• 18 اپریل, 2021

روایات از حضرت ماسٹر خلیل الرحمن صاحبؓ۔ خان صاحب منشی برکت علی صاحبؓ ولد محمد فاضل صاحب

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
پھر یہ اپنا ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مَیں نے قادیان پہنچ کر اپنے مقدمات کا ذکر کیا کہ مخالفین نے جھوٹے مقدمات کر کے اور جھوٹی قسمیں کھا کھا کر میرا مکان چھین لیا ہے۔ حضورؑ نے فرمایا کہ حافظ صاحب! لوگ لڑکوں کی شادی اور ختنے پر مکان برباد کر دیتے ہیں، آپ کا مکان اگر خدا کے لئے گیا ہے تو جانے دیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اور اس سے بہتر دے دے گا۔ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی قسم! یہ پاک الفاظ سنتے ہی میرے دل سے وہ خیال ہی جاتا رہا کہ میرا مکان چھن گیا ہے۔ اور پھر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اس مقدس بستی قادیان میں جگہ دی اور مکان اس سے کئی درجے بہتر دے دیا۔ بیوی بھی دی، اولاد بھی دی۔

پھر لکھتے ہیں کہ اس ضمن میں ایک اور بات بھی یاد آئی ہے لکھ دیتا ہوں کہ شاید کوئی سعید فطرت فائدہ اٹھائے۔ وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد ایک دن مسجد مبارک میں خواجہ کمال الدین صاحب نے کہا مدرسہ احمدیہ میں جو لوگ پڑھتے ہیں وہ مُلّاں بنیں گے۔ وہ کیا کر سکتے ہیں؟ (بڑے فخر سے خواجہ صاحب نے کہا کہ تبلیغ کرنا ہمارا (یعنی خواجہ صاحب جیسے لوگوں کا) کام ہے۔) پھر کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ مدرسہ احمدیہ اُٹھا دینا چاہئے (یعنی ختم کر دینا چاہئے)۔ لکھتے ہیں کہ اُس وقت حضرت محمود اولوالعزم (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مرزا محمود احمد) بیٹھے تھے وہ کھڑے ہو گئے (خلیفہ اول کے زمانے کی بات ہے) اور اپنی اس اولوالعزمی کا اظہار فرمایا کہ اس سکول کو یعنی مدرسہ احمدیہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قائم فرمایا ہے یہ جاری رہے گا اور ان شاء اللہ اس میں علماء پیدا ہوں گے اور تبلیغِ حق کریں گے۔ یہ سنتے ہی خواجہ صاحب تو مبہوت ہو گئے اور مَیں اُس وقت یہ خیال کرتا تھا کہ خواجہ صاحب کو یقین ہو گیا ہے کہ ہم اپنے مطلب میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ اور دیکھنے والے اب جانتے ہیں کہ اسی سکول کے تعلیم یافتہ فضلاء دنیا میں تبلیغِ احمدیت کر رہے ہیں۔ جو کہتے تھے کہ مسیح موعود کا ذکر کرنا سمّ قاتل ہے اُنہی کے حق میں سمّ قاتل ثابت ہوا۔

(رجسٹر روایات صحابہ رجسٹر نمبر4 روایت حضرت غلام رسول صاحب وزیر آبادی صفحہ نمبر132تا133 غیر مطبوعہ)

لکھتے ہیں کہ ایک دن کا ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کو نکلے تو خاکسار اور چند آدمی بھی ساتھ تھے۔ اُن میں سے ایک شخص مستری نظام الدین صاحب سابق سیکرٹری جماعت احمدیہ سیالکوٹ کے تھے جو ابھی تک بفضلِ خدا زندہ ہیں، انہوں نے مجھے کہا کہ حضرت صاحب آپ کے ساتھ بڑی شفقت سے پیش آتے ہیں اس لئے یہ عرض کہ پہلی تفسیریں تو کچھ ساقط الاعتبار ہو گئی ہیں (پہلی تفسیریں اب خاموش ہیں، اتنی زیادہ واضح نہیں ہیں اور نئے زمانے کے لحاظ سے بھی نہیں ہیں) تو اب مکمل تفسیر قرآنِ کریم کی حضور لکھ دیں۔ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں درخواست کریں کہ پہلی تفسیروں کا زمانہ تو اب گزر گیا حضور اپنی مکمل تفسیر لکھیں۔) چنانچہ مَیں نے حضور کی خدمت میں عرض کیا تو حضورؑ نے فرمایا کہ حافظ صاحب!جو میرے رستے میں آیات قابلِ بیان اور قابلِ تفسیر آئی ہیں موجودہ زمانے کے لئے، وہ مَیں نے لکھ دی ہیں۔ اگر مَیں یا ہم مکمل تفسیر لکھیں تو ممکن ہے کہ آئندہ زمانے میں اور بہت سے معترض پیدا ہو جائیں۔ تو اللہ تعالیٰ اِن معترضین کے جواب کے لئے کوئی اور بندہ اپنی طرف سے کھڑا کر دے۔ مَیں یہ جواب سن کر خاموش ہو گیا اور مستری نظام الدین صاحب بھی سن رہے تھے، وہ بھی خاموش ہو گئے۔ (انہوں نے فرمایا کہ آئندہ زمانے کے ساتھ ساتھ قرآنِ کریم کی تفسیریں آتی رہیں گی۔

(رجسٹر روایات صحابہ رجسٹر نمبر 4روایت حضرت غلام رسول صاحب وزیر آبادی صفحہ نمبر134 غیر مطبوعہ)

پھر ایک روایت خان صاحب منشی برکت علی صاحبؓ ولد محمد فاضل صاحب کی ہے۔ یہ ڈائریکٹر جنرل انڈین میڈیکل سروس کے ملازم تھے۔ یہ قادیان میں ناظر بیت المال بھی رہے ہیں۔ 1901ء میں انہوں نے بیعت کی تھی اور 1901ء میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کی۔ کہتے ہیں کہ جہاں تک مجھے یاد ہے، سب سے پہلے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر 1900ء کے شروع میں سننے کا اتفاق ہوا۔ جبکہ اتفاقاً مجھے شملہ میں چند احمدی احباب کے پڑوس میں رہنے کا موقع ملا۔ اُن دوستوں سے قدرتی طور پر حضور کے دعویٰ مسیحیت اور وفاتِ مسیح ناصری کے متعلق سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مَیں اگرچہ بڑی سختی سے اُن کی مخالفت کیا کرتا تھا۔ مگر بیہودہ گوئی اور طعن و طنز سے ہمیشہ احتراز کرتا تھا۔ (وفاتِ مسیح پر مَیں یقین نہیں رکھتا تھا۔ لیکن کہتے ہیں کہ اس کے باوجود طعن اور طنز سے ہمیشہ احتراز کرتا تھا۔ آج کل بلکہ ہمیشہ سے ہی مخالفین کا جویہ طریقہ رہا ہے کہ گالم گلوچ پر آ جاتے ہیں۔ لیکن یہ نیک فطرت تھے، کہتے ہیں میں طعن و طنز سے ہمیشہ احتراز کرتا تھا)۔ آہستہ آہستہ مجھے خوش اعتقادی پیدا ہوتی گئی۔ (آہستہ آہستہ مجھے بھی اس بات پر اعتقاد ہوتا گیا)۔ حضور کا اُنہی دنوں میں پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کے ساتھ بھی بحث و مباحثہ جاری تھا۔ حضور نے اس بات پر زور دیا کہ مقابلہ میں قرآنِ شریف کی عربی تفسیر لکھی جاوے۔ اور وہ اس طرح کہ بذریعہ قرعہ اندازی کوئی سورۃ لے لی جاوے اور فریقین ایک دوسرے کے بالمقابل بیٹھ کر عربی میں تفسیر لکھیں۔ کیونکہ قرآنِ کریم کا دعویٰ ہے کہ لَایَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَہَّرُوْنَ (الواقعہ: 80) ایک کاذب اور مفتری پر اس کے حقائق اور معارف نہیں کھل سکتے۔ اس لئے اس طرح فریقین کا صدق و کذب ظاہر ہو سکتا ہے۔ ان ہی ایام میں پیر صاحب کی طرف سے ایک اشتہار شائع ہوا جس میں حضرت مسیح موعود کی طرف چوبیس باتیں منسوب کر کے یہ استدلال کیا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (نعوذ باللہ) ملحد اور اسلام سے خارج ہیں۔ اس اشتہار میں اکثر جگہ حضور کی تصانیف سے اقتباسات نقل کئے گئے تھے۔ کہتے ہیں کہ مَیں عموماً فریقین کے اشتہارات دیکھتا رہتا تھا۔ (ابھی احمدی نہیں ہوا تھا لیکن فریقین کے دونوں طرف سے اشتہار دیکھتا رہتا تھا)۔ مذکورہ بالا اشتہار کے ملنے پر جو غیر احمدیوں نے مجھے دیا تھا مَیں نے احمدی احباب سے استدعا کی کہ وہ مجھے اصل کتب لا کر دیں تا کہ مَیں خود مقابلہ کر سکوں۔ مقابلہ کرنے پر مجھے معلوم ہوا کہ بعض حوالے گو صحیح تھے مگر اکثر میں انہیں توڑ مروڑ کر اپنا مدعا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ (اور یہی حال آج بھی ہے۔ اب مخالفین نے ایک نئی مہم شروع کی ہوئی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب سے حوالے دئیے جاتے ہیں اور اُن کو توڑ مروڑ کر پھر اس سے اشتہار لگا کریا پھر بڑے بڑے پوسٹر بنا کے یا جماعت کے خلاف کتابچہ شائع کر کے حضرت مسیح موعود کے خلاف دریدہ دہنی کی جاتی ہے اور ہمارا جو پروگرام ہے ’’راہِ ھدی‘‘ اور اس کی اب ویب سائٹ بھی شروع ہو گئی ہے، اُس میں اس کے جواب آ رہے ہیں، اور اصل حوالے اور اصل کتب کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ جا کے دیکھیں تو خود پتہ لگ جائے۔ اس سے بھی اب بعض ایسے لوگ جنہوں نے اس طرح جائزہ لینا شروع کیا تو اللہ کے فضل سے اس کے نتیجہ میں بیعتیں بھی ہو رہی ہیں۔ تو یہ اعتراضات، یہ حربہ مولویوں کا ہمیشہ سے رہا ہے۔ یہ آج کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ بعض دفعہ لوگ گھبرا جاتے ہیں۔ اسی طرح جو ویب سائٹ شروع ہوئی ہیں، اِن کے انچارج آصف صاحب ہیں۔ وہ کہنے لگے کہ لوگوں نے بڑی بھرمار کر دی ہے اور ہمارے جواب اُس طرح نہیں جا سک رہے۔ تو مَیں نے اُن کو یہی کہا تھا آپ کچھ دیر انتظار کریں یہ لوگ خود ہی جھاگ کی طرح بیٹھ جائیں گے۔ اور یہی ہوا۔ اُس میں اعتراضات کی جو بھرمار تھی ان پرجب ہماری طرف سے جوابات کی اس طرح ہی بھر مار ہوئی ہے توآہستہ آہستہ خاموش ہو کے بیٹھ گئے۔ بلکہ اب انہوں نے اپنے جودوسرے سائٹس ہیں ان میں یہ پیغام دینا شروع کر دیا ہے کہ الھُدٰی کی جوویب سائٹ ہے اس پر کوئی نہ جائے۔ اس میں یہ ہمیں صحیح طرح access نہیں دیتے حالانکہ خود اُن کے پاس جواب نہیں ہیں۔ کیونکہ مایوس ہو چکے ہیں اس لئے دوسروں کو بھی روک رہے ہیں۔ بہر حال ہمیشہ سے ہی یہ طریق رہا ہے) تو کہتے ہیں کہ مَیں نے جب کتابیں کھول کے یہ دیکھا، تو حوالے تو دئیے ہوئے تھے لیکن توڑ مروڑ کر اُن کو پیش کیا گیا تھا۔

(خطبہ جمعہ 8؍ اپریل 2011ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 مارچ 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 مارچ 2021