• 1 دسمبر, 2020

یاد رکھو قبریں آوازیں دے رہی ہیں

آپؑ فرماتے ہیں کہ: ’’دین تو چاہتا ہے مصاحبت ہو پھر مصاحبت سے گریز ہو تو دینداری کے حصول کی امید کیوں رکھتا ہے؟ ہم نے بار ہا اپنے دوستوں کو نصیحت کی ہے اور پھر کہتے ہیں کہ وہ بار بار یہاں آکر رہیں اور فائدہ اٹھائیں مگر بہت کم توجہ کی جاتی ہے۔ لوگ ہاتھ میں ہاتھ دے کر دین کو دنیا پر مقدم کر لیتے ہیں۔ مگر اس کی پروا کچھ نہیں کرتے۔ یاد رکھو! قبریں آوازیں دے رہی ہیں اور موت ہر وقت قریب ہوتی جاتی ہے۔ ہر ایک سانس تمہیں موت کے قریب کرتا جاتا ہے اور تم اسے فرصت کی گھڑیاں سمجھتے جاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ سے مکر کرنا مومن کا کام نہیں ہے۔ جب موت کا وقت آ گیا پھر ساعت آگے پیچھے نہ ہو گی۔ وہ لوگ جو اس سلسلے کی قدر نہیں کرتے اور انہیں کوئی عظمت اس کی معلوم نہیں ان کو جانے دو۔ مگر ان سب سے بڑھ کر بدقسمت اور اپنی جان پر ظلم کرنے والا تو وہ ہے جس نے اس سلسلے کو شناخت کیا اور اس میں شامل ہونے کی فکر کی لیکن اس نے کچھ قدر نہ کی۔ وہ لوگ جو یہاں آ کر میرے پاس کثرت سے نہیں رہتے اور ان باتوں سے جو خداتعالیٰ ہر روز اپنے سلسلے کی تائید میں ظاہر کرتا ہے نہیں سنتے اور دیکھتے، وہ اپنی جگہ پر کیسے ہی متقی اور پرہیز گار ہوں مگرمَیں یہی کہوں گا کہ جیساچاہئے انہوں نے قدر نہیں کی۔ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ تکمیل علمی کے بعد تکمیل عملی کی ضرورت ہے۔ پس تکمیل عملی بدوں تکمیل علمی کے محال ہے (یعنی جو عمل ہے علم حاصل کئے بغیر بہت مشکل ہے) اور جب تک یہاں آ کر نہیں رہتے تکمیل علمی مشکل ہے‘‘۔ پھر فرمایا ’’بارہا خطوط آتے ہیں کہ فلاں شخص نے اعتراض کیا اور ہم جواب نہ دے سکے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ یہی کہ وہ لوگ یہاں نہیں آتے اور ان باتوں کو نہیں سنتے جوخدا تعالیٰ اپنے سلسلے کی تائید میں علمی طور پر ظاہر کر رہا ہے‘‘۔

(ملفوظات جلد اول صفحہ ۱۲۵۔ الحکم ۱۷ ستمبر ۱۹۰۱ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 نومبر 2020