• 6 مئی, 2021

زبانوں کی ماں – ایک بزرگ علمی دلیل

اُمُّ الْاَلْسِنَۃ- ایک بزرگ علمی دلیل

حضرت اقدس مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:۔
’’خدا نے ہم کو صد ہابر اہینِ قاطعہ حقّیتِ اسلام پر عنایت کیں‘‘۔

(براہین احمدیہ حصہ 2، روحانی خزائن جلد1 صفحہ68)

— لوگ کہتے ہیں کہ براہین میں جو دلائل کا وعدہ دیا گیا تھا وہ پورا نہیں ہوا۔ حالانکہ براہین میں صداقت اسلام کے واسطے کئی لاکھ دلیل ہے۔

(ملفوظات جلد 9 صفحہ267)

آپؑ نے کتاب براہینِ احمد یہ تصنیف فرمائی جو ’’تین سو محکم اور قوی دلائل حقیت اسلام اور اصولِ اسلام پر مشتمل ہے کہ جن کے دیکھنے سے صداقت اس دین متین کی ہریک طالب حق پر ظاہر ہو گی بجز اس شخص کے کہ بالکل اندھا اور تعصب کی سخت تاریکی میں مبتلا ہو۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ 2، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 129)

‘‘اس کتاب میں دین اسلام کی سچائی کو دو طرح پر ثابت کیا گیا ہے۔ اول تین سو مضبوط اور قوی دلائل عقلیہ سے جن کی شان و شوکت و قدر و منزلت اس سے ظاہر ہے ….. دوم ان آسمانی نشانوں سے کہ جو سچے دین کی کامل سچائی ثابت ہونے کے لئے از بس ضروری ہیں۔’’

( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن 5 صفحہ 657)

چنانچہ براہین احمدیہ کے منجملہ دلائل میں سے ایک عظیم الشان دلیل اُم الالسنہ کے متعلق ہے جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے آپؑ کو الہاماً بشارت دےکر اپنا احسانِ عظیم فرمایا۔ جہاں براہین احمدیہ میں مختصر مگر لطیف انداز میں معلم زبان، زبان کے آغاز، مختلف بولیوں کے وجود اور وجوہات کے ساتھ الہامی زبان پر بحث فرمائی وہاں بالعموم آپؑ نے دیگر تحریرات میں ام الالسنہ کا جابجا ذکر اور بالخصوص کتاب منن الرحمان اسی دلیل کی تفصیل اور وضاحت میں تحریر فرمائی۔آپؑ نے وہ تمام ضروری مبادیات مہیا فرما دیں جو تحقیقِ السنہ اور عربی زبان کو ام الالسنہ ثابت کرنے کے لئے از بس ضروری ہیں ور نہ ماہرین لسانیات اپنی عمریں گزار کر بھی کسی اِکّا دُکّا نتیجہ پر ہی پہنچتے ہیں۔

آپؑ نے علم لدنی کے دفینوں سے لوگوں کے نظریات اور افکار تبدیل فرمادیئے۔ لہٰذا عربی ام الالسنہ کادعویٰ آسمانی علوم کی ارضی علوم پر برتری کی مثالوں میں سے ایک مثال ہے۔جس کے ذریعہ آپؑ نے علوم ِمادیہ میں تہلکہ برپا کر دیا اور آپؑ کو اس زمانے میں یہ دلیل عطا ہونا لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ (اسلام کے غلبہ بَر ادیانِ باطلہ) کی عملی تصویر بھی ہے۔

چنانچہ حضرت امام الزماںؑ کے ہی الفاظ مبارکہ اور بابرکات تحریرات کی شکل میں اس دلیل کی اہمیت و افادیت پیش کی جارہی ہے۔

بزرگ دلیل

’’ایک بزرگ دلیل وہ ہے جس کی بسط اور تفصیل کے لئے ہم نے اس کتاب کو تالیف کیا ہے جو ام الالسنہ کے پا ک چشمہ سے پید اہوتی ہے۔‘‘

(منن الر حمان،روحانی خزائن جلد 9صفحہ128،129)

مناسب حال زمانہ ایک قاطع دلیل

’’اور میرے رب نے میری ایسی پرورش کی جیسا کہ وہ ان لوگوں کی پرورش کرتا ہے جن کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس نے مجھ کو ہدایت دی اور علم بخشا اور دکھلایا جو دکھلایا یہاں تک کہ میں نے دلائل قاطعہ کے ساتھ حق کو پہچان لیا اور روشن براہین کے ساتھ حقیقت کو پا لیا اور میں حق الیقین تک پہنچ گیا۔‘‘

(منن الر حمان، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ164)

’’سو میں نے جناب الٰہی میں اس غرض سے دعا کرنا شروع کیا تا کہ وہ مجھے ایسی حجت عنایت کرے جو اس زمانہ کے کافروں کو لاجواب کر دیوےاورجواس زمانہ کے نوجوانوں کی طبائع کے مناسب حال ہو تا کہ میں ان کے کم عقلوں اور عقلمندوں کو ایک عمدہ بیان کے ساتھ ملز م کروں اور تا کہ مجرموں پر حجت پوری ہو۔ پس میرے رب نے میری دعا کو قبول کیا اور میری آرزو کو میرے لئے موجود کر دیا اور میرے پر میری آرزو کا دروازہ ایسے طور پر کھول دیا جو میر امد عا تھا اور مجھے نئے اور کھلے کھلے دلائل عطا فرمائے اور یقینی اور قاطعہ دلیلیں عنایت کیں۔سو اس اللہ کو سب تعریف جو مدد گار آقا ہے۔‘‘

(منن الر حمان ،روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 165،166)

’’میں نے ان آیتوں کو مخزن علوم پایا اور چھپے ہوئے بھیدوں کا دفینہ دیکھا۔ سو اس کے دیکھنے نے میرے بازو کو ہلا دیا اور اس کی قوت میرے پر ہزار سوار کی طرح ظاہر ہوئی اور اس کی سبزی اور تازگی نے میرے دل کو کھینچ لیا اور اس کی لڑائی نے یکد فعہ دشمنوں کو ہلاک کر دیا اور اس کی جماعت نے میرے دل کو خوش کیا سو میں نے الحمدللّٰہ کہا اور اللہ تعالیٰ کا شکر کیا۔ اور میں نے ان آیات میں وہ عجائبات دیکھے جو آنکھوں کو خنکی سے بھر دیتے ہیں اور معارف کی دولت بخشتے ہیں اور مسلمانوں کے دلوں کو خوش کر دیتے ہیں۔‘‘

(منن الر حمان، روحانی خزائن جلد 9صفحہ182)

غیر دعویدار ہی نہیں

’’یہ دلیل قرآن نے ہی بتلائی اور قرآن نے ہی دعویٰ کیا اور عربی زبان میں کوئی دوسری کتاب مد عی بھی نہیں۔‘‘

(منن الر حمان،روحانی خزائن جلد 9صفحہ129،130)

’’یہ دلیل کسی پہلی کتاب نے اپنی سچائی کی تائید میں پیش نہیں کی اور اگر وید یا کسی اور کتاب نے پیش کی ہے تو واجب ہے کہ اس کے پَیرو مقابلہ کے وقت پہلےاس و یدکے مقام کو پیش کریں۔‘‘

(منن الر حمان،روحانی خزائن جلد 9صفحہ129)

’’اور تورات نے ہر گز یہ دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہندوؤں کے وید نے یہ دعویٰ کیا اور کسی نے اس طرف اشارہ بھی نہیں کیا پس تُو ان کی طرف اس دعویٰ کو منسوب نہ کر جو انہوں نے نہیں کیا ۔یاہمیں دعویٰ نکال کر دکھلا اگر تیر ایہ گمان ہے کہ انہوں نے دعویٰ کیا ہے اور تو ہر گز نہیں نکال سکے گا پس تُو افتراپردازوں کا پیرو مت ہو۔‘‘

(منن الر حمان،روحانی خزائن جلد 9صفحہ208،209)

’’قوم آریہ میں جن کے زعم باطل میں یہ ہے کہ انہیں کی زبان سنسکرت پر میشر کی بولی ہے اور وہی نہایت کامل اور الہامی اور ام الالسنہ ہے حالانکہ آج تک کوئی ایک شرتی وید کی بھی پیش نہیں کی گئی جس سے معلوم ہو کہ وید نے اپنے منہ سے ایسادعویٰ بھی کیاہے۔‘‘

(منن الر حمان،روحانی خزائن جلد 9صفحہ130)

خلاصہ دلیل

’’اور خلاصہ مطلب اس دلیل کا یہ ہے کہ زبانوں پر نظر ڈالنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کی تمام زبانوں کا باہم اشتراک ہے۔ پھر ایک دوسری عمیق اور گہری نظر سے یہ بات بپایۂ ثبوت پہنچتی ہے جو ان تمام مشترک زبانوں کی ماں زبان عربی ہے جس سے یہ تمام زبانیں نکلی ہیں۔ اور پھر ایک کامل اور نہایت محیط تحقیقات سے یعنی جبکہ عربی کی فوق العادت کمالات پر اطلاع ہو یہ بات ماننی پڑتی ہے کہ یہ زبان نہ صرف ام الالسنہ ہے بلکہ الہٰی زبان ہے جو خداتعالیٰ کے خاص ارادہ اور الہام سے پہلے انسان کو سکھائی گئی اور کسی انسان کی ایجاد نہیں اورپھر اس بات کا نتیجہ کہ تمام زبانوں میں سے الہامی زبان صرف عربی ہی ہے۔یہ ماننا پڑ تا ہے کہ خدا تعالیٰ کی اکمل اور اتم وحی نازل ہونے کے لئے صرف عربی زبان ہی مناسبت رکھتی ہے کیونکہ یہ نہایت ضروری ہے کہ کتاب الٰہی جو تمام قوموں کی ہد ایت کے لئے آئی ہے وہ الہامی زبان میں ہی نازل ہو اور ایسی زبان میں ہو جو اُم الالسنہ ہوتا اس کو ہر یک زبان اور اہل زبان سے ایک فطری مناسبت ہو اور تا وہ الہامی زبان ہونے کی وجہ سے وہ برکات اپنے اندر رکھتی ہو جو ان چیزوں میں ہوتی ہیں جو خدا تعالیٰ کے مبارک ہاتھ سے نکلتی ہیں لیکن چونکہ دوسری زبانیں بھی انسانوں نے عمداًنہیں بنائیں بلکہ وہ تمام اسی پاک زبان سے بحکمِ رب ِقد یر نکل کر بگڑ گئی ہیں اور اسی کی ذریات ہیں۔اس لئے یہ کچھ نامناسب نہیں تھا کہ ان زبانوں میں بھی خاص خاص قوموں کے لئے الہامی کتابیں نازل ہوں ۔ہاں یہ ضروری تھا کہ اقویٰ اور اعلیٰ کتاب عربی زبان میں ہی نازل ہو کیونکہ وہ اُم الالسنہ اور اصل الہامی زبان اور خدا تعالیٰ کے منہ سے نکلی ہے۔

(منن الر حمان،روحانی خزائن جلد 9صفحہ129)

اثرات و نتائج
دلیلِ مصفىٰ

’’جس کا آب زلال ستاروں کی طرح چمکتا اور ہر یک معرفت کے پیاسے کو یقین کے پانی سے سیراب کرتا اور شکوک و شبہات کی میلوں سے صاف کر دیتا ہے۔‘‘

(منن الر حمان،روحانی خزائن جلد 9صفحہ129)

تحقیقاتِ کا ملہ

’’یہ سلسلہ تحقیقات ایسا کامل ہے جس کی جڑھ زمین میں اور شاخیں آسمان میں ہیں یعنی انسان اس درخت کے اوپر چڑھتا چڑھتا آخر روحانی سچائی کے پھل کو پالیتا ہے اور جیسا کہ ظاہر ہے کہ گو شاخوں کو جڑھوں سے ہی قوت ہے مگر پھل جو کھائے جاتے ہیں وہ جڑھوں میں تو نہیں لگتے بلکہ شاخوں میں لگتے ہیں ایساہی کُل واقعات کا اصل نتیجہ اس علم کی شاخوں میں ہی ظاہر ہو تا ہے اور جو لوگ اس کے واقعات پر منصفانہ بحث کرتے ہیں اور ثابت شدہ حقائق کو اپنے ذہن میں اچھی طرح محفوظ رکھتےہیں وہ بہت صفائی سے ان پھلوں کو دیکھ لیتے ہیں جن سے شاخیں لدی پڑی ہیں۔

(منن الر حمان،روحانی خزائن جلد 9صفحہ131)

قابل فتح جنگ

۔۔۔ وہ ایسے جنگ میں شریک ہوئے جس میں عنقریب اسلام کی فتح کے نقارے بجیں گے۔

(منن الر حمان،روحانی خزائن جلد 9صفحہ143)

اور جان کہ یہ آیت قرآن اور عربی اور مکہ کی عظمت ظاہر کرتی ہے اور اس میں ایک نور ہے جس نے دشمنوں کو ٹکڑے ٹکڑے اور لاجواب کر دیا پس تمام آیت کو پڑھ اور اس کے نظام کی طرف دیکھ اور دانشمندوں کی طرح تحقیق کر اور میں نے ان آیتوں میں تدبر کیا۔ پس کئی بھید ان میں پائے پھر ایک گہری غور کی توکئی نور ان میں پائے پھر ایک بہت ہی عمیق نظر سے دیکھا تو اتارنے والے قہار کا مجھے مشاہد ہ ہو اجو ربّ العالمین ہے۔

(منن الر حمان،روحانی خزائن جلد 9صفحہ183)

اسلام کی حقیقی علمی فتح

یہ بھی یاد رہے کہ اس پہلے دین اسلام کے مقابلے پر بعض بد زبان اور نادان آر یہ بہت سی یاوہ گوئی کر چکے ہیں اور باوجود سخت جہالت اور بے علمی کے پھر بھی مذہبی مباحثات میں دخل دیتے رہے ہیں اور بعض شریر بے حیا،سفلہ طبع نے ناحق وید کی طرفداری کر کے خداکے پاک کلام قرآن مجید کی بے ادبیاں کیں اور جو کچھ گند اندر بھرا تھا وہ سب نکالا اور نادانوں کو دھوکہ دیا کہ گویا وہ بڑے وید دان اور ودیادان ہیں اور گویا انہوں نے بہت کچھ وید کے فضائل دیکھے تب اس کی طرف جھک گئے مگر اب یہ علمی تحقیقات ہیں جس میں کسی مذہب کا جاہل بول نہیں سکتا کیونکہ اس جگہ کلام کرنے کے لئے علم کی ضرورت ہے اس میں فضول اور غیر متعلق باتیں کام نہیں دےسکتیں۔

(منن الر حمان،روحانی خزائن جلد9صفحہ130،131)

لہٰذا اس فاضلانہ بحث میں ہر یک جاہل جو علم سے باہر ہو دخل نہیں دے سکے گا اور جیسا کہ پہلے اس سے مثلاً آریہ سماج والوں نے ایک نہایت ذلیل نادان اور سخت در جہ کے احمق اور جاہل لیکھرام نام ایک ہندو کو اسلام کے مقابل پر کھڑا کر دیا تھا اور وہ صرف گالیوں سے کام نکالتا تھا اور عیسائیوں کا چیلا بن کر ان کے بیہودہ اعتراض جو ان کے جاہلوں نے اسلام پر کئے ہیں پیش کر تا تھا۔ اس بحث میں ایسا نہ ہو گا کیونکہ یہ علمی بحث ہے اب ایسے حرامی سیرت گندہ طبع اور بد خُو اور ساتھ اس کے سخت در جہ کے نادان اور بے علم کو بولنے کی گنجائش نہیں رہے گی اور لوگ دیکھ لیں گے کہ ان لوگوں کی اصل حقیقت کیا تھی ؟

(منن الر حمان،روحانی خزائن جلد 9صفحہ143)

قرآن کریم کی سچائی اور منجانب اللہ ہونے کی دلیل
دعویٰ بمع دلیل

اس ازلی نور نے آپ اپنے منجانب اللہ ہونے کا ہر ایک پہلوسے ثبوت دیا۔ اس میں یہ ایک عظیم الشان خاصیّت ہے کہ وہ اپنی تمام ہدایات اور کمالات کی نسبت آپ ہی دعویٰ کرتا اور آپ ہی اس دعویٰ کا ثبوت دیتا ہے اور یہ عظمت کسی اور کتاب کو نصیب نہیں اور منجملہ ان دلائل اور براہین کے جو اس نے اپنی منجانب اللہ ہونے پر اور اپنے اعلٰی درجہ کی فضیلت پر پیش کئے ہیں ایک بزرگ دلیل وہ ہے جس کی بسط اور تفصیل کے لئے ہم نے اس کتاب کو تالیف کیا ہے جو اُم الالسنہ کے پاک چشمہ سے پیدا ہوتی ہے جس کا آب زلال ستاروں کی طرح چمکتا اور ہر یک معرفت کے پیاسے کو یقین کے پانی سے سیراب کرتا اور شکوک و شبہات کی میلوں سے صاف کر دیتا ہے۔

(منن الر حمان،روحانی خزائن جلد 9صفحہ128،129)

قرآن مھیمن ہے

چونکہ یہ دلیل قرآن نے ہی بتلائی اور قرآن نے ہی دعویٰ کیا اور عربی زبان میں کوئی دوسری کتاب مد عی بھی نہیں اس لئے ببد اہت قرآن کا منجانب اللہ ہونا اور سب کتابوں پر مھیمن ہو ناماننا پڑاورنہ دوسری کتابیں بھی باطل ٹھہر یں گی۔

(منن الر حمان،روحانی خزائن جلد 9صفحہ129،130)

اصل الہامی قرآن ہے

جو زبان …… اُم الالسنہ ہے اس کی نسبت یہ کہنا ایمانداری کا فرض ہو گا کہ وہی ایک زبان ہے جو حقیقی طور پر اس لائق ٹھہرائی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ کا اعلیٰ اور اکمل الہام اسی زبان میں نازل ہو اور دوسرے الہام اس کی ایسی ہی فرع ہیں جیسا کہ دوسری بولیاں اس کی فرع ہیں۔

(منن الر حمان،روحانی خزائن جلد 9صفحہ141)

مگر چونکہ ہمارے مخالف خوب جانتے ہیں کہ اس تحقیقات سے اگر عربی کے حق میں ڈگری ہو گئی تو صرف یہی ماننا نہیں پڑے گا کہ قرآن منجانب اللہ ہے بلکہ یہ بھی اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ کتاب جو اصل اور کامل اور الہامی زبان میں نازل ہوئی ہے وہ قرآن ہی ہے اور دوسری سب زبانیں اس کی طفیلی ہیں۔

(منن الر حمان، روحانی خزائن جلد9 صفحہ130)

اتم وحی کی مناسبت

اور پھر اس بات کا نتیجہ کہ تمام زبانوں میں سے الہامی زبان صرف عربی ہی ہے یہ ماننا پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی اکمل اور اتم وحی نازل ہونے کے لئے صرف عربی زبان ہی مناسبت رکھتی ہے کیونکہ یہ نہایت ضروری ہے کہ کتاب الہٰی جو تمام قوموں کی ہدایت کے لئے آئی ہے وہ الہامی زبان میں ہی نازل ہو اور ایسی زبان میں ہو جو اُم الالسنہ ہوتا اس کو ہر یک زبان اور اہل زبان سے ایک فطری مناسبت ہو اور تاوہ الہامی زبان ہونے کی وجہ سے وہ برکات اپنے اندر رکھتی ہو جو ان چیزوں میں ہوتی ہیں جو خدا تعالیٰ کے مبارک ہاتھ سے نکلی ہیں۔

(منن الر حمان، روحانی خزائن جلد9 صفحہ129)

کامل پرحکمت ام الكتب

غرض اس کتاب میں بڑی صفائی سے اور بڑے روشن اور بد یہی دلائل سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کا پاک اور کامل اور روشن اور پر اسرار اور پر حکمت کلام جو دائمی ہدایت لےکر دنیا میں آیا ہو وہ صرف اسی زبان میں آسکتا ہے جو ان معارف اور حقائق کو بیان کرنے کےلئے اپنے اندر کامل وسعت رکھتی ہو۔اس فیصلہ کے مطابق صرف قرآن شریف ہی اللہ تعالیٰ کی وہ کامل کتاب ٹھہرتی ہے جو حقیقی اور کامل اور ابدی تعلیم لے کر دنیا میں آئی اور دوسری کتابیں جو آسمانی کہلاتی ہیں اگر مان بھی لیں کہ کوئی ان میں سے خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی تو وہ ایک قانون مختص القوم یامختص القوم کی طرح صرف چند روزه مصلحت کےلئےآئی ہو گی۔ لہٰذا جیسا کہ وہ خود ناقص تھیں ایسانا قص بولی میں اُتریں۔ مگر کامل کتاب کے لئے کامل بولی میں اترنا ضروری تھا کیونکہ کامل اور ناقص کا پیوند درست بیٹھ نہیں سکتا۔ لہٰذا قرآن شریف عربی زبان میں اُترا جو اپنے ہر یک پہلو کے روسے کامل ہے۔ غرض منن الرحمٰن کو ہم نے اس مدعا سے متالیف کیا ہے کہ تاکامل بولی کے ذریعہ کامل کتاب کا ثبوت دیں۔

(آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد10صفحہ8۔10 حاشیہ در حاشیہ)

قرآن تمام الہٰی کتابوں کی ماں ہے اور اسی لئے کامل زبان میں اُترا ہے جو محیطِ کُل ہے اور الہٰی ارادوں کے حکمتوں نے تقاضا کیا کہ اس کی کامل کتاب جو خاتم الکتب ہے اس زبان میں نازل ہو جو جڑ زبانوں کی ہے اور تمام مخلوقات کی زبانوں کی ماں ہے اور وہ عربی ہے۔

(منن الر حمان، روحانی خزائن جلد9 صفحہ208)

حقیقی کلام اللہ

انہی مقدمات سے اس نتیجہ کو بہ تفصیل ظاہر کریں گے کہ عربی کو اُم الالسنہ اور الہامی ماننے سے نہ صرف یہی ماننا پڑتا ہے کہ قرآن خدا تعالیٰ کا کلام ہے بلکہ یہ بھی ضروری طور پر ماننا پڑتا ہے کہ صرف قرآن ہی ہے جس کو حقیقی و حی اور اکمل اور اتم اور خاتم الکتب کہنا چاہئے۔

(منن الر حمان، روحانی خزائن جلد9 صفحہ142)

جاننا چاہئے کہ اس معرفت تک پہنچنے کے لئے کہ قرآن منجانب الله اور ام الکتب ہے صرف تین امور تنقیح طلب ہیں جن کو ابھی ہم ذکر کرچکے ہیں۔اس میں کچھ شک نہیں کہ جو شخص ان تینوں امر وں کو اچھی طرح سمجھ لے گا اس کی آنکھوں سے جہالت کے پر دے دور ہو جائیں گے اور جو واقعات سے نتیجہ نکلتا ہے بہر حال اسے ماننا پڑےگا۔

(منن الر حمان، روحانی خزائن جلد9 صفحہ131)

اور واضح ہو کہ اس کتاب میں تحقیقِ السنہ کی رو سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ دنیا میں صرف قرآن شریف ایک ایسی کتاب ہے جو اس زبان میں نازل ہوا ہے جو ام الالسنہ اور الہامی اور تمام بولیوں کا منبع اور سرچشمہ ہے۔

(نورالقرآن نمبر1، روحانی خزائن جلد9 صفحہ325)

قوموں کی مخالفت

اس لئے ضرور ہے کہ اس سچائی کے کھلنے سے ان تمام قوموں میں بہت ہی سیاپا ہو خاص کر قوم آریہ میں جن کے زعمِ باطل میں یہ ہے کہ اُنہیں کی زبان سنسکرت پر میشر کی بولی ہے اور وہ نہایت کامل اور الہامی اور ام الالسنہ ہے حالانکہ آج تک کوئی ایک شُرتی وید کی بھی پیش نہیں کی گئی جس سے معلوم ہو کہ وید نے اپنے منہ سے ایسا دعویٰ بھی کیا ہے۔

(منن الر حمان، روحانی خزائن جلد9 صفحہ130)

(وسیم ناصر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 اپریل 2021