• 6 جولائی, 2020

خلاصہ خطبہ جمعہ مورخہ 14 فروری 2020ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن

آنحضرت ﷺ کے جانثار عشق و وفا کے پیکر بدری صحابی حضرت محمد بن مسلمہ انصاریؓ کی سیرت و سوانح کا مزید ذکر

آپؓ نے قبیلہ بنونضیر کورسول اللہ ﷺ کا پیغام دیا کہ تم نے باہمی معاہدہ کی مخالفت کی ہے اور رسول اللہؐ کو قتل کرنےکی کوشش کی ہے اس لئے دس دنوں میں مدینہ سے نکل جاؤ

رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت عمرؓ نے حضرت محمد بن مسلمہؓ کو اہم عہدوں پر فائز فرمایا اور ان کو مختلف مسائل کے حل کے لئے مختلف جگہوں پر بھیجا کرتے تھے

حضرت عمرؓ کو کسی کےخلاف تحقیق کرنا مقصود ہوتی تو حضرت مسلمہؓ کو بھجوایا کرتے تھے۔ آپؓ جنگ جمل اور صفین وغیرہ میں شامل نہ ہوئے۔ حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد آپؓ نے گوشہ نشینی اختیار کر لی۔

حضور انور نے خطبہ کے آخر پر مکرم تاج دین ابن مکرم صدر دین آف یو کے کی وفات پر مرحوم کا ذکر خیر فرمایا اور نماز جمعہ کے بعد مرحوم کی نماز جنازہ حاضر پڑھانے کا بھی اعلان فرمایا۔

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ مورخہ 14 فروری 2020ء بمقام مسجدبیت الفتوح لندن کا خلاصہ

خلاصہ خطبہ جمعہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح ا لخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنےمورخہ 14فروری 2020ء کو مسجد بیت الفتوح لندن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو کہ مختلف زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اےانٹر نیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا ۔ حضور انور نے فرمایا: گزشتہ خطبہ میں محمد بن مسلمہ کا ذکر ہوا تھا جو آج مزید بیان ہو گا۔ اس میں بیان ہوا تھا کہ کعب بن اشرف کو بہانے سے قتل کیا۔ کعب بن اشرف کے قتل کے متعلق ایک حدیث کا ذکر ہوا تھا جس میں یہ ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین مواقع پر ایسی بات کرنے کی اجازت دی ہے جو حقیقی جھوٹ تو نہ ہو لیکن اس کو ایسے رنگ میں پیش کیا جائے کہ سننے والے پر ساری بات واضح نہ ہو ۔ بعض علماء کے نزدیک تین موقعوں پر جھوٹ کی اجازت ہے، حالانکہ اس کی حقیقت اور ہے ایسا نہیں ہے۔ اس بارے میں حضرت اقدسؑ نے بھی وضاحت بیان فرمائی ہے کہ جھوٹ کو مت بولو اگرچہ تم جلائے بھی جاؤ۔

حضور انور نے فرمایا: اس حدیث کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کتاب نور القرآن میں وضاحت فرمائی ہے۔ ایک معترض کے جواب میں حضور علیہ السلام فرماتے ہیں۔ ’’قرآن شریف نے دروغ گوئی کو بت پرستی کے برابر ٹھہرایا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاجْتَنِبُوْالرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ یعنی بتوں کی پلیدی اور جھوٹ کی پلیدی سے پرہیز کرو ۔ تو پھر اگر فرض کے طور پر کوئی حدیث قرآن اور احادیث صحیحہ کی مخالف ہو تو وہ قابل سماعت نہیں ہو گی کیونکہ ہم لوگ اُسی حدیث کو قبول کرتے ہیں جو احادیث صحیحہ اور قرآن کریم کے مخالف نہ ہو۔ہاں بعض احادیث میں توریہ کے جواز کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے اور اُسی کو نفرت دلانے کی غرض سے کذب کے نام سے موسوم کیا گیا اور توریہ اسلامی اصطلاح میں اس کو کہتے ہیں کہ فتنہ کے خوف سے ایک بات کو چھپانے کے لئے یا کسی اور مصلحت پر ایک راز کی بات مخفی رکھنے کی غرض سے ایسی مثالوں اور پیرایوں میں اس کو بیان کیا جائے کہ عقلمند تو اس بات کو سمجھ جائے اور نادان کی سمجھ میں نہ آئے اور اُس کا خیال دوسری طرف چلا جائے جو متکلم کا مقصود نہیں۔ فرمایا:قرآن نے جھوٹوں پر لعنت کی ہے اور جھوٹے بے ایمان ہوتے ہیں، شیاطین نازل ہوتے ہیں۔ جھوٹوں کی صحبت بھی چھوڑ دو اور سچوں کے ساتھ رہو۔ کلام محض صدق ہو ۔

حضور انور نے فرمایا: مدینہ میں یہود کا ایک قبیلہ بنو نضیر تھا۔ انہوں نے مسلمانوں سے امن کا معاہدہ کیا تھا۔ باوجود اس کے بنو نظیر نے اپنی مخالفت کی وجہ سے دھوکہ سے نبی کریم ﷺ کو قتل کرنے کی سازش کی۔ اُن کے اس جرم کی سزا کے طور پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت محمد بن مسلمہؓ کو ان کے پاس بھیجا اور ان کو مدینہ سے نکل جانے کا حکم دیا۔ حضرت محمد بن مسلمہؓ کے متعلق روایت میں ذکر ملتا ہے کہ آپؓ ان کے پاس گئے اور فرمایا کہ میں تمہیں اس تورات کی قسم دیتا ہوں جس کو اللہ نے موسیٰؑ پر نازل کیا اور پھر حضرت محمد بن مسلمہؓ نے تورات سے آنے والے نبی کی وہ تمام نشانیاں بیان فرمائیں جو یہود رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے قبل بیان کیا کرتے تھے۔ یہود نے اس بات کو منظور کیا کہ یہ باتیں ہم بیان کرتے تھے لیکن انہوں نے کہا کہ وہ نبی یہ نہیں ہے ۔ اس کے بعد حضرت محمد بن مسلمہؓ نے بنو نضیر کو رسول اللہ ﷺ کا پیغام دیا کہ چونکہ تم نے باہمی معاہدے کی مخالفت کی ہے اور رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کی کوشش کی ہے اس لئے تم دس دنوں کے اندر مدینہ سے نکل جاؤ ورنہ تمہارے خلاف جنگ ہوگی ۔اس طرح بنو نضیر قبیلہ مدینہ سے نکل گیا۔

حضور انور نےیہود کے ایک اور قبیلہ بنو قریظہ کا بھی تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ لکھتے ہیں کہ بنو قریظہ کا معاملہ تہ ہونے والا تھااورحضرت علی ؓ کو بھجوایا کہ کیوں غداری کی بنو قریظہ نے، تو برا بھلا کہا اور گالیاں دینے شروع کر دی اور کہا ہم نہیں جانتے کہ محمد ﷺ کون ہیں ،ہم نہیں جانتے۔ رسولﷺ کو جب یہود کے قلعوں کی طرف جا رہے تھے اپنے صحابہ ؓکے بارے میں تو حضرت علیؓ نے اس خیال سے کہ تکلیف ہو گی سن کر کہا ہم کافی ہیں۔ رسولﷺ نے فرمایا کہ موسیٰ نبی کو اس سے بھی زیادہ تکالیف پہنچائی گئی تھیں۔ عورتیں بھی لڑائی میں شریک ہو گئیں اور ایک مسلمان کو پتھر مار کر ہلاک کر دیا۔ تب ابو لبابہ کو بھجوانے کا مطالبہ کیا تا مشورہ کر سکیں۔ ہتھیار پھینکنے پرمعاف کر یں گے پوچھا تو ابو لبابہ نے سمجھا کہ قتل ہی ہو گا اشارۃً کہا چنانچہ کہ محمد ﷺ کو فیصلہ مان لیتے تو جلا وطن کر دیا جا تا لیکن نہ مانا فیصلہ اور اپنے حلیف قبیلہ اوس کے سردار کا فیصلہ مانیں گے۔ یہود نے کہا ہماری قوم نے غدّاری کی ہے اور وہ مسلمان سچے ہیں۔محمد بن مسلمہ ؓنے دُعا کی کہ خدا تعالیٰ نیک کاموں کی توفیق اور شریفوں کی پردہ پوشی کرنے کی توفیق دے۔ نبیﷺ نے اس کی تعریف کی کہ انصاف کیا ۔

حضور انور نے فرمایا:ایک اور واقعہ ابو رافع یہودی کا ہے۔ یہ شخص خیبر میں رہتا تھا اور مسلسل قریش کے مختلف قبیلوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکاتا رہتا تھا ۔ وہ ہر حال میں رسول اللہ ﷺ کو قتل کروانا چاہتا تھا۔ بنو نضیر کے مدینہ سے نکالے جانے کے بعد اس کا بغض اور زیادہ بڑھ گیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ صحابہؓ تشریف لائے اور فرمایا کہ اس فتنہ کا صرف یہ علاج ہے کہ یہ اس فتنہ کے بانی ابو رافع کو قتل کر دیا جائے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے مشورہ کو قبول فرمایا اور چار لوگوں کو اس مقصد کے لئے بھیجا اور حضرت عبد اللہ بن عتیقؓ کو ان کا امیر مقرر کیا ۔ ان چار لوگوں میں حضرت محمد بن مسلمہؓ بھی شامل تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کو نکلنے سے قبل یہ نصیحت فرمائی کہ کسی بچہ یا عورت کو قتل نہیں کرنا۔ ابو رافع کے قتل کا تفصیلی واقعہ حضور انور نے بیان فرمایا۔

حضور انور نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت عمرؓ نے حضرت محمد بن مسلمہؓ کو اہم عہدوں پر فائز فرمایا اور ان کو مختلف مسائل کے حل کے لئے مختلف جگہوں پر بھیجا کرتے تھے۔ حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بعد آپؓ نے گوشہ نشینی اختیار کر لی۔ آپؓ سے ایک حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آپؓ کو ایک مرتبہ تلوار دی اور فرمایا کہ جب تک کفار تم سے قتال کریں ان سے اس تلوار کے ساتھ جنگ کرتے رہنا۔ لیکن جب تم مسلمانوں کو ایک دوسرے سے قتال کرتے دیکھو تا اس تلوار کو کسی پہاڑی پر مار کر توڑ دینا ۔ چنانچہ آپؓ نے ایسا ہی کیا ۔ آپؓ ہر قسم کے اندرونی فتنہ سے الگ رہے۔ آپؓ جنگِ جمل اور صفین وغیرہ میں شامل نہ ہوئے ۔ حضرت عمر ؓ کو کسی کے خلاف تحقیق کرنا مقصود ہوتی تو حضرت مسلمہؓ کو بھجوایا کرتے تھے۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے محل کی تحقیق کے لئےحضرت عمر ؓ نے آپؓ کو روانہ کیا۔
آپ کی وفات مدینہ میں 77 سال کی عمر میں ہوئی اور مروان بن الحکم نے آپؓ کی نماز جنازہ پڑھائی اور بعض روایات میں ذکر ملتا ہے کہ آپؓ کوشہید کر دیا گیا تھا۔

حضور انور نے آخر پر مکرم تاج دین ابن مکرم صدر دین آف یو کے کی وفات پر مرحوم کا ذکر خیرفرمایا اور جماعتی خدمات کا تذکرہ فرمایا۔ فرمایا: 1984 میں اسلام آباد کی زمین خریدی گئی تو آپ نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا اور 22 سال تک بے لوث خدمات پیش کیں۔ خاص طور پر جلسہ سالانہ کے موقع پر بہت خدمت کرتے تھے ۔ آپ صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے اور خلافت سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔ان کے بیٹے مربی سلسلہ ہیں ۔اللہ تعالیٰ مرحوم سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور ان کی اولاد کو اخلاص و وفا میں بڑھائے اور صبر اور حوصلہ عطا فرمائے ۔حضور انور نے نماز جمعہ کے بعد مرحوم کی نماز جنازہ حاضر پڑھانے کا بھی اعلان فرمایا۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 فروری 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ