے فرشتہ انسان ہمارے گھر سے چند قدم پر رہتے تھے۔ حضرت میر محمد اسماعیل صاحبؓ بھی قریب ہی تھے ان دونوں بزرگوں کی خوبیوں پر تو کئی صفحات لکھے جا سکتے ہیں لیکن پھر میں اپنے مضمون یا دعا کی درخواست سے دور نکل جاؤں گا۔ ہمارے محلہ کے صدر صاحب بھی تو ایک صحابی حضرت چوہدری سر بلند خان صاحبؓ تھے جو ہمارے ایک بہت کامیاب مربی مکرم محمد اجمل صاحب کے والد بزرگوار تھے۔ ہمارے محلے ’دارالفتوح‘ کی صدر صاحبہ حضرت مولوی شیر علی صاحبؓ کی بیٹی محترمہ خدیجہ صاحبہ تھیں۔ ان سے پہلے ایک اور بزرگ خاتون صدر لجنہ تھیں۔ سارا محلہ انہیں پھوپھی جی کہتا تھا وہ مشہور صحابی قاضی محمد عبداللہ صاحبؓ، قاضی عبدالرحمان صاحب ؓکی ہمشیرہ تھیں۔ میری بڑی بہن امۃ اللطیف صاحبہ بہت چھوٹی عمر سے لجنہ کے کام کرنے لگی تھیں اورمذکورہ دونوں بزرگ خواتین کی سیکرٹری تھیں۔ اس لئے اس خاکسار کو بھی ان بزرگوں کے ہاں آنے جانے کے بہت مواقع ملتے تھے۔

خاکسار نے کلام پاک پڑھنا شروع کیا تو حضرت مصلح موعود ؓ سے ’بسم اللہ‘ کروانے کی درخواست کی گئی جو الحمد للہ منظور ہوئی اس طرح اس جاہل کی تعلیم میں حضرت مصلح موعود ؓجیسی عظیم شخصیت بھی شامل ہو گئی گو بعد میں تو ’کلام محمود‘ اور آپ کی شاندار علمی تصانیف سے بہت کچھ پڑھا اور سیکھا۔ قرآن مجید تو ہم سب بہن بھائیوں کو ہماری والدہ محترمہ آمنہ بیگم صاحبہ نے پڑھایا اور اس پیار سے پڑھایا کہ ہمیشہ کے لئے پڑھنے کی لگن لگ گئی۔

تعلیم الاسلام پرائمری سکول میں داخلہ ملا۔ ابتدائی اساتذہ ماسٹر شاہ محمد صاحب، ماسٹر نواب دین صاحب، ماسٹر عبدالعزیز صاحب، ماسٹر حسن محمد صاحب، ماسٹر اللہ بخش صاحب تھے۔ ابتدائی تین اساتذہ تو سائیکلوں پر قریبی گاؤں تلونڈی سے پڑھانے آتے تھے۔ پانچویں جماعت کے بعد چھٹی جماعت میں جانے کی خوشی میں یہ امر بھی شامل تھا کہ اب ہم تعلیم الاسلام ہائی سکول کی عظیم الشان عمارت میں جایا کریں گے۔ ہماری یہ خوشی چند روزہ ہی ثابت ہوئی کیونکہ انہیں دنوں تعلیم الاسلام کالج شروع ہو گیا اور اس عالی شان عمارت میں کالج کی تعمیر شروع ہو گئی اور ہم واپس اسی سکول میں آگئے جسے پہلے پرائمری سکول کہا جاتا تھا اور بعد میں کچھ نئی عمارت کی تعمیر کے بعدوہی عمارت ہائی سکول میں تبدیل ہوگئی۔ ہائی سکول میں اس زمانہ میں ایسے مشاہیر اساتذہ تھے کہ جو قادیان یا سکول ہی نہیں بلکہ علمی دنیا میں بھی کمال کو پہنچے ہوئے تھے ۔ سب اساتذہ کے نام تو شاید یاد نہ آئیں مگر ماسٹر چراغ محمد صاحب،ماسٹررحمانی صاحب، چوہدری عبدالرحمان صاحب، چوہدری اللہ بخش صاحب، المعروف زراعتی صاحب اور مرزا احمد شفیع صاحب کے اسماء گرامی فوری طور پر ذہن میں آجاتے ہیں۔ ان کی شفقتوں کا ذکر بھی تفصیل کا تقاضا کرتاہے، تاہم دعا کی درخواست کے لئے تو اس سے زیادہ لکھنا شاید مناسب بھی نہ ہو کیونکہ یہ نام اتنے معروف اور ان کی خوبیاں اتنی زبان زدِعام ہیں کہ ان کے شاگردوں کے سامنے ان سب بزرگوں کی تصویریں اور خوبیاں ایک رنگین فلم کی طرح آتی چلی جائیں گی۔

ہائی سکول کے اساتذہ میں حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب ؓکا ذکر بھی نمایاں ہے ۔ خاکسار ان سے براہ راست کسب فیض اور استفادہ نہیں کر سکا تاہم ان کا نظم و ضبط،خوش خلقی اور صفائی و نفاست بے مثال تھی۔ ان سے پہلے اس منصب پر پر حضرت سید سمیع اللہ شاہ صاحب ؓ تھے جو اپنی بزرگی اور نیکی کی وجہ سے بہت بلند مقام رکھتے تھے۔

خاکسار نے آٹھویں جماعت تک تو تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں تعلیم حاصل کی اس کے بعد مدرسہ احمدیہ میں پڑھنے یا زندگی وقف کرنے کی توفیق ملی۔ اس مدرسہ کے پہلے ہیڈ ماسٹر حضرت مصلح موعود ؓ تھے ۔حضرت مرزا بشیر احمدصاحبؓ قمرالانبیاء سے بھی اس درسگاہ نے استفادہ کیا۔ حضرت میر محمد اسحٰق صاحبؓ بھی اس مدرسہ کے ہیڈ ماسٹر رہے۔ خاکسار نے حضرت مولوی عبدالرحمان جٹ صاحب ؓکو بھی اس مدرسہ کا ہیڈ ماسٹر دیکھا ۔ جٹ صاحب درویشی کے زمانہ میں ناظر اعلیٰ صدر انجمن قادیان اور امیر جماعتہائے ہندوستان کے بلند منصب پر فائز ہوئے۔ خاکسار کے والد بزرگوار مکرم میاں عبدالرحیم صاحب دیانت بھی درویشی کی سعادت سے بہرہ ور تھے اس لئے خاکسار کو بکثرت قادیان جانے اور حضرت مولوی جٹ صاحب کی شفقت سے حصہ لینے کا موقع ملتا رہا ۔ مدرسہ احمدیہ کے اساتذہ میں مولوی محمود خلیل صاحب (غالباََ بعد میں وہ اپنا نام محمود سکندر لکھنے لگے تھے) مرحوم جوانی کی عمر میں ہی اچانک راہی ءملک عدم ہو گئےتھے۔مکرم مولوی محمد شریف امینی صاحب ۔ مکرم مولوی محمد حفیظ بقا پوری صاحب۔ مکرم ماسٹر غلام حیدر صاحب کے نام نمایاں تھے۔

خاکسار کے زمانہء تعلیم میں مدرسہء احمدیہ میں چار سال کا نصا ب تھا۔ پھر جامعہ احمدیہ میں چار سال کی تعلیم تھی ۔ ربوہ میں کچھ عرصہ جامعۃ المبشرین کے نام سے الگ درسگاہ بھی شروع ہوئی تھی۔آجکل جامعہ احمدیہ جونیئر اور جامعہ احمدیہ سینیئر کے نام سے یہ درسگاہیں مشہور ہیں اور ان کی شاخیں دنیا بھر میں پھیل چکی ہیں۔ جامعہ احمدیہ میں ہمارے بزرگ اساتذہ میں حضرت مولوی ظہور حسین صاحبؓ مجاہد بخارا، حضرت قاضی محمد نذیر صاحب، حضرت قریشی محمد نذیر صاحب، حضرت مولوی عطاء الرحمان صاحب، حضرت مولٰنا ابوالحسن قدسی صاحب، حضرت ماسٹر غلام حیدر صاحب، حضرت مولوی شہزادہ خان صاحب شامل تھے۔ حضرت مولٰنا ابو العطاء صاحب جامعہ کے پرنسپل تھے۔ جامعۃ المبشرین کے ادارہ میں پہلے کوئی پرنسپل نہیں تھے۔ حضرت مصلح موعود ؓ مختلف اساتذہ کو تین ماہ کے لئے ’سیکرٹری جامعہ‘ کے نام سے مقرر فرماتے تھے جو پرنسپل کے فرائض سر انجام دیتے تھے۔

جامعہ المبشرین کے پہلے باقاعدہ پرنسپل حضرت مولٰنا ابوالعطا صاحب مقرر ہوئے تھے اور اتفاق سے یہ وہی سال تھا جب خاکسار مولوی فاضل کرنے اور جامعہ احمدیہ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد جامعہ المبشرین میں داخل ہوا۔گویا خاکسار جامعہ احمدیہ میں تھا تو وہاں استاد محترم مولٰنا ابولعطا صاحب پرنسپل تھے اور جب جامعۃ المبشرین میں داخل ہؤا تو وہاں بھی استاد مرحوم کی محبت، شفقت اور تربیت سے استفادہ کا موقع ملا۔ الحمدللہ۔

خاکسار ان فضلوں کو یاد کر رہا ہے جو اللہ تعالیٰ کے بے پایاں احسا ن سے خاکسار پر نازل ہوئے تھے تو اس جگہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ بعض ان صحابہ کا ذکر ہو جن کی بکثرت زیارت ہوتی تھی۔یہ ذکر بھی بے محل نہ ہو گا کہ خاکسار کے والد محترم کی دکان مسجد مبارک کی سیڑھیوں سے چند قدم کے فاصلہ پر اس مرکزی جگہ پر تھی جسے احمدیہ چوک کہا جاتا ہے۔ اس طرح وہاں پر سلسلہ کے اکابرین اور نمازیوں کا قریباَ ہر وقت ہجوم رہتا تھا۔ حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحبؓ باقاعدہ وہاں سے مسجد مبارک جاتے ہوئے نظر آتے ۔ بالکل سامنے حضرت ڈاکٹر غلام غوث صاحبؓ ہوتے تھے۔ ان کے مکان کے پہلو سے جو گلی نکلتی تھی اس میں حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ ہوتے تھے۔ بالکل پڑوس میں ایک طرف حضرت مرزا مہتاب بیگ صاحب ؓکا درزی خانہ تھا ۔حضرت قاضی محمد ظہور الدین اکمل صاحبؓ کی رہائش بھی وہاں پاس ہی تھی۔ بالکل نزدیک ہی حضرت مولوی قطب الدین صاحب ؓکا دوا خانہ تھا۔ غالباََ یہی وہ مطب تھا جہاں حضرت مولٰنا نورالدین ؓ پریکٹس کیا کرتے تھے۔ حضرت مولوی صاحب کے مکان بھی اس کے پہلو میں تھے۔ ہماری دکان کے ساتھ ایک بہت بزرگ انسان حضرت مولوی غلام رسول افغان صاحب ؓکی دکان تھی۔ ان کی دودھ دہی کی دکان تھی مگر وہ ہمہ وقت بڑے سائز کا قرآن مجید کھولے ہوئے تلاوت میں مصروف نظر آتے تھے۔ بھائی شیر محمد صاحب، حضرت احمد دین صاحب ڈنگوی ؓ بھی وہاں پاس پاس ہی تھے ۔ مولوی محمد یامین صاحب تاجر کتب کی دکان بھی اسی چوک میں تھی ۔ حضرت پیر منظور احمد صاحبؓ موجد قاعدہ یسرنالقرآن بھی اسی جگہ رہتے تھے۔ حضرت پیر سراج الحق صاحبؓ اور حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓکی زیارت تو خاکسار کو یاد نہیں مگر ان کی رہائش بھی تو اسی چوک میں تھی ۔ خاکسار جس دکان کا ذکر کر رہا ہے ، یہ حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ کی شہر والی رہائش گاہ کا ایک حصہ تھی اور’’الدار‘‘ سے ملی ہوئی تھی۔

جلسہ سالانہ کے دنوں میں یہ چوک مسجد مبارک کا حصہ بن جایا کرتا تھا اور نمازیوں کی صفیں اس چوک سے نکل کر دور دور تک چلی جایا کرتی تھیں اور جلسہ کے درمیانی وقفوں کے دوران اور صبح اور شام تو یوں لگتا تھا کہ جلسہ یہاں ہو رہا ہے۔ اس جگہ رونق تو قابل ذکر تھی مگر احمدی بھائیوں اور بزرگوں کی باہم ملاقاتیں ایک اور ہی دنیا میں لے جاتی تھیں۔ یہ یادیں تو ایسا لگتا ہے کہ لا متناہی اور ختم نہ ہونے والی ہیں؎

دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایّام تو

اے کاش! ان بزرگوں سے اور بہت کچھ سیکھ لیا جاتا۔ اے کاش ان مقدس مقامات سے کچھ نیکی اور بزرگی حاصل کر لی ہوتی۔ اب تو حضرت عمر ؓ کی دعا بکثرت دہراتا ہوں

اللھم لا لی و لا علیَّ

(اے اللہ حساب برابر کر کے بخشش کا سلوک فرما) آمین۔ یہ بزرگ اساتذہ اور کرم فرما بھی جنت الفردوس میں حضرت امام مہدی ؑ اور آنحضرت ﷺ کی معیت و قرب سے سرفراز ہوں۔ آمین۔

(مرسلہ: عبدالباسط شاہد ۔ لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 اکتوبر 2020