• 15 اگست, 2022

اخبار ہے اک ‘‘الفضل’’ کہ جس میں خیر کی خبریں پڑھتے ہیں

صد شکر کہ ہم اس گلشن میں آرام و سکوں سے رہتے ہیں
صد شکر کہ ہم اُن میں سے نہیں جو دشتِ خار میں مرتے ہیں
ہاں ہم نے کیا ہے عہدِ وفا، ہاں ہم ہیں غلامانِ احمد
یہ کس نے کہا اس رستے میں ہم رُسوائی سے ڈرتے ہیں
ہم شاخیں درخت وجود کی ہیں سر پر ہے خلافت کا سایہ
افسوس ہے اُن کی حالت پر جو تپتی دُھوپ میں جلتے ہیں
ہم جڑ گئے ایسے رشتے میں جو سب رشتوں سے پیارا ہے
دنیا میں جہاں بھی احمدی ہیں سب اپنے اپنے لگتے ہیں
وہ لطف جو ایم ٹی اے میں ہے دنیا کے کسی چینل میں نہیں
اخبار ہے اک ’’الفضل‘‘ کہ جس میں خیر کی خبریں پڑھتے ہیں
لگتا ہے خدا نے سُن لی ہے فریاد جو مضطر نے کی ہے
آقا کو دعا کا خط لکھ کر جب اپنی میز پہ رکھتے ہیں
ہم جاہل، کاہل، عاجز ہیں رحمٰن کی رحمت کے خواہاں
کوشش کے خالی خانوں میں ہم آنکھ کا پانی بھرتے ہیں
اب شاہد ہے اک پوری صدی کردار کے غازی لوگوں پر
ہم قول و فعل میں یکساں ہیں جوکہتے ہیں وہ کرتے ہیں
بچوں کو وصیت ہے میری پیوستہ خلافت سے رہنا
جو رشتہ شجر سے رکھتے ہیں وہ پھیلتے، پھولتے پھلتے ہیں

(امۃ الباری ناصر۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 جون 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ