• 1 دسمبر, 2020

ایک مومن کے لئے آنحضرتﷺ پر جو تعلیم اتری ہے اسے ماننا ضروری ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
پھر ایک سچے مومن کی ایک نشانی یہ ہے کہ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ (البقرۃ:4) اور جو کچھ اللہ نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ یعنی اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرتے ہیں اور اپنے بھائیوں کے حقوق کی ادائیگی کے لئے بھی خرچ کرتے ہیں اور یہ خرچ دولت کا بھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو صلاحیتیں دی ہیں، جو کسی کو بھی دوسرے سے زیادہ عطا کی ہیں اس کودوسروں کی بہتری کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ اور یہی بے نفس خدمت ہے جو پھر ایک مومن کو دوسرے مومن کے ساتھ ایسے رشتے میں پیوست کر دیتی ہے جو پکا اور نہ ٹوٹنے والا رشتہ ہوتا ہے۔ مومنین کی جماعت میں ایک ایکا اور وحدانیت پیدا ہوجاتی ہے، ایک مضبوطی پیدا ہوجاتی ہے اور ہر سطح پر اگر اس سوچ کے ساتھ ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہوئے، اپنی دولت اور اپنی دوسری صلاحیتوں کو خرچ کیا جائے تو ایسا معاشرہ جنم لیتا ہے جس میں محبت، پیار، امن اور سلامتی نظر آتی ہے۔ گھروں کی سطح پر خاوند بیوی کا خیال رکھ رہا ہوگا۔ بیوی خاوند کا خیال رکھ رہی ہوگی۔ ماں باپ بچوں کی بہتری کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور ذرائع کا استعمال کررہے ہوں گے۔ بچے ماں باپ کی خدمت پر ہر وقت کمربستہ ہوں گے، ان کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کررہے ہوں۔ ان کی خدمت کی طرف توجہ دے رہے ہوں گے۔ ہمسایہ، ہمسائے کے حقوق ادا کررہا ہوگا، غریب امیر کے لئے اپنی صلاحیتیں استعمال کرے گا اور امیر غریب کی بہتری کے لئے خرچ کررہاہوگا اور یہ سب اس لئے ہے کہ ہم مومن ہیں اور اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ یہ کرو اور اس طرح پر سب مل کر پھر جماعتی ترقی کے لئے اپنے مال اور صلاحیتوں کو خرچ کررہے ہوں گے اور پھر وہ معاشرہ نظر آئے گا جومومنین کا معاشرہ ہے۔

اللہ کے فضل سے جماعت میں مال خرچ کرنے کی طرف بہت توجہ رہتی ہے، جماعتی ضروریات کے لئے بھی احمدی بڑے کھلے دل سے قربانیاں کرتے ہیں، ہر وقت تیار رہتے ہیں اور ہر روز اس کی مثالیں دیکھنے میں آتی ہیں۔ جون کا مہینہ جو گزرا ہے، یہ مہینہ جماعت کے چندوں کا، جماعتی سال کا آخری مہینہ ہوتا ہے۔ ہر سال مختلف ممالک کی جماعتوں کو فکر ہوتی ہے کہ بجٹ پورا ہوجائے اور نہ صرف بجٹ پورا ہوجائے بلکہ گزشتہ سال کی نسبت قدم ترقی کی طرف بڑھے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مومنین کی جماعت پر اس کا اظہار فرماتا ہے کہ ان کے قدم آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ اس سال بھی اکثر ممالک کی جماعتوں نے اپنے بجٹ اور گزشتہ سال کی قربانیوں سے بہت بڑھ کر قربانیاں کی ہیں۔ کئی چھوٹے چھوٹے ملک بھی ہیں کہ اپنے بجٹ سے کئی کئی گنا زائد وصولی کی ہے۔ پاکستان میں بھی باوجود حالات خراب ہونے کے قربانیوں میں ترقی کی ہے، مثلاً کراچی کے حالات بہت خراب تھے، مئی کے شروع میں جب وہاں فساد ہوئے تو امیر صاحب کراچی کا بڑی پریشانی کا فون آیا۔ پھر فیکس آئی کہ حالات ایسے ہیں اور سال کا آخر ہے چندوں میں کمی ہورہی ہے۔ خیر اللہ نے فضل فرمایا اور ہو گیا، لیکن عموماً جماعت کامزاج یہ ہے کہ سال کے آخری مہینے کے آخری دنوں میں اپنے چندوں کی ادائیگی پوری طرح کرتے ہیں۔ تو جون کے آخر میں پھرکراچی کے حالات موسم کے لحاظ سے بڑے خراب ہوگئے، اور کہتے ہیں کہ 30 ؍جون کو تو یہ حال تھا کہ شدید بارشیں، سڑکوں کے اوپر پانی، گھر سے کوئی باہر نہیں نکل سکتا تھا اور بڑی فکر تھی، بجٹ میں کافی کمی تھی لیکن شام تک کہتے ہیں، پتہ نہیں کیا معجزہ ہوا ہے کہ نہ صرف بجٹ پورا ہوگیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت بڑھ کر وصولی ہو گئی اور اس طرح کئی جگہوں پر ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں جب کوئی گھر سے باہر نہیں نکل سکتا تھا تو اللہ تعالیٰ کی یہ خاص تائید اور مدد تھی جس نے یہ ساری کمیاں پوری کردیں۔ یہ نظارے اللہ تعالیٰ اس لئے دکھاتا ہے کہ مسیح موعود کی یہ جماعت مومنین کی ایک سچی جماعت ہے اور ان باتوں کو دیکھ کر تم اپنے ایمانوں میں مزید مضبوطی پیدا کرو اور میرے احکامات پر عمل کرو تاکہ میرے فضلوں کو انفرادی طور پر بھی اور جماعتی طورپر بھی حاصل کرنے والے بنو اور بنتے چلے جاؤ۔

پھر جیسا کہ مَیں پہلے ذکر کرچکا ہوں۔ ایک مومن کے لئے آنحضرتﷺ پر جو تعلیم اتری ہے اسے ماننا ضروری ہے۔ آپؐ کو خاتم الانبیاء ماننا ضروری ہے۔ اس یقین پر قائم ہوں اور یہ ایمان ہو کہ قرآن کریم آخری شرعی کتاب ہے اور اس کے تمام احکامات ہمارے لئے ہیں اور ہمیں اس پر ایمان لانا اور ماننا اور عمل کرنا ضروری ہے۔

پھر جس طرح قرآن کریم میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرتﷺ سے پہلے جو انبیاء آئے تھے وہ بھی برحق تھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے تھے، بعض کا ذکر قرآن کریم میں ہے اور بہت سوں کا نہیں ہے، ان سب پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اور یہ بھی ایک مومن کی خصوصیت ہے اور یہ صرف اسلام کی خصوصیت ہے کہ اس نے پہلے انبیاء کی صداقت پر بھی مہر لگا دی اور آنحضرتﷺ کو یہ مہر لگانے والا بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ اِنَّآاَرْسَلْنٰکَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا (البقرۃ:120)۔ وَاِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْھَا نَذِیْرٌ (فاطر:25) ہم نے تجھے حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ہو شیار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور کوئی ایسی قوم نہیں جس میں ہوشیار کرنے والا نہ آیا ہو تو ہر قوم میں جو انبیاء آئے ان کی بھی اطلاع دے دی۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے ذریعہ سے یہ اعلان کروا دیا کہ تمام قوموں میں رسول آئے ہیں اس لئے جس قوم کا بھی یہ دعویٰ ہے کہ اس میں نبی آیا اور نبی کا نام لیتے ہیں ان کوماننا ضروری ہے۔ ایک مومن کو یہ حکم دیا کہ ان تمام رسولوں پر ایمان لانا بھی تمہارے مومن ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط ہے۔

(خطبہ جمعہ 13؍ جولائی 2007ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 14 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 نومبر 2020