• 4 اکتوبر, 2022

The God Summit 2022 فرمودہ مؤرخہ 15؍مئی 2022ء

خلاصہ بصیرت افروز خصوصی پیغام امیر المؤمنین سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیحِ الخامس ایدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز برائے

  The God Summit 2022

فرمودہ مؤرخہ 15؍مئی 2022ء بمقام ٹلفورڈ، اسلام آباد؍ برطانیہ

حضور انور ایدہ الله نے ارشاد فرمایا! ریویو آف ریلجینز اِس سال خدا تعالیٰ کے وجود پہ جو Summit منعقد کر رہے ہیں اُنہوں نے مجھے بھی کہا کہ اِس بارہ میں مَیں بھی کچھ اُن سے کہوں۔ اِس وقت مَیں دعاؤں کی قبولیت کے بارہ میں چند واقعات پیش کر دیتا ہوں۔

کس طرح کی دعائیں الله تعالیٰ قبول کرتا ہے

لیکن اِس سے پہلے مَیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو دعا کے متعلق پُر حکمت اور معرفت سے پُر باتیں کی ہوئی ہیں اُن میں سے چند ایک بیان کرنا چاہتا ہوں جس سے پتا لگے کہ دعا کیا چیز ہے اور کس طرح کی دعائیں الله تعالیٰ قبول کرتا ہے، کس حالت میں قبول کرتا ہے، مختصرًا پیش کروں گا۔

ہمارا خدا تو دعاؤں سے ہی پہچانا جاتا ہے

حضرت مسیح موعودؑ ایک جگہ فرماتے ہیں ۔ مَیں سچ کہتا ہوں کہ اگر الله تعالیٰ کے حضور ہماری چلّاہٹ ایسی اضطراری ہو تو اُس کے فضل اور رحمت کو جوش دلاتی ہے اور اُس کو کھینچ لاتی ہے۔ ۔۔ابتلاؤں میں ہی دعاؤں کے عجیب و غریب خواص اور اثر ظاہر ہوتے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ ہمارا خدا تودعاؤں سے ہی پہچانا جاتا ہے۔

دعا کرنے والے ضروری آدابِ دعا سے واقف نہیں

پھر فرمایا ! دعا سے عجیب ہی کارنامے سر انجام پاتے ہیں لیکن دعا کرنے والے آدابِ دعا سے واقف نہیں جو قبولیتِ دعا کے لئے ضروری ہیں اور اگر اُن سے واقف ہو جائیں اور دعا صحیح طریقہ سے کریں اور الله تعالیٰ کے آگے چلّائیں اور گِڑگڑائیں، ضرورت بیان کریں اور حقیقی رنگ میں دعا کے جو لوازمات ہیں اُن کو پورا کرنے والے ہوں تو الله تعالیٰ دعاؤں کو سنتا اور اُسی سے اپنے وجود کا ثبوت بھی دیتا ہے۔

دعا کو کمال تک پہنچانے کی شرط

ایک موقع پر آپؑ نے فرمایا! جو شخص مشکل اور مصیبت کے وقت خدا سے دعا کرتا ہے اور اُس سے حلِ مشکلات چاہتا ہے وہ بشرطیکہ دعا کو کمال تک پہنچاوے خدا تعالیٰ سے اطمنان اور حقیقی خوشحالی پاتا ہے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے فرمایا! اگر بالفرض وہ مطلب اُس کو نہ ملے تب بھی کسی اور قسم کی تسلی اور سکینت خدا تعالیٰ کی طرف سے اِس کو عنایت ہوتی ہےاور وہ ہرگزہرگز نامراد نہیں رہتا اور علاوہ کامیابی کے ایمانی قوت اُس کی ترقی پکڑتی ہےاور یقین بڑھتا ہے۔

سو اِسی کا نام حقیقی مراد یابی ہے

لیکن جودعا نہیں کرتے اُن کے بارہ میں فرمایا! جو شخص دعا کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف منہ نہیں کرتا وہ ہمیشہ اندھا رہتا ہے اور اندھا مرتا ہے۔ فرماتے ہیں! جو شخص روح کی سچائی سے دعا کرتا ہے وہ ممکن نہیں کہ حقیقی طور پر نا مراد رہ سکے بلکہ وہ خوشحالی جونہ صرف دولت سے مل سکتی ہے اور نہ حکومت سے اور نہ صحت سے بلکہ خدا کے ہاتھ میں ہے جس پیرایہ میں چاہے وہ عنایت کر سکتا ہے۔ ہاں! وہ کامل دعاؤں سے عنایت کی جاتی ہے۔فرمایا! اگر خدا تعالیٰ چاہتا ہے تو ایک مخلص صادق کو عین مصیبت کے وقت میں دعا کے بعد وہ لذت حاصل ہوجاتی ہے جو شہنشاہ کوتختِ شاہی پر حاصل نہیں ہو سکتی سو اِسی کا نام حقیقی مراد یابی ہے جو آخر دعا کرنے والوں کو ملتی ہے۔

جو شخص اعمال سے کام نہیں لیتا وہ دعا نہیں کرتا

پھر آپؑ نے ایک جگہ فرمایا! یہ سچی بات ہے کہ جو شخص اعمال سے کام نہیں لیتا وہ دعا نہیں کرتا۔ ۔۔فرمایا! اگر اعمال تمہارے اچھے نہیں ہیں اور پھر تم دعا کرتے ہو تو پھر تم خدا تعالیٰ کی آزمائش کر رہے ہوتے ہو اور یہ نہیں ہو سکتا، الله تعالیٰ کی آزمائش نہ کرو۔ اِس لئے فرمایا! دعا کرنے سے پہلے اپنی تمام طاقتوں کو خرچ کرنا ضروری ہے اور یہی معنی دعا کے ہیں، پہلے لازم ہے کہ انسان اپنے اعتقاد اعمال پر نظر کرے۔

بفضلہٖ تعالیٰ دعاؤں کی برکت اور خلیفۃ المسیح سے تعلق کا معجزہ

بعدازاں حضورانور ایدہ الله نے قبولیتِ دعا کے چند ایمان افروز واقعات پیش فرمائے۔عبدالله صاحب آف آئیوری کوسٹ کے بھائی کو پولیس پکڑ کر لے گئی اور عدالت نے اُس کو نشہ بیچنے کے جرم میں 20 سال قید کی سزاء سنا دی ،بحالت پریشانی خلیفۃ المسیح کو دعائیہ خط لکھا اور خود بھی رہائی کے لئے دعا شروع کر دی، اُس کے باوجود کوئی صورت نظر نہ آ رہی تھی۔ایک دن خواب میں اُنہوں نے خلیفۃ المسیح کو دیکھا اور فرماتے سنا ! پریشان نہ ہو اور صبر کرو، تمہارا بھائی جلدی رہا ہو جائے گا۔ وہ معجزہ کے متمنی تھے کہ اُلٹا کچھ دن بعد والدہ کی بھی طبیعت خراب ہو گئی، بڑے پریشان ہوئے کہ پہلے ایک مصیبت اور اب دوسری مشکل بھی آ گئی۔ بڑے کرب اور بے بسی کی حالت میں پھر دعا کی، رات کو سوئےتو دوبارہ حضور انور ایدہ الله کوخواب میں دیکھا اور ارشاد سنا! اُٹھو اور جا کر دروازہ کھولو۔ بیدار ہونے پر دروازہ پر دستک سنائی دی ، دروازہ کھولنے پر اُن کا بڑا بھائی موجود تھا، اُس نے کہا! پولیس نے آج مجھے رہا کر دیا ہے۔

الله تعالیٰ دعاؤں کے نظارے ہر جگہ دکھاتا ہے

بینن کے گاؤں کے تین احمدی بچوں نےاسکینڈری اسکول امتحان کے لئے کوالیفائی کیا، بوجہ گاؤں میں پڑھائی کے ناقص انتظام بورڈ امتحان میں اچھے نمبر تو درکنار کامیابی بھی مخدوش تھی تو بفضلہٖ تعالیٰ حضور انور ایدہ الله کو لکھے گئے دعائیہ خط کی برکت سے بورڈ کا رزلٹ آنے پر تینوں نہ صرف پاس بلکہ بڑے اچھے نمبروں میں پاس ہوئے۔

یہی خلیفۂ وقت کی دعا کی برکتیں اور یہی میرا علاج ہے

2017ء میں بمعہ فیملی بیعت کرنے والے گیمبئن دوست عمر صاحب کی بیوی کو یوٹرس؍ رحم کا کینسر تھا، سات سال قبل بچہ کی پیدائش ہوئی جبکہ ڈاکٹروں نے میڈیکلی علاج اور مزید اولاد ہونا ناممکن قرار دے دیا۔ بیوی بہت پریشان رہتی تھیں بہرحال بیعت کے بعد ایک لیف لیٹ لیا اُس پر حضور انور ایدہ الله کی تصویر تھی، تصویر دیکھ کر دل میں سکون پیدا ہؤا اور الله تعالیٰ سے مزید تسکین کی دعا بھی مانگتی رہیں۔ پھر دعائیہ خط لکھا ،بیماری اور خواہشِ اولاد کا بھی تذکرہ کیا درخواستِ دعا کے ساتھ، الله تعالیٰ کا فضل ایسا ہؤا کہ کچھ دیر کے بعد وہ حاملہ ہو گئیں۔ ڈاکٹر، نرسیں چیک کرنے پر حیران تھے حاملہ ہونے کے ساتھ ساتھ کینسر کا ٹیسٹ بھی منفی آیا۔ اُن کے استفسار پر جواب دیا! کوئی دواء استعمال نہیں کی، خلیفۂ وقت کو دعا کے لیئے لکھانیز خود بھی دعا کی اور یہی دعا کی برکتیں اور یہی میرا علاج ہے۔

اِنْ شَآءَ اللهُ حمل بھی ٹھہر جائے گا اور بچہ بھی پیدا ہو گا

کبابیر کی خاتون کا چھ دفعہ حمل ضائع ہؤا اور ڈاکٹروں نے اُن کی حالت کو غیر معمولی قرار دے دیا، بچہ کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی تھی، اِس دوران اُن کے خاوند کی لندن میں حضور انور ایدہ الله سے ملاقات ہوئی جس میں اُنہوں نے ساری حالت بتائی نیز دعا کی درخواست کی۔تسلی ملی!  الله تعالیٰ فضل فرمائے گا، اِنْ شَآءَ اللهُ حمل بھی ٹھہر جائے گا اور بچہ بھی پیدا ہو گاچنانچہ اُس کے کچھ عرصہ بعد حمل ٹھہر گیا۔ بیٹی کی عطاء پر ہی الله تعالیٰ کے فضل ختم نہیں ہوئے بلکہ مزید الله تعالیٰ نے ایک بیٹے سے بھی نوازا۔

دعا غیر ممکن کو بھی ممکن میں بدل دیتی ہے

2005ء میں مالدا صوبہ بنگال کے معلم صاحب کے گردے خراب ہو گئے، ڈاکٹروں نے علاج کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی صورت پیدا نہ ہونے پر جواب دے دیا۔ دورانِ دورۂ قادیان 2005ء حضور انور ایدہ الله سے فیملی ملاقات میں معلم صاحب نے بیماری کا تذکرہ نیز دعا کی درخواست کی، کچھ عرصہ بعد وہ  دوبارہ چیک اَپ کروانے اہسپتال گئے تو ڈاکٹر گردوں کے غیر معمولی طور پر ٹھیک ہونے پر حیران رہ گئے ۔ الله کے فضل سے اُس کے بعد وہ بالکل صحت یاب ہیں۔

قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت

مزید برآں حضورانور ایدہ الله نے فرانس کے 2016 ء میں بیعت کرنے والے ایک صاحب کے صداقت حضرت مسیح موعودؑ کے نشان کے طور پر، وہیں کے ایک بے روزگار خادم جو چندہ ادا نہ کر سکنے پر انتہائی پریشان تھا، مستقل نوکری ملنے اور نظام وصیت میں شامل ہونے نیز کونگو کنشاسا کے ایک بے گناہ قیدی کی رہائی اور بیعت کا سبب بننے والے قبولیتِ دعا کے ایمان افروز واقعات بیان کرنے کے بعدارشاد فرمایا! حضرت مسیح موعودؑ نے ایک جگہ فرمایا ہے؂

قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت
اُس بے نشاں کی چہرہ نمائی یہی تو ہے

آخر پر ارشاد فرمایا! الله تعالیٰ ہم سب کو ایمان اور ایقان میں بھی مضبوط کرے اور دعائیں کرنے کی بھی توفیق عطاء فرمائے، الله تعالیٰ ہماری دعاؤں کو قبول بھی فرمائے اور الله تعالیٰ یہ Summit جس نیت سے منعقد کیا جا رہا ہے اِس کو الله تعالیٰ بابرکت فرمائے اور لوگوں کے لئے ازدیادِ ایمان کا باعث بنے۔

السلام علیکم و رحمۃ الله و برکاتہ

(قمر احمد ظفر۔ نمائندہ روزنامہ الفضل آن لائن جرمنی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 مئی 2022

اگلا پڑھیں

روشن جمالِ یار سے ہے انجمن تمام