• 6 مئی, 2021

سب سے بنیادی چیز قرآنِ کریم ہے۔ اس میں بھی ہمیں دیکھنا ہے کہ قرآنِ کریم حکمرانوں کے ساتھ تعاون اور اطاعت کے بارے میں کیا حکم دیتا ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
بعض خطوط اور سوالات سے مجھے لگتا ہے کہ بعض لوگوں کو جماعت احمدیہ کے نقطئہ نظر جس کی بنیاد قرآن اور حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات پر ہے اُس کی واضح طور پر سمجھ نہیں آئی۔ اسے واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے مَیں نے اس بارہ میں کچھ مواد جمع کروایا ہے، کچھ باتیں اکٹھی کی ہیں جو آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں تا کہ ہر قسم کے ابہام دور ہو جائیں۔ سب سے بنیادی چیز قرآنِ کریم ہے۔ اس میں بھی ہمیں دیکھنا ہے کہ قرآنِ کریم حکمرانوں کے ساتھ تعاون اور اطاعت کے بارے میں کیا حکم دیتا ہے۔ پھر یہ کہ عمومی فسادات میں ایک مسلمان کا ردّعمل کیا ہونا چاہئے۔ کس حد تک اُس کو اپنا حق لینے کے لئے حکومت کے خلاف مہم میں حصہ لینا چاہئے۔ پھر احادیث کیا کہتی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا ارشاد فرمایا۔ بہر حال اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے کہ وَیَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْـکَرِ وَالْبَغْی (النحل: 91) یہ حصہ آیت جو ہے ہم ہر جمعہ کو عربی خطبہ میں پڑھتے ہیں۔ اور اس کے معنے یہ ہیں کہ ہر قسم کی بے حیائی، ناپسندیدہ باتوں اور بغاوت سے تمہیں اللہ تعالیٰ روکتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ’’بَغْی‘‘ کے لفظ کی وضاحت کی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’بَغْی اُس بارش کو کہتے ہیں جو حد سے زیادہ برس جائے اور کھیتوں کو تباہ کر دے‘‘۔ فرمایا ’’حقِ واجب میں کمی رکھنے کو بَغی کہتے ہیں اور یا حقِ واجب سے افزونی (زیادتی) کرنا بھی بَغْی ہے۔‘‘

(اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلدنمبر10صفحہ354۔ کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن)

تو یہ ہے قرآنِ کریم کے احکامات کی خوبصورت تعلیم کہ ہر پہلو اور ہر طبقے کے لئے حکم رکھتا ہے۔ اس حکم میں یہ خیال نہیں آ سکتا کہ ایک طبقے کو حکم ہے اور دوسرے طبقے کو نہیں ہے۔ اس آیت کی مکمل تفسیر تو اس وقت بیان نہیں کر رہا، صرف بغاوت کے لفظ کی ہی وضاحت کرتا ہوں۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے، حقِ واجب میں کمی کرنے اور حقِ واجب میں زیادتی کرنے دونوں سے اللہ تعالیٰ روکتا ہے۔ یعنی جب حاکم اور محکوم کو حکم دیا جاتا ہے تو دونوں کو اپنے فرائض کی ادائیگی کا حکم دیا جاتا ہے۔ نہ حاکم اپنے فرائض اور اختیارات میں کمی یا زیادتی کریں، نہ عوام اپنے فرائض میں کمی یا زیادتی کریں۔ اور جو بھی یہ کرے گا اللہ تعالیٰ کی حدود کو توڑنے والا ہو گا اور خدا تعالیٰ کی حدود کو توڑنے والا پھر خدا تعالیٰ کی گرفت میں بھی آ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو نہایت ناپسند ہے۔ پس آج کل چونکہ عوام حکومتوں کے خلاف سختی سے قدم اٹھانے کا جوش رکھتے ہیں اس لئے عوام کی حد تک آج بات کروں گا۔ اس بارے میں کئی احادیث ہیں جو حکمرانوں کے غلط رویے کے باوجود عوام الناس کو، مومنین کو صبر کی تلقین کا حکم دیتی ہیں۔ بخاری کتاب الفتن کا ایک باب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انصار سے یوں فرمانا کہ تم میرے بعد ایسے ایسے کام دیکھو گے جو تم کو بُرے لگیں گے۔ اور عبداللہ بن زید بن عامر نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے یہ بھی فرمایا: تم ان کاموں پر حوضِ کوثر پر مجھ سے ملنے تک صبر کئے رہنا۔ زید بن وہب نے کہا کہ مَیں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: تم میرے بعد دیکھو گے کہ تمہاری حق تلفی کر کے دوسروں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ نیز ایسی باتیں دیکھو گے جن کو تم بُرا سمجھو گے۔ یہ سن کر صحابہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! پھر ایسے وقت میں آپ کیا حکم دیتے ہیں۔ فرمایا: اُس وقت کے حاکموں کو اُن کا حق ادا کرواور تم اپنا حق اللہ سے مانگو۔

(بخاری کتاب الفتن باب قول النبیﷺ سترون بعدی اموراً تنکرونھاحدیث نمبر7052)

پھر ایک حدیث میں آتا ہے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: جو شخص اپنے امیر کی کسی بات کو ناپسند کرے تو اُس کو صبر کرنا چاہئے۔ اس لئے کہ جو شخص اپنے امیر کی اطاعت سے بالشت برابر بھی باہر ہوا تو اُس کی موت جاہلیت کی سی موت ہو گی۔

(بخاری کتاب الفتن باب قول النبیﷺ سترون بعدی اموراً تنکرونھا حدیث نمبر7053)

پھراُسَید بن حُضَیر سے روایت ہے کہ ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ کہنے لگا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ نے فلاں شخص کو حاکم بنا دیا اور مجھ کو حکومت نہیں دی۔ آپ نے فرمایا: تم میرے بعد دیکھو گے کہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی گئی ہے۔ پس تم قیامت کے دن مجھ سے ملنے تک صبر کئے جاؤ۔

(بخاری کتاب الفتن باب قول النبیﷺ سترون بعدی اموراتنکرونھاحدیث نمبر7057)

سلمہ بن یزید الجعفی نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی۔ یا رسول اللہ! اگر ہم پر ایسے حکمران مسلط ہوں جو ہم سے اپنا حق مانگیں مگر ہمارا حق ہمیں نہ دیں تو ایسی صورت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اِعراض کیا۔ اُس نے اپنا سوال پھر دہرایا۔ آپ نے پھر اِعراض کیا۔ اُس نے دوسری یا تیسری دفعہ پھر اپنا سوال دہرایا۔ جس پر اشعث بن قیس نے اُنہیں پیچھے کھینچا (یعنی خاموش کروانے کی کوشش کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سوال پسندنہیں آیا)۔ تب رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے حالات میں اپنے حکمرانوں کی بات سنو اور اُن کی اطاعت کرو۔ جو ذمہ داری اُن پر ڈالی گئی ہے اُس کا مؤاخذہ اُن سے ہو گا اور جو ذمہ داری تم پر ڈالی گئی ہے اُس کا مؤاخذہ تم سے ہو گا۔

(مسلم کتاب الامارۃ باب فی طاعۃ الامراء وان منعوا الحقوق حدیث نمبر4782)

جُنادہ بن اُمیہ نے کہا کہ ہم عُبادہ بن صامت کے پاس گئے۔ وہ بیمار تھے۔ ہم نے کہا اللہ تمہارا بھلا کرے ہم سے ایسی حدیث بیان کرو جو تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنی ہو۔ اللہ تم کو اُس کی وجہ سے فائدہ دے۔ اُنہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بلا بھیجا۔ ہم نے آپ سے بیعت کی۔ آپ نے بیعت میں ہمیں ہر حال میں خواہ خوشی ہو یا نا خوشی، تنگی ہو یا آسانی ہو اور حق تلفی میں بھی یہ بیعت لی کہ بات سنیں گے اور مانیں گے۔ آپ نے یہ بھی اقرار لیا کہ جو شخص حاکم بن جائے ہم اُس سے جھگڑا نہ کریں سوائے اس کے کہ تم اعلانیہ اُن کو کفر کرتے دیکھو جس کے خلاف تمہارے پاس اللہ کی طرف سے دلیل ہو۔

(صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ حدیث نمبر 4771)

اِن احادیث میں اُمراء اور حکام کی بے انصافیوں اور خلافِ شرع کاموں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن پھر بھی آپؐ نے یہ فرمایا کہ اِن کے خلاف بغاوت کرنے کا تمہیں حق نہیں ہے۔ حکومت کے خلاف مظاہرے، توڑ پھوڑ اور باغیانہ روش اختیار کرنے والوں کا طرزِ عمل خلافِ شریعت ہے۔

اس آخری حدیث کی مزید وضاحت کر دوں کہ اس حدیث کے آخری الفاظ میں جو عربی کے الفاظ ہیں کہ وَاَنْ لَّا نُنَا زِعَ الْاَمْرَ اَھْلَہٗ اِلَّا اَن تَرَوْا کُفْرًا بَوَّاحًا عِنْدَکُم مِنَ اللّٰہِ فِیْہ بُرْھَانٌ۔ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ اقرار بھی لیا کہ جو شخص حاکم بن جائے ہم اُس سے جھگڑا نہیں کریں گے سوائے اس کے کہ تم اعلانیہ اُس کو کفر کرتے ہوئے دیکھو جس پر تمہارے پاس اللہ کی طرف سے دلیل ہو۔

حدیث کے یہ جو آخری الفاظ ہیں اِن کے معنی بعض سلفی، وہابی اور باقی متشدد دینی جماعتیں یاجو فرقے ہیں وہ یہ لیتے ہیں کہ صرف اُس وقت تک حکاّم سے لڑائی جائز نہیں جب تک کہ اُن سے کفر بواح نہیں ظاہر ہو جاتا۔ (کھلا کھلا کفر ظاہر نہیں ہو جاتا) اگر حاکم سے کفرِ بوّاح نظر آ جائے تو پھر اس کے ازالے کے درپے ہونا اور اُس سے حکمرانی چھین لینا فرض ہے۔ یہی متشدد جماعتیں ہیں جنہوں نے اِس پر یہ دلیل سوچ رکھی ہے کہ حکومتوں کے خلاف بغاوت کی جا سکتی ہے۔ بلکہ بعض اپنے فتوؤں کوآپس میں ہی اتنا مضبوط کرنے کی کو شش کرتے ہیں کہ فتوے دینے والے یہ کہتے ہیں کہ جن کو ہم نے کافر قرار دے دیا اُن کو جو کافر نہ سمجھے وہ بھی کافر ہے۔ اور کافر کو کافر نہ سمجھنے والا بھی کافر ہے۔ تو یہ جو تکفیر ہے اس کا ایک لمبا سلسلہ چلتا چلا جاتا ہے۔

بہر حال اس حدیث میں اصل الفاظ یہی ہیں کہ تم نے اطاعت کرنی ہے سوائے اس کے کہ ایسی بات کی جائے جو کفر کی بات ہو یا تمہیں کفر پر مجبور کیا جا رہا ہو۔ اس کے علاوہ ہر معاملے میں اطاعت ہونی چاہئے اور اُس صورت میں بھی بغاوت نہیں ہے بلکہ وہ بات نہیں ماننی۔ بہر حال یہ اِن لوگوں کا نظریہ ہے، احمدیوں کا نہیں۔ ہاں اطاعت نہ کرنے کی بعض حالات میں جیسا کہ مَیں نے کہا سوائے اس کے کہ کفر پر مجبور کیا جا رہا ہو، جو ہمیں جماعت میں ایک مثال نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ جب پاکستان میں یا بعض دوسرے ممالک میں احمدیوں کو کہا جاتا ہے کہ تم اپنے آپ کو مسلمان نہ کہو تو ہم یہ بات ماننے کو تیار نہیں۔ ہم مسلمان کہتے ہیں۔ یا کلمہ نہ پڑھو۔ ہم پڑھتے ہیں۔ یا ایک دوسرے کو سلام نہ کہو، یا قرآنِ کریم نہ پڑھو۔ تو یہ ہمارے مذہب کا اور دین کا معاملہ ہے۔ اس بارہ میں جیسا کہ حدیث سے ظاہر ہے اطاعت کی ضرورت نہیں۔ لیکن یہاں بھی ہم بغاوت نہیں کرتے۔ صرف اِن معاملوں میں ہم کبھی کسی قسم کے قانون کو مان ہی نہیں سکتے کیونکہ یہ شریعت کا معاملہ ہے۔ اللہ اور رسول کے حکموں کا معاملہ ہے۔ جہاں تک ملک کے دوسرے قوانین کا تعلق ہے، اس کے باوجود ہر احمدی ہر قانون کی پابندی کرتا ہے۔

(خطبہ جمعہ یکم اپریل 2011ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 اپریل 2021