• 26 فروری, 2024

خلیفہ خدا بناتا ہے

خلیفہ خدا بناتا ہے

وہ کون سی ہستی ہے جو خلیفہ بناتی ہے اور قبل از وقت اس کی خبر بھی اپنے بعض قابل اعتبار بندوں کو دے دیتی ہے اس کی ایک مثال خلیفہ وقت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کی ذات گرامی ہے جو 22 اور 23 اپریل 2003ء کی درمیانی شب انتخاب خلافت کمیٹی کے ذریعے خلیفۃ المسیح (الخامس) منتخب ہوئے آپ نے پہلے انتخاب کمیٹی کے ممبران کی بیعت لی اور ہر ممبر کو انفرادی ملاقات کا شرف بخشا اور اس کے بعد پبلک اعلان ہوا اور بیعت عام ہوئی یہ عاجز 101 یا 103 ممبران کی اس کمیٹی میں شامل تھا جن کو اللہ تعالیٰ نے اس مبارک تقریب میں شامل ہونے کی سعادت بخشی اورخلیفہ کا انتخاب ہوا اگرچہ ملاء اعلیٰ میں فیصلہ آپ کی پیدائش کے وقت سے ہی ہو چکا تھا جیسا کہ آگے تفصیل آئے گی کیا یہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا زبردست ثبوت نہیں ہے

یہ اجلاس مسجد فضل لندن میں محترم چوہدری حمید اللہ صاحب وکیل اعلیٰ کی صدارت میں منعقد ہوا اور سیکرٹری شوریٰ کے فرائض محترم امام عطا المجیب راشد صاحب نے ادا کئے۔

1۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع مرزا طاہر احمد صاحب کا وصال 19 اپریل 2003ء کو لندن میں ہوا اور ممبران انتخاب خلافت کمیٹی کو اطلاع بھجوانے کا سلسلہ شروع ہوا۔

ابھی یہ عاجز ربوہ میں ہی تھا اور انتخاب میں شامل ہونے کے لئے لندن کے لئے روانہ نہیں ہوا تھا کہ سر راہ اس عاجز کی ملاقات مؤرخ احمدیت محترم مولانا دوست محمد صاحب شاہد سے ہوئی انہیں بتایا کہ کل 21 اپریل کو علی الصبح لاہور سے ہماری قطر ائر سے لندن کے لئے روانگی ہے تو فرمانے لگے انتخاب تو ہو چکا ہے اور مرزا مسرور احمد صاحب لندن جا چکے ہیں اور میرا بیٹا ڈاکٹر سلطان مبشر الوداعی قافلے میں شامل تھا اس عاجز کو بڑی حیرانگی ہوئی کہ ابھی تو انتخاب ہونا ہے مولوی صاحب کیا فرما رہے ہیں یقیناً مولانا دوست محمد صاحب شاہد مؤرخ احمدیت کو خدائے خبیر نے مرزا مسرور احمد صاحب کے خلیفہ بننے کی خبر دے رکھی تھی۔

2۔ محترم ڈاکٹر غلام مصطفیٰ صاحب جو حضرت صوفی غلام محمد صاحب صحابی (ناظر بیت المال) کے بھائی تھے ان کے بارے میں حضرت صوفی صاحب کے ایک پوتے (اور محترم مبارک مصلح الدین صاحب کے بیٹے) منصور نے کینیڈا میں بتایا کہ جس روز (15 ستمبر 1950ء کو) صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب پیدا ہوئے تو ان کے دادا کے بھائی ڈاکٹر غلام مصطفیٰ صاحب نے تذکرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام :

اِنِّیْ مَعَکَ یَا مَسْرُوْر

(دسمبر 1907ء)

کے آگے لکھ دیا تھا کہ آج وہ مسرور پیدا ہو گیا ہے۔

3۔ انتخاب کے جلد ہی بعد ربوہ میں محترم مبارک مصلح الدین صاحب وکیل المال ثانی نے اس عاجز کو بتایا کہ جب حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کی افریقہ سے واپسی پر تقرری وکالت مال ثانی میں ہوئی تو ان کے والد حضرت صوفی غلام محمد صاحب نے انہیں نصیحۃً کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے بعض بچوں کو اللہ تعالیٰ نے بڑی ترقی دینی ہوتی ہے اس لئے صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرنا۔

4۔ گزشتہ اتوار 25 جولائی 2021ء تعلیم الاسلام کالج کی یادوں کے سلسلے میں محترم عرفان احمد خان (دہلوی) جو پروگرام کرتے ہیں اس میں محترم پروفیسر ہادی خان صاحب نے بتایا کہ وہ 1962ء سے 1966ء تک تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں پڑھاتے رہے ہیں اور اس کے بعد سیرالیون بھیج دیئے گئے تھے انہیں صاحب کشف و الہام محترم پروفیسر صوفی بشارت الرحمٰن صاحب نے بہت پہلے اشارۃً بتایا ہوا تھا کہ صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب خلیفہ ہوں گے اس وقت مرزا مسرور احمد تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں زیر تعلیم تھے اور ان کے سٹوڈنٹ تھے ان دنوں صوفی صاحب کئی بار آپ کے بارے میں ان سے دریافت کرتے کہ مرزا مسرور احمد صاحب کا کیا حال ہے پڑھائی میں کیسے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ

ہادی صاحب نے بتایا کہ وہ سمجھ رہے ہوتے تھے کہ صوفی صاحب کیوں صاحبزادہ صاحب کا بار بار پوچھتے ہیں اور وہ بھی آپ کے اعلیٰ اخلاق اور اعلی کردار کا مشاہدہ کر رہے ہوتے تھے اور صوفی صاحب کو بتاتے تھے جس سے صوفی صاحب مطمئن ہو جاتے تھے۔

5۔ اسی قسم کا ایک واقعہ اس عاجز نے بھی اس پروگرام میں سنایا کہ صوفی صاحب نے 1991ء میں جب کہ وہ وکیل التعلیم تھے ایک ملاقات میں اس عاجز سے بھی فرمایا کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے اگلے خلیفہ کا بتایا ہوا ہے لیکن ذہن نہیں مانتا اور نام نہیں بتاؤں گا اورباتوں باتوں میں صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کا نام بھی لے گئے۔

6۔ جن دنوں صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کی بیٹی کی شادی تھی اور اس عاجز کے بڑے بھائی پروفیسر ایم اے لطیف شاہد اور یہ عاجز بھی رخصتی کی تقریب میں شامل تھے ان دنوں اس عاجز نے بڑی واضح خواب دیکھی کہ آپ نے شیروانی پہنی ہوئی ہے غالبا ً سر پر پگڑی ہے گلے میں ہار ہے اور کوئی شخص آپ کی طرف اشارہ کر کے کہہ رہا ہے کہ یہ اگلے خلیفہ ہوں گے۔

6۔ الیکشن کے موقع پر لندن میں اس عاجز کی رہائش کا انتظام اپنے برادر نسبتی سردار نصیر احمد صاحب کے گھر تھا۔ انتخاب سے ایک رات پہلے بہت اضطراب تھا تقریبا ًساری رات کروٹ بدل بدل کر اور دعائیں کرتے ہوئے گزری جب بھی کروٹ بدلتا صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کو دیکھتا۔ آپ کا گلا پھولوں کے ہاروں سے بھرا ہوا ہے اور بلاشبہ یہ واقعہ اس عاجز کے ساتھ دو درجن دفعہ ہوا۔

چنانچہ اگلے روز مغرب و عشاء کی نمازوں کے بعد جب مسجد فضل لندن میں انتخاب کی کاروائی شروع ہوئی تو اتفاق سے اس عاجز کو آپ والی قطار میں جگہ ملی (قطار کے اس حصہ میں آپ کے بائیں طرف ڈاکٹر محمد اسلم جہانگیری صاحب ان کے بائیں طرف صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب ان کے بائیں طرف یہ عاجز اور اس عاجز کے بائیں طرف صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب بیٹھے تھے)

یہ عاجز مڑ مڑ کر آپ کی طرف دیکھ رہا تھا حتّٰی کہ محترم عبد المجید صاحب سیالکوٹی نے آپ کا نام پیش کیا اور محترم ڈاکٹر محمد جلال شمس صاحب نے تائید کی جس سے عاجز کا دل تسلی پکڑ گیا کہ خواب پوری ہونے کا وقت آگیا ہے اور چند لمحوں میں خواب پوری کر کے اللہ تعالیٰ نے اپنی ہستی کا ثبوت دے دیا۔

؎ اک خدا کا چنیدہ کڑے وقت میں
دلفگاروں کو پھر تھامنے آگیا
روپ جس کا نگاہوں سے اوجھل رہا
اک نئے روپ میں سامنے آگیا

(ہے دراز دست دعا مرا۔ کلام صاحبزادی امۃ القدوس)

(ابو محمو دین ابن فضل الرحمٰن)

پچھلا پڑھیں

ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ

اگلا پڑھیں

ِاکرامِ ضیف اور خدمتِ خلق کی تمنا (تحریر مکرم میاں عبدالرحیم دیانت درویش قادیان)