• 28 اکتوبر, 2020

دیوار برلن، حقیقت میں دیوار نفرت تھی

برلن کی سیر ہو اور دیوار برلن نہ دیکھی جائے یہ ممکن ہی نہیں ہے، جرمنی کا دارالخلافہ برلن محض ایک شہر ہی نہیں ہے بلکہ یہ اپنے اندر عروج و زوال کی ایک ایسی عبرتناک تاریخ اور یادگاریں سموئے ہوئے ہے جو یقینا نہ صرف سیاحوں بلکہ سیاستدانوں ، صحافیوں اور تاریخ کے طالب علموں کے کے لئے انتہائی دلچسپی کا باعث ہیں اور یہ دیوار برلن اسی دور کی ایک قابل نفرت یادگار ہے جس کو گرانے میں 28 سال لگے، ان اٹھائیس سالوں میں کوئی ایسا دن نہیں ہو گا جب انسانی المیہ رونما نہ ہوا ہو، اپنے پیاروں سے ملنے کے لئے دونوں اطراف کے لوگ صبح و شام دیوار پھلانگنے کا سوچتے اور ناکام کوششیں کرتے تھے ۔ سات سال پہلے میں جب جرمنی پہنچا تو اس وقت بھی میرے ذہن میں جوواحد بات موجود تھی وہ دیوار برلن ہی تھی کہ اس کو ضرور دیکھنا ہے جس نے ایک ہی قوم کے ہزاروں ، لاکھوں خاندانوں کا بٹوارہ کر رکھا تھا ۔ برلن شہر ماضی و حال کا عجیب و غریب امتزاج ہے ۔ برلن شہر آج اگر دنیا کے جدید ترین شہروں میں سرفہرست ہے تو کبھی یہ ویران کھنڈرات اور قبرستان کا منظر پیش کرتا تھا، تباہی و بربادی کی المناکی کی ایسی تصویر تھی جس کی منظر کشی ممکن نہیں ،ایک ایسا شہر ہے جس کے مختلف حصوں پر کبھی غیر ملکی اقوام کا قبضہ تھا، اور شہر کا مکمل بٹوارا ہو چکا تھا، برلن کا مشرقی حصہ سوویت اتحاد جبکہ برلن کا مغربی امریکہ، برطانوی اور فرانسیسی اتحاد کے کنٹرول میں تھا ۔ یوں مشرقی اور مغربی برلن کے درمیان دیوار برلن تعمیر کردی گئی تھی اور لوگ تقسیم ہو گئے تھے ۔

ایک ہی خاندان کے لوگ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے ملنے سے قاصر تھے ۔ آج بھی بچی کھچی دیوار برلن کے ساتھ ساتھ اور اس کے ملحقہ علاقہ کی سڑکوں فٹ پاتھوں پر گھومتے پھرتے کہیں نہ کہیں دیوار برلن کی یادگار آپ کو ملے گی، کہیں زمین پر کنندہ کی ہوئی کوئی تحریر، جملہ یا تاریخ لکھی ملے گی اور کہیں کچھ محفوظ کی ہوئی یا اس وقت کی کوئی یادگار ۔ اگر آپ کے ساتھ مکمل معلومات رکھنے والا مقامی بندہ ساتھ ہے تو پھر آپ کا گھومنا پھرنا یقینا گراں قدر معلومات میں اضافے کا باعث بنے گا ۔ آج سے اکتیس سال پہلے جب مشرقی، مغربی جرمنی دونوں کا نیا اتحاد ہوا اور دنیا کے نقشہ پر نیا جرمنی ابھرا تو یہ ایک بہت بڑی خبر تھی اور دنیا بھر میں اس کا خوب چرچا ہواتھا اور ہر خاص و عام کی زبان پر دیوار برلن کا نام تھا ۔ آج کی بڑی معاشی، اقتصادی طاقت جرمنی حقیقت میں دیوار برلن کے خاتمہ کا مرہون منت ہے، دیوار کے انہدام ہی سے Germen reunification کی راہ ہموار ممکن ہوئی تھی ۔ کہا جاتا ہے کہ 9نومبر 1989 کو جب یہ اعلان ہوا کہ مشرقی جرمنی کے لوگ مغربی برلن اور مغربی جرمنی جاسکتے ہیں تو وہ لمحات اورمناظر انتہائی جذباتی قسم کے تھے جن کوجرمن تاریخ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ کر چکی ہے اور کبھی بھی بھلا نہ پائے گی، گھنٹوں میں سینکڑوں لوگوں نے دیوار کو پھلانگنا شروع کردیا تھا اور مغربی برلن جا پہنچے تھے اور اگلے چند ہفتوں میں عوام نے دھاوا بول دیا اور نفرت کی دیوار کے مختلف حصوں کو توڑدیا، اس کے لئے صنعتی آلات بھی استعمال کئے گئے تھے اور بالاخر مکمل طور پر توڑ دی گئی تھی، کچھ حصہ تاریخ کے طور پر محفوظ کر لیا گیا ۔شاید یہ بہت کم لوگوں کو علم ہو کہ جرمنی کی موجودہ چانسلر انجیلا مرکل نے بھی پرورش مشرقی برلن (جرمنی) ہی میں پائی تھی اور جوان ہوئیں تھیں۔

دیوار برلن کو جرمنی زبان میں Berliner Mauerer کہتے ہیں ،اس کی تعمیر13اگست1961کو شروع ہوئی تھی اور 9نومبر 1989 کو اس تاریخی دیوار کے انہدام کا آغاز ہوا تھا اور 3اکتوبر 1990 کو مکمل ہوا یوں یہ تاریخی دیوار28برس، دو ماہ اور 27دن تک مشرقی اور مغربی برلن کے درمیان ’’آہنی پردہ‘‘ کا کام کرتی رہی، دیوار برلن کے انہدام کی تقریب جو نومبر1989 میں منعقد ہوئی تھی میں سوویت یونین کے سابق راہنما میخائل گوربا چوف نے خصوصی طور پر شرکت کی تھی ۔ دیوار برلن 155کلو میٹر طویل تھی۔ 1952 میں پہلے باڑ لگائی گئی تاکہ مشرقی جرمنی کے لوگوں کو مغربی جرمنی میں جانے سے روکا جاسکے لیکن ناکامی ہونے پر دیوار کی تعمیر شروع کرادی گئی تھی لیکن اس کی تعمیر کے آغاز تک لاکھوں لوگ مغربی جرمنی جا چکے تھے، 11500 سپاہی اس دیوار کی نگرانی کیا کرتے تھے اور ان کو حکم تھا کہ دیوار پھلانگنے کی کوشش کرنے والوں کو بلا دریغ گولی ماری جائے دیوار کے انہدام سے پہلے136افراد کو غیر قانونی طور پر دیوارعبور کرنے کی کوشش میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔ آج بھی 1361 میٹر دیوار یادگار کے طور پر موجود ہے ۔ اس کے علاوہ بھی زمین، سڑک کے کناروں اور ارد گرد بھی سینکڑوں کی تعداد میں اس دور کی یادگاریں موجود ہیں ۔ اگر آپ اس علاقہ میں جائیں اور گھو میں پھریں تو درجنوں جدید ترین بسیں نظر آئیں گی جو سیاحوں سے بھری ہوتی ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں سیاح نظر آئیں گے، جو دیوار برلن اور اس کی یادگاروں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں ، کہا جاتا ہے کہ 1990 میں دنیا کے مختلف پینٹرز نے اس دیوار پر تاریخی پینٹ بھی کیا تھا جو آج تک محفوظ ہے ۔ 2014 میں دیوار برلن کے انہدام کے پچیس سال ہونے پر تاریخی جشن منایا گیا تھا اس جشن کے مناظر برلن شہریوں کو آج بھی یاد ہیں، اس وقت جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے تاریخی جملے کہے تھے، انہوں نے کہا تھا کہ ’’دیوار برلن کے انہدام سے ثابت ہوا ہے کہ خواب بھی حقیقت بن سکتے ہیں‘‘، انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’واقعات کو بھول جانا آسان ہے لیکن ان واقعات کو یاد رکھنا اہم ہے‘‘۔

٭…٭…٭

(مرسلہ: منور علی شاہد (جرمنی))

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 اکتوبر 2020