• 27 اکتوبر, 2020

ٹیلی فون کی ایجاد

قرآن کریم نے جو آخری زمانہ کے بارے میں مختلف پیشگوئیاں کی ہیں ان میں یہ بھی تھی کہ: وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَت

(سورۃ التکویر آیت نمبر8)

ترجمہ:۔اور جب نفوس ملا دئیے جائیں گے۔

ایلگزانڈر گراہم بیل نے 1876ء میں ٹیلی فون کی ایجاد مکمل کی جس سے انسانی آواز کو برقی لہروں کی مدد سے کرہ ارض کے گوشے گوشے میں پہنچانے کا انتظام ہوگیا، لیکن آپ یہ سن کر یقینا ًحیران ہوں گے کہ گراہم بیل کا اصل مقصد ٹیلیفون ایجاد کرنا نہ تھا، بلکہ وہ اور اس کے والد بہروں اور گونگوں کی تعلیم میں لگے ہوئے تھے۔ گراہم بیل چاہتاتھا کہ آوازوں کو حرکات میں تبدیل کردے، تاکہ آوازیں اگر بہروں کے کانوں میں نہیں پہنچ سکتیں تو آنکھوں کے ذریعے سے انھیں دکھا کر اصلیت تک پہنچنے کے قابل بنا دیا جائے۔اس کام سے اس کی دلچسپی برابر قائم رہی۔ چنانچہ جب حکومت فرانس سے ٹیلی فون کی ایجاد پر اسے پچاس ہزار فرانک کا انعام دیا تو اس نے یہ رقم اس تجربہ گاہ کے حوالے کردی جو بہروں کی سہولت کے لیے نئی نئی تدبیروں کی چھان بین میں مصروف تھی۔

اس سے پیشتر بھی بہت سے موجد ٹیلی فون کی ایجاد کے لیے کوششیں کرچکے تھے،لیکن کسی کو پوری کامیابی حاصل نہ ہوئی تھی۔گراہم بیل نے جس اصول پر کام کیا،وہ بہت سادہ اور واضح تھا۔ اس نے سوچا کہ باہر جوآواز پیدا ہوتی ہے، وہ ہواکی لہروں کے ذریعے سے کان میں پہنچتی ہے اور کان کی جھلی میں حرکت پیدا کردیتی ہے۔ یہی حرکت دماغ تک چلی جاتی ہے اور انسان اندازہ کرلیتاہے کہ آواز کیسی ہے یا کیا کہا گیاہے اگر جھلی جیسی دوچیزیں لے کر فاصلے پر رکھی جائیں اور انھیں بجلی کے تار کے ذریعے سے ملا کر ایک کی آوازدوسری تک پہنچائی جائے توکوئی وجہ نہیں کہ اس میں حرکت پیدا نہ ہو۔چنانچہ اسی اصول پر کام کرتے ہوئے اس نے لوہے کی دوپتلی سی پتریاں لیں اور اپنے تجربے میں کامیاب ہوگیا۔10مارچ 1876ء کو گراہم بیل نے سب سے پہلا پیغام اپنے رفیق مسٹرواٹسن کو پہنچایا۔ واٹسن سہ منزلہ مکان کے سب سے نچلے کمرے میں مصروف تھا۔ اردگرد مشینوں کی گڑگڑاہٹ تھی،جس میں کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔عین اس حالت میں گریہم بیل کی آواز گونجی:۔

’’مسٹر واٹسن! یہاں تشریف لائیے، مجھے آپ سے کام ہے۔‘‘

اس کے بعد ٹیلی فون کی صنعت نے آہستہ آہستہ بے اندازہ ترقی کرلی۔

(سو تاریخی واقعات صفحہ نمبر51)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔
’’اور نفوس کے ملانے کی علامت کئی طریق سے پوری ہوئی ہے۔ ان میں سے ایک توٹیلیگراف (تار برقی) کی طرف اشارہ ہے جو ہر تنگی کے وقت میں لوگوں کی مدد کرتا ہے اور زمین کے دورافتادہ حصوں میں رہنے والے عزیزوں کی خبر لاتا ہے اور قبل اس کے کہ دریافت کرنے والا اپنی جگہ سے اٹھے تار برقی اسکے عزیزوں کی خبر دے دیتی ہے اور مغربی اور مشرقی شخص کے درمیان سوال و جواب کا سلسلہ چلا دیتی ہے،گویا کہ وہ آپس میں ملاقات کررہے ہیں۔ پھر وہ ان پریشان و مضطر لوگوں کو ان لوگوں کے حالات سے بہت جلد اطلاع پہنچا دیتی ہے جن کے متعلق وہ فکر مند ہوتے ہیں۔ پس اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ دور بیٹھے ہوئے اشخاص کو ملا دیتی ہے اور ان میں سے ایک دوسرے کے ساتھ یوں بات کرتاہے کہ گویا ان کے درمیان کوئی روک نہ ہو اور وہ ایک دوسرے کے بالکل قریب ہوں۔ اور لوگوں کے آپس میں ملانے سے اس طرف اشارہ ہے کہ بحری اور بری راستوں پرامن ہوگا اور سفر کی مشکلات دور ہوجائیں گی اور لوگ ایک ملک سے دوسرے ملک تک بغیر کسی خوف وخطر کے سفر کرسکیں گے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس زمانہ میں ملکوں کے ملکوں کے ساتھ تعلقات زیادہ ہوگئے ہیں اور لوگوں کا ایک دوسرے سے تعارف بڑھ گیا ہے۔ پس گویا کہ وہ ہر روز ایک دوسرے سے ملائے جاتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے تاجروں کو تاجروں سے اور ایک سرحد کے رہنے والوں کو دوسری سرحد کے رہنے والوں کے ساتھ اور ایک حرفہ والوں کو دوسرے حرفہ والوں کے ساتھ ملادیا ہے اور وہ نفع حاصل کرنے اور نقصان کو دور کرنے میں باہم شریک ہوگئے ہیں

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ نمبر 471،472اردو ترجمہ)

(مرسلہ: مبارک احمد منیر ۔مربی سلسلہ برکینا فاسو)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 اکتوبر 2020