• 29 فروری, 2024

فقہی کارنر

احسان کی قدر کرنا ہماری سر شت میں ہے

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: محسن کے احسانات کی شکر گزاری کے اصول سے نا واقف جاہل ہمارے اس قسم کے بیانات اور تحریروں کو خوشامد کہتے ہیں مگر ہمارا خدا بہتر جانتا ہے کہ ہم دنیا میں کسی انسان کی خوشامد کر سکتے ہی نہیں۔ یہ قوت ہی ہم میں نہیں ہے۔ ہاں احسان کی قدر کرنا ہماری سرشت میں ہے اور محسن کشی اورغداری کا ناپاک مادہ اس نے اپنے فضل سے ہم میں نہیں رکھا۔ ہم گورنمنٹ انگلشیہ کے احسا نات کی قدر کرتے ہیں اور اس کو خدا کا فضل سمجھتے ہیں کہ اس نے ایک عادل گورنمنٹ کو سکھوں کے پُر جفا زمانہ سے نجات دلانے کے ہم پر حکومت کرنے کو کئی ہزار کوس سے بھیج دیا۔ اگر اس سلطنت کا وجود نہ ہوتا تو میں سچ کہتا ہوں کہ ہم اس قسم کے اعتراضوں کی بابت ذرا بھی سوچ نہ سکتے، چہ جائیکہ ہم ان کا جواب دے سکتے۔

اب ہم ان اعتراضوں کا جواب بڑی آزادی سے دے سکتے ہیں۔ پھر ہم اگر اللہ تعالیٰ کے اس فضل کی قدر نہ کریں تو یقیناً سمجھو کہ بڑے ناقدر شناس اور نا شکر گزار ہوں گے۔ ہم کو غور اور فکر کا موقع ملا، دعاؤں کا موقع ملا اور اس طرح پر خدا تعالیٰ نے اپنے فضل کے ابواب ہم پر کھولے۔ اگرچہ مبدءِ فیض وہی ہے لیکن انسان اپنے میں ایک شے قابل بناتا ہے۔ اس پر بلحاظ اس کی استعداد اور ظرف کے فیض ملتا ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ اس تقریب کی وجہ سے ہندوستان اور پنجاب کے رہنے والے جوہر قابل بن رہے ہیں اور ان کی علمی طاقتیں بھی ترقی کر رہی ہیں۔

اس زمانہ کا ہتھیار قلم ہے

مختصر یہ کہ مقام دارالحرب ہے پادریوں کے مقابلہ میں۔ اس لئے ہم کو چاہئے کہ ہر گز بے کار نہ بیٹھیں۔ مگر یاد رکھو کہ ہماری حرب ان کے ہم رنگ ہو۔ جس قسم کے ہتھیار لے کر میدان میں وہ آ ئے ہیں، اسی طرز کے ہتھیار ہم کو لے کر نکلنا چاہیے اور وہ ہتھیار ہے قلم۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کا نام سلطان القلم رکھا اور میرے قلم کو ذوالفقار علی فر مایا۔ اس میں یہی سِرّ ہے کہ یہ زمانہ جنگ و جدل کا نہیں ہے بلکہ قلم کا زمانہ ہے۔

(ملفوظات جلد اول 2016 ایڈیشن صفحہ213-214)

(مرسلہ: داؤد احمد عابد۔ استاد جامعہ احمدیہ برطانیہ)

پچھلا پڑھیں

ریجنل اجتماع لجنہ اماء اللہ واگا ڈوگو برکینافاسو

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 مارچ 2023