• 27 اکتوبر, 2020

ایک واقعہ ہائیکنگ اور ہم

یوں تو واقف زندگی کو پوری زندگی اس طرح کے حالات سے مقابلہ کرنے کی ہمت اللہ تعالی نے دی ہوتی ہے ۔جس سے اُس کا اللہ سے اور بھی گہراتعلق پہلے سےزیادہ مضبوط ہوتا ہےاور وہ دعا سے ہر مشکل گھڑی میں کامیاب ہوتا ہے۔ اس کی زندگی میں ایسے واقعات پیش آتےہیں جن کو ساری زندگی نہیں بھولتا۔

کچھ اسی طرح کا ایک واقعہ میرے ساتھ بھی پیش آیا۔ اللہ کے فضل سے خاکسار کوجامعہ احمدیہ کےطالبعلموں کے ساتھ ہرسال کوئی نہ کوئی گروپ لے کرہائیکنگ پر جانے کا موقع ملتا رہا۔ایک ایسا واقعہ ہوا جس کو میں آج تک نہیں بھول پایا۔

2006 جون کی بات ہے، جامعہ احمدیہ ربوہ کی خامسہ کلاس کے کچھ طلباء کےساتھ وادی نیلم جانے کا پروگرام بنایا۔اُس میں ایک ٹریک پتلیاں جھیل پر جانے کا بھی تھا۔جو معلومات اس ٹریک کےبارے مجھے ملیں۔یہ ٹریک کچھ مشکل بھی تھا ۔راستہ میں برف،ندی نالےاور گلیشیر بھی آتے ہیں ۔اس کےلیےپوری تیاری کی۔پرنسپل جامعہ سے اجازت لے کر،دعا اور صدقہ کے ساتھ سفرشروع کیا۔ربوہ سےبراستہ راولپنڈی ،مظفر آباد سے آٹھ مقام پہنچ کرتھوڑی دیر رُک کر ضرورت کا سامان خریدا اور ایک جیپ جو درنڈہ تک جاتی تھی کرایہ پرلی ۔ہم نےرات درنڈہ میں بسر کی۔دوسرے دن صبح باقاعدہ ہائیکنگ کی تیاری کی اور اپنا سامان کندھے پر اُٹھایا اور چل پڑے۔راستہ میں ندی نالے اور گلیشیئر بھی آئے۔ایک مقامی لڑکا جس نے بھی وہاں جانا تھا ساتھ چل پڑا۔پتلیاں میدان میں پہنچ کر اپنا سامان رکھا اور خالی ہاتھ جھیل پر جانے کا پروگرام بنایا ،موسم کے اعتبارکے لحاظ سے صرف بارش سےبچنے کے لیے اپنے پنچوں کے ساتھ(برساتی کوٹ) لےلیے اور اپنی اپنی سٹک(چھڑی) لی اور چل پڑے،خاکسار شروع ہی سےجب بھی ہائیکنگ پر کوئی ہائیکنگ گروپ لے کر جاتا تھا تو سب سے آگے خود گائیڈ ہوتا تھا ۔باقی طلباء کو اپنے پیچھے آنے کو کہہ کر آگے لگ جاتاتھا۔ مشکل دشوار گذار راستہ جو پہلے ہم نے بالکل نہیں دیکھا تھا چل پڑے۔راستہ بڑا عجیب تھا اور برف کے ساتھ پانی بھی جگہ جگہ آجاتا ۔بڑی مشکل سے ہم اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھے۔اگر کوئی طالب علم چڑھائی پرتھک جاتا تو سب کو آرام سے بیٹھ جانے کو کہا جاتا۔ تاکہ سفر کوانجوائے کر سکیں۔ اور سب کو کچھ کھانے کو دیا جاتا۔ تاکہ تازہ دم ہونے پر دوبارہ سفر شروع کر سکیں۔

اللہ کے فضل سے پورا گروپ لے کر میں پتلیاں جھیل پر پہنچ گیا۔ خوب سیر کی اور فوٹوگرافی بھی کی۔ بادل کافی آنا شروع ہو گئے اور ہم نےواپسی کاسفرشروع کیا تو خاکسارحسب ِعادت خو د آگے گائیڈ کے طوراترائی پر زیگ زئیگ بناتے ہوئے نیچے اتر رہا تھا۔اچانک ایک طالب علم عزیزم نعیم احمدساجد تیزی سے میری سائیڈ سے گذرا۔ میں حیران ہوا اور آواز دی ۔اِدھر ہی رُک جاؤ۔چونکہ آگے خطرناک گہرائی تھی۔ وہ اَن بیلنس تھا اپنے آپ کو قابو نہ رکھ سکا ۔ٹھوکر لگنےسے ہی گر پڑا اور پہاڑی سے نیچے لڑھک گیا۔میں نے بلند آواز میں سب کو اُسی جگہ کھڑے ہونے کو بولا کہیں ایسانہ ہو کوئی اُسکو بچانے کی غرض سے یا جلدی میں کوئی اور لڑکا نہ گر جائےاور اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے ۔جب سب کھڑے ہوگئے تو میں اور ایک طالبعلم اُس کے پاس گئے ۔وہ چونکہ اوپر پہاڑی سے نیچے کی طرف لڑھک کر رک گیا ہواتھا۔اورزخمی ہوچکا تھا۔اُس کے پاس پہنچے اورجب اُس کی حالت دیکھی تو حیران پریشان رہ گئےکیونکہ وہ خون میں لت پت تھا۔میں نے جلدی سےایک شرٹ پھاڑکر اُسکے سر پر باندھی اور اُسے تسلی دینے لگا۔ وہ بڑی ہمت والا تھا،درد برداشت کر رہا تھا۔اُسے ہوش بھی تھی۔اُسےپانی پلایا اورمزیدتسلی دی۔وہاںسےنیچے اُترنے کے لیے راستہ بالکل نہ تھا اور نہ ہی ہمارے پاس کوئی اورچیز تھی جس پر رکھ کر اسکو پہاڑی سے اتار سکیں۔ہم سے ایک غلطی یہ بھی ہوئی کہ جب جھیل کی طرف چلنے لگےتو جلدی میں دوائی والا بیگ (رُکسیک) میں ہی رہ گیا۔ جس کی اُس وقت اشد ضرورت محسوس ہوئی۔ایک طالب علم کومیڈیکل کٹ لینے نیچے بھیجا۔ میں نے ایک طالبعلم کی مدد سے اُسے اپنے کندھے پر اُٹھایا اورنیچے اترنے لگا۔راستہ بڑا مشکل تھا پاؤں سلپ ہونے کا خطرہ زیادہ تھا۔صرف ایک ہی آدمی مشکل سے وہاں سے اتر سکتا تھا۔ابھی تھوڑا ہی نیچے اترا تھا کہ پیچھے سے ایک لڑکا زور سے بولا سر جی ُرک جائیں۔خون زیادہ بہنا شروع ہو گیا ہے۔اُس کاخون کافی میرے اوپر گر رہا تھا۔اُس کو کندھے سے نیچے اتارااور دیکھاکہ واقعی خون زیادہ بہنا شروع ہوگیا تھاکیونکہ سر نیچے کی طرف تھا اور کمر میرے کندھے پر تھی۔ چونکہ یہ بچے تھے۔ اِس سے پہلے کسی نے ایسا واقعہ نہیں دیکھا تھا توکچھ رونےلگے۔اب پہاڑی سے تو نیچے اتر چکے تھے لیکن آگے برف تھی۔ایک ترکیب ذہن میں آئی۔بارش والا کوٹ برف پر بچھایا اور اُس زخمی طالب علم کو اوپر رکھا۔چاروں کونوں سے طالب علموں نے پکڑ لیا۔جب چلنے لگے تو برف میں دھنس جاتے۔بڑی مشکل سے تھوڑا سا نیچے اترے۔اسوقت سوائےاللہ کےکوئی ہماری مدد کرنے والا نظر نہ آتا تھا۔ میں نے طالب ِعلموں کو تھوڑا ساآرام کرنے کو کہا اور خود ایک پتھر کی اوڑ ھ میں دونوافل پڑھنے لگا اور دل کھول کر اللہ کے سامنے رویا۔اللہ کو پکارا ۔یا االلہ اس مشکل گھڑی میں ہماری مد د فرما۔اس زخمی طالب علم کے لیے غائب سے سامان مہیا فرما۔تیرے سوا کون ہے جس کو میں پکاروں تو ہی مدد کرنے والا ہے۔یہ بچے بھی تو تیرے پیارے کی آواز پر لیبک کہہ کر اپنے آپکو وقف کر کے آئے ہیں اور میرے پاس ایک امانت ہیں۔ ان کی ہرطرح سے مدد فرما۔مجھے ایسے محسوس ہو ا کہ اللہ نے میری دعا سن لی ہے۔تھوڑی ہی دیر گذری تھی کہ لوگ ہماری مد د کو مختلف سمت سےآنے لگے۔پتہ نہیں کہاں کہاں سےیہ لوگ آتے گئےاور کافی لوگ اکٹھے ہو گئے۔پہلے ایک نے آتے ہی زخمی طالب علم کے منہ میں چینی ڈال کر تھوڑا سا پانی پلایا۔تاکہ شوگرلیول کم نہ ہواور یہ بے ہوش نہ ہوجائے۔پھر اس نے ہمیں یہ کہاپیچھے ہو جائیں اس زخمی کو چھوڑ دیں یہ ہمارا کام ہے آپ پردیسی لوگ ہیں۔فکر مت کریں ہم آپ کی ہر طرح سے مدد کریں گے۔ہم اُنکے اس رویہ پر بہت حیران تھے۔ اور دل میں اللہ کا بار با ر شکر بھی ادا کر رہے تھے ۔وہ زخمی طالب ِعلم کو اٹھا کر میدان میں لے آئے۔

خیمے میں لاکر رکھا۔ہم نے اُس کے زخموں کی مرہم پٹی کی اور اُسکے خون آلود ہ کپڑے اتار کر دوسرے پہنائے۔دوسرا مرحلہ یہ تھاکہ اس کو کسی طریقہ سے ہسپتال پہنچایا جائے۔نہ چارپائی تھی اور نہ کوئی اور چیز تھی جس پر رکھ کر اُوپر کندھوں پر اٹھا لیں۔ایک مقامی آدمی بڑا ذہین تھا ۔اُس کی نظر ہماری سٹک(Sticks) پر پڑی۔ فورًا دونوں کو ایک رسی کی مدد سے جوڑنا شروع کیا۔یہ دیکھ کر جوہمارے پاس رسیاں یا ٹراؤزرکی ڈوریاںتھیں، نکال لیںاور اُس کے حوالے کردیں۔اُس نے ہمارا میڑیس لے کر اُن سٹک(Sticks) کے اوپر بچھایا اور ایمر جنسی سڑیچر تیار کر دیا۔پھرعزیزم نعیم احمدساجد کوایک سلیپنگ بیگ میں ڈال کر صرف سر باہر نکال کر زیپ بند کر دی اور سٹریچر پر رکھا اور اُس کو مزید رسیوں اور پتلون کی بلٹ (Belt)کی مدد سے باندھ دیاتاکہ راستے میں کہیں سائیڈ سے نیچے نہ گر جائے۔میں نےسب کو تسلی دے کر تین لڑکوں کو اپنےساتھ لیا ۔باقی کو آج رات وہاں ہی ٹھہرنے کو کہا تاکہ کچھ آرام کر لیں ۔اوردوسرے دن صبح واپس آ جائیں۔

ایک دن کی ہائیکنگ کا فاصلہ طےکرکے جیپ ٹریک تک پہنچنا تھا۔یہ بڑا مشکل کام تھا اُن مقامی لوگوں نے ہماری کافی مدد کی ۔اُن میں ایک آدمی جو سترہ گریڈ سے ریٹائیرڈہوا تھا۔اُس کا نام فصیح الدین تھاپیش پیش تھا۔برف اور گلیشیئر اور نالےکو پارکرنے میں بڑی دشواری آتی وہاں وہ اکیلا ہی دو آدمیوں کی جگہ سنبھال لیتا تھا۔ایک طالب ِعلم کو جیپ کو روکنے کے لیے پہلے روانہ کر دیاتاکہ واپس جانے والی کوئی جیپ مل جائے۔

جب میں نےجیپ کھڑی دیکھی تو جان میں جان آئی ۔جیپ والی جگہ درنڈہ پہنچے ۔ مزید معلوما ت لےلیں کہ اس کو کہاں اور کس جگہ لے کر جانا ہے ۔میں نے اُس دوست کو جو ہمارے ساتھ مد د کرتا تھا الگ کرکے اُس کو کچھ معاوضہ دینا چاہا تو اس نے صاف انکار کردیا ۔ میں نے اُسے تسلی دی کہ میں خود خوشی سےآپ کو دے رہا ہوں۔اُس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا آپ پردیسی لوگ ہیں اور ہمارے علاقے میں آئے ہیں۔یہ میں نہیں لوں گا۔دعا کے ساتھ اگلا سفر شروع کیا ۔میری منزل جھمبر ہسپتال تھی۔جس کے متعلق انھوں نے مزید گائیڈکیا۔راستہ میں زخمی کی دل جوئی کرتا اور تسلی دیتا کہ بس فکر کی کوئی بات نہیں اب ہم جلد ہی اپنی منزل پر پہنچ جائیں گئے۔رات کو بارہ بجے کے قریب میں زخمی طالب ِعلم کو لے کر ہسپتال پہنچا ۔وہ ہسپتال آرمی کا تھا۔سول لوگوں کا بھی علاج کرتے تھے۔میں نے اپنا تعارف کرایا ۔ میں بھی آرمی کا ریٹائیرڈ جے سی او ہوں۔اُنھوں نے بڑا تعاون کیا۔کھانا بھی ہمیں لاکر دیا اور تسلی دی کہ آپ فکر نہ کریں اب یہ کام ہماراہے آپ بے فکر ہوجائیں۔اُنھوں نےسرکے بال جہاں زخم تھے کاٹ کر سٹیچنگ کی اور سر اور دوسرے زخمی حصوں کے ایکسرے لیے اور ڈرپ لگا دی۔میں خود حیران تھا دن کے بارہ بجے کے قریب یہ واقعہ ہو ا اور رات کو تقریباً بارہ بجے میں اُسے لے کر ہسپتال پہنچا ہوں۔

رات کو بڑی تھکاوٹ ہوگئی تھی ۔باری باری دو دو گھنٹہ ڈیوٹی دینے کا پروگرام بنایا تاکہ سب کچھ آرام کر لیں ۔صبح کافی تسلی ہوئی۔میں اور تین دوسرے طالب علم اُس کی تیمار داری ساری رات کرتے رہےاور تسلیاں دیتے رہے تاکہ پریشان نہ ہو ۔اللہ کے فضل سے پہلے سے بہت بہتری نظر آنے لگی۔اُس وقت موبائل فون نہ تھے جامعہ میں فون پر اطلاع بھی کرنی تھی۔

میں نے فون کرنے کے لیے کوشش کی تو پتہ چلا سامنے پہاڑی پر ایک وائرلیس اسٹیشن ہے ۔اس علاقے میں اطلاع دینے کا واحد ذریعہ ہے ۔ میں پہاڑی چڑھ کر جب اُن کے پاس گیا تو پتہ چلا یہ آرمی والے ہیں۔میں اُنکے محکمے کا ہی تھا ۔تھوڑا تعارف کرانے کے بعد مجھے ساتھ لے گئے۔چائے پلائی اور بتایا نو بجے انشاءاللہ آپ کا رابطہ کرو ا دیں گے۔

نوبجے مجھ سے نمبر مانگا اور وائرلیس کے ذریعے بذریعہ فون نگران ہائیکنگ مکرم خواجہ ایاز احمدصاحب سے رابطہ کروا دیا۔ جب اُن کو اس بات کا پتہ چلا تو بولے میں ابھی آجاتا ہوں۔میں نے اُن کو تسلی دی اور امیر صاحب مظفرآباد مکرم اسمٰعیل مبارک صا حب کا نمبر مانگا نمبر لے کر اُن سے رابطہ ہوا ۔اُن کو تسلی دے کر کہا آپ فکرنہ کریں آپ یہاں آجائیں باقی میں ہر طرح سے سنبھال لوں گا۔

جھمبر ہسپتال کے نگران مکرم کرنل تیمور صاحب سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا ہم نے فرسٹ ایڈدے دی ہے خطرے کی کوئی بات نہیں۔یہاں کوئی نیروسرجن نہیں ہے آپ اِسکو لے کر مظفر آباد یا راولپنڈی چلے جائیں تاکہ مزید اس کا علاج ممکن ہو سکے۔میں نے اُن سے ایمبولینس کے لیے درخواست کی اور کہا مظفرآباد تک اگر سرکاری گاڑی مل جائے میں آپ کا مشکور ہوں گا۔ اور کہا اس کی پے منٹ میں کر دوں گا۔آپ مان گئے۔ایک پرائیوٹ پجارو گاڑی جو صرف افسروں کے لیے مخصوص تھی وہ ہمیں دے دی۔بلکہ خود باہر آکر باقی عملہ کے ساتھ دعاکرکے بولےآپ اسے مظفر آباد تک لے جائیں ایک نرسینگ میل اورفرسٹ ایڈ کا سامان اور ایمرجنسی گیس سلنڈر بھی ساتھ بھجوایا۔ہمیں مظفر آباد کے لیے روانہ کیا۔ اللہ کے فضل سے اگلا سفر شروع کیا۔میں نے شکریہ ادا کیا ۔اور باقی طالبِ علموں کو ساتھ لے کرمظفرآباد کا سفر شروع کیا،جب شہر کے نزدیک پہنچے تو مکر م امیر صاحب سے فون پر رابطہ کیا۔ آپ نے فرمایا آپ فکر نہ کریں میں اور مکرم ڈاکڑشیخ نصیر صاحب جی پی او کے سامنے کھڑے ہیں ۔ میں مطلوبہ جگہ پر پہنچا تو آپ انتطار کر رہے تھےمیں نے ڈرائیور کو رکنے کا اشارہ کیا جب میں باہر نکلا اور ملا تو مجھے بھی کچھ ہوش آئی ۔فوجی ڈرائیور یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ آپ کے اتنے تعلقات ہیں۔آپ کے انتظار میں بنک آفیسر اور ڈاکٹر صاحب بھی کھڑے ہیں۔

ڈاکٹرمکرم شیخ نصیر صاحب بھی ساتھ ہو لیے اورہم نے عباسیہ ہسپتال لے جاکر زخمی عزیزم نعیم احمد ساجدکو داخل کروادیا۔ایک طالب ِعلم اظہر حمید ساتھ رہنے کو ولینٹیرہوا۔ڈاکٹر صاحب بولے آپ فکر نہ کریں میں یہاں ہوں۔ وہاں ایک ایمبولنس پر میر ی نظر پڑی جو زلزلہ زدگان والوں کی امداد کے لیے ہیومنٹی فرسٹ والوں نے تحفہ دی تھی لیکن اُس وقت ہمارے کام نہ آسکی ۔مکرم امیر صاحب اسمٰعیل مبارک صاحب نےہمیں ساتھ لےجا کر ایک مقامی ہوٹل میں کھانا کھلایا ۔پھر گھر لے جاکر تسلی دی کہ آپ فکر نہ کریں اور آرام سے سو جائیں آپ بہت تھکے ہوئے ہیں۔ صبح جب نماز کے لیے اُٹھے تو پتہ چلا باقی سب طلباء اللہ کے فضل سے خیریت کے ساتھ آگئے ہیں۔سب نے باجماعت نماز فجر اداکرنے کے بعد ناشتہ کیا۔اور ہسپتال پہنچے تو یہ اچھی خبر سننے کو ملی رات کو مریض نے ایک جوس کا ڈبہ پی لیا ہے اور صحت بھی بہت بہتر ہے۔ اللہ کا شکر ادا کیا۔

دوسرے دن جناب امیر صاحب کی وساطت سے ایدّھی والوں سے ایک ایمبولینس کرایہ پر مل گئی اور ہم اُسے لےکرمطلوبہ جگہ راولپنڈی بیت العطاء پشاور روڈپرپہنچ گئے۔ایک طالب ِعلم عزیزم عطاالنور بھی میرےساتھ ساتھ رہا اور بیمار کی خدمت بھی کرتا رہا۔وہاں جو ڈاکٹر صاحباں ہمارا انتظار کر رہے تھے۔( ۱)ڈاکڑجرنیل محمود الحسن نوری صاحب (2) ڈاکڑ خالد صاحب جو مکرم محترم نوری صاحب کا بیٹا ہے(3) ڈاکڑ محمود الحسن بٹ صاحب نے تسلی سے چیک کیا۔ اور دوائیاں بھی دیںاور جب جانے لگے تو مکرم نوری صاحب نے اپنا فون نمبر دیا۔ اگر کوئی مسئلہ درپیش آئے تو اُسی وقت فون کر لینا۔اس کی روزانہ کی کنڈیشن سےجامعہ کو آگاہ بھی رکھا ۔ وہاں ہم تقر یبًا پندرہ دن راولپنڈی بیت العطا میں زیر علاج رہے۔ پھرفضل عمر ہسپتال کی ایمبولینس کے ذریعے ربوہ شفٹ ہو گئے۔یہاں بھی مختلف ڈاکٹرسرجن سے رابطہ رہا ۔اللہ کے فضل سےبہتر شفاء ہوتی گئی۔ایک دن خاکسار کوحکم ملا جناب پرنسپل صاحب آپ کو بلا رہے ہیں ۔جب میں حاضر ہواتو جامعہ کی کونسل بیٹھی ہوئی تھی ۔ تمام کونسل کے سامنے پوری صورت حال سنائی۔ یہ واقعہ سن کر حیران ہوئے اور بولے آپ نے بڑی ہمت دکھائی ہے،عزیزم نعیم احمد ساجدجامعہ پاس کرنے کے بعد آج کل وہ بطور مربی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں۔ مزید اللہ سے دعا ہے کہ سب واقفین زندگی کو اپنےحفظ وامان میں رکھے (امین)

دوسرے سال ہمار ا ایک پروگرام رتی گلی ہائیکنگ پرجانے کا بن گیا۔خاکسار نے نگران ہائیکنگ مکرم خواجہ ایاز احمدکی وساطت سےایک سپیشل شیلڈ تیار کروائی اور راستہ میں اترکر جناب کرنل تیمور صاحب کو اپنے ہائیکنگ کلب کی طرف سے بطور تحفہ پیش کی ۔اُس وقت میرے ساتھ ایک طالب ِ علم عامرمحمود عالم تھے جو آج کل جامعہ احمدیہ میں بطور استاد ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں ۔ہم نے ان کابھی شکریہ بھی ادا کیا۔وہ بہت خوش ہوئے اور بولے جب تک یہ تحفہ ہماری میس میں رہے گا ۔آپ ہمیں یاد رہیں گے۔ پھرلڑکے کی خیریت بھی معلوم کی۔ہمیں آفیسرز نے میس میں لے جاکر چائے پلائی۔ ہم نے اُن کے ساتھ فوٹو بھی بنوائے اور واپس آکر پرنسپل مکرم سیدمیر محموداحمد ناصرصاحب کو دکھائے۔آپ بڑے خوش ہوئے۔اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں احسن رنگ میں مزید خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے فضلوں سے نوازے (آمین)

(مرسلہ: پی ٹی آئی مبشر احمد شاد)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 اکتوبر 2020