• پیر 30 مارچ 2020   (6 شعبان 1441)

خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مورخہ 24 جنوری 2020ء بمقام مسجد بیت الفتوح یوکے

آنحضرت ؐ کے عشق ومحبت میں ڈوبے ہوئے اخلاص و وفا کے پیکر بدری صحابی حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی سیرتِ مبارکہ کا دلنشیں تذکرہ

آپ شاعر بھی تھے اور ان شاعروں میں سے تھے جو نبی کریمؐ کی طرف سے مخالفین کی بیہودہ گویوں کا جواب دیا کرتے تھے

غزوہ بدر کے اختتام پر آنحضرتؐ نے حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ کو عَوالی کی جانب فتح کی نوید سنانے کے لئے بدر کے میدان سے ہی روانہ فرمایا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اشعار سن کر فرمایا اے ابن رواحہ! اللہ تم کو ثابت قدم رکھے۔ ہشام بن عروہ نے کہا ہے کہ اللہ نے ان کو اس دعا کی برکت سے خوب ثابت قدم رکھا حتٰی کہ آپؓ شہید ہوئے اور ان کے واسطے جنت کے دروازے کھول دیے گئے

مسجد نبویؐ کی تعمیر کے دوران صحابہؓ حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ کا شعر پڑھتے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے اللہ!اصل اجر تو صرف آخرت کا اجر ہے پس تو اپنے فضل سے انصار و مہاجرین پر اپنی رحمت نازل فرما

تیس سال کے قریب فضلِ عمر ہسپتال میں خدمات بجا لانے والے، غریب پرور، دعا گو، صابر و شاکر ڈاکٹر لطیف احمد قریشی صاحب کا ذکرِ خیر اور نمازِ جنازہ غائب

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ- بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ٪﴿۷﴾

آج جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت عبداللہ بن رواحہؓ۔ حضرت عبداللہؓ کے والد کا نام رواحہ بن ثعلبہ تھا اور ان کی والدہ کا نام کبشہ بنت واقد بن عمرو تھا جو انصار کے قبیلہ خزرج کے خاندان بنو حارث بن خزرج سے تھیں۔ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ بیعتِ عقبہ میں شریک تھے اور بنو حارث بن خزرج کے سردار تھے۔ ان کی کنیت ابو محمد تھی بعض نے ابورواحہ اور ابوعمرو بھی بیان کی ہے۔

(اُسد الغابہ جلد 3 صفحہ 235 عبد اللّٰہ بن رواحہ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان2008ء)

انصار کے ایک شخص سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن رواحہؓ اور حضرت مقدادؓ میں مؤاخات قائم فرمائی تھی۔ ابن سعد کے مطابق آپؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب بھی تھے۔

(الاصابہ فی تمییز الصحابہ جلد4 صفحہ 73 عبد اللّٰہ بن رواحہ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان 2005ء)

حضرت عبداللہ بن رواحہؓ غزوۂ بدر، غزوۂ احد، غزوۂ خندق، غزوۂ حدیبیہ، غزوۂ خیبر اور عمرۃالقضاء سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک رہے۔ آپؓ غزوۂ موتہ میں شہید ہوئے۔ غزوۂ موتہ کے سرداروں میں سے ایک سردار آپؓ بھی تھے۔

ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ خطبے کے دوران آپؐ نے فرمایا بیٹھ جاؤ۔ یہ سنتے ہی آپؓ مسجد سے باہر جس جگہ کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبے سے فارغ ہوئے اور یہ خبر آپؐ کو پہنچی تو آپؐ نے ان سے فرمایا کہ

زَادَکَ اللّٰہُ حِرصًا عَلٰی طَوَاعِیَةِ اللّٰہِ وَ طَوَاعِیَةِ رَسُوْلِہٖ کہ اللہ کی اطاعت اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کی خواہش میں اللہ تمہیں زیادہ بڑھائے۔ اسی طرح کا واقعہ کتبِ احادیث میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے بارے میں بھی ملتا ہے اور یہ واقعہ ان کے حوالے سے میں ایک خطبہ میں بیان کر چکا ہوں۔ عبداللہ بن مسعودؓ کے بارےمیں بھی یہی روایت ہے۔ وہ بھی باہر بیٹھے تھے، جب سنا تو دروازے میں بیٹھ گئے اور پھر اسی طرح بیٹھے بیٹھے اندر آئے۔

حضرت عبداللہ بن رواحہؓ جہاد میں سب سے پہلے گھر سے نکلتے اور سب کے بعد لَوٹتے تھے۔ حضرت ابودرداءؓ فرماتے ہیں کہ میں اُس دن سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جس میں حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کا ذکر نہ کروں۔ جب وہ سامنے سے آتے ہوئے مجھ سے ملتے تو میرے سینے پر ہاتھ رکھتے یعنی کہ ایسا تھا کہ ہر رو ز جب بھی وہ ملتے اور روزانہ ملتے تو تب بھی ان کی باتیں ایسی تھیں کہ ان کا ذکر ضروری ہے اور پھر آگے بیان کر رہے ہیں کہ جب بھی وہ سامنے سے آتے، مجھے ملنے کے لیے آتے یا مجھے ملتے تو عبداللہ بن رواحہؓ میرے سینے پر ہاتھ رکھتے۔ حضرت ابودرداءؓ کہتے ہیں اور جب وہ جاتے ہوئے مجھے ملتے تو میرے کندھوں کے درمیان میں ہاتھ رکھتے اور مجھ سے کہتے کہ يَا عُوَيْمِرْ، اِجْلِسْ فَلْنُؤْمِنْ سَاعَةً کہ اے عویمر! بیٹھو تھوڑی دیر ایمان تازہ کریں۔ پس ہم بیٹھتے اور اللہ کا ذکر کرتے جتنا اللہ چاہتا تھا۔ پھر حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کہتے کہ اے عویمر یہ ایمان کی مجالس ہیں۔

(اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ جلد 3 صفحہ 235، -236 عبد اللّٰہ بن رواحہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان 2008ء)
(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب جلد 3 صفحہ 34 عبد اللّٰہ بن رواحہ داراکتب العلمیہ بیروت لبنان 2010ء)
(سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب الامام یکلم الرجل فی خطبتہ حدیث 1091)

حضرت امام احمؒد کی کتاب ’کتاب الزہد‘ میں بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ جب کسی ساتھی سے ملتے تو کہتے آؤ گھڑی بھر اپنے رب پر ایمان لانے کی یاد تازہ کر لیں۔ اسی میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ابن رواحہؓ پر رحم فرمائے۔ اسے ایسی مجالس سے محبت ہے جس پر فرشتے فخر کرتے ہیں۔

حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَوَاحَۃَ کہ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کتنے ہی اچھے آدمی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کو فتح خیبر کے بعد پھلوں اور فصل وغیرہ کا اندازہ لگانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا۔ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن رواحہ اتنے بیمار ہوئے کہ بےہوش ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کرنے کے لیے آئے۔ فرمایا اے اللہ! اگر اس کی مقدرگھڑی، اس کی مقررہ گھڑی کا وقت ہو گیا ہے تو اس کے لیے آسانی پیدا کر دے۔ یعنی اگر اس کی وفات کا وقت ہے تو آسانی پیدا کر دے اور اگر اس کا وقتِ موعود نہیں ہوا تو اسے شفا عطا فرما۔ اس دعا کے بعد حضرت عبداللہؓ کے بخار میں کچھ کمی ہوئی، انہوں نے کمی محسوس کی تو انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری والدہ کہہ رہی تھی کہ ہائے میرا پہاڑ۔ ہائے میرا سہارا۔ جب میں بیمار تھا تو مَیں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ لوہے کا گرز اٹھائے کھڑا یہ کہہ رہا تھا کہ کیا تم واقعی ایسے ہو؟ تو مَیں نے کہا ہاں۔ جس پر اس نے مجھے وہ گرز مارا۔

ایک اَور روایت اس بارے میں اس طرح ہے اور یہ زیادہ صحیح لگتی ہے۔ کہتے ہیں کہ فرشتے نے لوہے کا ایک گرز اٹھایا ہوا تھا اور وہ مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ کیا تم ایسے ہو جس طرح تمہاری ماں کہہ رہی ہے۔ کہ تم پہاڑ ہو اور میرے سہارے ہو ؟یہ تو شرک والی بات بنتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کہتے ہیں کہ اگر میں کہتا کہ ہاں میں ایسا ہوں تو وہ ضرور مجھے گرز مار دیتا۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 2 صفحہ 417 عبداللہ بن رواحہ، دارالفکر 2012ء)

آپؓ شاعر بھی تھے اور ان شاعروں میں سے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مخالفین کی بیہودہ گوئیوں کا جواب دیا کرتے تھے۔ ان میں سے چند شعر یہ ہیں

إِنِّيْ تَفَرَّسْتُ فِيْكَ الْخَيْرَ اَعْرِفُهُ
وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ أَنْ مَا خَانَنِیْ الْبَصَرُ
أَنْتَ النَّبِيُّ وَ مَنْ يُحْرَمْ شَفَاعَتَهُ
يَوْمَ الْحِسَابِ فَقَدْ أَزْرَى بِهِ الْقَدَرُ
فَثَبَّتَ اللّٰهُ مَا آتَاكَ مِنْ حَسَنٍ
تَثْبِيْتَ مُوْسٰى وَنَصْرًا كَالَّذِيْ نُصِرُوْا

کہ مَیں نے آپؐ کی ذاتِ مقدس میں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں بھلائی پہچان لی تھی اور اللہ جانتا ہے کہ میری نظر نے دھوکا نہیں کھایا۔ آپؐ نبی ہیں۔ قیامت کے دن جو شخص آپؐ کی شفاعت سے محروم کر دیا گیا بے شک قضاء و قدر نے اس کو بے وقعت کر دیا۔ پس اللہ ان خوبیوں پر ثبات بخشے جو اس نے آپؐ کو دی ہیں جس طرح موسیٰ ؑکو ثابت قدم رکھا اور آپؐ کی مدد کرے جیسا کہ ان نبیوں کی مدد کی۔
نبی کریم ؐ نے ان اشعار کو سن کر فرمایا کہ اے ابن رواحہ! اللہ تم کو ثابت قدم رکھے۔ ہشام بن عروہ نے کہا ہے کہ اللہ نے ان کو اس دعا کی برکت سے خوب ثابت قدم رکھا حتٰی کہ آپؓ شہید ہوئے اور ان کے واسطے جنت کے دروازے کھول دیے گئے۔ اس میں شہید ہو کر داخل ہوئے۔

ابن سعد کی روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُوْنَ (الشعراء: 225) اور رہے شاعر تو محض بھٹکے ہوئے ہی ان کی پیروی کرتے ہیں تو حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مَیں انہی میں سے ہوں۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اِلَّا الَّذِيْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ (الشعراء: 228) سوائے ان کے جو ان میں سے ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے۔ معجم الشعراء کے مصنف لکھتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ زمانۂ جاہلیت میں بھی بہت قدر و منزلت رکھتے تھے اور زمانۂ اسلام میں بھی ان کو بہت بلند مقام اور مرتبہ حاصل تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ایک شعر حضرت عبداللہؓ نے ایسا کہا ہے کہ اسے آپؓ کا بہترین شعر کہا جا سکتا ہے۔ وہ شعر آپؓ کی دلی کیفیت کو خوب بیان کرتا ہے جس میں حضرت عبداللہؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

لَوْ لَمْ تَکُنْ فِیْہِ اٰیَاتٌ مُبَیِّنَةٌ
کَانَتْ بَدِیْھَتُہُ تُنْبِیْکَ بِالْخَبَرِ

کہ اگر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے بارے میں کھلے کھلے نشانات اور روشن معجزات نہ بھی ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہی حقیقتِ حال کی آگاہی کے لیے کافی ہے۔

(الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر عسقلانی جلد 4 صفحہ 72 تا 75 عبد اللّٰہ بن رواحہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان 2005ء)
(اسد الغابہ جلد 3 صفحہ 236 عبد اللّٰہ بن رواحہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2008ء)
(الطبقات الکبریٰ جلد 3 صفحہ 401 عبد اللّٰہ بن رواحہ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

حضرت عبداللہ بن رواحہؓ جاہلیت کے زمانہ میں لکھنا پڑھنا جانتے تھے حالانکہ اس زمانے میں عرب میں کتابت بہت کم تھی۔ غزوۂ بدر کے اختتام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہؓ کو مدینے کی طرف اور حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کو عَوالی کی جانب فتح کی نوید سنانے کے لیے بدر کے میدان سے روانہ فرمایا۔ عَوالیمدینہ کے بالائی جانب وہ علاقہ ہے جو چار میل سے لے کر آٹھ میل کے درمیان ہے۔ اس میں قباء کی بستی اور چند دیگر قبائل رہتے ہیں، اسے کہتے ہیں۔ حضرت سعید بن جبیرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں اونٹ پر داخل ہوئے۔ آپؐ عصا سے حجر ِاسود کو بوسہ دے رہے تھے۔ آپؐ کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ بھی تھے جو آپؐ کی اونٹنی کی نکیل پکڑے ہوئے تھے اور یہ اشعار کہہ رہے تھے کہ

خَلُّوْا بَنِي الْكُفَّارِ عَن سَبِيْلِهْ
نَحْنُ ضَرَبْنَاكُمْ عَلٰى تَأْوِيْلِهْ
ضَرْبًا يُّزِيْلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيْلِهْ

کہ اے کفار! آپؐ کے راستے سے ہٹ جاؤ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رجوع کرنے پر تمہیں ایسی مار ماری جو سروں کو مقام استراحت سے ہٹا دے۔
حضرت قیس بن ابوحازم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن رواحہؓ سے فرمایا کہ اترو اور ہمارے اونٹوں کو حرکت دو یعنی کچھ شعر کہہ کر اونٹوں کو تیز کرو جسے حُدی کہتے ہیں۔عرض کی کہ یا رسول اللہؐ! مَیں نے یہ کلام ترک کر دیاہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا سنو اور اطاعت کرو۔ اور حضرت عبداللہ بن رواحہؓ یہ اشعار کہتے ہوئے اپنے اونٹ سے اترے کہ

يَا رَبِّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا
وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا
فَأَنْزِلَنْ سَكِيْنَةً عَلَيْنَا
وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا
إِنَّ الْكُفَّارَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا

کہ اے پروردگار! اگر تُو نہ ہوتا تو ہم لوگ ہدایت نہ پاتے۔ نہ تو صدقہ و خیرات کرتے۔ نہ نماز پڑھتے۔ ہم پر سکون و اطمینان نازل فرما اور جب ہم دشمن کا مقابلہ کریں تو ہمارے قدم ثابت رکھ کیونکہ کفار ہم پر حملہ آور ہوئے ہیں۔ وکیع نے کہا کہ دوسرے راوی نے اتنا اور اضافہ کیا تھا کہ

وَإِنْ أَرَادُوْا فِتْنَةً أَبَيْنَا

کہ اگر وہ فتنہ و فساد برپا کرنا چاہیں تو ہم انکار کرتے ہیں۔ یعنی اس فتنہ اور فساد کا سدِّباب کرتے ہیں اور اسے برپا نہیں ہونے دیتے۔ راوی نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! ان پر رحمت کر۔ اس پر حضرت عمرؓ نے کہا کہ واجب ہو گئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہی سے یہ رحمت تو واجب ہو گئی۔

حضرت عبادہ بن صامتؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے تو آپ کے لیے اپنے بستر سے نہ اٹھ سکے۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ میری امت کے شہداء کون ہیں؟ لوگوں نے عرض کی۔ مسلمان کا قتل ہونا شہادت ہے۔ فرمایا تب تو میری امت کے شہداء کم ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کا قتل ہونا شہادت ہے اور پیٹ کی بیماری سے فوت ہونا شہادت ہے اور پانی میں ڈوب کر فوت ہونا شہادت ہے اور وہ عورت جس کی زچگی میں وفات ہو جاتی ہے یہ سب شہادت کی اقسام ہیں۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3 صفحہ 398 تا 400 عبد اللّٰہ بن رواحہ دار الکتب العلمیۃ بیروت لبنان 1990ء)
(معجم البلدان جلد 4 صفحہ 187)
(الطبقات الکبریٰ جلد 2 صفحہ 13 باب غزوہ بدر مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

حضرت عروة بن زبیرسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ موتہ میں حضرت زید بن حارثہؓ کو سردار لشکر بنایا اور فرمایا کہ اگر یہ شہید ہو جائیں تو حضرت جعفر بن ابوطالبؓ ان کی جگہ پر ہوں۔ پھر اگر حضرت جعفرؓ بھی شہید ہو جائیں تو حضرت عبداللہ بن رواحہؓ سردار بنیں۔ اگر عبداللہ ؓبھی شہید ہوں تو مسلمان جس کو پسند کریں اس کو اپنا سردار بنا لیں۔ پس جب لشکر تیار ہو گیا اور اہلِ لشکر کوچ کرنے لگے تو لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرداروں کو رخصت کیا اور ان کو سلامتی کی دعادی۔ جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرداروں کو اور حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کو رخصت کیا تو حضرت عبداللہ بن رواحہؓ رونے لگے۔ لوگوں نے رونے کا سبب دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ بخدا مجھے دنیا کی محبت اور اس کی شدید خواہش اور شوق نہیں ہے بلکہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت پڑھتے سنا ہے کہ وَ اِنْ مِنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلٰی رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا (مريم:72) کہ اور تم میں سے کوئی نہیں مگر وہ ضرور اس میں جانے والا ہے یعنی دوزخ میں۔ یہ تیرے رب پر ایک طے شدہ فیصلے کے طور پر فرض ہے۔ پس میں نہیں جانتا کہ پل صراط چڑھنے اور پار اترنے میں میرا کیا حال ہو گا۔

اس سے پہلے کی آیت میں دوزخ کا ذکر ہے۔ اس لیے ان کو خوف پیدا ہوا تھا ورنہ دوسری آیات میں صاف ظاہر ہے کہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے بارے میں یہ ذکر نہیں ہے۔ بہرحال مسلمانوں نے کہا کہ اللہ تمہارے ہمراہ ہے۔ وہی تم کو ہم تک خیر و خوبی سے واپس لائے گا۔

تفسیر صغیر کے حاشیے میں لکھا ہے اور تفسیر کبیر میں دونوں طرح ہے کہ ایک تو یہ مومنوں کے لیے نہیں ہے کافروں کے لیے ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اور احادیث سے اس بارے میں تشریح بھی فرمائی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے جو تفسیر صغیر کے حاشیے میں بھی لکھا ہے کہ ’’قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ دوزخیں دو ہیں۔ ایک اس دنیا کی، ایک اگلے جہان کی۔ یہ جو فرمایا ہے کہ ہر ایک شخص دوزخ میں جائے گا اس سے یہ مراد نہیں کہ مومن بھی دوزخ میں جائیں گے۔ بلکہ یہ مراد ہے کہ مومن دوزخ کا حصہ اسی دنیا میں پالیتے ہیں۔ یعنی کفار انہیں قسم قسم کی تکالیف دیتے ہیں۔ ورنہ مومن قرآن مجید کی رو سے اگلے جہان میں دوزخ میں کبھی نہیں جائیں گے۔ کیونکہ قرآن مجید مومنوں کے متعلق فرماتا ہے کہ لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا یعنی مومن دوزخ سے اتنے دور رہیں گے کہ وہ اس کی آواز بھی نہیں سن سکیں گے۔ پس مومنوں کے دوزخ میں جانے سے مراد ان کا دنیا میں تکالیف اٹھانا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بخار کو بھی ایک قسم کا دوزخ قرار دیا ہے۔ فرمایا الْحُمّٰى حَظُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ مِنَ النَّارِ یعنی بخار دوزخ کی آگ کا مومن کے لیے ایک حصہ ہے۔‘‘

(تفسیرِ صغیر زیر مریم:72)

بہرحال یہ اس کی تھوڑی سی وضاحت ہے اور جو رخصت کیا مسلمانوں نے، مومنوں نے انہیں کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دشمنوں کے شر سے بچائے۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ نے اس وقت یہ اشعار پڑھے کہ

لَكِنَّنِيْ اَسْأَلُ الرَّحْمَانَ مَغْفِرَةً
وَ ضَرْبَةً ذَاتَ فَرْغٍ يَقْذِفُ الزَّبَدَا
اَوْ طَعْنَةً بِيَدَيْ حَرَّانَ مُجْهِزَةً
بِحَرْبَةٍ تُنْفِذُ الْاَحْشَاءَ وَالْكَبِدَا
حَتّٰى يَقُوْلُوْا اِذَا مَرُّوْا عَلٰى جَدَثِيْ
یَا اَرْشَدَ اللّٰهُ مِنْ غَازٍ وَ قَدْ رَشَدَا

لیکن میں خدائے رحمٰن سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تلواروں کا ایسا وار کرنے کی توفیق مانگتا ہوں جو کشادہ گھاؤ والا ہو اور تازہ خون نکالنے والا ہو جس میں جھاگ اٹھ رہی ہو اور نیزے کا ایسا حملہ جو پوری تیاری سے خون کے شدید پیاسے کے ہاتھوں سے کیا گیا ہو جو انتڑیوں اور جگر کے پار ہو جائے یہاں تک کہ جب لوگ میری قبر کے پاس سے گزریں تو کہیں کہ اے جنگ میں شامل ہونے والے! اللہ تیرا بھلا کرے اور اس خدا نے بھلا کر دیا ہو۔

پھر عبداللہ بن رواحہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو رخصت کیا۔ لشکر نے کوچ کیا یہاں تک کہ معان مقام پر پڑاؤ کیا۔ معان ملک شام میں حجاز کی جانب بلقاء کے نواح میں ایک شہر ہے۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ ہرقل ایک لاکھ رومی اور ایک لاکھ عربی فوج کے ساتھ ماٰبمقام پر موجود ہے۔ ماٰببھی ملک ِشام میں بلقاء کے نواح میں ایک شہر ہے۔ مسلمانوں نے دو دن معان میں قیام کیا اور آپس میں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی کو بھیج کر اپنے دشمن کی کثرت سے خبر دیں۔ یعنی کہ دشمن بہت بڑی تعداد میں ہے یا توآپؐ ہماری مدد کریں گے یا کچھ اَور حکم دیں گے ۔مگر حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے مسلمانوں کو جوش دلایا۔ چنانچہ وہ لوگ باوجودیکہ تین ہزار تھے آگے بڑھے اور رومیوں سے بلقاء کی ایک بستی مشارف کے قریب جا ملے۔ مشارف، ملک شام میں اس نام کی کئی بستیاں تھیں جس میں ایک حَوران شہر کے پاس ہے، ایک دمشق کے قریب، ایک بلقاء کے قریب ہے۔ پھر مسلمان وہاں سے موتہ کی طرف ہٹ آئے۔

(اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ جلد 3 صفحہ237 عبد اللّٰہ بن رواحہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان2008ء)
(تفسیر صغیر سورۃ مریم آیت 72 صفحہ 390)
(اسد الغابہ (مترجم) حصہ پنجم صفحہ 247 مطبوعہ المیزان اردو بازار لاہور)
(معجم البلدان جلد 5 صفحہ 179، 37، 153-154)

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زیدؓ، حضرت جعفرؓ اور حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کے شہید ہو جانے کی خبر لوگوں کو سنائی۔ قبل اس کے کہ ان تک اس کی کوئی خبر نہیں آئی تھی۔ آپؐ نے پہلے بتا دیا۔ آپؐ نے فرمایا زیدؓ نے جھنڈا لیا اور وہ شہید ہوئے۔ پھر جعفرؓ نے لیا اور وہ بھی شہید ہوئے۔ پھر عبداللہ بن رواحہؓ نے لیا وہ بھی شہید ہوئے اور آپؐ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ فرمایا پھر جھنڈا اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے لیا ۔آخر اللہ نے اس کے ذریعہ سے فتح دی۔

(صحیح بخاری کتاب المغازی باب غزوہ موتہ من ارض الشام حدیث 4262)

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک حضرت زید بن حارثہؓ، حضرت جعفرؓ اور حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کی شہادت کی خبر پہنچی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا حال بیان کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور حضرت زیدؓ کے ذکر سے آغاز فرمایا۔ آپؐ نے فرمایا

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِزَیْدٍ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِزَیْدٍ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِزَیْدٍ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِجَعْفَرٍ وَ لِعَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ رَوَاحَةَ کہ اے اللہ! زیدکی مغفرت فرما۔ اے اللہ! زید کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! زید کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! جعفر اور عبداللہ بن رواحہ کی مغفرت فرما۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3 صفحہ 34 زیدالحب بن حارثہ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ جب حضرت زید بن حارثہؓ، حضرت جعفرؓ اور حضرت عبداللہ بن رواحہؓ شہید ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھ گئے۔ آپؐ کے چہرے سے غم و حزن کا اظہار ہو رہا تھا۔

(سنن ابی داؤد کتاب الجنائز باب الجلوس عند المصیبۃ حدیث 3122)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غزوۂ موتہ کا ذ کر کرتے ہوئے اس طرح فرمایا ہے۔ یہ پہلے حضرت زید کے ضمن میں بھی ذکر ہو چکا ہے۔ لیکن بہرحال تھوڑا سا حصہ دوبارہ پیش کرتا ہوں۔ آپؓ لکھتے ہیں کہ

’’اس کا افسر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی زیدؓ کو مقرر کیا تھا مگر ساتھ ہی یہ ارشاد فرمایا کہ مَیں اس وقت زید کو لشکر کا سردار بناتا ہوں۔ اگر زید لڑائی میں مارے جائیں تو ان کی جگہ جعفرؓ لشکر کی کمان کریں۔ اگر وہ بھی مارے جائیں تو عبداللہ بن رواحہؓ کمان کریں۔ اگر وہ بھی مارے جائیں تو پھر جس پر مسلمان متفق ہوں وہ فوج کی کمان کرے۔ جس وقت آ پؐ نے یہ ارشاد فرمایا اس وقت ایک یہودی بھی آپؐ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے کہا کہ مَیں آپؐ کو نبی تو نہیں مانتا لیکن اگر آپ سچے بھی ہوں تو ان تینوں میں سے کوئی بھی زندہ بچ کر نہیں آئے گا کیونکہ نبی کے منہ سے جو بات نکلتی ہے وہ پوری ہو کر رہتی ہے۔ وہ یہودی حضرت زیدؓ کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ اگر تمہارا رسول سچا ہے تو تم زندہ واپس نہیں آؤ گے۔ حضرت زیدؓ نے فرمایا میں زندہ آؤں گا یا نہیں آؤں گا اس کو تو اللہ ہی جانے مگر ہمارا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ضرور سچا ہے۔‘‘ یعنی نہ مانتے ہوئے بھی یہودی اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ آپؐ کی بات پوری ہو گی لیکن پھر بھی جنہوں نے نہیں ماننا ان لوگوں کی ہٹ دھرمی ہوتی ہے۔ آپؓ لکھتے ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ یہ واقعہ بالکل اسی طرح پوراہوا۔ پہلے حضرت زیدؓ شہید ہوئے۔ ان کے بعد حضرت جعفرؓ نے لشکر کی کمان سنبھالی وہ بھی شہید ہو گئے اور ان کے بعد حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے لشکر کی کمان سنبھالی لیکن وہ بھی مارے گئے اور قریب تھا کہ لشکر میں انتشار پیدا ہو جاتا کہ حضرت خالد بن ولیدؓ نے بعض مسلمانوں کے کہنے سے جھنڈے کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعہ مسلمانوں کو فتح دی اور وہ خیریت سے لشکر کو واپس لے آئے۔‘‘

(فریضۂ تبلیغ اور احمدی خواتین، انوار العلوم جلد 18 صفحہ 405-406)

یہ واقعہ جو مَیں اب بیان کرنے لگا ہوں، یہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے لیکن اس میں حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کے اخلاص و وفا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اظہار اور اسلام سے محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ اس لیے یہ یہاں بیان کرنا ضروری ہے۔

حضرت عروہ سے روایت ہے کہ حضرت اسامہ بن زیدؓ نے انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان تھا اور اس کے پیچھے فدک کے علاقےکی چادر تھی۔ آپؐ نے اپنے پیچھے اسامہ کو بٹھایا ہوا تھا۔ آپؐ حضرت سعد بن عبادہؓ کی عیادت کے لیے بنوحارث بن خزرج قبیلہ میں تشریف لے گئے۔ یہ بدر کے واقعے سے پہلے کی بات ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان اور مشرکین اور یہود ملے جلے بیٹھے تھے۔ ان میں عبداللہ بن اُبی بھی تھا اور اس مجلس میں حضرت عبداللہ بن رواحہؓ بھی تھے۔ جب مجلس میں سواری کی گرد پہنچی تو عبداللہ بن ابی نے اپنی ناک اپنی چادر سے ڈھانک لی۔ پھر کہنے لگا کہ ہم پر گرد نہ اڑاؤ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں السلام علیکم کہا پھر ٹھہرے اور سواری سے اترے اور انہیں اللہ کی طرف بلایا اور ان پر قرآن پڑھا۔ عبداللہ بن ابی کہنے لگا کہ اے شخص! یہ اچھی بات نہیں۔ جو تم کہتے ہو اگر وہ سچ ہے تو ہماری مجالس میں ہمیں تکلیف نہ دو اور اپنے ڈیرے کی طرف لوٹ جاؤ اور جو تمہارے پاس آئے اس کے پاس بیان کرو۔ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے فوراً عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ! آپؐ ہماری مجالس میں تشریف لایا کریں۔ ہم یہ پسند کرتے ہیں۔ اور اس وقت انہوں نے کوئی خوف نہیں کھایا اور کسی کی کوئی پروا نہیں کی۔ بعد میں وہاں جھگڑا بھی ہوا لیکن بہرحال ان کا اپنا ایک کردار تھا۔

(صحیح مسلم کتاب الجہادو السیر باب فی دعاء النبیﷺ الی اللّٰہ … حدیث1798)

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم میں اصحاب کو بھیجا جس میں حضرت عبداللہ بن رواحہؓ بھی شامل تھے۔ جمعے کا دن تھا۔ مہم میں شامل باقی اصحاب تو روانہ ہو گئے انہوں نے کہا، عبداللہ بن رواحہؓ نے کہا کہ پیچھے رہ کر جمعے کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کر کے مَیں ان سے جا ملوں گا۔ پھر جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھ رہے تھے تو آپؐ نے انہیں دیکھ کر فرمایا تجھے کس چیز نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ روانہ ہونے سے روک دیا؟ انہوں نے عرض کی کہ میری خواہش تھی کہ میں آپؐ کے ہمراہ نمازِ جمعہ ادا کروں پھر ان سے جا ملوں۔ حضورؐ نے فرمایا کہ زمین میں جو کچھ ہے اگر تم وہ سب خرچ کر ڈالو تو جو لوگ مہم پر روانہ ہو گئے ہیں تم ان کے فضل کو نہیں پا سکتے۔

(سنن الترمذی ابواب الجمعۃ باب ماجاء فی السفر یوم الجمعۃ حدیث 527)

اس لیے فرمایا کہ جو مہم مَیں نے روانہ کی ہے اس کی اس وقت نماز جمعہ سے زیادہ اہمیت ہے۔ راستے میں تم لوگ پڑھ سکتے تھے۔
حضرت ابودرداءؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے مہینے میں شدید گرمی میں نکلے اور گرمی اتنی شدید تھی کہ ہم میں سے ہر کوئی سروں کو گرمی سے بچانے کے لیے ہاتھوں سے ڈھانپتا تھا اور ہم میں کوئی روزہ دار نہیں تھا سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کے۔

(صحیح مسلم کتاب الصیام باب التخیر فی الصوم و الفطر فی السفر حدیث 1122)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے تحریر فرمایا ہے کہ ’’مدینہ کے قیام کا سب سے پہلا کام مسجد نبویؐ کی تعمیر کا تھا۔ جس جگہ آپؐ کی اونٹنی آ کر بیٹھی تھی وہ مدینہ کے دو مسلمان بچوں سہل اور سہیل کی ملکیت تھی جو حضرت اسعد بن زرارہ ؓکی نگرانی میں رہتے تھے۔ یہ ایک افتادہ جگہ تھی جس کے ایک حصہ میں کہیں کہیں کھجوروں کے درخت تھے اور دوسرے حصے میں کچھ کھنڈرات وغیرہ تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مسجد اور اپنے حجرات کی تعمیر کے لیے پسند فرمایا اور دس دینار یعنی قریب نوّے روپے میں یہ زمین خرید لی گئی اور جگہ کو ہموار کر کے اور درختوں کو کاٹ کر مسجد نبویؐ کی تعمیر شروع ہو گئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود دعا مانگتے ہوئے سنگِ بنیاد رکھا اور جیسا کہ قباء کی مسجد میں ہوا تھا صحابہؓ نے معماروں اور مزدوروں کا کام کیا جس میں کبھی کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی شرکت فرماتے تھے۔ بعض اوقات اینٹیں اٹھاتے ہوئے صحابہ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ انصاری کا یہ شعر پڑھتے تھے

ھٰذَا الْحِمَالُ لَا حِمَالَ خَیْبَرَ
ھٰذَا اَبَرُّ رَبَّنَا وَاَطْھَرٗ

یعنی یہ بوجھ خیبر کے تجارتی مال کا بوجھ نہیں ہے جو جانوروں پر لد کر آیا کرتا ہے بلکہ اے ہمارے مولیٰ! یہ بوجھ تقویٰ اور طہارت کا بوجھ ہے جو ہم تیری رضا کے لیے اٹھاتے ہیں۔اور کبھی کبھی صحابہ کام کرتے ہوئے عبداللہ بن رواحہؓ کا یہ شعر پڑھتے تھے

اَللّٰھُمَّ اِنَّ الْاَجْرَ اَجْرُ الْاٰخِرَہْ
فَارْحَمِ الْاَنْصَارَ وَالْمُھَاجِرَہْ

یعنی اے ہمارے اللہ! اصل اجر تو صرف آخرت کا اجر ہے۔ پس تُو اپنے فضل سے انصار و مہاجرین پر اپنی رحمت نازل فرما۔ جب صحابہؓ یہ اشعار پڑھتے تھے تو بعض اوقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی آواز کے ساتھ آواز ملا دیتے تھے اور اس طرح ایک لمبے عرصے کی محنت کے بعد یہ مسجد مکمل ہوئی۔‘‘

(سیرت خاتم النبیینؐ صفحہ 269 تا 270)

یہ ذکر حضرت عبداللہ بن رواحہ کا ہے اور کیونکہ ایک جنازہ بھی مَیں نے پڑھانا ہے اور مرحوم کا ذکر بھی کرنا ہے۔ اس لیے آج ایک صحابی کا ہی ذکر کر رہا ہوں۔

اب جیسا کہ مَیں نے کہا کہ ایک مرحوم کا ذکر کرنا ہے۔ یہ ہمارے محترم ڈاکٹر لطیف احمد قریشی صاحب ہیں جو منظور احمد قریشی صاحب کے بیٹے تھے۔ 19 جنوری 2020ء کو دوپہر ایک بجے کے قریب اپنے گھر میں تقریباً 80سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ موصی تھے۔ اجمیر شریف انڈیا میں پیدا ہوئے تھے اور 1937ء میں ان کے والد منظور قریشی صاحب نے حضرت مصلح موعودؓ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ ان کی والدہ مکرمہ منصورہ بشریٰ صاحبہ ہیں۔ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت منشی فیاض علی صاحب کپورتھلوی صاحبؓ کی نواسی اور حضرت شیخ عبدالرشید میرٹھیؓ کی پوتی ہیں۔ وہ ابھی حیات ہی ہیں۔

مکرم ڈاکٹر قریشی صاحب کے والدین قیامِ پاکستان کے وقت ہجرت کر کے لاہور آ گئے تھے۔ یہیں انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اس میں اچھی پہلی پوزیشن لی۔ پھر کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں داخل ہوئے اور اس وقت کے سب سے چھوٹی عمر کے طالب علم تھے جنہوں نے ایم۔بی۔بی۔ایس کیا۔ وہاں کے پرنسپل نے خاص طور پہ اس کا ذکر کیا۔ 1961ء میں پھر یہ مزید تعلیم کے لیے انگلستان آ گئے اور یہاں پہلے بچوں کے امراض میں ڈپلومہ کیا۔ پھر ایم۔آر۔ سی ۔پی کی ڈگری حاصل کی۔ پھر یوول (Yeovil) سومر سیٹ (Somerset) میں کنسلٹنٹ کی جاب ان کو مل گئی۔ وہاں خصوصیت کے ساتھ دل کے امراض میں مہارت حاصل کی۔ 1968ء میں حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر صاحب کو فرمایا کہ آپ ہمارے پاس کب آ رہے ہیں؟ تو ڈاکٹر صاحب نے فرمایا جب آپ حکم دیں۔ چنانچہ آپؒ نے کہا آپ آ جائیں۔ چنانچہ انگلستان ترک کر کے ربوہ منتقل ہو گئے اور فضل عمر ہسپتال ربوہ میں ڈاکٹر صاحب کا تقرر ہوا اور پھر یہ لمبا عرصہ وہاں کام کرتے رہے۔ 11جولائی 1983ء بطور چیف میڈیکل آفیسر فضل عمر ہسپتال مقرر ہوئے اور 87ء تک اس خدمت پہ مامور رہے۔ ساٹھ سال کی عمر تک فضل عمر ہسپتال کی خدمت کی توفیق پاتے رہے۔

20 گست 98ء کو ریٹائرڈ ہوئے۔ 6 ستمبر 98ء کو دوبارہ فضل عمر ہسپتال جوائن کر لیا اور 10 ستمبر 2000ء تک اللہ کے فضل سے آپ کو فضل عمر ہسپتال میں خدمت کی توفیق ملی۔ اس طرح فضل عمر ہسپتال میں ان کی خدمت کا عرصہ تقریباً تیس سال پر محیط ہے۔ ڈاکٹر لطیف قریشی صاحب علاوہ اس کے کہ واقفِ زندگی ڈاکٹر رہے، خدام الاحمدیہ مرکزیہ، انصار اللہ مرکزیہ میں بھی مختلف عہدوں پر ان کو کام کرنے کی توفیق ملی۔ آج کل بھی رکن خصوصی انصار اللہ تھے۔ اس عرصے میں دو سال یہ مجلس افتاء کے ممبر بھی رہے۔ انہوں نے دو کتابیں بھی لکھیں جو خاص طور پہ پاکستان کے لوگوں کے لیے تھیں۔ حفظانِ صحت کے اصول اور Healthy Living۔

ان کی اہلیہ بھی چند دن پہلے فوت ہوئی تھیں اور ان کا ذکر میں نے کیا تھا۔ وہ مولانا عبدالمالک خان صاحب کی بیٹی تھیں۔ گذشتہ جمعہ ان کا بھی جنازہ مَیں نے پڑھایا تھا ۔ اس سے دو دن بعد اور ان کی وفات کے کوئی پندرہ دن بعد ان کی بھی وفات ہو گئی۔ ان کے پسماندگان میں بھی جیسا کہ میں نے ان کی اہلیہ کے ذکر میں بھی ذکر کیا تھا کہ تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ ان کے بیٹے ڈاکٹر عطاء المالک کہتے ہیں کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے والد صاحب نے کبھی تہجد کی نماز نہیں ترک کی۔ اسی طرح ہماری والدہ ہمیں بتاتی تھیں کہ شادی کے پہلے دن سے تہجد کی نماز باقاعدگی سے پڑھتے تھے۔ غرض تقریباً پچاس سال سے زائد عرصہ تک روزانہ بلاناغہ تہجد کا اہتمام کیا۔ اُمی کی آخری بیماری میں بھی جبکہ والد صاحب بہت محنت سے ان کی صحت کا خیال رکھتے تھے اور ڈائلیسز (Dialysis) کروانے کے لیے ہسپتال بھی لے جانا ہوتا تھا۔ اور وہاں بھی کئی کئی گھنٹے بیٹھنا ہوتا تھا۔ بے آرامی بھی تھی لیکن اس کے باوجود کبھی تہجد نہیں چھوڑی۔ مریضوں سے انتہائی ہمدردی سے پیش آتے تھے۔ غریب پرور تھے۔ دور دور سے غریب مریض آپ کے پاس آتے، دوائی لیتے اور شفا پاتے۔ کئی مریضوں سے فیس بھی نہ لیتے۔ بعض دفعہ اپنے پاس سے مدد کر دیتے۔ ہمیشہ تلقین کرتے کہ شفا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اپنے تین بچوں کو جوڈاکٹر ہیں انہیں خاص طور پر بار بار اس امر کی یقین دہانی کراتے تھے کہ ہمیشہ اپنے مریضوں کے لیے دعا میں مشغول رہو۔ ان کے بیٹے کہتے ہیں ۔کئی دفعہ میں اپنے والد صاحب کو اپنے مریضوں کے لیے دعا کے لیے کہتاتو اگلے دن پھر وہ فون کر کے پوچھتے کہ مریض کا کیا حال ہے؟ میں نے دعا کی ہے۔

1969ء میں جبکہ انگلستان میں کنسلٹنٹ کا کام کرتے تھے تمام دنیاوی فوائد اور پیسوں کو چھوڑ کر اللہ پہ توکل کرتے ہوئے ربوہ آئے اور اللہ کی ذات پر کامل یقین تھا کہ تمام دنیاوی اور دینی کام خود بنائے گا اور بچے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور کبھی مالی تنگی نہیں آئی اور بچوں نے اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی۔ ان کے تینوں بچے جو ڈاکٹر ہیں۔ وہ بھی آج کل اکثر امریکہ میں ہیں۔ اپنے والدین کی بہت خدمت کرتے تھے۔ آخر وقت تک والدہ کو خود کھانا دیتے رہے اور خاص خیال رکھتے رہے۔ میں نے بتایا ہے ناں کہ ان کی والدہ ابھی حیات ہیں۔ ان کے پاس ہی تھیں۔ پھر ان کے بیٹے کہتے ہیں کہ میرے امریکہ جانے میں، امتحانات کی تیاری وغیرہ میں میری بڑی مدد کی۔ ہم بچوں کی بڑی حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے۔ دکھاوے سے سخت نفرت کرتے تھے۔ ہمیشہ سادہ طریق پر زندگی گزاری اور ہر چھوٹے اور بڑے کام سے پہلے خلیفہ وقت کی خدمت میں دعا کا خط لکھتے تھے اور مشورہ کرتے تھے۔

اور ان کے دوسرے بیٹے ڈاکٹر محمد احمد محمود قریشی ہیں۔ کہتے ہیں کہ خلیفہ ثالثؒ نے ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ یہ صرف ڈاکٹر ہی نہیں ہیں بلکہ دعا گو ڈاکٹر ہیں۔ ہر مریض کے لیے دعا کرتے۔ ہر پرچی پر دوائی لکھنے سے پہلے ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ لکھتے اور پھر اس کے نیچے ’ھو الشافی‘ لکھتے اور اسی طرح دوسرے ڈاکٹروں کو نصیحت کرتے تھے کہ مریضوں کے لیے دعا کیا کرو کیونکہ اصل شفا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اب آخری یہ کہتے ہیں کہ میری والدہ کی وفات کے بعد شور کوٹ سے ایک مریض آیا تو اس وقت بھی کہیں جا رہے تھے، گاڑی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ گاڑی سے اتر کر مریض کو دیکھا اور ان کو نسخہ لکھ کر دیا۔اور اکثر مریضوں کو اپنی جیب سے دوائی خرید کے دیتے تھے۔ ان کی بیٹی کہتی ہیں کہ ایک عورت نے مجھے بتایا کہ ان کے والد کو ہارٹ اٹیک ہوا تو وہ گھر میں تنہا تھے یعنی اس عورت کے والد تو انہوں نے گھر جا کے مریض کو دیکھا ، بچوں کو فون کیا اور جب تک ان کے بچے گھر نہیں آ گئے اس وقت تک ان کو چھوڑا نہیں۔ مریض کے پاس بیٹھے رہے۔

ہر سال بڑے اہتمام سے انگلستان اور قادیان کے جلسے میں شرکت کرنے کے لیے جاتے تھے۔ محنت کی بڑی عادت تھی۔ انہوں نے بڑی ہمت سے ہمیشہ کام کیا ہے۔ ان کی بیٹی کہتی ہیں کہ وفات کے بعد مجھے کہا کہ میرے ساتھ اپنی امی کی تمام چیزوں کے انتظامات میں مدد کرو۔ کام مکمل ہونے پر اس قدر شکر گزار ہوئے کہ مَیں شرمندہ ہوتی گئی اور یہ کام کرتے ہوئے ایک بات بار بار مجھے کہتے تھے کہ بیٹی سب کام جلدی جلدی آج ہی مکمل کر لو کیونکہ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ اس وقت تو میں نے ان کی بات پر زیادہ دھیان نہیں دیا اور پھر زیادہ پوچھا بھی نہیں کیونکہ اپنی خوابیں وغیرہ بھی بہت زیادہ نہیں بتایا کرتے تھے مگر بعدمیں بھائی نے بتایا کہ آپ نے اپنے بارے میں کوئی خواب دیکھی تھی اور کہا تھا کہ میرا وقت اب کم ہے۔ وفات سے ایک گھنٹہ قبل بھی صبح نو بجے سے ایک بجے تک اپنے گھر سے ملحقہ کلینک میں مریض دیکھ رہے تھے۔ ایک بجے گھر آئے۔ وضو کر کے مسجد مبارک میں نماز پڑھنے کا ارادہ تھا۔ بستر پر بیٹھ کر جوتے اتارتے اتارتے اچانک ان کو میسیو (Massive) ہارٹ اٹیک ہوا اور اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔

ہمسایوں سے بھی پیار کا تعلق تھا اور ہمسائے بھی ان کا بہت خیال رکھا کرتے تھے۔ شعری اور ادبی شوق بھی تھا۔ درثمین، کلام ِمحمود اور درّعدن کی نظمیں بڑے ترنّم سے پڑھا کرتے تھے۔ کئی کیسٹ بھی انہوں نے ریکارڈ کروائے۔ اچھے شعر کو خوب سراہتے تھے۔ علمی ذوق رکھنے والے تھے۔ سید حسین احمد مربی سلسلہ ہیں، ان کے ہم زلف بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ جب لندن سے جماعت کی، ہسپتال کی خدمت کے لیے پاکستان گئے ہیں اور لاہور سے جب ٹرین پر (ربوہ) اُترے تو سیدھے پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر میں چلے گئے۔ حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ نے انہیں اندر بلا لیا اور پھر انہوں نے جب پوچھا کہ آ گئے؟ تو انہوں نے کہا جی حضور حاضر ہو گیا ہوں۔ تو حضورؒ نے پھر فرمایا کہ آپ کا گھر مَیں نے سفیدی وغیرہ کروا کر بند کر دیا ہے آپ جائیں اور ناظر اعلیٰ سے چابی لے لیں اور وہاں اس میں رہیں۔ کہتے ہیں جب میں گھر گیا ،کھولا تو اندر دو چارپائیاں پڑی ہوئی تھیں۔ پھر مزید چارپائیاں جا کے انہوں نے اپنے لیے خریدیں۔ گھر کا سامان لیا اور وہاں رہائش اختیار کرلی ۔کوئی نخرہ نہیں تھا، کوئی کچھ نہیں تھا کہ مَیں ولایت سے گیا ہوں۔ اور پہلے سال ہی جلسے پہ ان کے مہمان آ گئے تو جلسے کے دنوں میں خود بھی پرالی پر سوتے تھے اور اپنا گھر جو تھا وہ مہمانوں کو دے دیا۔

اپنے سسر مولانا عبدالمالک خان صاحب کی بڑی خدمت کی۔ اپنی ساس کی بڑی خدمت کی۔ حسین صاحب کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب بتایا کرتے تھے کہ میرے ساتھی ڈاکٹر جو بڑے بڑے عہدوں پر فائز تھے مجھے پوچھتے تھے کہ تم ربوہ جیسی چھوٹی سی بستی میں جو کام کرتے ہو اس کا معاوضہ تمہیں کیا ملتا ہے؟ کہتے ہیں میں جواب دیا کرتا تھا کہ لوگوں کو اندازہ نہیں ہو سکتا اور نہ ہی آپ لوگ سمجھ سکتے ہو کہ میں ربوہ میں بیٹھ کر جو کام کر رہا ہوں اس کا کیا معاوضہ ہے۔ جو دعائیں ہیں اس کا کوئی معاوضہ، اس کی قیمت نہیں ہے۔ صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام، حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ، حضرت سیدة امة الحفیظ بیگم صاحبہؓ کی خدمت کی توفیق ملی۔ حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ کی وفات کے وقت اسلام آباد میں حضور کے پاس رہے۔ اسی طرح ان کو اَور بزرگوں کی خدمت کی توفیق ملی۔

ڈاکٹر عبدالخالق صاحب کہتے ہیں کہ اگر میں یہ لکھوں کہ غریبوں کا ڈاکٹر اس شہر سے رخصت ہو گیا تو مبالغہ نہ ہو گا۔ آپ نے نصف صدی سے زائد عرصہ اس علاقے کے غریب، نادار مریضوں کی بلا امتیاز مذہب و ملت خدمت کی ہے۔ آپ جب ہسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر تھے تو ہسپتال کی مختلف اشیاء کی خرید کے لیے خود لاہور جاتے۔ مارکیٹ سے ریٹس (Rates) کا جائزہ لے کر اچھی اور معیاری اشیاء خرید کر لاتے اور اکثر سارا دن اس میں خرچ ہو جاتا تاہم جماعتی اموال کو درد اور دیانت داری سے خرچ کرنا بھی آپ کا وصف تھا۔ ہسپتال میں الٹراساؤنڈ اور اینڈوسکوپی کے شعبہ جات کا آغاز بھی آپ نے کیا۔ ابتدا میں پیدل اور سائیکل پر بعض بزرگ ہستیوں اور صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان کے گھر جا کر دیکھا کرتے تھے، ہدایات دیتے تھے۔ فضل عمر ہسپتال کے حوالے سے کہا کرتے تھے کہ خلفائے احمدیت کی دعائیں اس کے ساتھ ہیں اور میں نے علاج معالجہ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں بہت سے معجزے ہوتے دیکھے ہیں۔

ڈاکٹر سلطان مبشر صاحب لکھتے ہیں کہ فضلِ عمر ہسپتال کی خدمت جو اندازاً تیس سال پر محیط ہے۔اس دوران ان پر بعض ابتلا بھی آئے اور خدا تعالیٰ کا یہ عاجز اور درویش بندہ سرِتسلیم خم کرتا رہا اور کوہِ وقار بن کر خدا تعالیٰ کے حضور دعا گو رہا اور سلطان مبشر صاحب نے یہ صحیح لکھا ہے۔ بعض باتیں میرے علم میں بھی ہیں اور مجھے پتا ہے بڑے وقار سے انہوں نے کوئی حرفِ شکایت لائے بغیر بعض مشکلات جو پیش آئیں یا ابتلا جو آئے ان کو برداشت کیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو بہت نوازا اور کبھی عہدیداروں کے متعلق کوئی شکایت یا اپنے ساتھیوں کے متعلق شکوہ یا کوئی زیادتی کبھی دوسروں سے بیان نہیں کی۔ ڈاکٹر سلطان مبشر صاحب ہی لکھتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ صرف امیروں کا یا بزرگوں کا نہیں ہر ایک کا علاج ان کا وصف تھا جیسا کہ بتایا گیا ہے۔ اب ڈاکٹر سلطان مبشر صاحب ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ دوپہر کے وقت رحمت علی صاحب ڈرائیور کی اہلیہ ایمرجنسی میں آئیں۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کو ہسپتال آنے کی درخواست کی تو چند منٹ میں اپنے گھر دارالعلوم شرقی سے تشریف لے آئے۔ گھر ہسپتال میں بھی نہیں تھا۔ یہ محلہ ربوہ کے بالکل دوسرے کنارے پر ہے۔ وہاں ان کا گھر تھا ۔وہاں سے فوراً آگئے۔ جماعت کے وفا دار تھے۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ ہم نوجوان ڈاکٹرز اپنے افسرِ بالا کی حد سے متجاوز تادیبی سختیوں سے جُز بز ہوتے تو ہمیں بڑے پیار سے بیٹھ کر سمجھاتے کہ ہمیں ہر حال میں نظام کی اطاعت کرنی ہے اور صبر کا مظاہرہ کرنا ہے۔

اور ان کی اہلیہ شوکت صاحبہ کی جب وفات ہوئی ہے تو اس کے اگلے دن ان کے دو بھانجوں کی دعوتِ ولیمہ تھی تو اسی دن آپ نے دلہا کے گھر جا کے بتایا کہ میری اہلیہ کی وفات ہو گئی ہے مگر آپ فنکشن ضرور کریں اپنے فنکشن کو بند نہ کریں کیونکہ ان کی اہلیہ دلہا کی جیسا کہ میں نے کہا خالہ تھیں۔ حسین صاحب کے دو لڑکے دلہا تھے۔ دونوں کی دعوت ولیمہ بھی تھی لیکن انہوں نے کہا کہ آپ ضرور فنکشن کریں۔ یہ نہیں ہے کہ اس کو روک دیں اور ان کے بیٹے ڈاکٹر محمود نے کہاکہ مَیں پھر دعوت میں نہیں جاتا ،گھر رہتا ہوں۔ تو انہوں نے کہا نہیں خدا تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنا چاہیے اور اس کی تلقین کی اور کہتے ہیں یہ کہا کہ ایسے ہی موقعوں پر تو انسان کی آزمائش ہے اور صبر اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا پتا چلتا ہے۔ پھر بیٹے کو ساتھ لے کر باقاعدہ دعوت میں بھی شامل ہوئے اور محلے میں اس امر کا اہتمام کیا کہ دعوتِ ولیمہ کے وقت تک وفات کی اطلاع کسی کو نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ان سے رحمت اور مغفرت کا سلوک فرمائے۔ ان کے بچوں کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔ ان بچوں کے ماں باپ اوپر تلے فوت ہوئے ہیں۔ ان دونوں میاں بیوی کی جو نیکیاں ہیں ان کو اللہ تعالیٰ ان کے بچوں میں بھی جاری رکھے۔ ان کی والدہ جیسا کہ میں نے کہا حیات ہیں اورکافی بیمار بھی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان پر بھی رحم اور فضل فرمائے۔

(الفضل انٹرنیشنل 14 فروری 2020ء)


پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 فروری 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ