• 27 فروری, 2021

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے (قسط 23)

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے
ذاتی تجربات کی روشنی میں (قسط 23)

بیروت ٹائمز نے اپنی اشاعت 12-19 جنوری 2006ء صفحہ 27 پر قریباً پورے صفحہ کی ہماری جماعت کے ویسٹ کوسٹ میں ہونے والے 20 ویں جلسہ سالانہ کی خبر دی ہے۔ خبر کے ساتھ دو تصاویر بھی ہیں۔ ایک تصویر میں مولانا داؤد حنیف مشنری انچارج اور نائب امیر امریکہ صدارت کر رہے ہیں ان کے ایک طرف ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ اور دوسری طرف مونس چوہدری صاحب افسر جلسہ گاہ و ناظم پروگرام بیٹھے ہیں۔ پوڈیم پر خاکسار تقریر کر رہا ہے اور دوسری تصویر میں سامعین جلسہ ہیں۔

یہ خبر انگریزی سے عربی میں مکرم عابد ادلبی صاحب نے تیار کی تھی۔ جو اخبار نے اپنے عربی سیکشن میں تفصیل کے ساتھ دی۔

اخبار نے لکھا کہ جماعت احمدیہ ویسٹ کوسٹ کا جلسہ سالانہ 23-25 دسمبر 2005ء پومونا کیلیفورنیا میں ہوا جس میں قریباً ایک ہزار مندوبین شامل ہوئے۔ جلسہ میں امریکہ کے ویسٹ کوسٹ کے علاقہ دیگر جماعتوں /شہروں سے بھی احمدی اس جلسہ میں شامل ہونے کے لئے تشریف لائے۔ جلسہ میں دیگرپروگراموں کے علاوہ خوش الحانی سے نظمیں بھی پڑھی گئیں۔ نائب امیر امریکہ ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ نے سب کو خوش آمدید کہا اور جلسے کی غرض و غایت پر روشنی ڈالی۔

امام شمشاد ناصر آف مسجد بیت الحمید چینو جو اس جلسہ کے انتظامات کرنے والوں میں سے ہیں، نے تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ اس جلسہ کا مقصد روحانیت میں ترقی کرنا اور بین الامذاہب ایک دوسرے کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنے کا سبق نیز ایک دوسرے کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کرنا بھی ہے۔

جماعت احمدیہ کے بارے میں تعارف کراتے ہوئے اخبار نے لکھا کہ جماعت احمدیہ کا قیام حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے ذریعہ 19 ویں صدی میں ہوا جنہوں نے مسیح موعود اور امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اور یہ آپ کا دعویٰ قران کریم اور آنحضرتﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق ہے۔

امام شمشاد نے بتایا کہ ہمارا کام اسلام کی صحیح تعلیمات کو روشناس کرانا اور تمام دنیا میں تبلیغ کرنا ہے اور اس وجہ سے ہمارا ماٹو ہے محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں۔

امام شمشاد نے مزید بتایا کہ ہم اگر دنیا میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں تو یہ عدل و انصاف کے بغیر ناممکن ہے۔ اخبار نے خاکسار کے ABC کو دیئے گئے انٹرویو کا بھی ذکر کیا ہے۔ اخبار نے لکھا کہ جلسہ کے موقع پر جمیل محمد نے محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں، منعم نعیم صاحب نے ہیومینیٹی فرسٹ کی تفصیلات سے بھی لوگوں کو آگاہ کیا۔ ویب سائٹ بھی دی گئی ہے۔ جلسہ میں نیشنل عاملہ کے لوگ بھی شامل ہوئے ۔ ملک مبارک احمد اور ان کے ساتھی منصور مظفر، ڈاکٹر ظہیر الدین، ڈاکٹر خالد عطاء، ڈاکٹر نسیم رحمت اللہ، جلسہ کے موقع پر مذہبی لیڈر، ان کے پیروکار، چیف پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ جلسہ کے اختتامی اجلاس میں داؤد حنیف مشنری انچارج نے بھی حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ آخر میں لکھا ہے کہ جلسہ کے بارہ میں یا اسلام کے بارہ میں مزید معلومات حاصل کرنا ہوں توامام شمشاد ناصر آف بیت الحمید چینو سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ فون نمبر اور ویب سائٹ بھی لکھی گئی ہے۔

’انڈیا پوسٹ‘ نے اپنی اشاعت 20 جنوری 2006ء صفحہ 26 پر ایک تصویر کے ساتھ ہماری عیدالاضحیہ کی خبر شائع کی ہے۔ جس میں سامعین اور خاکسار کو خطبہ عید دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اخبار نے ’انڈیا پوسٹ نیوز سروس‘ کے حوالہ سے خبر دی کہ جماعت احمدیہ نے مسجد بیت الحمید چینو میں عیدالاضحیہ منائی جس میں 600 کے قریب لوگ شامل ہوئے۔ خطبہ عید میں نماز کے بعد امام شمشاد نے بتایا کہ اسلام میں 2 عیدیں ہیں اور اس عید کا تعلق حج کے ساتھ اور حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیلؑ کی قربانیوں سے ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کی تربیت اس رنگ میں کرنی چاہئے کہ وہ خداتعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھنے والے ہوں۔ جس طرح حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے نمونہ دکھایا تھا۔ تاکہ ہمارے بچے قوم وملک کے لئے بہترین وجود بن سکیں۔ جبکہ دوسرے لوگوں نے ظاہری طور پر بکرے اور دنبے کی قربانی کرنی ہے اس کا مقصد بھی یہی بات سکھانا ہے اور ایسے موقعوں پر غرباء کا خاص خیال بھی رکھنا چاہئے۔ امام شمشاد نے مزید بتایا کہ ہمیں اپنے وقت، مال کی قربانی چاہئے اور زیادہ سے زیادہ مسجد کے ساتھ اٹیچ رہنا چاہئے اور قرآنی تعلیمات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا چاہئے جو کہ نہ صرف اسلامی تعلیم ہے بلکہ آنحضرت ﷺ کا بھی اسوۂ حسنہ ہے۔

ہفت روزہ ’اردو لنک‘ نے اپنی اشاعت 20 تا 26 جنوری 2006ء صفحہ 6 پر خاکسار کا ایک مضمون پورے صفحہ پر بعنوان ’’قرآن کریم کے محاسن و فضائل اور برکات‘‘ پر خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور تصویر بھی ہے جس میں ایک چھوٹی بچی (سیدہ صباحت) کو قرآن شریف پڑھتے دکھایا گیا ہے۔

اس مضمون میں خاکسار نے قرآنی تعلیمات کے جاننے کا مدعا اور مقصد بیان کیا ہے اس کے علاوہ ’’نجات کی راہیں‘‘ ’’قرآن کریم اور اعمال صالح‘‘ وغیرہ امور کا ذکر قرانی آیات کے ذریعہ کیا گیا۔

اخبار نے مضمون کا ایک حصہ ہائی لائٹ بھی کیا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ ’’قرآن کریم نے بار بار مسلمانوں کو اعمال صالحہ کی طرف توجہ دلائی ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ جو تعلیم لے کر آئے اس کا بنیادی مقصد ایمان باللہ اور اعمال صالحہ ہی ہیں اور اسلام نے نجات کے لئے انہی دو چیزوں پر زور دیا ہے۔ اول ایمان ہو دوسرے نیک اعمال ہوں۔ لیکن افسوس ہے کہ عوام الناس میں جو حیثیت ایمان کو حاصل ہے وہ اعمال صالحہ کو نہیں۔ حالانکہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ا یمان باللہ کی حیثیت بنیاد کی سی ہے اعمال صالحہ اس مضبوط بنیاد پر عمارت تعمیر کرنے کے مترادف ہے۔‘‘

’’نجات کی راہیں‘‘ کے تحت خاکسار نے یہ لکھا ہے کہ :
کامل نجات کی راہیں قرآن نے کھولی ہیں کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ ہمارا پیدا کرنے والا ہمارا رب، رحمان، رحیم خدا واحد لا شریک ہےاورپھر یہ یقین رکھے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ اور قرآن شریف ایسی کتاب اللہ ہے جو ہر لحاظ سے کامل و مکمل ہے۔ قرآن شریف کے بعد اب کسی اور کتاب یا شریعت کی ضرورت نہیں، آنحضرت ﷺ کے بعد نہ نئی کتاب آئے گی، نہ ہی نئے احکامات آئیں گے، یہی کتاب اور یہی احکامات رہیں گے۔ پس جو کچھ کسی کو ملنا ہے وہ آنحضرت ﷺ کی سچی اور کامل اتباع سے ملتا ہےاس کے بغیر کچھ مل سکتا ہی نہیں۔

’اردو لنک‘ نے اپنی 20 تا 26 جنوری 2006ء کی اشاعت صفحہ 9 پر دو تصاویر کے ساتھ ہماری عیدالاضحیہ کی تقریب کی خبر دی ہے۔

خبر کا عنوان ہے ‘‘مسجد بیت الحمید چینو میں عیدالاضحیہ نہایت جوش اور جذبے سے منائی گئی۔’’ احباب اس عید کی خوشی میں اپنے بھائیوں اور پڑوسیوں کو یاد رکھیں۔ امام سید شمشاد ناصر

کیلیفورنیا۔ لنک رپورٹ: گردو نواح سے 600 سے زائد مرد، عورتوں اور بچوں نے عیدالاضحی کی نماز امام سید شمشاد احمد ناصر کی معیت میں ادا کی۔ امام شمشاد ناصر نے اسلام میں عیدالاضحیہ کی اہمیت حج اور حضرت ابراہیمؑ کی اللہ تعالیٰ کے حضور فرمانبرداری کے حوالہ سے بیان کی۔ امام سید شمشاد احمد ناصر نے خطبہ کا آغاز سورۃ الحج کی آیات 27 اور 28 کی تلاوت سے کیا۔ اور کہا کہ مسلمانوں کو حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی پیش کردہ قربانی کی مثال کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ اگر ہر قربانی اسی جذبہ اور تقویٰ سے پیش ہو گی تب ہی قبولیت کی منازل ملیں گی۔ امام شمشاد نے اپنے خطبہ کے آخر میں یاد دہانی کرائی کہ احباب اس عید کی خوشی میں اپنے غریب بھائیوں اور پڑوسیوں کو بھی یاد رکھیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سب مسلمان خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو از حد مضبوط کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ وقت مساجد میں گزاریں۔ آخر میں مسجد کا فون نمبر بھی ہے۔

’مسلم وائس کمیونٹی نیوز پیپر‘۔ یہ اخبار ایروزونا سٹیٹ سے مسلمان کمیونٹی کا ہے اس اخبار نے جنوری 2006 ء کی اشاعت میں قریباً پورے صفحہ پر انگریزی میں ہماری ایک خبر دی ہے۔ یہ اخبار ایروزونا کے علاوہ کیلیفورنیا، نواڈا ، یوٹا اور نیومیکسیکو سٹیٹس میں بھی پڑھا جاتا ہے۔

اس اخبار نے ہمارے خدام الاحمدیہ کی خبر ایک تصویر کے ساتھ شائع کی ہے تصویر میں کچھ نوجوان اور مکرم چوہدری احمد صاحب، خاکسار (سید شمشاد احمد ناصر) ہیں۔ فیصل راجپوت اپنے ہاتھ میں ٹرافی لئے ہوئے ہیں۔ اخبار نے لکھا کہ چینو کے مسلمان نوجوانوں نے سوشل سروسز کر کے ایوارڈ حاصل کیا ہے۔

اخبار نے خاکسار کے نام سے رپورٹ کو شائع کیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ احمدیہ مسلم نوجوانوں کو مبارک ہو کہ انہوں نے اپنے علاقہ میں سوشل سروسز کیں اور انہیں ان کے سالانہ اجتماع کے موقعہ پر ایوارڈ دیا گیا۔ یہ اجتماع واشنگٹن ڈی سی میں ہوا جن میں 60 مجالس سے خدام شامل ہوئے تھے۔

سوشل سروسز کے حوالہ سے فیصل راجپوت جو کہ ان امور کے ناظم ہیں، نے بتایا کہ ہمارے نوجوان اپنے سکول کے بعد یہ خدمت سرانجام دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہمارے نوجوان مقامی مسجد کے احباب سے چندہ لیتے ہیں اور پھر خوراک خرید کر ہر ماہ قریباً 300 بے گھر افراد میں تقسیم کرتے ہیں۔ابھی حال ہی میں ہمارے نوجوانوں نے ایک میڈیکل سینٹر میں خون کے عطیات دینے کی مہم بھی چلائی اور خون کے عطیات اکٹھے کئے۔ اسی طرح معذور، غرباء اور بے گھر افراد کے لئے کپڑے اور جوتے بھی تقسیم کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ احمدی نوجوان قومی شاہراہ کی صفائی کے لئے بھی کام کرتے ہیں اور ہمارا ارادہ ہے کہ ہم اس کام میں مزید وسعت پیدا کریں۔ مجلس خدام الاحمدیہ لاس اینجلس ہیومینیٹی فرسٹ کے لئے بھی ہر ممکنہ تعاون اور مدد کر رہی ہے۔

مسجد بیت الحمید کی ایک تقریب میں امام شمشاد ناصر نے سب نوجوانوں کو مبارک باد پیش کی کہ انہوں نے یہ خدمات سرانجام دی ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو ترغیب دی کہ وہ اس کام میں مزید وسعت پیدا کریں تا اس کے ذریعہ سوسائٹی مضبوط ہو۔ چونکہ اسلامی تعلیم بھی یہی ہے کہ معاشرہ میں غرباء اور کمزوروں کا خاص خیال رکھا جائے۔ اس سے سوسائٹی میں بہت سی غلط فہمیوں کو دور کرنے کا بھی موقعہ ملے گا۔ امام شمشاد نے مزید کہا کہ ہر احمدی کو دیکھنا چاہئے کہ اس کے ہمسائیگی میں کوئی ایسا نہ رہے جو رات کو بھوکا سوئے۔ خبر کے آخر میں مسجد بیت الحمید کا فون نمبر اور I-800-WHY Islam کا نمبر بھی دیا گیا ہے۔

چینڈلر کنیکشن نے اپنی 27 جنوری 2006ء کے شمارے میں صفحہ3 پر ہماری ایک مختصر سی خبر دی ہے۔ یہ اخبار ایروزونا سٹیٹ کی ہے اور اس علاقہ میں جہاں ہماری احمدیہ مسجد واقع ہے، سے چھپتا ہے۔ خبر میں اعلان ہے کہ احمدیہ مسلم سینٹر کے لوگ ایک طبی سیمینار کر رہے ہیں جس میں شوگر کے مریضوں کو دیکھا جائے گا۔ یہ سیمینار اور طبی معائنہ یہاں کی لوکل لائبریری میں ہو گا جو Dabson Rd پر واقع ہے۔ معلومات کےلئے فون نمبر بھی دیا گیا ہے۔

پاکستان ایکسپریس نے 27 جنوری 2006ء کے اخبار میں ہماری عیدالاضحیہ کی خبر ان الفاظ میں شائع کی:

’’چینو کیلیفورنیا میں جماعت احمدیہ کے چھ سو سے زائد افراد نے عیدالاضحی منائی‘‘

نماز عید امام سید شمشاد ناصر نے پڑھائی اورخطبہ میں عیدالاضحی کی تشریح بیان کی۔

نیویارک (پ ر) چینو کیلیفورنیا اور گرد و نواح کے چھ صد سے زائد مردوں، عورتوں اور بچوں نے مسجد بیت الحمید میں عیدالاضحی کی نماز سید شمشاد احمد ناصر کی امامت میں ادا کی۔ انہوں نے اپنے خطبہ عید میں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی قربانی کا ذکر کر کے تمام حاضرین کو اپنے بچوں کی صحیح تربیت کرنے اور انہیں باخدا بنانے کی طرف توجہ دلائی۔

انہوں نے کہا کہ تمام مردوں کے لئے حضرت ابراہیمؑ، تمام بچوں کے لئے حضرت اسماعیلؑ اور تمام خواتین کے لئے حضرت ہاجرہؑ ایک مشعل راہ کے طور پر ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہر قربانی تقویٰ چاہتی ہے۔ بغیر تقویٰ کے کوئی قربانی قبولیت کا درجہ نہیں پاتی۔ اگر ہم اپنی اولاد کی اعلیٰ تربیت کریں گے تو ہماری نسلیں باخدا نسلیں بن جائیں گی۔ اس لئے مسلمانوں کو خداتعالیٰ سے مضبوط تعلق جوڑنا چاہئے اور یہ کہ وہ آنحضرت ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں کا لائحہ عمل بنائیں۔ خبر کے آخر پر مسجد بیت الحمید کا فون نمبر بھی ہے۔

ڈیلی بلٹن نے اپنی اشاعت 19 فروری 2006ء کے صفحہ A21 پر جو کہ سنڈے کا اخبار ہے اور جس کی اشاعت بھی عام دنوں سے زیادہ ہوتی ہےاور اس کو پڑھا بھی بہت جاتا ہے، نے خاکسار کا ایک خط درج ذیل عنوان سےشائع کیا:

CARTOONS HURTFUL TO MUSLIMS; VIOLANCE WRONG

’’کارٹونز سے دل آزاری اور فساد کرنا بھی غلط ہے۔‘‘

خاکسار کی تصویر بھی شائع کی گئی ہے۔ قبل اس کے کہ میں خط کے مندرجات لکھوں ایک وضاحت ضروری ہے۔ اور وہ یہ کہ جماعت احمدیہ میں خداتعالیٰ کے فضل سے خلافت کا نظام جاری ہےجو ہر ایک موقعہ پر نہ صرف جماعت کی بلکہ تمام دنیا کی جن میں تمام مذہبی لیڈر، تمام دنیا کے سیاسی راہنمااور تمام عوام الناس آجاتے ہیں خواہ وہ جماعت احمدیہ سے تعلق رکھتے ہوںیادیگرمسلمان فرقوں سے یا غیرمذاہب سے تعلق رکھتے ہوں۔وہ کسی بھی قوم سے، کسی بھی فرقہ سے، کسی بھی گروہ سے، کسی بھی ملک سے تعلق رکھتے ہوں، خلافت احمدیہ حقہ اسلامیہ ان کی صحیح اور اسلامی تعلیمات کے مطابق راہنمائی کرتی چلی آئی ہے اور راہنمائی کرتی چلی جائے گی۔ یہ خلافت احمدیہ کا مشن ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو اشتعال دینے کی خاطر اور بعض اوقات آزادی کے نام پر مغرب میں خصوصاً غیرمسلم اور دہریہ قسم کے لوگ بلاوجہ مسلمانوں کی دل آزاری کرتے رہتے ہیں۔ ان کا تو اپنا ایک وطیرہ ہے کہ کسی طرح وہ مسلمانوں کو مذہبی جوش دلائیں جس سے وہ ایسے کام کریں جواسلامی تعلیمات کے مطابق نہ ہوں اور ان کو اس سے اسلام پر اور محمد رسول اللہﷺ کی ذات مقدسہ و مطہرہ پر کیچڑ اچھالنے کا موقع مل جائے۔ یہی ان کی دلی آرزو اور دلی تمنا ہوتی ہے اور بدقسمتی سے بعض لوگ اس کے مواقع مہیا کر دیتے ہیں۔

چنانچہ مغربی اقوام میں ڈنمارک، بیلجیٔم، فرانس، جرمنی اور ادھر امریکہ میں بھی ایسے لوگ ہیں جو مسلمانوں کو اشتعال دلاتے رہتے ہیں۔کبھی قرآن کریم کو جلانے کی دھمکی یا بہانے، سے تو کبھی کارٹونز بنا کر اور کبھی کسی اور طریقے سے۔

فروری 2006ء کے شروع میں ایسا ہی واقعہ پیش آیا اور وہ یہ تھاکہ ڈنمارک اور دیگر مغربی ممالک میں آنحضرت ﷺ کے بارے میں انتہائی غلیظ اور مسلمانوں کے جذبات کو انگیخت کرنے والے کارٹون اخبارات میں شائع کئے گئے جن سے مسلمانوں میں شدید اشتعال پیدا ہونا ایک طبعی رد عمل تھا۔ اس موقع پر جماعت احمدیہ نے کیا رد عمل دکھایا اور خلافت احمدیہ نے مسلمانوں کی اور یورپین ممالک کی کس طرح راہنمائی فرمائی اور آپ نے ایسے موقع کے لئے کیا اسلامی طریق اور اسلامی تعلیمات بیان کیں جو کہ ایک مومن کا رد عمل ہونا چاہئے، میں اس کو حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشادات کی روشنی میں بیان کرتا ہوں۔

ہمارے امام سیدنا حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس ساری حالت کا جائزہ لے کر مؤرخہ10 فروری 2006ء کو لندن مسجد بیت الفتوح سے ایک خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپ نے ’’کارٹونز کے حوالہ سے‘‘ جو باتیں اس خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمائیں دراصل وہی ڈیلی بلٹن نے شائع کیا گیا تھا۔

اس ضمن میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ میں قرآن کریم کی دو آیات تلاوت فرمائیں۔

(1) وَمَآ أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِيْنَ

(الأنبياء:108)

ترجمہ: اور ہم نے تجھے تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

(2)اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا۔اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ عَذَابًا مُّہِیۡنًا۔

(الأحزاب:57-58)

ترجمہ: ىقىناً اللہ اور اس کے فرشتے نبىؐ پر درود بھىجتے ہىں اے وہ لوگو جو اىمان لائے ہو! تم بھى اس پر درود اور خوب خوب سلام بھىجو ۔ ىقىناً وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو اذىت پہنچاتے ہىں اللہ نے ان پر دنىا مىں بھى لعنت ڈالى ہے اور آخرت مىں بھى اور اس نے ان کے لئے رُسواکُن عذاب تىار کىا ہے۔

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:
’’آج کل ڈنمارک اور مغرب کے بعض ممالک میں آنحضرت ﷺ کے بارے میں انتہائی غلیظ اور مسلمانوں کے جذبات کو انگیخت کرنے والے، ابھارنے والے، کارٹون اخباروں میں شائع کرنے پر تمام اسلامی دنیا میں غم و غصے کی ایک لہر دوڑ رہی ہے اور ہر مسلمان کی طرف سے اس بارے میں رد عمل کا اظہار ہورہا ہے۔ بہرحال قدرتی طور پر اس حرکت پر رد عمل کا اظہار ہو نا چاہئے تھا اور ظاہر ہے احمدی بھی جو آنحضرت ﷺ سے محبت و عشق میں یقیناً دوسروں سے بڑھا ہوا ہے کیونکہ اس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وجہ سے حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کے مقام کا فہم و ادراک دوسروں سے بہت زیادہ ہے اور کئی احمدی خط بھی لکھتے ہیں اور اپنے غم و غصہ کا اظہار بھی کرتے ہیں، تجاویز دیتے ہیں کہ ایک مستقل مہم ہونی چاہئے۔ دنیا کو بتانا چاہئے کہ اس عظیم نبی کا کیا مقام ہے۔ تو بہرحال اس بارے میں جہاں جہاں بھی جماعتیں Active ہیں وہ کام کر رہی ہیں۔ لیکن جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارا رد عمل کبھی ہڑتالوں کی صورت میں نہیں ہوتا اور نہ آگیں لگانے کی صورت میں ہوتا ہے اور نہ ہی ہڑتالیں اور توڑ پھوڑ، جھنڈے جلانا اس کا علاج ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مزیدفرمایا:
’’اس زمانے میں دوسرے مذاہب والے مذہبی بھی اور مغربی دنیا بھی اسلام اور بانیٔ اسلام ﷺ پر حملے کر رہے ہیں۔ اس وقت مغرب کو مذہب سے تو کوئی دلچسپی نہیں …… اکثریت میں مذہب کے تقدس کا احساس ختم ہو چکا ہے۔ بلکہ ایک خبر فرانس کی شاید پچھلے دنوں میں یہ بھی تھی کہ ہم حق رکھتے ہیں، ہم چاہیں تو نعوذباللہ اللہ تعالیٰ کا بھی کارٹون بنا سکتے ہیں۔ تو یہ تو ان لوگوں کا حال ہوچکا ہے۔ اس لئے اب دیکھ لیں یہ کارٹون بنانے والوں نے جو انتہائی قبیح حرکت کی ہے اور جیسی یہ سوچ رکھتے ہیں اور اسلامی دنیا کا جو ردعمل ظاہر ہوا ہے اس پر ان میں سے کئی لکھنے والوں نے لکھا ہے کہ یہ رد عمل اسلامی معاشرے اور مغربی سیکولر جمہوریت کے درمیان تصادم ہے۔ حالانکہ اس کا معاشرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اب تو ان لوگوں کی اکثریت اخلاق باختہ ہو چکی ہے۔ آزادی کے نام پر بے حیائیاں اختیار کی جارہی ہیں۔ حیا تقریباً ختم ہو چکی ہے۔……‘‘

حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ جاری رکھتے ہوئے فرمایا:
’’انگلستان کے ہی ایک کالم لکھنے والے رابرٹ فسک (Robert Fisk) نے کافی انصاف سے کام لیتے ہوئے لکھا ہے۔ ڈنمارک کے ایک صاحب نے لکھا تھا کہ اسلامی معاشرے اور مغربی سیکولر جمہوریت کے درمیان تصادم ہے۔ اس بارے میں انہوں نے لکھا کہ یہ بالکل غلط بات ہے۔ یہ کوئی تہذیبوں کا یا سیکولرازم کا تصادم نہیں ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ آزادیٔ اظہار کا مسئلہ بھی نہیں ہے۔ بات صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق پیغمبر پر خدا نے براہ راست اپنی تعلیمات نازل کیں۔ وہ زمین پر خدا کے ترجمان ہیں جبکہ یہ (عیسائی) سمجھتے ہیں، (اب یہ عیسائی لکھنے والا لکھ رہا ہے) کہ انبیاء اور ولی ان کی تعلیمات انسانی حقوق اور آزادیوں کے جدید تصور سے ہم آہنگ نہ ہونے کے سبب تاریخ کےدھندلکوں میں گم ہو گئے ہیں۔ مسلمان مذہب کو اپنی زندگی کا حصہ سمجھتے ہیں اور صدیوں کے سفر اور تغیرات کے باوجود ان کی یہ سوچ برقرار ہے جبکہ ہم نے مذہب کو عملاً زندگی سے علیحدہ کر دیا ہے۔ اس لئے ہم اب مسیحیت بمقابلہ اسلام نہیں بلکہ مغربی تہذیب بمقابلہ اسلام کی بات کرتے ہیں اور اس بنیاد پر یہ بھی چاہتے ہیں کہ جب ہم پیغمبروں یا ان کی تعلیمات کا مذاق اڑا سکتے ہیں تو آخر باقی مذاہب کا کیوں نہیں؟

پھر لکھتے ہیں کہ یہ رویہ اتنا ہی بے ساختہ ہے۔ کہتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ کوئی 10-12 برس پہلے ایک فلم ’’Last Temptation of Christ‘‘ ریلیز ہوئی تھی جس میں حضرت عیسیٰؑ کو ایک عورت کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دکھانے پر بہت شور مچا تھا اور پریس میں کسی نے مشتعل ہو کر ایک سینما کو نذرآتش کر دیا تھا۔ ایک فرانسیسی نوجوان قتل بھی ہوا تھا۔ اس بات کا کیا مطلب ہے؟ ایک طرف تو ہم میں سے بھی بعض لوگ مذہبی جذبات کی توہین برداشت نہیں کر پاتے مگرہم یہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ مسلمان آزادیٔ اظہار کے ناطے گھٹیا ذوق کے کارٹونوں کی اشاعت پر برداشت سے کام لیں۔

کیا یہ درست رویہ ہے؟جب مغربی رہنما یہ کہتے ہیں کہ وہ اخبارات اور آزادیٔ اظہار پر قدغن نہیں لگا سکتے تو مجھے ہنسی آتی ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر متنازعہ کارٹونوں میں پیغمبر اسلام کی بجائے بم والے ڈایزائن کی ٹوپی کسی یہودی ربائی (Rabbi) کے سر پر دکھائی جاتی تو کیا شور نہ مچتا کہ اس سے اینٹی سمٹ ازم (Anti Semitism) کی بو آتی ہے۔ یعنی یہودیوں کے خلاف مخالفت کی بو آتی ہے اور یہودیوں کی مذہبی دل آزادی کی جارہی ہے …… لیکن ان کارٹونوں سے سوائے اس کے کیا پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسلام ایک پرتشدد مذہب ہے۔ ان کارٹونوں نے جہاں چہار جانب اشتعال پھیلانے کے اور کیا مثبت اقدام کیا ہے؟‘‘

(روزنامہ جنگ لندن 7 فروری 2006ء صفحہ 1تا3)

حضور نے مزید فرمایا:
’’کہیں نہ کہیں سے کسی وقت ایسا شوشہ چھوڑا جاتا ہے جس سے ان گندے ذہن والوں کے ذہنوں کی غلاظت اور خدا سے دوری نظر آجاتی ہے، اسلام سے بغض اور تعصب کا اظہار ہوتا ہے۔ لیکن میں یہ کہوں گا کہ بدقسمتی سے مسلمانوں کے بعض لیڈروں کے غلط ردعمل سے ان لوگوں کو اسلام کو بدنام کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ یہی چیزیں ہیں جن سے پھر یہ لوگ بعض سیاسی فائدے بھی اٹھاتے ہیں۔ پھر عام زندگی میں مسلمان کہلانے والوں کے رویے ایسے ہوتے ہیں جن سے یہاں کی حکومتیں تنگ آجاتی ہیں……‘‘

نیز فرمایا:
’’بعض اوقات ظلم بھی ان کی طرف سے ہورہا ہوتا ہے لیکن مسلمانوں کے غلط ردعمل کی وجہ سے مظلوم بھی یہی لوگ بن جاتے ہیں اور مسلمانوں کو ظالم بنا دیتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ شاید مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت اس توڑپھوڑ کو اچھا نہیں سمجھتی لیکن لیڈر شپ یا چند فسادی بدنام کرنے والے بدنامی کرتے ہیں۔‘‘

حضورنے فرمایا:
’’اب مثلاً ایک رپورٹ ڈنمارک کی ہے کہ اس کے بعد کیا ہوا، ڈینش عوام کا ردعمل یہ ہے کہ اخبار کی معذرت کے بعد مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس معذرت کو مان لیں اور اس مسئلے کو پرامن طور پر ختم کریں تاکہ اسلام کی صحیح تعلیم ان تک پہنچے اور Violance سے بچ جائیں، پھر یہ ہے کہ ٹی وی پروگرام آرہے ہیں کہتے ہیں کہ یہاں کے بچے ڈینشوں کے خلاف ردعمل دیکھ کر ان کے ملک کا جھنڈا جلایا جارہا ہے، ایمبیسیز جلائی جارہی ہیں، بہت ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں۔ وہ یہ محسوس کر رہے ہیں گویا جنگ کا خطرہ ہےا وران کو مارد ینے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ اب عوام میں بھی اور بعض سیاستدانوں میں بھی اس کو دیکھ کر انہوں نے ناپسند کیا ہے اور ایک ردعمل یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ مسلمانوں کی اس دل آزاری کے بدلے میں خود ہمیں ایک بڑی مسجد مسلمانوں کو بنا کر دینی چاہئے جس کا خرچ یہاں کی فرمیں ادا کریں اور کوپن ہیگن کے سپریم میئر نے اس تجویز کو پسند کیا۔ پھر مسلمانوں کی اکثریت بھی جیسا کہ میں نے کہا کہتی ہے کہ ہمیں معذرت کو مان لینا چاہئے، لیکن ان کے ایک لیڈر ہیں جو 27 تنظیموں کے نمائندے ہیں وہ یہ بیان دے رہے ہیں کہ اگرچہ اخبار نے معذرت کر دی ہے تاہم وہ ایک بار پھر ہمارے سب کے سامنے آکر معذرت کرے تا ہم مسلمان ملکوں میں جا کر بتائیں کہ اب تحریک کوختم کردیں۔ اسلام کی ایک عجیب خوفناک تصویر کھینچنے کی یہ کوشش کرتے ہیں بجائے صلح کا ہاتھ بڑھانے کے ان کا رجحان فساد کی طرف ہے۔

پھر فرمایا:
’’تو اب دیکھیں کہ وہ ڈنمارک میں معافیاں مانگ رہے ہیں اور مسلمان لیڈر آڑے آئے ہوئے ہیں۔ پس ان مسلمانوں کو بھی ذرا عقل کرنی چاہئے، کچھ ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اپنے ردعمل کے طریقے بدلنے چاہئیں اور جیسا کہ میں نے کہا تھا شاید بلکہ یقینی طور پر سب سے زیادہ اس حرکت پر ہمارے دل چھلنی ہیں۔ لیکن ہمارے ردعمل کے طریق اور ہیں۔‘‘

’’جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ اسلام کے اور آنحضرت ﷺ کے خلاف ابتداء سے ہی یہ سازشیں چلی آرہی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے کیونکہ اس کی حفاظت کرنی ہے، وعدہ ہے، اس لئے وہ حفاظت کرتا چلا آرہا ہے، ساری مخالفانہ کوشش ناکام ہوجاتی ہیں۔‘‘

نیز فرمایا:
’’اس زمانے میں اس نے حضرت مسیح موعودؑ کو اس مقصد کے لئے مبعوث فرمایا ہے اور اس زمانے میں جو آنحضرت ﷺ کی ذات پر حملے ہوئے اور جس طرح حضرت مسیح موعودؑ نے اور بعد میں آپ کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے آپ کے خلفاء نے جماعت کی راہنمائی کی اور ردعمل ظاہر کیا اور پھر جو اس کے نتیجے نکلے اس کی ایک دو مثالیں پیش کرتا ہوں تاکہ وہ لوگ جو احمدیوں پر الزام لگاتے ہیں کہ ہڑتالیں نہ کرکے اور ان میں شامل نہ ہو کر ہم یہ ثابت کر رہےہیں کہ ہمیں آنحضرت ﷺ کی ذات پر کیچڑ اچھالنے کا کوئی درد نہیں ہے۔ ان پر جماعت کے کارنامے واضح ہو جائیں۔‘‘

اس سلسلہ میں پہلی مثال حضورؑ نے عبداللہ آتھم کی پیش کرتے ہوئے فرمایا ۔ یہ عیسائی تھا اس نے اپنی کتاب میں آنحضرت ﷺ کے متعلق اپنے انتہائی غلیظ ذہن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دجّال کا لفظ نعوذ باللہ استعمال کیا۔ (اس وقت حضورؑ کی اس کے ساتھ ایک بحث بھی چل رہی تھی) اس کے بعد حضور ایدہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ نے اسے مخاطب کرکے کہا کہ ایک بحث تو ختم ہو گئی مگر ایک رنگ کا مقابلہ باقی رہا جو خدا کی طرف سے ہے اور وہ یہ کہ اس نے اپنی کتاب ’’اندرونہ بائبل‘‘ میں ہمارے نبی ﷺ کو دجال کے نام سے پکارا ہے اور میں آنحضرت ﷺ کو صادق اور سچا جانتا ہوں اور دین اسلام کو منجانب اللہ یقین رکھتا ہوں۔ پس وہ مقابلہ ہے کہ آسمانی فیصلہ اس کا تصفیہ کرے گا اور وہ آسمانی فیصلہ یہ ہے کہ ہم دونوں میں سے جو شخص اپنے قول میں جھوٹا اور ناحق رسول ؐ کو کاذب اور دجال کہتا ہے اور حق کا دشمن ہے وہ آج کے دن سے پندرہ مہینے تک اس شخص کی زندگی ہی میں جو حق پر ہے، ہاویہ میں گرے گا بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔ یعنی راستباز اور صادق نبی کو دجال کہنے سے باز نہ آوے اور بے باکی اور بدزبانی نہ چھوڑے …… تو یہ تھا آنحضرت ﷺ کی غیرت رکھنے والا شیر خدا کا رد عمل ۔وہ للکارتے تھے ایسی حرکتیں کرنے والوں کو۔

اس کے بعد حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دوسرا واقعہ پنڈت لیکھرام کا بیان فرمایا: ’’پھر ایک شخص لیکھرام تھاجو آنحضرت ﷺ کو گالیاں نکالتا تھا۔ اس کی اس دریدہ دہنی پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کو باز رکھنے کی کوشش کی۔ وہ باز نہ آیا۔ آخر آپؑ نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی دردناک موت کی خبر دی۔

حضرت مسیح موعودؑ اس بارے میں فرماتے ہیں:
’’خداتعالیٰ نے ایک اللہ اور رسولؐ کے دشمن کے بارے میں جو آنحضرت ﷺ کو گالیاں نکالتا ہے اور ناپاک کلمے زبان پر لاتا ہے جس کا نام لیکھرام ہے، مجھے وعدہ دیا اور میری دعا سنی اور جب میں نے اس پر بد دعا کی تو خدا نے مجھے بشارت دی کہ وہ 6 سال کے اندر ہلاک ہو جائے گایہ ان کے لئے ایک نشان ہے جو سچے مذہب کو ڈھونڈھتے ہیں۔‘‘

(روحانی خزائن جلد 18 نزول المسیح صفحہ 549)

چنانچہ ایسا ہی ہوا اور وہ بڑی دردناک موت مرا۔

حضورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’یہی اسلوب ہمیں حضرت مسیح موعودؑ نے سکھائے کہ اس قسم کی حرکت کرنے والوں کو سمجھاؤ۔ آنحضرت ﷺ کے محاسن بیان کرو۔دنیا کو ان خوبصور ت اور روشن پہلوؤں سے آگاہ کرو جو دنیا کی نظر سے چھپے ہوئے ہیں۔ اور اللہ سے دعا کرو کہ یا تو اللہ تعالیٰ ان کوان حرکتوں سے باز رکھے یا پھر خود ان کی پکڑ کرے۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ کے اپنے طریقے ہیں۔ وہ بہتر جانتا ہے کہ اس نے کس طریقے سے کس کو پکڑنا ہے۔‘‘

حضور نے مزید فرمایا:
’’ہمارا ری ایکشن (Reaction) یہی ہونا چاہئے کہ بجائے صرف توڑ پھوڑ کے ہمیں اپنے جائزے لینے کی طرف توجہ پیدا ہونی چاہئے۔ ہم دیکھیں ہمارے عمل کیا ہیں؟ ہمارے اندر خدا کا خوف کتنا ہے، اس کی عبادت کی طرف کتنی توجہ ہے، دینی احکامات پر عمل کرنے کی طرف کتنی توجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کی طرف کتنی توجہ ہے۔

خلافت رابعہ کے دور میں رُشدی نے بڑی توہین آمیز کتاب لکھی تھی۔ اس وقت حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے خطبات بھی دیئے تھے اور ایک کتاب بھی لکھوائی تھی۔ حضور نے فرمایا گزشتہ سال کے شروع میں بھی اس طرح کا ایک مضمون آیا تھا آنحضرت ﷺ کی زندگی کے بارے میں۔ اس وقت بھی میں نے جماعت کو بھی اور ذیلی تنظیموں کو بھی توجہ دلائی تھی کہ مضامین لکھیں خطوط لکھیں، رابطے وسیع کریں۔آنحضرت ﷺ کی زندگی کی خوبیاں او ران کے محاسن بیان کریں۔ تو یہ تو آنحضرت ﷺ کی زندگی کے حسین پہلوؤں کو دنیا کو دکھانے کا سوال ہے یہ توڑ پھوڑ سے تو نہیں حاصل ہو سکتا۔ اس لئے اگر ہر طبقے کے احمدی ہر ملک میں دوسرے پڑھے لکھے اور سمجھدار مسلمانوں کو بھی شامل کریں کہ تم بھی اس طرح پر امن طور پر یہ ردعمل ظاہر کرو، اپنے رابطے بڑھاؤ اور لکھو تو ہر ملک میں ہر طبقے میں اتمام حجت ہو جائے گی اور پھر جو کرے گا اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔‘‘

اسی خطبہ میں حضور نے مزید راہنمائی دیتے ہوئے فرمایا: ’’دوسرے مسلمانوں کو تو یہ جوش ہے کہ ہڑتالیں کر رہے ہیں، توڑ پھوڑ کر رہے ہیں کیونکہ ان کا ردعمل یہی ہے کہ توڑ پھوڑ ہو اور ہڑتالیں ہوں اور جماعت احمدیہ کا اس واقعہ کے بعد جو فوری ردعمل ظاہر ہونا چاہئے تھا وہ ہوا۔ احمدی کر ردعمل یہ تھا کہ انہوں نے فوری طور پر ان اخباروں سے رابطہ کیا۔……‘‘

حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ: ’’یہاں جو مسلمان عیسائی اس معاشرے میں اکٹھے رہ رہے ہیں ان کے جذبات کا بہرحال خیال ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔‘‘

حضور نے مسلمانوں کو بھی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’مسلمان کہلانے والوں کو بھی میں یہ کہتا ہوں کہ قطع نظر اس کے کہ احمدی ہیں یا نہیں، شیعہ ہیں یا سنی ہیں یا کسی بھی دوسرے مسلمان فرقہ سے تعلق رکھنے والے ہیں آنحضرت ﷺ کی ذات پر جب حملہ ہو تو وقتی جوش کی بجائے، جھنڈے جلانے کی بجائے، توڑ پھوڑ کرنے کی بجائے، ایمبیسیوں پر حملہ کرنے کی بجائے، اپنے عملوں کو درست کریں کہ غیر کو انگلی اٹھانے کا موقع ہی نہ ملے۔ کیا یہ آگیں لگانے سے سمجھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی عزت اور مقام کی نعوذ باللہ صرف اتنی قدر ہے کہ صرف جھنڈےجلانے سے یا کسی سفارتخانے کا سامان جلانے سے بدلہ لے لیا،نہیں۔ ہم تو اس نبی کے ماننے والے ہیں جو آگ بجھانے آیا تھا۔ وہ محبت کا سفیر بن کر آیا تھا، وہ امن کا شہزادہ تھا۔ پس کسی بھی سخت اقدام کی بجائےدنیا کو سمجھائیں اور آپ کی خوبصورت تعلیم کے بارے میں بتائیں۔‘‘

(خطبات مسرور جلد چہارم صفحہ55-88)

حضور انور کے ایک ایک لفظ سے ہدایت، حکمت اور سچائی ظاہر ہو رہی ہے کہ کس طرح ہمارا ردعمل ہونا چاہئے جو بھی ہو اسلامی تعلیمات اور آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ کی روشنی میں ہو۔

میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں جس کا مجھے ذاتی طور پر تجربہ ہے کہ جب بھی ایسے موقعوں پر خلافت کی راہنمائی میں کام کیا گیا اس کا بہت فائدہ ہوا۔ اس کام میں برکت ہوئی اور بلکہ میں نے محسوس کیا اور مشاہدہ کیا کہ جب ہم خلیفہ وقت کی ہدایت کے مطابق ایسے مواقع پر پریس سے رابطہ کرتے ہیں، مضامین لکھتے ہیں اور خطوط کے ذریعہ تردید کر کے اسلام کی تعلیم بیان کرتے ہیں تو ہمیشہ اس کو اخبار میں جگہ ملی اور دوسرے لوگوں نے ہمیشہ سراہا بلکہ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ نہ صرف اخبار میں وہ مضامین، خطوط اور ہمارا بیان شائع ہوا اسے پڑھ کر لوگوں نے اور دیگر تنظیموں نے ہمیں اپنے پروگراموں میں بھی بلایا۔

حضور انور نے رشدی کی کتاب کا حوالہ دیا۔ اس وقت حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے جو جماعت کوہدایت دیں ان سے بہت فائدہ ہوا۔ یہاں امریکہ کے اخبارات میں ان ہدایات کو شائع کرایا گیا جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ اس کی وجہ سے ہمارا پریس سے مزید رابطہ مضبوط ہوا اور اب اس واقعہ کے بعد جو ڈنمارک میں ہوا یا دیگر یورپین ممالک میں ہوا اور حضور ایدہ اللہ سے اس خطبہ میں جو ہدایات ملی ان کو سامنے رکھ کر جہاں جہاں بھی کام کیا گیا اس کا بہت فائدہ ہوا اور ہمیں پریس میں کورج ملی۔ الحمد للہ علیٰ ذالک

(باقی آئندہ بدھ ان شاء اللہ)

(ازمولانا سید شمشاد احمد ناصر ۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 فروری 2021