• 19 جون, 2024

خلفاء احمدیت کے حق میں پوری ہونے والی بعض پیشگوئیاں

خلفاء احمدیت کے حق میں
پوری ہونے والی بعض پیشگوئیاں

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ایک بنیادی اصول یوں بیان فرماتا ہے:

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ

(النور: 56)

’’تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے اُن سے اللہ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اُس نے اُن سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا‘‘

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کے ساتھ کیے گئے ایک وعدہ کا ذکر فرمایا ہے۔

مذہب کی تاریخ گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس وعدہ کو پورا کرنے کے لیے اپنے خلفاء کی تائید و نصرت فرماتا ہے اور ان کی سچائی کو ظاہر کرنے کے لیے مقبولین کی زبانوں سے قبل از وقت خبریں دیتا ہے۔

چنانچہ زیر نظرمضمون میں ایسی ہی چند پیش خبریوں کا ذکر کیا گیا جو خلفائے احمد یت کے متعلق بزرگان سلف نے بیان کی ہیں۔

آنے والے مہدی کا قریب ساتھی

حضرت محی الدین ابن عربیؒ جنہیں شیخ اکبر کہا جاتا ہے اور آپ کی کتب امت مسلمہ میں خاص اہمیت کی حامل ہیں، اپنی کتاب فتوحات مکیہ میں آنے والے مہدی کی نشانیاں بتاتے ہوئے فرمایا:

لَهُمْ حَافِظٌ لَيْسَ مِنْ جِنْسِهِمْ مَا عَصَى اللّٰهَ قَطُّ هُوَ أَخَصُّ الْوُزَرَاءِ وَأَفْضَلَ الْأَمْنَاءِ

یعنی ان میں سے ایک حافظ ہو گا۔ جو ان کی جنس میں سے نہیں ہو گا۔ اس نے کبھی خدا کی نافرمانی نہیں کی ہو گی۔ وہی اس موعود کا وزیر خاص اور بہترین امین ہو گا۔

(فتوحات مکیہ جلد6 صفحہ52 دار الكتب العلمية 2006ء)

پس یہ پیشگوئی حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کے حق میں صاف صاف پوری ہوئی۔ آپؓ حافظِ قرآن تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قریبی رفیق۔ چنانچہ آپؓ جس قدر اعلیٰ اخلاق، نیکی اور تقویٰ کے مقام پر فائز تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپن متبعین کے لیے اسے ایک مثال قرار دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کے بارے میں فرمایا:

چہ خوش بودے اگر ہریک زامت نور دین بودے
ہمیں بودے اگر ہر دل ُ پر از نورِ یقین بودے

(آسمانی نشان، روحانی خزائن جلد4 صفحہ411)

1910ء میں ایک حادثہ

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی وفات سے چند برس پہلے آپؓ گھوڑے سے گرنے کے باعث زخمی ہوئے اور آپ کے چہرہ پر اس زخم کا نشان رہا۔ اس طرح آپ پر حضرت عمرؓ کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ

مِنْ ولدِيْ رَجُلٌ بِوَجْهِهِ ‌شُجَّة يَمْلَأُ الْأَرْضُ عَدْلًا

(تاریخ الخلفاء صفحہ171 از امام جلال الدین السیوطی مكتبة نزار مصطفى الباز 2004ء)

یعنی ’’ایک شخص میری اولاد سے ہو گا جس کے چہرہ پر نشان ہو گا (یعنی جس کے منہ اور سر کے کسی حصہ میں ایسا زخم لگے جو ہڈی تک پہنچا ہو گا۔) وہ زمین کو عدل سے بھر دے گا۔‘‘

اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی ایک خواب میں حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب کو گھوڑے سے گرتے دیکھا۔

(تذکرہ صفحہ 671)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے جبکہ آپ اُن دنوں تشحیذ الاذہان کے ایڈیٹر تھے اِس پیشگوئی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:
’’پیشگوئی کا ایسے وقت میں ہونا جب آپ کے پاس کیا ،قادیان کے احمدیوں میں سے کسی کے پاس بھی گھوڑا نہ تھا۔ پھر اس عرصہ میں حضرت مسیح موعود ؑ کا فوت بھی ہوجانا اور اس پیشنگوئی کا بالکل ظہور نہ ہونا۔ پھر کسی شخص کا عزیزم عبدالحیی سلّمہ اللہ تعالیٰ کو گھوڑا ہدیۃً پیش کرنا اور خریداہوا نہ ہونا۔ نواب صاحب کے خود آکر ملنے کے باوجود حضرت مولوی صاحب کا وہاں تشریف لے جانا۔ رکابوں کا چھوٹا ہونا اور باوجود کہنے کے آپ کا بچوں کی تکلیف کے خیال سے اُن کے لمبے کرنے سے منع کرنا۔ احباب کا ساتھ چلنے کی خواہش کرنا اور آ پ کا روک دینا۔ گھوڑے کا بِدک کر تیز ہوجانا اور دونوں ساتھیوں کا پیچھے رہ جانا اور پھر آپ کا خاص اُس جگہ پر گرنا جہاں پتھر تھے، ایسے عجیب واقعات ہیں کہ سوائے اِس کے کہ یقین کیا جائے کہ خدا تعالیٰ کے خاص ارادے کے ماتحت حضرت صاحب کی پیشنگوئی کو پورا کرنے کیلئے ہوئے ہیں اَور کوئی صورت نظر نہیں آتی۔‘‘

(تشحیذ الاذہان جلد5 نمبر11 نومبر 1910ء صفحہ404)

اس کے بعد محمود ظاہر ہو گا

پانچویں صدی ہجری کے ایک عالم امام یحییٰ بن عقب ؒ نے آنے والے مہدی کے نشانات کا ذکر اپنے اشعار میں کیا۔ مہدی کے بعد آنے والے جانشینوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

إِذَا مَا جَاءَهُمُ الْعَرَبِيّ حَقًّا
عَلَى عَمَلٍ سَيمْلك لَا محَال
وَيفْتحُوْنَهَا مِنْ غَيْرِ شَكٍّ
وَكَمْ دَاع يُنَادِيْ بِابْتِهَال
وَمَحْمُوْد سَيُظْهَرُ بَعْدَ هَذَا
وَيملك الشَّامِ بِلَا قِتَال

(شمس المعارف الكبرى صفحہ358 از احمد البونی مؤسسة النور بيروت 2006ء)

یعنی ’’حضرت امام مہدی کے بعد ایک عظیم الشان عربی النسل آئے گا جو خلیفہ بر حق ہو گا (یا یہ حق بات ہے کہ وہ عربی نسل ہو گا) اور نیک عمر و سیرت اور بلند مرتبت کے باعث وہ روحانی بادشاہت کا ضرور وارث ہو گا اور اس کے زمانہ میں بلا شک ممالک فتح ہوں گے۔ بے شمار دعائیں کرنے والے اسلام کی فتح (قدرت ثانیہ کے ظہور) کے لئے دعائیں کریں گے اور اس کے بعد محمود ظاہر ہو گا اور بغیر جنگ کے ملک شام کا مالک ہو گا۔‘‘

یہ پیشگوئی بتصریح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کے وجود میں پوری ہوئی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے دور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام ایشیا کے علاوہ، افریقہ، امریکہ، اور یورپ میں پھیلنا شروع ہو گیا تھا۔ حضرت مصلح موعودؓ آپ کے بعد آئے، اور آپ کا نام محمود تھا۔

دساتیرِ آسمانی میں پیشگوئی

دساتیرِ آسمانی قدیم فارسی نبی حضرت زرتشتؑ اور دیگر فارسی انبیاء کے اقوال کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب میں ایسی پیشگوئیاں ہیں جو ہماری آنکھوں کے سامنے پوری ہو رہی ہیں۔ ایک جگہ مذہب اسلام کی حالت کی پیشگوئی کرتے ہوئے فرمایا:
’’چون هزار سال تازی آئین را گذرد چنان شود آن آئین از جدائیيھا که اگر بايین گر نمایند نداندش۔‘‘

(دساتیرِ آسمانی جلد2 صفحہ302 ملا فیروز بن کوس بمبئی 1818ء)

پھر فرمایا کہ اس وقت ایسا ہو گا کہ:
’’و روز بروز جدایی و دشمنی درآنها افزون شود…پس با بید شما خوبی ازین۔ و اگر ماند یکدم از مهین جرج انگیز م از کسان توکسي… و آیین و آب توبتورسانم …و پیغمبری و پیشوائي از فرزندان توبر نگیر۔‘‘

(دساتیرِ آسمانی جلد2 صفحہ294 ملا فیروز بن کوس بمبئی 1818ء)

اس پیشگوئی کا ترجمہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے یوں کیا:
’’پھر شریعت عربی پر ہزار سال گزر جائیں گے تو تفرقوں سے دین ایسا ہو جائے گا کہ اگر خود شارع (ﷺ) کے سامنے پیش کیا جائے تو وہ بھی اسے پہچان نہ سکے گا۔……. اور ان کے اندر انشقاق اور اختلاف پیدا ہو جائے گا اور روز بروز اختلاف اور باہمی دشمنی میں بڑھتے چلے جائیں گے۔…… جب ایسا ہو گا تو تمہیں خوشخبری ہو اگر زمانہ میں ایک دن بھی باقی رہ جائے تو تیرے لوگوں سے (فارسی الاصل) ایک شخص کو کھڑا کروں گا جو تیری گمشدہ عزت و آبرو واپس لائے گا اور اسے دوبارہ قائم کرے گا۔ میں پیغمبری و پیشوائی (نبوت و خلافت) تیری نسل سے اُٹھاؤں گا۔‘‘

(سوانح فضل عمر جلد1 صفحہ66)

حضرت مصلح موعودؓ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سگے بیٹے تھے جو آپ کے بعد دوسرے خلیفہ بنے اور پیشگوئی میں مذکور یہ الفاظ کہ ’’میں پیغمبری و پیشوائی (نبوت و خلافت) تیری نسل سے اُٹھاؤں گا۔‘‘ کے مصداق ہوئے۔

حضرت شاہ نعمت اللہ صاحب ولیؒ کی پیشگوئی

حضرت نعمت اللہ صاحب ولی صاحب کشف مشہورصوفی بزرگ اور شاعر تھے۔ آپ نے آنے والے مسیح و مہدی کے زمانہ اور اس کی بعثت و کارناموں پر ایک قصیدہ لکھا۔ چنانچہ اس قصیدہ میں مذکور دیگر پیشگوئیوں کے ساتھ ساتھ ایک پیشگوئی یہ لکھی ہے کہ

دور اوچوں شود تمام بکام
پسرش یادگار مے بینم

(پیشن گوئی از حضرت نعمت اللہ شاہ ولی صفحہ36 نوریہ روضیہ پبلی کیشنز لاہور 2007ء)

یعنی ’’اس کا زمانہ کامیابی کے ساتھ گزر جائے گا تو اس کے نمود پر اس کا بیٹا یادگار رہ جائے گا۔‘‘

حضرت مصلح موعودؓ اس پیشگوئی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’نعمت اللہ صاحب ولی کی پیشگوئی موجود ہے۔ اور مسیح موعود نے اس کا ذکر کیا ہے جس میں لکھا ہے ’’پسر ش یادگار مے بینم‘‘۔ صرف خلافت کا اس میں ذکر نہیں ہے حضرت مسیح موعود اور میرے درمیان خلافت تو ایک اور بھی ہوئی ہے۔ جو بہت بڑی خلافت تھی مگر نعمت اللہ صاحب ولی نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ زمانہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کو پھیلایا جائے گا وہ میرا زمانہ ہے۔ اور میرے زمانہ میں خدا تعالیٰ کی خاص برکات نازل ہوں گی۔ اس لئے اس کی نسبت پیشگوئی کی گئی ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 21 اکتوبر 1927ء مطبوعہ خطباتِ محمود، جلد11 صفحہ223)

پس حضرت مصلح موعود کا 52 سالہ دور خلافت جو بے شمار ترقیات کا حامل تھا۔ آپ نے جماعت کے بنیادی نظام کو تشکیل دی اور جماعت کو ایک نئے دور میں داخل کیا۔

حضرت ابراہیمؑ اور ان کے دو بیٹے

حضرت مصلح موعودؓ کو ایک دفعہ رؤیا میں ابراہیم موسوم کیا گیا۔ (الفضل 7 مارچ 1944ء، رؤیا و کشوف سیدنا محمود صفحہ13) اسی مشابہت کے تحت آپؓ کو قادیان سے ربوہ ہجرت کرنی پڑی اور ایک نیا مرکز اسلام شروع کرنا پڑا۔

(الفضل 18 فروری 2022ء صفحہ47)

اسی طرح حضرت مصلح موعودؓ کو یہ بھی بشارت دی گئی کہ آپ کے بعد حضرت اسحاقؑ اور حضرت اسماعیلؑ آپ کے بعد آپ کے جانشین ہوں گے۔

(عرفانِ الہی، انوار العلوم جلد4 صفحہ350)

یہ پیشگوئی آپؓ کے بعد آپ کے دو صاحبزادوں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ جو بعد میں جماعت احمدیہ کے خلیفہ منتخب ہوئے پر اطلاق پائی۔

بیٹا اور پوتا

طالمود میں حضرت مصلح موعودؓ اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کے بارے میں پیشگوئی موجود ہے۔ لکھا ہے:

‘‘Others say that the kingdom of the Messiah will endure for thousands of years, as ‘when there is a good government it is not quickly dissolved.’ It is also said that He shall die, and His kingdom descend to His son and grandson. In proof of this opinion Isaiah xlii. 4 is quoted: ‘He shall not fail, nor be discouraged, till He have set judgment in the earth.’ ’’

(The Talmud by Joseph Barclay [London:J. Murray (1878)], p. 37)

یعنی ’’یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ (یعنی مسیح) وفات پا جائے گا اور اس کی سلطنت اس کے بیٹے اور پوتے کو ملے گی۔ اس رائے کے ثبوت میں یسعیاہ باب 42 کی آیت4 پیش کی جاتی ہے کہ وہ ماند نہ ہو گا اور ہمت نہ ہارے گا جب تک کہ عدالت کو زمین پر قائم نہ کرے۔‘‘

پس آنے والے مسیح ابن مریم کے بارے میں یہ پیشگوئی پوری حضرت مصلح موعودؓ اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ پر پوری ہوئی۔

پوتے کی بشارت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک پوتے کی پیدائش کی خوشخبری دی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا:

إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ نَّافِلَةً لَّكَ

(تذکرہ صفحہ519 ایڈیشن چہارم 2004ء)

یعنی ہم تمہیں ایک بچہ کی بشارت دیتے ہیں جو تمہارا پوتا ہو گا۔

حضرت مسیح موعودؑ اس الہام کی ذاتی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ممکن ہے کہ اس کی یہ تعبیر ہو کہ محمود کے ہاں لڑکا ہو کیونکہ نافلہ پوتے کو بھی کہتے ہیں یا بشارت کسی اور وقت تک موقوف ہو۔‘‘

(تذکرہ صفحہ519 ایڈیشن چہارم 2004ء)

اسی طرح حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا:
’’مجھے بھی اللہ تعالیٰ نے پہلے خبر دی ہے کہ میں تجھے ایک ایسا لڑکا دوں گا جو دین کا ناصر ہو گا اور اسلام کی خدمت پر کمربستہ ہو گا۔‘‘

(الفضل 8 اپریل 1915ء صفحہ5، رؤیاو کشوف سیدنا محمود صفحہ19)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس پیشگوئی کا ذکر بطور نشان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’بیالیسواں نشان یہ ہے کہ خدا نے نافلہ کے طور پر پانچویں لڑکے کا وعدہ کیا تھا۔ جیسا کہ اسی کتاب مواهب الرحمن کے صفحہ ۱۳۹ میں اس طرح پر یہ پیشگوئی لکھی ہے:

وَبَشَّرَنِيْ بِخَامِسٍ حِيْنَ مِنَ الْأَحْيَانِ

یعنی پانچواں لڑکا جو چار سے علاوہ بطور نافلہ پیدا ہونے والا تھا اُس کی خدا نے مجھے بشارت دی کہ وہ کسی وقت ضرور پیدا ہو گا اور اس کے بارہ میں ایک اور الہام بھی ہوا کہ جو اخبار البدر اور الحکم میں مدت ہوئی کہ شائع ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے کہ

إِنَّا نُبَشِرُكَ بِغُلَامٍ نَّافِلَةً لَّكَ نَافِلَةً مِّنْ عِنْدِيْ

یعنی ہم ایک اور لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں کہ جو نافلہ ہو گا یعنی لڑکے کا لڑکا یہ نافلہ ہماری طرف سے ہے۔‘‘

(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ228-229)

پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بعض اور الہامات بھی ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا:

إِنَّا نُبَشِرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَى

میں تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتا ہوں جس کا نام یحییٰ ہے۔

(تذکرہ صفحہ626 ایڈیشن چہارم 2004ء)

حضورؑ نے یہ بھی تعبیر فرمائی کہ یہاں یحییٰ سے مراد ایک لمبی عمر رہنے والا لڑکا بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح قرآن کریم میں حضرت یحییٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:

يَا يَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا

(مریم: 13)

اے یحییٰ! کتاب کو مضبوطی سے پکڑ لے۔ اور ہم نے اسے بچپن ہی سے حکمت عطا کی تھی۔

پس اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے بھی بچپن میں قرآن کریم کا حفظ مکمل کیا اور قرآن کریم کی ایسی خدمت کرنے کا موقعہ آپ کو نصیب کیا گیا کہ خلفاء احمدیت میں خاص امتیاز رکھتی ہے۔

اِس دور کا موسیٰ

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِي أَقْتُلْ مُوسَى وَلْيَدْعُ رَبَّهُ

(المؤمن: 27)

اور فرعون نے کہا مجھے ذرا چھوڑو کہ میں موسیٰ کو قتل کروں اور وہ اپنے رب کو پکارے۔

اسی آیت کا ٹکڑا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی الہام ہوا۔ چنانچہ آپؑ لکھتے ہیں:
’’میری طبیعت الہام کی طرف منحدر ہوئی اور الہام کے رو سے خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ ایک شخص مخالف میری نسبت کہتا ہے۔

ذَرُونِي أَقْتُلْ مُوسَى

یعنی مجھ کو چھوڑو تا میں موسیٰ کو یعنی اِس عاجز کو قتل کر دوں۔‘‘

(آئینہ کمالاتِ اسلام، روحانی خزائن جلد5 صفحہ218-219، تذکرہ صفحہ219 ایڈیشن چہارم 2004ء)

اسی ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی ایک رؤیا یوں بیان کرتے ہیں:
’’میں مصر کے دریائے نیل پر کھڑا ہوں اور میرے ساتھ بہت سے بنی اسرائیل ہیں اور میں اپنے آپ کو موسیٰ سمجھتا ہوں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم بھاگے چلے آتے ہیں۔ نظر اُٹھا کر پیچھے دیکھا تو معلوم ہوا کہ فرعون ایک لشکر ِ کثیر کے ساتھ ہمارے تعاقب میں ہے اور اس کے ساتھ بہت سامان مثل گھوڑے و گاڑیوں و رتھوں کے ہے اور وہ ہمارے بہت قریب آگیا ہے۔ میرے ساتھی بنی اسرائیل بہت گھبرائے ہوئے ہیں اور اکثر ان میں سے بے دل ہو گئے ہیں اور بلند آواز سے چلاتے ہیں کہ اے موسیٰ ہم پکڑے گئے۔ تو میں نے بلند آواز سے کہا۔

كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِيْنِ

اتنے میں میں بیدار ہو گیا۔ اور زبان پر یہی الفاظ جاری تھے۔‘‘

(ملفوظات جلد4 صفحہ153مطبوعہ 2018ء)

اسی رؤیا کی تشریح کرتے ہوئے آپؑ نے فرمایا:
’’اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسا وقت بھی آوے جب جماعت کو کوئی یاس ہو مگر میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا زور آور حملوں سے سچائی ظاہر کر د ے گا۔ اس وقت یہ پورے زور لگائیں گے تا کہ قتل کے مقدمہ کی حسرتیں نہ رہ جائیں کہ کیوں چھوٹ گیا۔ یہ لوگ ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے جو خدا کی طرف سے میں پیش کرتا ہوں مگر وہ دیکھ لیں گے کہ إِكْرَامًا عَجَبًا کیسے ہوتا ہے۔

(ملفوظات جلد4 صفحہ178-179 مطبوعہ 2018ء)

قرآن کریم قصے کہانیوں کی کتاب نہیں ہے۔ پس اس آیت میں قرآن کریم کی دیگر آیات کی طرح ایک پیشگوئی ہے۔ یہ پیشگوئی حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی ذات میں پوری ہوئی جب آپؒ پاکستان سے ہجرت کر کے لندن تشریف لائے اور صرف اس لیے آئے کہ حکومت آپؒ کے خلاف تھی۔ جنرل ضیاءالحق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے معاملے میں آخری زمانے کے فرعون تھے۔

5 جولائی 1985ء کو اپنے خطبہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے فرمایا کہ یہ آیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نازل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ یہ ان پر یا ان کے خلفاء میں سے کسی پر اطلاق پائے گی۔ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، اس لیے حضورؒ نے اعلان کیا کہ یہ پیشگوئی ان کی ذات میں پوری ہوئی۔ فرمایا:
’’حضرت مسیح موعود کے متعلق یہ الہام ہے۔ لیکن یہ آپ کے کسی غلام کی شکل میں پورا ہونا تھا اور عجیب بات یہ ہے کہ میری ذات یعنی خلیفۃ المسیح الرابع کے سوا آج سے پہلے کسی خلیفہ کے متعلق قوم نے یہ آواز بلند نہیں کی کہ اس کو پکڑو اور قتل کرو اور قتل کا جھوٹا الزام لگایا جس طرح حضرت موسیٰ پر بھی قتل کا جھوٹا الزام لگایا گیا تھا۔‘‘

(خطبہ جمعہ 5 جولائی 1985ء مطبوعہ خطباتِ طاہر جلد4 صفحہ599)

اللہ تعالیٰ اسی مضمون کو قرآن کریم میں آگے یوں فرماتا ہے:

إِنِّي أَخَافُ أَن يُبَدِّلَ دِينَكُمْ أَوْ أَن يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسَادَ

(المؤمن: 27)

یقیناً میں ڈرتا ہوں کہ وہ تمہارا دین بدل دے گا یا زمین میں فساد پھیلا دے گا۔

حضورؒ نے فرمایا کہ یہ واقعی عجیب بات ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے احمدیوں کی مخالفت اور غیر مسلمان قرار دینے کے یہ دو ثبوت دنیا کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں کہ احمدی اسلام کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں، یا یہ کہ انہیں انگریزوں نے زمین میں فساد پھیلانے کے لیے بویا ہے وغیرہ وغیرہ۔

اپنی پیشانی ہماری پیشانی سے ملا کر چسپاں کردی

حضرت مسیح موعودؑ اپنی خواب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ایک بار ہم نے کرشن جی کو دیکھا وہ کالے رنگ کے تھے اور پتلی ناک کشادہ پیشانی والے ہیں۔ کرشن جی نے اُٹھ کر اپنی ناک ہماری ناک سے اور اپنی پیشانی ہماری پیشانی سے ملا کر چسپاں کردی۔‘‘

(ملفوظات جلد5 صفحہ459 مطبوعہ 1988ء)

جیسا کہ قارئین نے اندازہ لگایا ہو گا، یہ رسم نیوزی لینڈ کے معروف مقامی قبیلے ماوری (Māori) لوگوں میں سب سے زیادہ رائج ہے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کرشن جی کا ذکر کیوں کیا گیا؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوؤں اور ماوری لوگوں میں بہت سی مماثلتیں ہیں۔ ان کے رسم و رواج اور زبانیں ملتی جلتی ہیں، اور جدید تحقیق نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ماوری لوگوں نے ہندوستان سے ہجرت کی۔ ڈی این اے (DNA) سے پتہ چلتا ہے کہ ماوری خواتین جنوب مشرقی ایشیاء سے شاید 6,000 سال پہلے آئی تھیں، جو کہ کرشنا کی پیدائش کے وقت کے قریب بھی ہے۔

(مزید تفصیلات کے لیے دیکھیں

Decoding Māori Cosmology:The Ancient Origins of New Zealand’s Indigenous Culture (2018))

چنانچہ جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ 1989ء میں نیوزی لینڈ تشریف لے گئے تو آپ کو اس رسم سے تعجب ہوا جو اس وقت اس سے بے خبر تھے۔ تاہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مذکورہ بالا خواب کو پڑھ کر انہیں معلوم ہوا کہ ملک میں یہ رسم پہلے زمانے سے چلی آ رہی ہے۔ یہ خواب بھی ان کی ذات میں پُورا ہوا۔

(خطبہ جمعہ 17 جنوری 2003، الفضل انٹرنیشنل 21 فروری 2003ء صفحہ8)

زمینداری کا ماہر

رسول اللہ ﷺ آنے والے مسیح کی علامات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ وَرَاءِ النَّهَرِ يُقَالُ لَهُ الْحَارِثُ حَرَّاثٍ، عَلَى مُقَدِّمَتِهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مَنْصُورٌ، يُوَطِّئُ أَوْ يُمَكِّنُ لِآلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا مَكَّنَتْ قُرَيْشٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَبَ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ نَصْرُهُ

(سنن ابو داؤد، کتاب المہدی حدیث نمبر 4291)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس حدیث کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’یعنی روایت ہے علی کرّم اللہ وجہہ سے کہ کہا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ ایک شخص پیچھے نہر کے سے نکلے گا یعنی بخارا یا سمر قند اس کا اصل وطن ہو گا اور وہ حارث کے نام سے پکارا جاوے گا یعنی باعتبار اپنے آبا و اجداد کے پیشہ کے افواہ عام میں یا اس گورنمنٹ کی نظر میں حارث یعنی ایک زمیندار کہلائے گا پھر آگے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ کیوں حارث کہلائے گا اس وجہ سے کہ وہ حرّاث ہو گا یعنی ممیّز زمینداروں میں سے ہو گا اور کھیتی کرنے والوں میں سے ایک معزز خاندان کا آدمی شمار کیا جاوے گا۔ پھر اس کے بعد فرمایا کہ اس کے لشکر یعنی اس کی جماعت کا سردار و سرگروہ ایک توفیق یافتہ شخص ہو گا جس کو آسمان پر منصور کے نام سے پکارا جاوے گا کیونکہ خدائے تعالیٰ اس کے خادمانہ ارادوں کا جو اس کے دل میں ہوں گے آپ ناصر ہو گا۔ اس جگہ اگرچہ اُس منصور کو سپہ سالار کے طور پر بیان کیا ہے مگر اس مقام میں درحقیقت کوئی ظاہری جنگ و جدل مراد نہیں ہے بلکہ یہ ایک روحانی فوج ہو گی کہ اُس حارث کو دی جائے گی …… وہ منصور مجھے کشف کی حالت میں دکھایا گیا اور کہا گیا کہ خوشحال ہے خوشحال ہے مگر خدائے تعالیٰ کی کسی حکمت خفیہ نے میری نظر کو اُس کے پہچاننے سے قاصر رکھا لیکن امید رکھتا ہوں کہ کسی دوسرے وقت دکھایا جائے۔ اب بقیہ ترجمہ حدیث کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ وہ حارث جب ظاہر ہو گا تو وہ آل محمد کو (آل محمد کے فقرہ کی تفسیر بیان ہو چکی ہے) قوت اور استواری بخشے گا اور ان کی پنا ہ ہو جائے گا یعنی ایسے وقت میں کہ جب مومنین غربت کی حالت میں ہوں گے۔ اور دین اسلام بیکس کی طرح پڑا ہو گا اور چاروں طرف سے مخالفوں کے حملے شروع ہوں گے۔ یہ شخص اسلام کی عزت قائم کرنے کے لئے بقوت تمام اُٹھے گا اور مومنین کو جہال کی زبان سے بچانے کے لئے بجوش ایمان کھڑا ہو گا اور نور عرفان کی روشنی سے طاقت پاکر انکو مخالفوں کے حملوں سے بچائے گا اور اُن سب کو اپنی حمایت میں لے لے گا۔‘‘

(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد3 صفحہ148-150 حاشیہ)

آپؑ نے مزید فرمایا:
’’ایک صاف اور صریح کشف میں مجھ پر ظاہر کیا گیا کہ ایک شخص حارث نام یعنی حرّاث آنے والا جو ابوداؤد کی کتاب میں لکھا ہے یہ خبر صحیح ہے اور یہ پیشگوئی اور مسیح کے آنے کی پیشگوئی درحقیقت یہ دونوں اپنے مصداق کی رُو سے ایک ہی ہیں۔ یعنی ان دونوں کا مصداق ایک ہی شخص ہے جو یہ عاجز ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد3 صفحہ135 حاشیہ)

یہ حدیث ہمارے موجودہ خلیفہ کی ذات میں بھی اجمالی رنگ میں پوری ہوئی۔ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے والد ماجد کا نام منصور تھا۔ 1976ء میں حضور نے فیصل آباد یونیورسٹی سے زرعی معاشیات میں ڈگری حاصل کی۔ آپ زراعت میں بڑی مہارت رکھتے ہیں۔ گھانا میں کامیابی سے گندم اُگانے والے پہلے شخص آپ ہیں۔ لہٰذا اگرچہ اس پیشگوئی کے اصل مصداق حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی تھے مگر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس پر بھی یہ پیشگوئی اطلاق پا سکتی ہے۔

بلاد عرب میں احمدیت

مصلح موعودؓ خطبہ جمعہ فرمودہ 23 نومبر 1945ء میں ایک طویل رؤیا بیان فرماتے ہیں۔حضورؓ نے رؤیا میں دیکھا کہ وہ عربی بلاد میں ہیں اور ایک موٹر میں سوار ہیں۔ ساتھ ہی ایک اور موٹر ہے جو غالباً میاں شریف احمد صاحبؓ کی ہے۔ پہاڑی علاقہ ہے اور اس میں کچھ ٹیلے سے ہیں ایک جگہ جا کر میاں شریف احمد صاحب ؓکی موٹر کسی اور طرف چلی گئی ہے۔ جب حضور ؓموٹر سے اترے تو دیکھا کہ بہت سے عرب جن میں کچھ سیاہ رنگ کے ہیں اور کچھ سفید رنگ کے، آپ کے پاس آئے اور ان سے عربی میں گفتگو ہوئی۔ حضور ؓفرماتے ہیں میں ان سے پوچھتا ہوں کہ آپ لوگ کہاں سے آئے ہیں؟ وہ جواب دیتے ہیں ہم عربی بلاد سے آئے ہیں اور ہم قادیان گئے اور وہاں معلوم ہوا کہ آپ باہر گئے ہیں اور ہم آپ کے پیچھے چلے یہاں تک کہ ہمیں معلوم ہوا کہ آپ یہاں ہیں۔ اس پر میں نے ان سے پوچھا۔ کس غرض سے آپ تشریف لائے ہو؟ تو ان میں سے لیڈر نے جواب دیا ہم اقتصادی اور تعلیمی اور غالباً سیاسی معاملات میں مشورہ کرنے آئے ہیں۔ اس پر میں ڈاک بنگلہ کی طرف مڑا اور ان سے کہا کہ مکان میں آجایئے، وہاں مشورہ کریں گے۔ جب میں کمرہ میں داخل ہوا تو دیکھا کہ میز پر کھانا چنا ہوا ہے اور کرسیاں لگی ہیں اور میں نے خیال کیا کہ شاید کوئی انگریز مسافر ہوں۔ ان کے لئے یہ انتظام ہو اور میں آگے دوسرے کمرے کی طرف بڑھا۔ وہاں فرش پر کچھ پھل اور مٹھائیاں رکھی ہیں اور اِردگرد اس طرح بیٹھنے کی جگہ ہے جیسے کہ عرب گھروں میں ہوتی ہے۔ میں نے ان کو وہاں بیٹھنے کو کہا اور دل میں سمجھا کہ یہ انتظام ہمارے لئے ہے۔ ان لوگوں نے وہاں بیٹھ کر پھلوں کی طرف ہاتھ بڑھایا کہ میری آنکھ کھل گئی۔

(خطبہ جمعہ 23 نومبر 1945، مطبوعہ خطباتِ محمود، جلد26، صفحہ492 تا 493)

اس خواب کی حضورؓ نے تعبیر کرتے ہوئے فرمایا کہ عرب میں احمدیت پھیلے گی۔ مزید معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مرزا شریف احمد صاحبؒ سے مراد حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ ہیں۔ مختلف راستوں پر چلنے والی موٹرز کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ عربوں کو تبلیغ کرنے کے لیے حضرت مصلح موعودؓ کا طریقہ اور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس کا طریقہ حسبِ حالات مختلف ہو گا۔

چنانچہ حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے زمانے کے مطابق کتابوں اور اخبارات کے ذریعے تبلیغ کی لیکن حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وقت کے مطابق MTA 3 العربیہ کا اجراء کیا۔ علاوہ ازیں عربی زبان میں احمدیہ لٹریچر کے لیے ایک ویب سائٹ شروع کی اور اس کے علاوہ دیگر منصوبے بھی۔ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ پہلے خلیفہ ہیں جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر عربوں سے عربی زبان میں خطاب کیا۔

قادیان سے باہر اور انگریزوں کے قریب ہونا بھی اس بات کی علامت ہے کہ یہ کام برصغیر پاک و ہند میں جماعت کے مرکز میں نہیں ہو گا بلکہ مغرب میں ہو گا۔

(الفضل انٹرنیشنل 18 فروری 2022 صفحہ 47)

الغرض یہ کہ ہمارے خلفاء کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نصرت ہے ، اور یہ جماعت اللہ کے ہاتھ کے سایہ میں ہے ایک ایسی حقیقت ہے جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔

(جاذب محمود۔ جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل گھانا)

پچھلا پڑھیں

پاکستان، الجزائر اور افغانستان کے احمدیوں کے لئے دعا کی تازہ تحریک

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 جون 2022