• 26 فروری, 2024

رمضان میں اپنے جائزے لیں

رمضان میں اپنے جائزے لیں
ازارشادات خطبات مسرور

رمضان میں اپنی برائیوں کا جائزہ لیں

حدیث میں آتاہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا۔حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں۔ جس شخص نے رمضان کے روزے ایمان کی حالت میں رکھے اور اپنامحاسبہ نفس کرتے ہوئے رکھے اس کے گزشتہ گناہ معاف کردئے جائیں گے اور اگر تمہیں معلوم ہوتا کہ رمضان کی کیا کیا فضیلتیں ہیں تو تم ضرور اس بات کے خواہشمند ہوتے کہ سارا سال ہی رمضان ہو۔ تو یہاں دو شرطیں بیان کی گئی ہیں۔پہلی یہ کہ ایمان کی حالت اور دوسری ہے محاسبۂ نفس۔اب روزوں میں ہر شخص کو اپنے نفس کا بھی محاسبہ کرتے رہنا چاہئے۔ دیکھتے رہنا چاہئے کہ یہ رمضان کا مہینہ ہے اس میں میں جائزہ لوں کہ میرے میں کیا کیا برائیاں ہیں، ان کا جائزہ لوں۔ ان میں سے کون کون سی برائیاں ہیں جو میں آسانی سے چھوڑ سکتاہوں ان کو چھوڑوں۔کون کون سی نیکیاں ہیں جو میں نہیں کر سکتا یامیں نہیں کر رہا اور کون کون سی نیکیاں ہیں جو مَیں اختیار کرنے کی کوشش کرو۔ تو اگر ہر شخص ایک دو نیکیاں اختیار کرنے کی کوشش کرے اور ایک دو برائیاں چھوڑنے کی کوشش کرے اورا س پرپھر قائم رہے تو سمجھیں کہ آپ نے رمضان کی برکات سے ایک بہت بڑی برکت سے فائدہ اٹھا لیا۔

(خطبات مسرورجلد اول صفحہ 428)

جائزے لیں کہ گزشتہ رمضان میں جو منزلیں حاصل ہوئی تھیں وہ قائم ہیں؟

اس رمضان میں یہ جائزہ لینا چاہئے کہ گزشتہ رمضان میں جو منزلیں حاصل ہوئی تھیں کیاان پر ہم قائم ہیں۔ کہیں اس سے بھٹک تو نہیں گئے۔ اگر بھٹک گئے تو رمضان نے ہمیں کیا فائدہ دیا۔ اور یہ رمضان بھی اور آئندہ آنے والے رمضان بھی ہمیں کیا فائدہ دے سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے کہ اگر یہ فرض روزے رکھو گے تو تقویٰ پر چلنے والے ہو گے، نیکیاں اختیار کرنے والے ہو گے، اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے ہو گے۔ لیکن یہ کیا ہے کہ ہمارے اندر تو ایسی کوئی تبدیلی نہیں آئی جس سے ہم کہہ سکیں کہ ہمارے اندر تقویٰ پیدا ہو گیا ہے۔یہ بات تو سو فیصد درست ہے کہ خداتعالیٰ کی بات کبھی غلط نہیں ہو سکتی۔ بندہ جھوٹا ہو سکتا ہے اور ہے۔ پس یہ بات یقینی ہے کہ ہمارے اندر ہی کمزوریاں اور کمیا ں ہیں یا تو پہلے رمضان جتنے بھی گزرے ان سے ہم نے فائدہ نہیں اٹھایا، یا وقتی فائدہ اٹھایا اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ اسی جگہ پر پہنچ گئے جہاں سے چلے تھے۔ حالانکہ چاہئے تو یہ تھاکہ تقویٰ کا جو معیار گزشتہ رمضان میں حاصل کیا تھا، یہ رمضان جو اَب آیا ہے، یہ ہمیں نیکیوں میں بڑھنے اور تقویٰ حاصل کرنے کے اگلے درجے دکھاتا۔

(خطبات مسرور جلد3 صفحہ594)

روزوں میں کان، آنکھ، زبان اور ہاتھ کو محفوظ رکھنے کا جائزہ لیتے رہیں

میں حیران ہوتا ہوں بعض دفعہ یہ سن کر، بعض لوگ بتاتے بھی ہیں اور لکھ کر بھی بھیجتے ہیں کہ آپ کے فلاں خطبے پر مجھ سے فلاں شخص نے کہا یہ تمہارے بارے میں خطبہ آیا ہے اس لئے اپنی اصلاح کر لو۔ حالانکہ چاہئے تو یہ کہ ہر ایک اپنا اپنا جائزہ لے اور دوسرے کی آنکھ کے تنکے تلاش نہ کرے۔ تو جب روزوں میں اس طرح اپنے جائزے لے رہے ہوں گے، کان، آنکھ، زبان، ہاتھ سے دوسرے کو نہ صرف محفوظ رکھ رہے ہوں گے بلکہ اس کی مدد کر رہے ہوں گے تو پھر روزے تقوٰی میں بڑھانے والے ہوں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بے انتہا اجر پانے والے ہوں گے۔ پس اس لحاظ سے بھی ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہئے۔ اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہئے۔

(خطبات مسرور جلد3 صفحہ601)

اپنی صبحوں اور شاموں نیکیوں کا جائزہ لیں

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے: ’’ہمیں اس طرح جائزہ لینا چاہئے کہ ہماری صُبحیں اور ہماری راتیں ہماری نیکیوں کی گواہ ہونی چاہئیں‘‘۔ آپؑ فرماتےہیں کہ: ’’چاہئے کہ ہر ایک صبح تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے تقویٰ سے رات بسر کی اور ہر ایک شام تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا۔

(کشتی نوح۔ روحانی خزائن جلد19 صفحہ12)

پس جب ہم اس طرح اپنی صبحوں اور شاموں سے گواہی مانگ رہے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کی رضا بھی حاصل کر رہے ہوں گے۔ ہمارے گزشتہ گناہ بھی معاف ہو رہے ہوں گے۔ اور آئندہ تقویٰ پر قائم رہنے اورمزید نیکیاں کرنے کی توفیق بھی مل رہی ہو گی۔ ورنہ ہمارے روزے بھوک اور پیاس برداشت کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔

(خطبات مسرور جلد3 صفحہ602)

روزوں میں قرآن سے فیض پانے کے حوالہ سے جائزے لیں

دعاؤں کی قبولیت کے لئے بھی قرآن کریم کا سیکھنا، پڑھنا، یاد کرنا ضروری ہے۔اللہ کرے کہ ہم نے رمضان کے گزشتہ دنوں میں، آج 17روز ے گزر گئے ہیں، قرآن کریم کے پڑھنے سے جو فیض پایا ہے اس سے بڑھ کر رمضان کے جو بقیہ دن تھوڑے سے رہ گئے ہیں ان دنوں میں یہ فیض حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اس کو پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔ اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم روزانہ اپنا جائزہ لیں اور لیتے رہیں کہ ہر روز ہم نے اس سلسلے میں کیاترقی کی ہے۔ اور پھر یہ بھی ارادہ کریں کہ رمضان کے آخری دنوںتک جو ہم نے قرآن کریم سے حاصل کیا ہے اس کو اب باقاعدہ اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے۔ یہ تلاوت کی عادت جو ہمیں رمضان میں پڑ گئی ہے اس کو رمضان کے بعد بھی جاری رکھنا ہے۔ اس کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش ہم نے رمضان کے بعد عام دنوں میں بھی کرنی ہے۔ اپنے گھروں کی بھی نگرانی کرنی ہے کہ ہمارے بیوی بچے بھی اس طرح عمل کر رہے ہیں یا نہیں۔ وہ بھی تلاوت کر رہے ہیں یا نہیں جس طرح آج کل ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق دے کہ ہم قرآن کریم کی برکات سے فیض پانے والے ہوں اور ہمیشہ فیض پاتے چلے جائیں۔

(خطبات مسرور جلد3 صفحہ637)

رمضان کے 30 دنوں کے علاوہ بھی اپنی عبادتوں کے جائزے لیں

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ بندے کا خداتعالیٰ کے ساتھ دوست کا معاملہ ہے۔ پس اصل اورپائیدار اور ہمیشہ رہنے والی دوستی کے لئے دوست کی باتیں بھی ماننی پڑتی ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میری بات پر لبیک کہو۔ جو میں کہتا ہوں اسے مانو تو پھر یہ ہماری دوستی پکی ہو گی۔ اس لئے پہلا حکم جس کے لئے انسان کو پیدا کیا گیاہے یہی اللہ تعالیٰ نے دیا ہے کہ ایک خدا کی عبادت کرو۔ صرف رمضان کے تیس دن عبادتوں کے لئے نہیں ہیں بلکہ فرمایا کہ میرا حکم یہ ہے کہ مستقل عبادت کرو۔ روزانہ کی پانچ نمازیں باجماعت ادا کرو جو فرض کی گئی ہیں۔ مردوں کے لئے یہی حکم ہے کہ مسجد میں جا کے اداکریں یا جہاں بھی سنٹر ہے وہاں جا کے ادا کریں، عورتوں کے لئے حکم ہے گھروں میں پانچ نمازیں پڑھیں، وقت پر نمازیں ادا کریں۔ اپنی نمازوں کی خاطر دوسری مصروفیات کو کم کریں۔ جس طرح آج کل رمضان میں ہر ایک کوشش کرکے نمازوں کی طرف توجہ دے رہا ہوتا ہے، قرآن پڑھنے کی طرف توجہ دے رہا ہوتا ہے۔ تو اس طرح رمضان کے بعد بھی وقت پر پانچوں نمازیں ادا کرو۔ کوئی دوستی اللہ تعالیٰ کی دوستی سے بڑھ کر نہ ہو۔ اس ذات پر ایسا ایمان ہو جو کسی اور پر نہ ہو اور ہمیشہ اسی کو مدد کے لئے پکارو۔ یہ نہ ہو کہ بعض دفعہ بعض معاملات میں مدد کے لئے تم غیراللہ کی طرف جھک جاؤ، ان سے مددمانگنے لگو۔ اگر یہ صورت ہو گی تو یہ کمزور ایمانی حالت ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنی ایمانی حالت کو بڑھاؤ۔ میرے پر پختہ اور کامل یقین رکھو۔ ہم کہہ تو دیتے ہیں کہ ہمیں خدا پر بڑا پکّا ایمان ہے لیکن بعض دفعہ ایسے عمل سرزد ہو جاتے ہیں جو ہمارے دعوے کی نفی کر رہے ہوتے ہیں۔ ایمان کی تعریف یہ ہے کہ حق کی یا سچائی کی تصدیق کرکے اس کا فرمانبردار ہو جائے۔ اب ہر ایک اپنا جائزہ لے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننے کے بعد، یہ تصدیق کرنے کے بعد کہ آپؑ خداکےمسیح ہیں اور حق پر ہیں اس حد تک ہم نے آپؑ کی باتوں کی فرمانبرداری کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے کے لئے آپؑ نےجن شرائط پرہم سےبیعت لی ہے اس تعلیم پر کس حد تک ہم عمل کر رہے ہیں۔

(خطبات مسرور جلد3 صفحہ642)

جماعتیں جائزہ لیں کہ رمضان میں جمعۃ الوداع
میں حاضری بڑھ جاتی ہے باقی دنوں میں کیوں نہیں

میں نہایت افسوس سے اس بات کا ذکر کروں گا کہ امام الزمان کی بیعت میں آنے کے باوجود اور باوجود اس کے کہ خلفاء احمدیت اس تصور کو ذہنوں سے نکالنے کے لئے بار ہا اس طرف توجہ دلا چکے ہیں بعض احمدی بھی معاشرے کی اس برائی اور بدعت کا شکار ہو کر جمعہ کی اہمیت کو بھلا کر جمعۃ الوداع کا تصور ذہنوں میں بٹھائے ہوئے ہیں۔ اور ایسے لوگ چاہے زبان سے اس بات کا اقرار کریں یا نہ کریں اپنے حال سے، اپنے عمل سے یہ اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ عموماً سارا سال مساجد میں جمعوں پر جو حاضری ہوتی ہے، رمضان کے دنوں میں خاص قسم کا ماحول بننے کی وجہ سے جمعوں میں حاضری اس سے بہت بہتر ہو جاتی ہے۔ لیکن رمضان کے آخری جمعہ میں یہ حاضری رمضان کے باقی جمعوں کی نسبت بہت آگے بڑھ جاتی ہے جس سے صاف ظاہر ہو رہا ہوتا ہے کہ آج توجہ زیادہ ہے۔ یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ مرکز میں یا جہاں خلیفۂ وقت نماز جمعہ پڑھا رہے ہوں وہاں اس جمعے میں شامل ہونے کی لوگ زیادہ کوشش کرتے ہیں جو ٹھیک ہے لیکن اگر جماعتیں جائزہ لیں تو ہر مسجد میں رمضان کے آخری جمعہ کی حاضری پہلے سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ پس یہ عمل ظاہر کر رہا ہے کہ رمضان کے آخری جمعہ میں شامل ہو جائو، جمعہ پڑھ لو اور گناہ بخشوا لو۔ یہ ٹھیک ہے کہ اللہ تعالیٰ رمضان میں پہلے سے بڑھ کر بندے کے ساتھ بخشش کا سلوک فرماتا ہے۔ لیکن بندے کو بھی اللہ تعالیٰ کے اس سلوک کی وجہ سے حتی الوسع اس تعلیم پر قائم رہنے کی کوشش کرنی چاہئے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی ہے اور جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر جمعہ کے دن کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی ہے لیکن جمعۃ الوداع کی کسی اہمیت کا تصور نہیں ملتا۔ بلکہ جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں اس آخری جمعہ میں جو رمضان کا آخری جمعہ ہے، یہ سبق ملتا ہے کہ اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے اس جمعہ سے اس طرح گذریں اور نکلیں کہ رمضان کے بعد آنے والے جمعہ کی تیاری اور استقبال کر رہے ہوں اور پھر ہرآنے والا جو جمعہ ہے وہ ہرنئے آنے والے جمعہ کی تیاری کرواتے ہوئے ہمیں روحانیت میں ترقی کے نئے راستے دکھانے والا بنتا چلا جائے اور یوں ہمارے اندر روحا نی روشنی کے چراغ سے چراغ جلتے چلے جائیں اور یہ سلسلہ کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہو اور ہرآنے والا رمضان ہمیں روحانیت کے نئے راستے دکھاتے چلے جانے والا رمضان ہو، نئی منازل کی طرف راہنمائی کرنے والا رمضان ہو جس کا اثر ہم ہر لمحہ اپنی زندگیوں پر بھی دیکھیں اور اپنے بیوی بچوں پر بھی دیکھیں اور اپنے ماحول پر بھی دیکھیں۔

(خطبات مسرور جلد4 صفحہ528)

رمضان میں ایمان میں ترقی کے حوالہ سے جائزے لیں

ایک جگہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ (النساء: 137) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ اور رسول پر ایمان لائو۔ پس صرف منہ سے ایمان لانا، یہ کہہ دینا کہ ہم ایمان لائے کافی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہارا اللہ اور رسول پرایمان بڑھتا چلا جائے۔ ہر روز ترقی کی طرف قدم اٹھتا چلا جائے۔ اور جب یہ صورت ہو گی تب ہی کامل ایمان کی طرف بڑھنے والا ایک مومن کہلا سکتا ہے اور اس کے لئے مسلسل مجاہدے کی ضرورت ہے اور اسی لئے خداتعالیٰ نے عبادتوں کا بھی حکم دیا ہے تاکہ یہ مجاہدہ جاری رہے اور تقویٰ میں ترقی ہوتی رہے۔ اور ہر سال روزہ بھی، رمضان کا مہینہ بھی اس مجاہدے اور ایمان میں ترقی کی ایک کڑی ہے۔

پس ان دنوں میں ہر مومن کو اس سے بھرپور فیض اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس بات کا جائزہ لینے کے لئے کہ ایمان میں ترقی ہے اور ایمان میں ترقی کا معیار دیکھنے کے لئے خداتعالیٰ نے یہ نشانی بتائی کہ اگر خالص ہو کر میرے حضور آؤگے، روز ے بھی میری خاطر ہو ں گے، کوئی دنیا کی ملونی اس عبادت میں نہیں ہو گی، خالص میری رضا کا حصول ہو گاتو فرمایا اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ مَیں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے اور یہ پکار اسی وقت سنی جائے گی جب ایمان میں ترقی کی طرف کوشش ہو گی۔ ترقی کی طرف قدم بڑھیں گے گویا دعائوں کی قبولیت اس وقت ہو گی جب ایمان میں ترقی کی طرف قدم بڑھ رہے ہوں گے اور ایمان میں ترقی اس وقت ہو گی جب خالص ہو کر خداتعالیٰ کے احکامات کی پیروی اور اس کی عبادت کرنے کی کوشش ہو رہی ہو گی۔

(خطبات مسرور جلد 6 صفحہ363)

رمضان میں اپنی بعض کمزوریوں کا جائزہ لے کر انہیں دور کرنے کی کوشش کریں

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ جو شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا اللہ تعالیٰ کو اس چیز کی قطعاً ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔

(صحیح بخاری کتاب الصوم باب من لم یدع قول الزور والعمل بہ فی الصوم حدیث نمبر 1903)

پھر ایک روایت ہے کہ روزہ ڈھال ہے جب تک کہ وہ اس ڈھال کو جھوٹ اور غیبت کے ذریعے نہیں پھاڑتا۔

(الجامع الصغیر للسیوطی حرف الصاد حدیث نمبر 5197
جزء اول و دوم صفحہ 320 دارالکتب العلمیة بیروت ایڈیشن 2004ء)

کیونکہ روزہ تو ایک مومن رکھتا ہے۔ جب جھوٹ آگیا تو ایمان تو ختم ہو گیا۔ خدا تعالیٰ کی خاطر روزہ رکھا جاتا ہے۔ جب جھوٹ آگیا تو خدا تعالیٰ تو بیچ میں سے نکل گیا۔ تب تو شرک پیدا ہو گیا۔ اس لئے روزہ بھی ختم ہو گیا۔ یہ تو خاص روزے کے حالات کے لئے ہے۔ لیکن عام حالات میں بھی جیسا کہ مَیں نے پہلے بیان کیا جھوٹ کو شرک کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ پس اس رمضان میں اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی بعض کمزوریوں کا جائزہ لے کر انہیں دور کرنے کی کوشش کریں تبھی ہم اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد بن سکتے ہیں۔ ایمان میں مضبوطی کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی باتوں پر لبیک کہنے والے بن سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اِنِّیْ قَرِیْبٌ کی آواز کو سن سکتے ہیں۔

(خطبات مسرورجلد8 صفحہ421-422)

رمضان میں اللہ تعالیٰ کے پیار کے سلوک کے معیار کے جائزے لینے کی ضرورت ہے

’’ہمیں اس بات کو جاننے کی ضرورت ہے اور جائزے کی ضرورت ہے کہ ہم دیکھیں کہ ہم میں سے کتنے ہیں جنہیں یہ شوق ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ رمضان میں ایک مہینہ نہیں یا ایک مرتبہ اعتکاف بیٹھ کر پھر سارا سال یا کئی سال اس کا اظہار کر کے نہیں بلکہ مستقل مزاجی سے اس شوق اور لگن کو اپنے اوپر لاگو کر کے، تا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب مستقل طور پر حاصل ہو،ہم میں سے کتنے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ پیار کا سلوک کرتے ہوئے دعاؤں کے قبولیت کے نشان دکھاتا ہے، اُن سے بولتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مان کر یہ معیار حاصل کرنا یا حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہر احمدی کا فرض ہے۔‘‘

(خطبات مسرور جلد12 صفحہ45-46)

ہر فرد جماعت اور ہر مومن بننے والے کی خواہش رکھنے والے کو اپنے انفرادی جائزے لیتے ہوئے تقویٰ کے معیاروں کو اونچا کرنے کی ضرورت ہے

’’ہمیں صرف اس بات پر ہی تسلی نہیں پکڑ لینی چاہئے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مان لیا اور خلافت کا نظام ہم میں موجود ہے اور ہم ایک نظام کے تحت چل رہے ہیں۔ روزوں کے ساتھ تقویٰ کے معیاروں کو بلند کرنے کی طرف توجہ دلا کر اللہ تعالیٰ نے ہر فرد کی ذمہ داری لگا دی ہے کہ جماعت کی برکات سے، خلافت کی برکات سے حصہ لینے کے لئے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں آنے کا صحیح فائدہ اٹھانے کے لئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے ہونے کا صحیح فیض پانے کے لئے، اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد بننے کے لئے تقویٰ شرط ہے اور یہ رمضان کا مہینہ اس تقویٰ میں ترقی کا ایک ذریعہ ہے۔ پس اس سے فائدہ اٹھا لو جتنا اٹھا سکتے ہو۔ اس لئے ہر فرد جماعت کو اور ہر مومن بننے والے کی خواہش رکھنے والے کو اپنے انفرادی جائزے لیتے ہوئے تقویٰ کے معیاروں کو اونچا کرنے کی ضرورت ہے‘‘

(خطبات مسرورجلد12 صفحہ414-415)

رمضان میں اپنا جائزہ لو کہ کس حد تک تم قرآن کریم پر عمل کر رہے ہو

’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رمضان کے مہینے میں روزوں کے ساتھ جو ایک مجاہدہ ہے اس علم و عرفان کے خزانے کو پڑھنے اور سیکھنے کی بھی کوشش کرو اور اس کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بناؤ۔ اس کے احکامات پر غور کرو اور اپنی زندگیوں پر لاگو کرو۔ اس کے بھولے ہوئے حصے کو اس مہینے میں بار بار دہرا کر تازہ کرو۔ اس کی تعلیمات کی جگالی کر کے اس مہینے میں اپنا جائزہ لو کہ کس حد تک تم قرآن کریم پر عمل کر رہے ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ ہمیں فرماتا ہے کیونکہ یہی باتیں ہیں جو دنیا و عاقبت سنوارنے والی بنتی ہیں۔‘‘

(خطبات مسرور جلد12 صفحہ423)

رمضان میں ہمیں یہ جائزے لینے چاہئیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حکموں کو کس حد تک اپنی زندگیوں کا حصہ بنا رہے ہیں

رمضان کے اس خاص ماحول میں ہمیں یہ جائزے لینے چاہئیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حکموں کو کس حد تک اپنی زندگیوں کا حصہ بنا رہے ہیں۔ اگر یہ نہیں تو ہمارے یہ زبانی دعوے ہوں گے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حکموں کو قبول کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بے شمار حکم دئیے ہیں ہمیں ہمیشہ ان حکموں کو سامنے لاتے رہنا چاہئے تا کہ اصلاح نفس کی طرف ہماری توجہ رہے۔

(خطبات مسرور جلد13 صفحہ380 خطبہ جمعہ26؍ جون 2015ء)

اپنا جائزہ لیں کہ ہم نے رمضان میں کیا حاصل کیا؟

ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہئے، ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے ان بابرکت ایام میں کیا حاصل کیا؟ چاہے روزے آرام سے گزر گئے یا ذرا سا احساس ہوا اور اس سے گزر گئے تو اس سے مقصد حاصل نہیں ہو جاتا۔ مقصد تبھی حاصل ہو گا جب ہم یہ دیکھیں، اپنا جائزہ لیں کہ ہم نے حاصل کیا کیا؟

اللہ تعالیٰ جو ان دنوں میں رمضان کے مہینہ میں ساتویں آسمان سے نچلے آسمان پہ آ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جو ان دنوں میں اپنے بندوں کے قریب ہو کر ان کی دعائیں سنتا ہے۔

(الجامع لشعب الایمان الجزء الخامس حدیث 3394، 3334 مطبوعہ مکتبۃ الرشد ناشرون بیروت 2004ء)

اللہ تعالیٰ جو ان دنوں میں روزہ رکھنے والوں کی خود جزا بن جاتا ہے۔

(صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اللہ تعالیٰ یریدون ان یبدلوا کلام اللہ … الخ حدیث 7492)

اللہ تعالیٰ جو ان دنوں میں شیطان کو جکڑ دیتا ہے۔

(صحیح مسلم کتاب الصیام باب فضل شھر رمضان حدیث 2495)

ہم نے اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں اور اس کی رحمتوں سے فیض اٹھانے کے لئے کیا کیا یا کیا کیا عہد کئے ہیں۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کے حکموں کو ماننے اور اس کی تعلیم کے مطابق زندگی گزارنے کے لئے گزشتہ کوتاہیوں کو چھوڑنے کے لئے کیا عہد کئے ہیں اور کس حد تک تبدیلیاں اپنے اندر پیدا کی ہیں۔ پس یہ جائزے ہمیں اللہ تعالیٰ کے مستقل فضلوں کے حصول کی طرف توجہ دلانے والے اور اس وجہ سے اپنی حالتوں میں مستقل تبدیلی لانے کی کوشش، اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو ہمیشہ جذب کرنے والا بنائے گی۔

(خطبات مسرور جلد15 صفحہ292-293 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ مؤرخہ 23؍جون 2017ء)

(مرسلہ: فائقہ بشریٰ)

پچھلا پڑھیں

فقہی کارنر (کتاب)

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ